مذہبی مضامین

عظمتِ رمضان: قرآن وحدیث کی روشنی میں

محمد رابع نورانی بدری

استاذ:دارالعلوم فیض الرسول ، سدھارتھ نگر (یوپی)

  اس وقت ہم لوگوں پر بحمدہ تعالیٰ ایک ایسا ماہ سایہ افگن ہے جس کا لمحہ لمحہ برکت اور لحظہ لحظہ خیر ہے قرآن کریم اور احادیث کریمہ میں غورکرنے کے بعد رمضا ن المبارک کی حقیقی عظمت اور رفعت کا اندازہ ہوتاہے، قرآن کریم میں اس ماہ ِخیر وبرکت، رحمت ومغفرت کا تعارف کچھ اس طرح کرایا گیا ہے :{ شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ}رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا  لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے(سورۂ بقرہ آیت ۱۸۵)

        صحیح بخاری او ر صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرور دوعالم  ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ:

        إذا جاء رمضان فتحت أبواب الجنۃ، وفی روایۃ فتحت أبواب الرحمۃ وغلقت أبواب النار، وصفدت الشیاطین واللفظ لمسلم (صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل شھر رمضان)

         یعنی :جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں۔

        مسند امام احمد ابن حنبل، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں ہے رسول اقدس  ﷺکا ارشاد گرامی ہے کہ:

        إذا کان أول لیلۃ من شہر رمضان صفدت الشیاطین، ومردۃ الجن، وغلقت أبواب النار، فلم یفتح منہا باب، وفتحت أبواب الجنۃ، فلم یغلق منہا باب، وینادی مناد: یا باغی الخیر أقبل، ویا باغی الشر أقصر، وللہ عتقاء من النار، وذلک کل لیلۃ واللفظ للترمذی(جامع الترمذی، أبواب الصوم، باب ماجاء فی فضل شھر رمضان)

         یعنی :جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اورسرکش جن قید کرلئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں توان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، منادی پکارتا ہے کہ اے خیر طلب کرنے والے !متوجہ ہو اور اے شر کے چاہنے والے !باز رہ اور کچھ لو گ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور یہ ہر رات میں ہوتا ہے۔

        امام بیہقی کی شعب الایمان میں ایک طویل روایت ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے شعبان کے آخری دن ایک خطاب فرمایا، فرمایا :

        یا أیہا الناس قد أظلکم شہر عظیم، شہر مبارک، شہر فیہ لیلۃ خیر من ألف شہر، جعل اللہ صیامہ فریضۃ، وقیام لیلہ تطوعا، من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن أدی فریضۃ فیما سواہ، ومن أدی فریضۃ فیہ کان کمن أدی سبعین فریضۃ فیما سواہ، وہو شہر الصبر، والصبر ثوابہ الجنۃ، وشہر المواساۃ، وشہر یزاد فی رزق المؤمن، من فطر فیہ صائما کان لہ مغفرۃ لذنوبہ، وعتق رقبتہ من النار، وکان لہ مثل أجرہ من غیر أن ینقص من أجرہ شیء  قلنا: یا رسول اللہ، لیس کلنا یجد ما یفطر الصائم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یعطی اللہ ہذا الثواب من فطر صائما علی مذقۃ لبن أو تمرۃ أو شربۃ من ماء، ومن أشبع صائما سقاہ اللہ من حوضی شربۃ لا یظمأ حتی یدخل الجنۃ، وہو شہر أولہ رحمۃ، وأوسطہ مغفرۃ، وآخرہ عتق من النار من خفف عن مملوکہ فیہ غفر اللہ لہ وأعتقہ من النار(شعب الایمان للبیھقی کتاب الصیام، فضائل شھر رمضان)

