مذہبی مضامین

شب قدر: دامن کوپھیلا اور بھی کچھ مانگ!

امتیازعلی شاکر

    رمضان المبارک کا مہینہ رحمت، حسنات و برکات کا مجموعہ ہے، ماہ مبارک کاہر لمحہ ایل ایمان کیلئے بیش قیمت اورانتہائی قابل قدر ہے ،اول،اوسط اور آخر سب مبارک ومقدس ہیں ، انوار وتجلیات سے معمور دن اور راتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے بندو پر برکتیں ، سعادتیں ، بے شماررحمتیں ،بخششیں نازل فرماتاہے، پہلا عشرہ اللہ رب العزت کی نعمتوں سے معمور ہے،درمیانی عشرہ اللہ سبحان تعالیٰ کی مغفرت اور بخشش سے بھرپور ہے آخری عشرہ میں رب رحمٰن اپنے بندوں کو جہنم کے عذاب سے نجات عطا فرماتاہے،خالق کائنات کی بے پایاں رحمت کی برسات مخلوق پرہروقت جاری رہتی ہے ، رب رحیم بہانے بہانے سے گناہ گار بندوں کی بخشش کا سامان فرماتارہتا ہے،غفلت میں ڈوبے انسان کیلئے توبہ کا دروازہ موت تک کھلارکھنا ،اپنے بندوں کے لئے ماہ رمضان المبارک میں شیطان کو پابند سلاسل کر نا،سال بھرکے شب و روز کی برکات کو اس کی راتوں میں جمع کر دینااللہ سبحان تعالیٰ کی اپنے حبیب نبی حضرت محمد ﷺ کی اُمت پر خصوصی رحمت ہے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ایک رات شب قدر ہے،شب قدر انتہائی قدرو منزلت والی رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے غافل و گناہ گاربندوں کی توبہ فوری قبول فرماتاہے ، اس رات میں ہر اس شخص کیلئے جو گناہ کی دلدل سے نکل کر ایک نئے عہد کے ساتھ اپنے نامہ اعمال میں ایمان و تقویٰ کاذخیرہ جمع کرنا چاہے، اس کیلئے یہ رات تحفہ الٰہی ہے، اسی رات میں قرآن مجید نازل کیاگیا،اسی رات کی عبادت ان ہزار مہینوں کی عبادات سے افضل ہے جن میں یہ رات نہ ہو،اسی رات کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس میں اتنی کثیر مقدارمیں فرشتوں کا نزول ہوتاہے کہ زمین، تنگ پڑ جاتی ہے،اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشادفریا’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں اتارا ہے،اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے،شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے،اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام پر،وہ صبح روشن ہونے تک سلامتی کی رات ہے(سورۃ القدر) شب قدر میں ملائکہ المقربین اور روح الامین عبادات میں مصروف صاحبان ایمان کو تلاش کرتے ہیں ، اُن کی خدمت میں سلام پیش کرتے ہیں ،اُن کیلئے دعائے خیر کرتے ہیں ، یہ رات طوفان، گرج اور اذیت سے محفوظ ہوتی ہے، اس رات میں غروب آفتاب ہی سے فرشتے گروہ در گروہ زمین پر اترتے ہیں اور طلوع فجر تک سلامتی کے فیصلے جاری رہتے ہیں ۔

