مذہبی مضامین

عشرہ ذی الحجہ – فضائل و اعمال

ابوعدنان سعیدالرحمن بن نورالعین سنابلی

ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن یقینی طور پر روئے زمین پر افضل ترین ایام میں سے ہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک ان دنوں کی قسم کھائی ہے اور "ولیال عشر” فرماکر ان دنوں کی فضیلت اور عظمت کو اجاگر کیا ہے۔ عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت و عظمت کے تحت ہی اسلاف کرام ان دنوں میں حد سے زیادہ عبادتوں کو انجام دیا کرتے تھے۔ بعض صحابہ کرام مثلا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے بارے میں وارد ہے کہ ان دس دنوں میں حدسے زیادہ تکبیرات عید کا اہتمام کیا کرتے تھے حتی کہ بازاروں میں تشریف لے جاتے اور خوب زور زور سے تکبیرات کا ورد کیا کرتے تھے۔ مشہور تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اس عشرے میں بکثرت عبادات کی انجام دہی کیا کرتے تھے۔

عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت کے بارے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک ذی الحجہ کے دس دنوں میں نیکی کرنے سے پسندیدہ اور محبوب کسی دوسرے دن میں نیکی کرنا نہیں ہے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ کوئ شخص اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلے اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹ پائے۔

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نزدیک ان دس دنوں سے بہتر کوئی دن نہیں۔ (مسند بزار، اسے شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ )

اس کے علاوہ مسند احمد وغیرہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن انتہائی عظیم ہیں اور ان میں نیکی کرنا اور بھلائیوں کے کام انجام دینا اللہ کے نزدیک انتہائی محبوب عمل ہے۔ ( علامہ احمد شاکر مصری نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ )

سابقہ سطور سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن انتہائی فضیلت یافتہ، محترم اور مکرم ہیں۔ ان دس دنوں کے بارے میں علمائے کرام نے صراحت سے لکھا ہے کہ یہ دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے بھی بہتر اور برتر ہیں البتہ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں مطلق طور پر افضل اور برتر راتیں ہیں۔

عشرہ ذی الحجہ کی یہ عظمت اور فضیلت ہو بھی کیوں نا۔ ہم دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان دس دنوں میں سبھی امہات العبادات یکجا ہیں : صوم و صلاة، صدقہ و خیرات اور حج جیسی عبادتیں اس عشرہ میں اکٹھا ہوجاتی ہیں جو باقی دوسرے دنوں میں کبھی بھی جمع نہیں ہوپاتی ہیں، جیساکہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب فتح الباری میں کہا ہے۔

نویں ذی الحجہ کا روزہ ایک مہتم بالشان عمل ہے اور اس عمل کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عرفہ دن کا روزہ آنے والے ایک سال اور ایک سال گذشتہ کے گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔

یوم عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کی فضیلت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے اللہ تعالی نے ” وشاھد و مشھود” فرماکر اس کی قسم کھائی ہے جیساکہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ شاہد سے مراد یوم جمعہ اور مشہود سے مراد یوم عرفہ ہے۔

یوم عرفہ کی فضیلت کے بارے میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسوک اکرم صلی اللہ علیہ وسکن نے فرمایا: "اللہ تعالی اس دن سے زیادہ کسی دوسرے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں کرتا ہے۔ اس دن اپنے بندوں سے قریب ہوتا ہے اور اپنے بندوں کو دیکھ کر فخر جتاتا ہے اور فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ یہ میرے بندے کیا چاہتے ہیں "۔

اس روزے کے تعلق سے ایک بات یہ یاد رہنی چاہئے کہ یہ روزہ انہی لوگوں کے لئے مشروع ہے جو عرفہ کے میدان میں نہ ہوں یعنی حج ادا نہ کررہے ہوں، البتہ جو لوگ حج ادا کررہے ہوں، ان کے لئے یہ روزہ مشروع نہیں ہے۔

