تاریخ اسلاممذہبی مضامین

شہادت ہے مطلوب ومقصودِ مومن

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

جب کوئی جماعت سرکشی پر اتر آتی ہے،عدل وانصاف دنیا سے محوہونےلگتاہے،قانون خداوندی کے خلاف علم بغاوت بلندکیاجاتاہے، ظالموں کے ناپاک اثر سے قوموں کے اخلاق تباہ وبرباد ہوتے ہیں، تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں؛ بلکہ فرض ہوجاتی ہے،اس وقت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہوتی ہے کہ ان ظالم بھیڑیوں کے خون سےصفحہٴ ہستی کے سینے کو سرخ کردیا جائے اور ان مفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم وبے کس بندوں کو نجات دلائی جائے، جو شیطان کی امت بن کر اولادِ آدم پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں، وہ لوگ انسان نہیں؛ بلکہ انسانوں کی شکل وصورت میں درندے اورانسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں، جن کے ساتھ اصلی ہمدردی یہی ہے کہ ان کو صفحہٴ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹادیا جائے، ایسے وقت میں ہر سچے، انسانیت کے ہمدرد وغمخوار کا اولین فرض ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائے اور اس وقت تک آرام نہ کرے،جب تک کہ خدا کی مخلوق کو اس کے کھوئے ہوئے حقوق واپس نہ مل جائیں۔ اسی کو جہاد کہتے ہیں جہاد اللہ رب العزت کا ایک قطعی و محکم فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے اپنے پیارے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ستائیس سے زائد مرتبہ میدانِ جنگ میں نکالا۔ آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے دس قیمتی و مبارک سال اس فریضہ کی انجام دہی میں صرف ہوئے؛یہی نہیں بلکہ اس مبارک فریضہ کی ادائیگی میں آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے، آپ کا خون مبارک بہا اور آپ کے رخسار اور پہلو پر زخم آئے۔ اسی لیے حضرات صحابہ کرام ؓ نےاس عبادت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا۔

شہادت وہ عظیم مرتبہ ہے جو ہر انسان کے حصّے میں نہیں آتا ،اس رتبے کو حاصل کرنے کے لئے وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جو کسی دنیاوی منزل کو پانے کے لئے نہیں کرنا پڑتا۔ شہید ہونے کے لئے سب سے مشکل کام جسے گلے لگانا پڑتا ہے وہ ظاہری موت ہے۔ شہادت وہ ہے جو موت سے بچاتی ہے مگر اس کو پانے کے لئے جسمانی موت کو گلے لگانا پڑتا ہے۔ شہید مردہ نہیں زندہ ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دیتا ہے، وہ حقیقت میں حیات جاوداں پاتا ہے۔

حضرت مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :اسلام میں شہادت فی سبیل اللہ کو وہ مقام حاصل ہے کہ (نبوّت و صدیقیت کے بعد) کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اس کی گرد کو نہیں پاسکتا۔ اسلام کے مثالی دور میں اسلام اور مسلمانوں کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ ان شہداء کی جاں نثاری و جانبازی کا فیض تھا، جنھوں نے اللہ رَبّ العزّت کی خوشنودی اور کلمہٴ اِسلام کی سربلندی کے لئے اپنے خون سے اسلام کے سدا بہار چمن کو سیراب کیا۔ شہادت سے ایک ایسی پائیدار زندگی نصیب ہوتی ہے، جس کا نقشِ دوام جریدہٴ عالم پر ثبت رہتا ہے، جسے صدیوں کا گرد و غبار بھی نہیں دُھندلا سکتا، اور جس کے نتائج و ثمرات انسانی معاشرے میں رہتی دُنیا تک قائم و دائم رہتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں شہادت اور شہید کے اس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہ کی ادنیٰ گنجائش باقی نہیں رہتی۔ (اسلام میں شہادت فی سبیل اللہ کا مقام)

مقام ِشھادت،قرآن مجید کی روشنی میں:

   شہید کے فضائل اور مقامات بے شمار ہیں،اختصارکےپیش نظر چند ایک آیتوں کا ترجمہ ذیل میں نقل کیاجارہاہے۔ جیساکہ  اللہ تعالی کا ارشاد ہے” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ وہ مردہ ہیں؛بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمھیں خبر نہیں۔ "(سورہ البقرہ۔ 154 )

دوسری جگہ شہداء کی حیات برزخ کا ذکر کرتے ہوئےارشاد باری ہے :”جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے پروردگار کے مقرب ہیں، کھاتے پیتے ہیں ،وہ خوش ہیں اس چیز سے جو ان کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے عطاء فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتےہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ تعالی ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے۔ "( سورہ آل عمران۔ 169۔ 171 )

ایک اور مقام پراطاعت خدا و رسول پر معیتِ شہداءکی خوشخبری سناتےہوئے ارشاد خداوندی ہے’’اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایساشخص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے اِنعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔ ”(سورہ نساء:69)

