علم و حکمت کے موتی اور دامن اسلام

0

اللہ بخش فریدی

انسان سرتاج کائنات اور زمین پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بہترین مخلوق ہے وہ باقی مخلوقات سے صرف اس لیے افضل و اعلیٰ، اشرف و ممتاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم اور عقلِ سیلم سے نوازا، سوچنے اور سمجھنے کی توفیق بخشی اور سب سے زیادہ علم عنائت فرمایا۔  اسی علم ہی کی بنا پر فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کے آگے جھکنا پڑا اوراسی علم ہی کی بدولت ساری کائنات انسان کیلئے مطیع و مسخر ہو کر رہ گئی ہے حضور نبی کریم ﷺپر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی اس میں بھی اللہ رب العزت نے سب سے پہلے علم کی ہی بات کی۔ فرمایا

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق oخَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍo اِقْرَاْ وَ رَبُّکَ الْاَکْرَمُo الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِo عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ ےَعْلَمْo

’’پڑھو اپنے پرودگارکے نام سے جس نے پیدا کیا، انسان کوجمے ہوئے خون سے بنایا، پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سیکھایا، انسان کو وہ سیکھا یا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ (العلق 1…5:96)
دنیا میں جو انسان نور ایمان سے منور ہوکر اپنی ذہنی و فکری اور علمی وعملی قوتوں سے کام لیتے ہوئے صراط مستقیم پر قائم رہتے ہیں ان کے ساتھ اللہ کریم کاوعدہ ہے کہ وہ انہیں دنیا میں کامیابی وکامرانی، عزت ووقار اور عظمت و سربلندی عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی عظیم کامیابی سے ہمکنار فرمائے گا۔

ےَرْ فَعَ اللَّہُ الَّذِےْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِےْنَ اُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ

’’اللہ تم میں سے ایمان والو ں اور علم والوں کے درجات بلند فرمائیگا۔‘‘
ویسے تو سب انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں مگر وہ جو علم کے زیور سے آراستہ ہوئے اور پھر اس پر پوری طرح عمل کیا وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، بے علم جاہل ہیں اللہ تعالیٰ سے دور، دین سے دور، دنیا سے دور،علم ایک نور ہے، علم ایک روشنی ہے، علم ایک چراغ کی مانند ہے، اور چراغ چاہے جتناہی چھوٹا ہی کیوں نہ ہو ساری دنیا کا اندھیرا مل کر بھی اسے نہیں بجھا سکتا۔اسی لئے حضور نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور علم کاحصول ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔ فرمایا
طلب علم فریضۃ علیٰ کل مسلم و مسلمۃ ( ابن ماجہ)

’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد، عورت پر فرض ہے۔‘‘

یہا ں علم سے مراد محض دینی علم نہیں بلکہ اس میں ہر قسم کے تمام علوم فنون اور حرب ضرب شامل ہیں ۔  حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور سید عالم ﷺ سے علم کے بارے میں ایک مفصل حدیث نقل کی ہے جس سے علم کی ضرورت و اہمیت اور افادیت پر تفصیلی روشنی پڑتی ہے۔ فرمایا

’’ علم حاصل کرو، اللہ تعالیٰ کیلئے علم حاصل کرنا نیکی ہے، علم کی طلب عبادت ہے اور اس میں مصروف رہنا تسبیح اور بحث و مباحثہ کرنا جہاد ہے۔  علم سکھاؤ تو صدقہ ہے، علم تنہائی کا ساتھی، فراخی اور تنگدستی میں رہنما، غم خوار دوست اور بہترین ہم نشین ہے۔علم جنت کا راستہ دکھاتا ہے، اللہ تعالیٰ علم ہی کے ذریعے قوموں کو سر بلندی عطا کرتا ہے،لوگ علماء کے نقش قدم پر چلتے ہیں تو دنیاکی ہر چیز ان کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے۔علم دلوں کی زندگی ہے اور اندھوں کی بینائی۔  علم جسم کی توانائی اور قوت ہے۔علم کے ذریعے انسان فرشتوں کے اعلیٰ درجات تک پہنچتا ہے۔ علم میں غور وخوض کرنا روزے کے برابر ہے اور اس میں مشغول رہنانماز کے برابر ہے، علم ہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی صحیح اطاعت، فرمانبرداری وعبادت کی جاتی ہے، علم سے ہی انسان معرفت خداوندی حاصل کرتا ہے، علم ہی کی بدولت انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے۔ علم ایک پیش رو اور رہبر ہے اور عمل اس کا تابع۔  خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو علم حاصل کرتے ہیں اور بدبخت اس کی سعادت سے محروم رہتے ہیں ۔ ‘‘