اسی طرح اسی عشرہ میں حج جیسا فضیلت یافتہ عبادت انجام دیا جاتا ہے۔ پوری دنیا سے لوگ جوق در جوق مکہ پہنچتے ہیں اور اعمال حج کی انجام دہی فرماکر رب تعالی کی رحمتوں، مغفرتوں اور بخششوں کی امید لگاتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حج مبرور کا جنت ہی بدلہ ہے۔ ایک دوسری حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:” من حج و لم یسفق و لم یرفث رجع کیوم ولدتہ امہ” یعنی اگر کوئی حج کرتا ہے اور میں فسق و فجور اور گناہ اور بدعتوں کا ارتکاب نہیں کرتا تو وہ اس طرح سے گناہوں سے پاک صاف ہوکر واپس لوٹتا جیساکہ آج ہی پیدا ہوا ہو۔

یہی نہیں عشرہ ذی الحجہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکثرت  تکبیر و تہلیل اور تحمید کرنے کا حکم فرمایااور کہا ہے کہ” فاکثروا فیھن التھلیل و التکبیر والتحمید” لہذا ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ تکبیرات عیدین کا ورد کرنا چاہئے اور اللہ تعالی سے دعا و استغفار کر نا چاہئے اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہنا چاہئے کیونکہ اگر ہم نے اور دنوں کی طرح ان کو بھی کھیل کود، غفلت اور سستی میں گزار دیا تو پھر گویا ہم نے اپنے اوپر انتہائی ظلم کیا اور مغفرت و بخشش کا بہت بڑا اور عظیم موقع گنوادیا۔

عشرہ ذی الحجہ کے بارے میں ایک خصوصی ہدایت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امتیوں کو دی ہے، وہ ہے کہ جب ذی الحجہ کا چاند دکھائی پڑجائے اورہم  قربانی کرنا چاہتے ہوں تو ہم اپنے بال ناخن وغیرہ ہرگز نہ کاٹیں۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا چاند دکھائی دے دے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ یہاں ایک امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بال یا ناخن کاٹنے سےمنع فرمایا ہے، یہ ممانعت صرف اور صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو قربانی کرنا چاہتے ہوں البتہ جو لوگ قربانی کرنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں ان کے لئے یہ حکم نہیں ہے۔ البتہ بعض روایتوں میں جو یہ آیا ہے کہ جو قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ ذی الحجہ کے ابتدائی عشرہ میں بال ناخن کاٹنے سے باز رہے کیونکہ جب قربانی کے دن نماز پڑھ کر بال ناخن کاٹے گا تو اسے قربانی کا ثواب ملے گا۔ ۔ یہ ثابت نہیں ہے۔

اس عشرہ میں سب سے اہم دن دسویں ذی الحجہ ہے جس دن پوری دنیا کے مسلمان رب تعالی کی خوشنودی کے لئے جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں اور اپنے عمل کے ذریعہ یہ عزم کرتے ہیں کہ بارالہا! ہم آج تیری خوشنودی کے لئے جانوروں کی قربانی پیش کررہے ہیں لیکن ضرورت پڑی تو ہم اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت مستعد اور تیار ہیں جیساکہ تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام نے تیرے ایک اشارے پر اپنے لخت جگر اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ارادہ کیا تھا۔ قربانی کے دن اللہ کے نزدیک جانوروں کی قربانی سے پسندیدہ کوئی دوسرا عمل نہیں ہے۔ نیز ایک دوسری حدیث میں سخت وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کے پاس استطاعت ہو، اس کے بعد بھی وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ ہماری عیدگاہ میں نہ جائے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے محقق علمائے کرام بے کہا ہے کہ صاحب استطاعت پر قربانی کرنا واجب اور ضروری ہے اور اگر کوئی استطاعت کے بعد بھی قربانی نہیں کرتا ہے تو پھر وہ شخص گنہگار ٹھہرے گا۔ ۔ ۔

قربانی کے تعلق سے ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ نماز عید سے پہلے قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ نماز کی ادائیگی کے بعد قربانی کا جانور ذبح کیا جائے۔ اگر کوئی شخص نماز عید کی ادائیگی سے پہلے جانور ذبح کردیتا ہے تو پھر اس کی قربانی قابل قبول نہیں ہوگی اور اس پر ضروری ہے کہ اس کی جگہ دوسری قربانی کا جانور ذبح کرے۔

مزید دکھائیں

ابوعدنان سعیدالرحمن

جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ، برندابن، مغربی چمپارن، بہار

متعلقہ

Close