اس رات کاہر حصہ وقت سحر کی طرح بابرکت ہے، رب العالمین نے ارشادفرمایا’ اور تم کیا جانتے ہو شب قدر کیا ہے‘‘ کے جملہ استفہامیہ کے ساتھ واضح فرما دیا ہے کہ شب قدر کی عظمت و فضیلت انسان کی محدود عقل میں سما ہی نہیں سکتی،مرشِد سرکارسید عرفان احمد شاہ ہرسال رمضان المبارک کے آخری عشرہ کااعتکاف مسجد نبوی ،مدینہ منورہ میں کرتے ہیں ،آپ کافرمان ہے ’شب قدر کی رات اللہ رب العزت جبرائیل علیہ السلام سے فرماتے کہ فرشتوں کے ساتھ زمین پر اترجائو، وہ زمین پر اتر آتے ہیں ،سبز پرچم کعبۃ اللہ کی چھت پر نصب کردیتے ہیں ، فرشتے زمین پر پھیل جاتے ہیں ،اہل ایمان میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کی یادمیں جاگ رہا ہو، حالت نماز، ذکر الٰہی یانبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام کے نذرانے پیش کرنے میں مشغول ہو فرشتے اسے سلام کہتے ہیں ، فرشتے اہل ایمان کو تلاش کرتے ہیں اور ان کی دعائوں کی قبولیت کیلئے اللہ تعالیٰ سے التجاء کرتے ہیں ، یہاں تک کہ صبح کی روشنی پھیل جاتی ہے، پھر جبرائیل امین آواز دیتے ہیں اے فرشتوآسمان کی طرف لوٹ چلو،اس وقت فرشتے جبرائیل امین سے سوال کرتے ہیں ،اے جبرائیل امین اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی اُمت کے گناہنگاروں کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے؟ جبرائیل امین جواب دیتے ہیں رب رحمٰن نے ان پر رحمت کی نگاہ فرمائی اور ان کے گناہوں کو معاف فرمادیا ہے،سوائے اس گناہ گار کے جو سچی توبہ کے بعد ترک گناہ کا مصمم ارادہ نہیں رکھتا۔

حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایا کہ جو شخص ’’شبِ قدر‘‘ میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہوا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں (بخاری و مسلم)حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’شبِ قدر‘‘ اللہ سبحان تعالیٰ نے میری امت کو عطا فرمائی ہے جو پہلی امتوں کو نہیں ملی، اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ اس امت پر اس انعام و اکرام کا سبب کیا ہے؟ بعض احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے پہلی امتوں کی عمروں کو دیکھا کہ بہت لمبی ہیں جبکہ رحمت العامین نبی ﷺ کی ’’ امت ‘‘ کی عمریں بہت کم ہیں ، نیک اعمال میں برابری کسی صورت ممکن نہیں ، کریم آقا ﷺ اپنی اُمت کیلئے فکرمند ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر عطا فرمائی،جیساکہ اللہ سبحان تعالیٰ نے سورۃ القدرمیں ارشاد فرماہے’’اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے،شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘شب قدر کی پوری حقیقت اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اللہ ﷺ ہی جانتے ہیں ،ہمارے لئے اتناہی کافی ہے کہ شب قدر رحمت،برکت اوربخشش کابہترین ذریعہ ہے،اللہ تعالیٰ کی مخلوقات پررحم کرنااورپھراپنے رب کی رحمت طلب کرناہمارافرض ہے، بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے والوں کو پسند فرماتاہے،اس رات میں خوب خوب اپنے رب کویادکریں دوسروں کومعاف کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں ۔

دامن پھیلاکراپنے لئے ،اپنے والدین ،سرکاردوعالم ﷺ کی اُمت کیلئے بہن بھائیوں ،رشتہ داروں اور ہمسائیوں کیلئے دُعائیں مانگیں،احادیث میں دعا مانگنے کی بڑی فضیلت و عظمت بیان کی گئی ہے، اس لیے ’’شب قدر‘‘ میں اور ہر وقت رب رحمٰن سے دعا مانگنی چاہیے، شب قدروہ برکتوں والی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتاہے کہ جومانگ سکتاہے مانگ لے تیرارب تجھے عطافرمادے گا،انسان محدودجبکہ اللہ رب العزت لامحدودہے اس لئے بندہ جتنابھی مانگے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سامنے ذرہ برابر بھی حیثیت نہیں رکھتااسی لئے کہتے ہیں کہ دامن کوپھیلااوربھی کچھ مانگ،دعا زبان سے نکلے ہوئے ان الفاظ کو کہا جاتا ہے جوبندہ نہایت عاجزی و انکساری سے اللہ رب العزت کے حضور التجاء کرے، دعا کے لئے وہ الفاظ زیادہ قیمتی اور موثر ثابت ہوتے ہیں جو دل سے اٹھتے ہیں اور زبان کی پوری تاثیر کو ساتھ لیے بارگاہ الٰہی میں پہنچتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اہل اسلام کو شبِ قدر کا حق ادا کرنے ،اللہ رب العزت کی رحمتیں ،برکتیں و بخشش و مغفرت سمیٹنے کی توفیق و طاقت عطا فرمائے:

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close