اسلام کا دامن حکمت اور دانائی کے موتیوں سے بھرا پڑا ہے۔ دین اسلام تمام دنیا کے انسانوں کو فکرو عمل کی دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے علوم وفنون کیلئے اس کی آغوش کھلی ہے۔اسلام اصولی طور پر تحقیقات اورسائنس ہی کا دین ہے جو خود کائنات میں غور و فکر اور مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ دنیا کااور کوئی مذہب کائنات میں غورو فکر اور مشاہدے کی دعوت نہیں دیتااور یہ ان کے باطل ہونے کی کھلی دلیل ہے۔  صرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو کہتا ہے کہ فطرت کے قریب آؤ، فطرت کو قریب سے دیکھو اور اس میں غور وفکر کرو کہ اسے کس نے پیدا کیا؟اس کو پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اور اس سے انسانی زندگی کیلئے کیا کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں ؟جس قدر سائنس کی تحقیقات، ایجادات اور انکشافات میں اضافہ ہو گا اسی قدر اسلام کے دین فطرت اور دین حق ہونے کااعتراف بڑھتا جائے گااور توحید حق کے پرستاروں میں اضافہ ہوگا۔  جس طرح ماضی میں مسلمانوں نے بے نظیر سائنسی کارنامے سرانجام دئیے اور دنیا میں ایک پر وقار مقام حاصل کیا، اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دنیا میں اپناوہ کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کریں ۔

مغرب تو آج ترقی کر رہا ہے مگر اسلام نے مسلمانوں کو ابتداء سے ہی عروج و اقبال عطا کر دیا تھا اور تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر لگا دیا تھا، تمام علوم و عرفان، ہنرو فن، تخلیق و ارتقاء کے چراغ جلانے کی شروعات مسلمانوں نے کیں ۔ الفابیٹک،ریاضی، الجبرا، جیومیڑی،سائنس، سیاروں اور ستاروں کے علم کے سرچشمے مسلمانوں سے ہی پھوٹے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب مغرب جہالت و تاریکی کے اندھیروں میں بھٹک رہاتھا اس وقت ہمارے علم و فن کے چراغ روشن تھے۔آج کے ترقی یافتہ یورپ کے پاس جب لباس کا تصور نہ تھا اس وقت بغداد میں ململ سے لیکر مخمل تک نفیس کپڑوں کے کارخانے کام کر رہے تھے۔جب یورپ میں فن تعمیر کا تخلیل تک بھی نہ پایا جاتا تھا اور کھلے آسمان کے نیچے زندگی کے تاریک دن کاٹ رہا تھااس دور میں مسلمان فن تعمیر میں بلند مقام حاصل کر چکے تھے۔بغداد، قرطبہ اور غرناطہ میں دنیا کی حسین ترین عمارتیں، مساجد اورتدریسی جامعات موجود تھیں اور یورپ کے طالب علم اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے اسلامی تمدن کے حامل شہروں بغداد، قاہرہ، قسطنطنیہ اور اندلس و قرطبہ کی طرف کھینچے چلے آتے تھے اور اسکندریہ یونیورسٹی میں داخلہ مل جانے پر فخر کیا کرتے تھے۔