        یعنی: اے لوگو ! تمہاے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آیاہے  وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار ماہ سے بہتر ہے اس کے روزے اﷲ تعالیٰ نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام تطوع جو اس میں نیکی کرے تو ایسا ہے جیسے کسی اور ماہ میں فرض اداکیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اور دنوں میں ستر فرض ادا کئے یہ ماہ ماہ صبر ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے یہ مواسات کا مہینہ ہے اور اس ماہ میں مومن کے رزق بڑھا دیئے جاتے ہیں جو اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہوں کے لئے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کردی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا کہ روزہ رکھنے والے کو بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں سے کچھ کم ہو، صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ  ﷺ ہم میں ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے وہ افطار کرائے تو اس پر رسول رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ا ﷲ تعالی یہ ثواب ہر اس شخص کو دے گاجو ایک گھونٹ دودھ یا ایک خرما یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرائے اور جس نے کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اس کو اللہ تعالی میرے حوض سے وہ جام پلائے گا کہ وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا حتی کہ وہ جنت میں داخل ہو جا ئے گا یہ وہ ماہ ہے کہ اس کا اول رحمت، اوسط مغفرت اور آخر جہنم سے آزادی ہے اس ماہ میں جو شخص بھی اپنے غلام پر تخفیف کرے گا یعنی کام میں کمی کرے گا اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمائے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا۔

        اس حدیث پاک میں مکمل طریقے سے اس ماہ مبارک کے عظمت کے حقیقی خدوخال نمایاں ہو گئے۔

آخری عشرہ

        یوں تو رمضان شریف کے ماہ مبارک کا لمحہ لمحہ برکت اور لحظہ لحظہ خیرہے، تاہم ا سکا آخری عشرہ اپنی گوناگوں خصوصیات کی بنا پربڑی اہمیت کاحامل ہے، کہ یہی عشرہ تو جہنم سے آزادی کاپروا نہ لئے ہوئے ہے جیسا کہ حدیث شریف میں واردہے کہ:

        وہو شہر أولہ رحمۃ، وأوسطہ مغفرۃ، وآخرہ عتق من النار(صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصیام، باب فضائل شھر رمضان ان صح الخبر)

        یعنی:وہ ایسا مہینہ ہے کہ جس کا پہلا عشرہ رحمت درمیانی عشرہ مغفرت اورآخری عشرہ جہنم سے آزادی ہے۔

        اوراسی عشرے میں ایک ایسی شب آتی ہے جو ہزار ماہ سے افضل ہے، اسکی روشنی میں اگریہ کہا جائے کہ ہزار ماہ کی عبادت ایک طرف ہو اورصرف اس شب کی عبادت ایک طرف تواس شب کی عبادت کا پلہ گراں ہو جائے گا، بھاری پڑے گا، تویہ کہنا غلط ا ور بے جانہ ہو گااوریہی وہ مقدس ومتبرک شب ہے جس میں خداوندعالم کی آخری کتاب اس کے آخری نبی  ﷺ پرنازل ہوئی، اس مقدس شب کی اہمیت فضیلت کوکوئی مشت خاک کیابیان کرسکتا ہے جب کہ خود خالق ارض و سماء جل جلا لہ وعم نوالہ نے اس کی فضیلت قرآن کریم میں ایک مستقل سورت نازل فرما کر بیان فرمائی ہے، ارشاد باری تعالی ہے:

        {اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ وَ مَآ اَدْرٰ کَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ  تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوْحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ  مِنْ کُلِّ اَمْرٍ سَلٰمٌ  ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ }(سورۂ قدر، پارہ۳۰)

        بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا  اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر  شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں  اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے  وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک

         اس سورت کریمہ کی تلاوت اور تدبر کرنے کے بعدیہ کہنا درست اور صحیح ہے کہ یہ مقدس شب اپنے اندر حسب ذیل چار اہم خصوصیات رکھتی ہے:

                (۱ )اس شب میں قرآن کا نزول ہوا۔

                ( ۲) یہ شب ہزار  ماہ سے افضل ہے۔

                (۳)اس شب میں حضرت جبریل علیہ السلام بہت سے ملائکہ کے ساتھ  زمین پر اترتے ہیں۔

                (۴)یہ مقدس شب اپنی تمام تررحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ہم پر صبحِ صادق تک سایہ فگن رہتی ہے۔

        اﷲ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اپنے پیارے حبیب نبی رحمتﷺ کے صدقے میں جہاں بہت سارے اکرامات وانعامات سے نوازا ہے انھیں اکرامات وانعامات میں سے ایک شب قدر بھی ہے جو صرف اورصرف امت مسلمہ کو عطا فرما یا اور یہ مقدس اور متبرک شب امت مسلمہ کے سوا کسی اورامت کے حصے میں نہیں آئی ہے۔