شہیدوں کےلیےاجر عظیم کی بشارت دیتے ہوئے حق تعالی شانہ فرماتے ہیں :’’اب ضرورت ہے کہ راہِ خدا میں وہ لوگ جہاد کریں جو زندگانی دنیا کو آخرت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں اور جو بھی راہِ خدا میں جہاد کرے گا وہ قتل ہوجائے یا غالب آجائے دونوں صورتوں میں ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے‘‘(سورہ نساء:74)

ان آیات کریمہ سے اندازہ لگایاجاسکتاہےکہ اللہ کے نزدیک شہید کا مقام و مرتبہ کس درجہ  بلند و بالا اور ارفع و اعلی ہے۔

فضائل ِشھادت،احادیث مبارکہ کی روشنی میں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی تمنا کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میری آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے میں جنگ کروں اور قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں۔ “(بخاری)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہداء جنت کے دروازے پر دریا کے کنارے ایک محل میں رہتے ہیں اور ان کے لیے صبح شام جنت سے رزق لایا جاتا ہے۔ ( مسنداحمد، مصنف ابن ابی شیبہ )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بندے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ان سے خون بہہ رہا ہوگا وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے پوچھا جائے گا یہ کون ہیں۔ جواب ملے گا یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی۔ ( رواہ الطبرانی)

حضرت مسروق تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی: ترجمہ:… “اور جو لوگ راہِ خدا میں قتل کردئیے گئے ان کو مردہ مت خیال کرو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے مقرّب ہیں، ان کو رزق بھی ملتا ہے۔ ”تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تفسیر دریافت کی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:شہیدوں کی رُوحیں سبز پرندوں کے جوف میں سواری کرتی ہیں، ان کی قرارگاہ وہ قندیلیں ہیں جو عرشِ الٰہی سے آویزاں ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہیں سیر و تفریح کرتی ہیں، پھر لوٹ کر انہی قندیلوں میں قرار پکڑتی ہیں، ایک بار ان کے پروردگار نے ان سے بالمشافہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم کسی چیز کی خواہش رکھتے ہو؟ عرض کیا: ساری جنت ہمارے لئے مباح کردی گئی ہے، ہم جہاں چاہیں آئیں جائیں، اس کے بعد اب کیا خواہش باقی رہ سکتی ہے؟ حق تعالیٰ نے تین بار اصرار فرمایا (کہ اپنی کوئی چاہت تو ضرور بیان کرو)، جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی نہ کوئی خواہش عرض کرنی ہی پڑے گی تو عرض کیا: اے پروردگار! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری رُوحیں ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹادی جائیں، تاکہ ہم تیرے راستے میں ایک بار پھر جامِ شہادت نوش کریں۔ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ اب ان کی کوئی خواہش باقی نہیں، چنانچہ جب یہ ظاہر ہوگیا تو ان کو چھوڑ دیا گیا۔ ” (مسلم )

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے دیکھا تو فرمایا اے جابر کیا بات ہے تم فکر مند نظر آتے ہو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور اپنے اوپر قرضہ اور اہل و عیال چھوڑ گئے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمھیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالی نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردے کی پیچھے سے کی لیکن تمھارے والد سے آمنے سامنے بات فرمائی اور کہا مجھ سے جو مانگو میں دوں گا تمھارے والد نے کہا مجھے دنیا میں واپس بھیج دیجئے تاکہ دوبارہ شہید ہو سکوں۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا میری طرف سے پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ کسی کو واپس نہیں جانا تمھارے والد نے کہا اے میرے پروردگار پیچھے والوں کو ہماری حالت کی اطلاع دے دیجئے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں : ولا تحسبن الذین سے آخر تک۔ ( ترمذی، ابن ماجہ)

صحابہ کرام کا ذوق شھادت:

حضرات صحابہ کرام ؓ نے ناصرف آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں دس سال جنگیں لڑیں بلکہ آقا مدنی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرما لینے کے بعد بھی یہ مبارک ہستیاں اللہ کے راستے میں جہاد کرتی رہیں۔ ان حضرات کا شوقِ شہادت و جہاد اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جان و مال کی قربانی دینا قیامت تک کےلئے عدیم المثال ہے۔ ان حضرات نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں تاریخ کے اوراق ان واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ ان کے مرد، عورتیں اور بچے غرض ہر کوئی ایک سے بڑھ کر ایک قربانی دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والا تھا،چند واقعات ملاحظہ فرمائیں۔

1۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ خاندان نجار کے رئیس تھے، جد رسول حضرت عبدالمطلب کی والدہ سلمہ بنت عمرو، رشتہ میں حضرت انس بن نضر کی پھوپھی ہیں۔ حضور ﷺکے خدمت گار خصوصی حضرت انس بن مالک آپ کے سگے بھتیجے ہیں۔ انہی کے نام پر آپ کا نام انس رکھا گیا،کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ اس غیر حاضری پر انہیں بڑا ملال رہتا تھا۔ فرمایاکرتے تھے: یہ حق وباطل کے درمیان پہلا معرکہ تھا جس میں جناب رسول اللہ نے شرکت فرمائی اور میں اس سعادت سے محروم رہ گیا، اگر اللہ تعالیٰ نے پھر ایسا موقع عنایت فرمایا تو اللہ دیکھے گا کہ دین حق کو سربلند کرنے کیلئے میں کیا کارنامے سرانجام دیتا ہوں۔ غزوہ احد میں بڑے ہی ذوق وشوق سے شریک ہوئے، اس جنگ میں اچانک ایسا سانحہ رونما ہوا کہ مسلمانوںمیں بھگدڑ مچ گئی۔ آپ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا ’’الہٰی جو کچھ مسلمانوں سے سرزد ہوا میں اس کیلئے معافی کا طلبگار ہوں اورجو کچھ مشرکین نے کیا ہے اس سے میں لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔ ان کا گزر ایسی جگہ سے ہوا جہاں چند صحابہ کرام مایوسی کے عالم میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے پوچھا کہ اس طرح کیوں بیٹھے ہو؟ بڑی بے بسی سے کہنے لگے، حضور شہید ہوگئے ہیں، اب ہم کیا کریں۔ آپ نے انکو جھڑکتے ہوئے کہا: حضور کے بعد زندہ رہ کر تم کیا کرو گے، اٹھو اوراس مقصد کیلئے اپنی جان قربان کردو جس مقصد کیلئے ہمارے آقا نے جان دی ہے۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے، جبل احد کے پاس حضرت سعدبن معاذ سے ملاقات ہوگئی، انھوں نے کہا: انس میں تمہارے ساتھ ہوں، حضرت انس کفارکی صفوں میں گھس گئے، باربار کہہ رہے تھے ’’واہ !واہ! مجھے جنت کی خوشبو آرہی ہے، نضر کی پروردگار کی قسم! میں جبل احد کیطرف سے جنت کی خوشبو محسوس کررہا ہوں‘‘۔ بڑی جرأت سے مصروف پیکار رہے یہاں تک کہ جام شہادت نوش کیا، حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ نیزوں، تیروں اور تلواروں کے اَسی سے زیادہ زخم انکے جسم پر لگے ہوئے تھے۔ مشرکین نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس بے دردی سے انکی لاش کا مثلہ کردیاکہ وہ پہچانی نہیں جاتی تھی۔ انکی ہمشیرہ نے ایک انگلی کے پورے یا ایک تل کے نشان سے ان کوبمشکل پہچانا۔ انس بن مالک کہتے ہیں، قرآن کی یہ آیت انکے حق میں نازل ہوئی ’’اہل ایمان میں ایسے جواں مرد ہیں جنہوں نے سچا کردکھایا جو وعدہ انھوں نے اللہ سے کیا تھا‘‘۔

2۔ حضرت عمرو بن جموحؓ، وہ اپنی ٹانگوں سے معذور تھے اور اپنا توازن بھی قائم نہیں رکھ سکتے تھے، ان کے چار بیٹے جہاد میں شریک تھے،ان کے دل میں تمنا اٹھی کہ میں بھی جہاد میں شریک ہوں، نبی کریمؐ سے آ کر اجازت مانگی، آپؐ نے فرمایا کہ آپ کے تو چار بیٹے جہاد میں شریک ہیں، آپؓ گھرمیں ہی رہیں تو ٹھیک ہے، عرض کی کہ اے اللہ کے محبوبؐ! میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے لنگڑے پن کے باوجود میں جنت میں چلا جاؤں، نبی کریمؐ نے اجازت عنایت فرما دی، گھر آئے اور اہل خانہ سے کہا کہ میرے جہاد کے سفر کی تیاری کرو، چنانچہ گھر میں تیاریاں ہونے لگیں، بیوی کا خاوند کے ساتھ ایک خصوصی تعلق ہوتا ہے، ان کی بیوی نے دل لگی کے طور پر ہمت باندھنے کے لیے کہہ دیا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ آپ میدان جہاد سے بھاگ کر واپس آ جائیں گے، جیسے ہی یہ سنا دعا مانگی، ’’اے اللہ! مجھے میرے اہل خانہ کی طرف نہ لوٹانا‘‘ چنانچہ جہاد میں گئے، انہوں نے قتال در قتال کیا حتیٰ کہ شہید ہو گئے۔ ‘‘

3۔ حضرت حرام بن ملحان، جو کہ حضرت ام سلیم بنت ملحان(والدہ ماجدہ خادم رسول اللہ ﷺ حضرت انس بن مالک ) کے بھائی تھے، غزوہ بئر معونہ ۴ ہجری کے موقع نبی اکرم کے ان ستر صحابیوں میں سے ایک تھے جن کو رعل، ذکوان، عصیصہ وغیرہ قبائل نے شہید کر دیا تھا۔ جب انکو نیزہ مارا گیا تو انہوں نے بے اختیار کہا فزت و رب الکعبہ یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ صحیح بخاری شریف میں یہ واقعہ جلد دوئم میں تین بار بیان کیا گیا۔

4۔ اسی طرح جب ابن ملجم نے اپنی زہر آلود تلوار سےحضرت علی کرم اللہ وجہہ پر حملہ کیا اور کاری ضرب لگائی تو گھائل ہوکرشہید ہونے والے آخری خلیفہ راشد کی زبان مبارک سے نکلا ہوا یہ جملہ آج بھی تاریخ کا انمٹ نقش ہے،یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جو کہے کہ” میں موت سے نہیں ڈرتا چاہے میں موت پر جا پڑوں یا موت مجھ پر آن پڑے“ جو اپنے قاتل کو بھی شربت کا گلاس پیش کرے اور اُس کے ساتھ بھی انصاف کی آرزو رکھے،کوئی مانے یا نہ مانے لیکن صرف اور صرف وہی اپنے آخری وقت میں یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ آج میں کامیاب ہوگیا۔ ۔ ۔ ۔ ربّ کعبہ کی قسم!

5۔ وقت رحلت حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں، پاس کھڑے تیماردار شخص نے کہا کہ خالد !کیا موت کا ڈر ہے کہ تم اس وقت رورہے ہو؟حضرت خالدبن ولید نے کہاکہ موت کا کسے خوف کہ وہ تو برحق ہے،میں تو اس لیے رورہاہوں کہ میں نے دشمنوں کی صفوں میں دیوانہ وار داخل ہوکر مسلسل حملے کیے؛لیکن شہادت نصیب نہ ہوسکی،اب بستر مرگ پر پڑا شوق شہادت میں رورہاہوں۔ کاش میں میدان جہاد میں شہادت کی موت مرتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔

حضرت حسین کی مظلومانہ شہادت :

کربلا کا واقعہ تاریخ اسلام کانہایت افسوسناک سانحہ ہے، اس حادثے کی خبر اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺنے اس شہادت کی پیشین گوئی فرمائی ہے،غالباً اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا۔ آنحضورﷺ اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی، اس کی بنیاد اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی۔ اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی۔

اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی ، حریت فکر، انسان دوستی ، مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی۔ یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی۔ لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کواسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے اس لیے امام حسین محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لیے میدان عمل میں اترے ، راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔ نواسہ رسول کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اورسر کی بے حرمتی کی گئی اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا مقام طے کرنے کے لیے تاریخ کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ہماراکام نہیں ہے کہ ہم اصحاب رسول اور اولاد محمد کے مراتب طے کریں۔ تاریخ کو بطور تاریخ دیکھنا چاہیے اور تاریخی شخصیات کو بطور تاریخی شخصیات۔ انھیں حق و باطل کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ حضرت حسین سے دکھ اور غم کا تعلق، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اولاد ہونے کی نسبت سے ہے۔ لیکن جب ہم تاریخ کے طالب علم کے طور پر دیکھتے ہیں تو وہاں حسین ایک تاریخی شخصیت ہیں اور یزید دوسری تاریخی شخصیت ہیں۔ کیونکہ تاریخ میں شخصیات نا تو رضی اللہ عنہ ہوتی ہیں اورنہ مغضوب الیہ۔

    آپ دیکھیں نا، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسا خوب صورت معیار بتلا دیا؛ حضرت فاطمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ:
    یہ مت سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی بیٹی ہے تو بخش دی جاؤ گی۔ اور جب قران نے اہل ایمان سے یہ معاملہ کیا تو براہ راست مخاطب کیا کہ:
    اگر محمد رسول اللہ فوت ہوجائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم ایمان سے پھر جاؤ گے۔
    روز محشر یا خداتعالیٰ کی بارگاہ میں معاملات شخصیات سے ماوراء ہوتے ہیں۔ وہاں امت مسلمہ محض اس لئے نہیں بخش دی جائےگی کہ نسبت نبی صلی الل علیہ وسلم سے ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو نوح علیہ السلام کی بیوی اور بیٹے کیوں غرقاب ہوتے؟

    اس لیے مسئلہ یزید و حسین کو حق و باطل کا مسئلہ مت بنائیے۔ حق و باطل کا فیصلہ ہم اور آپ کرنے والے کون ہیں؟ کیا خدا ہمارے لیے کافی نہیں کہ وہ ہمارے درمیان حق و باطل کے فیصلے کرے؟ واللہ اعلم

متعلقہ

Close