        بہر حال اس لحاظ سے یہ عشرہ بڑی اہمیت کاحامل ہے اورا سی پر بس نہیں بلکہ غور کیجئے تو اسی عشرے میں قرآن کریم کا نزول بھی ہوا ہے کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ قرآن کریم لیلۃالقدر میں نازل ہوا ہے اور لیلۃالقدر رمضان شریف کے آخری عشرے ہی میں ہوتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ :

        التمسوہا فی العشر الأواخر فی کل وتر(جامع الترمذی، أبواب الصوم، باب ماجاء فی لیلۃ القدر)

        یعنی: لیلۃ القدرکو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

        ان تمام خصوصیتوں اوراہمیتوں کے علاوہ یہ عشرہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ عشرہ اعتکا ف کا عشرہ ہے حدیث شریف میں حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے مروی ہے کہ

        أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یعتکف العشر الأواخر من رمضان حتی قبضہ اللہ(جامع الترمذی، أبواب الصوم، باب ماجاء فی الاعتکاف)

        یعنی :نبی رحمتﷺ رمضان المبارک کے عشرئہ اخیرہ میں اعتکاف فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ کا وصال پاک ہو گیا۔

        اعتکاف نبی رحمتﷺکی سنت کریمہ ہے اور ایک بندئہ مومن جب اعتکاف کے لئے مسجد میں جاتا ہے توایسامحسوس ہوتا ہے کہ و ہ اس دنیا میں رہ کر بھی ایک دوسری دنیا میں جا رہا ہے جو اس دنیا سے الگ تھلگ ایک دوسری دنیاہے جہاں اوہام وخرافات کے بجا ئے عقیدہ کا یقین ہے، فریب نفس کے بجائے خود شناسی ہے، کذب، نفاق، غدر، فریب، دسیسہ کاری اوربے حیا ئی کے بالمقا بل صداقت، وفا، اصلاح باطن، پاکدامنی اورپارسائی ہے جہاں بغض ونفرت کے مقابلے میں محبت والفت کی بادبہاری ہے اور جہاں تزکیۂ باطن، زہدوتقویٰ، گریہ وزاری، تضرع، تذلل اور تمسکن کی حکومت ہے۔

         اخیر میں یہ ضرور عرض کروں گاکہ رمضان المبارک کا مہینہ جوکہ مذکورہ بالا رحمتوں، برکتوں اور عظمتوں کاحامل ہے اس میں ہمیں چاہیئے کہ اسے ہم زندگی میں ایک نئے عہدکے آغازکے طورپر لیں، یہاں سے زندگی کی نئی شروعات کریں، اس میں نئی صبح طلوع کریں، اسے ایک نئے دور میں داخل کریں، اپنے اندر ایک روحانی انقلاب لے آئیں، اور عہد کریں کہ ہم نیکیوں کے راہ پرگامزن اور برائیوں کے راستے سے دور رہیں گے، شریعت اسلامیہ کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں گے کسی طرح کا قدم اٹھانے سے پہلے خودکسی طرح کا فیصلہ لینے کے بجائے شریعت کا فیصلہ معلوم کر کے اس پر عمل پیرا ہوں گے، اس کو غنیمت مان کر(کہ اس کے بعدرمضان کا ماہ مبارک ہم سے رخصت ہو جا ئیگا) اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت، قرآن کریم کی تلاوت، درود پاک کی کثرت اورنیک اعمال کریں اوربالخصوص وہ طاق راتیں جن میں سے کوئی ایک ضرورلیلۃ ا لقدر ہوگی پوری رات عباد ت اور تلاوت قرآن کریم کی خوشبوئوں سے معطر کر دیں کیونکہ رمضان المبارک آئندہ ضرورآئے گا اور ہمیشہ اسی طرح آتا رہے گا مگر کتنی نگاہیں اسکے دیکھنے کے لئے نہیں رہ جائیں گی اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہونے کی توفیق رفیق عطا فرمائے (آمین)

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close