جب آج کا یو رپ طب، علاج معالجہ سے بے بہرہ تھے اس وقت مسلمانوں نے علوم طب میں اعلی معارج کو طے کر لیا تھا اور یورپ کے لوگ اپنے علاج معالجہ کی غرض سے اسلامی ممالک کا رخ کرتے تھے۔ آج کا ترقی یافتہ یورپ جب ایجاد واختراع کے ہر احساس اور سوچ سے تہی دامن تھا اس وقت مسلمان ایجاد و انکشافات کی دنیا میں دھوم مچائے ہوئے تھے۔ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ کے دور میں بحری جہاز پے کام ہو رہا تھا۔ جب یورپ سمندر میں تیرنا نہیں جانتا تھا اس وقت مسلمان افواج بحری جہازوں کے ذریعے یورپ کے تمام مشرقی اور جنوبی ساحلوں کو چھو چکے تھے۔جب یورپ جنگی اوزار سے بے خبر تھا اس وقت مسلمان منجیق کے ذریعے بھاری پتھر اٹھا کر دشمنوں پر دے مارنے کی مشق کر چکے تھے۔آج دنیا کو نظام مملکت کا درس سیکھانے والا یورپ جب ملک چلانے کے اطوار سے نا آشنا تھا اس وقت اسلام کا دیا نظام آدھی دنیا پر حکومت انتہائی احسن انداز میں چلا رہا تھااور معاشرہ کے ایک ایک فرد تک اس کا ثمر پہنچتا تھا مختلف رنگ و نسل، لسان، تہذیب و تمدن ہونے کے باوجود۔اس وقت پوری دنیا میں اسلام کے نظام عدل، نظم و ضبط، رہن سہن، نظام معاشرت، نظام دفاع میں کوئی ثانی نہیں تھا۔الغرض کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں مسلمانوں نے اختراع و ایجادات کے جوہر نہ دکھائے ہوں ۔

قرآن کریم کی حقانیت اور مسلمانوں کے علمی عروج اور سائنسی ترقی بارے معروف یورپی دانشور اور مورخ ڈاکٹر موریس بوکالے (Dr. Maurice Bucaille) اپنی کتاب ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ کے باب’’ قرآن اور جدید سائنس ‘‘ میں لکھتا ہے۔

’’قرآن جہاں ہمیں سائنس کو ترقی دینے کی دعوت دیتا ہے وہاں خود اس میں قدرتی حوادث سے متعلق بہت سے مشاہدات و شواہد ملتے ہیں اور اس میں ایسی تشریحی تفصیلات موجود ہیں جو جدید سائنسی مواد سے کلی مطابقت رکھتی ہیں ۔  یہودی و عیسائی تنزیل میں اس جیسی کوئی بات نہیں ۔  اس کے باوجودیہ خیال کرنا غلط ہو گا کہ تاریخ اسلام میں کچھ عقیدت مندوں نے کبھی سائنس کی جانب سے ایک مختلف رویہ کو اپنے دل میں جگہ نہیں دی ہے۔یہ ایک امر واقع ہے کہ بعض ادوار میں مسلم ملکوں میں لوگوں کو تعلیم دینے کی ذمہ داری کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ مساوی طور صحیح ہے کہ عالم اسلام میں دوسری جگہوں کی طرح بعض اوقات سائنسی ترقی کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ پھر بھی یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام کے انتہائی ترقی کے زمانہ میں جو آٹھویں اور بارہویں صدی عیسوی کے درمیان کا زمانہ ہے یعنی وہ زمانہ ہے جب سائنسی ترقی پر عیسائی دنیا میں پابندیاں عائد تھیں، اسلامی جامعات میں مطالعہ اور تحقیقات کا کام بڑے پیمانے پر جاری تھا۔ یہی وہ جامعات ہیں جہاں اس دور کے قابل ذکر ثقافتی سرمائے ملتے ہیں ۔  قرطبہ کے مقام پر خلیفہ (الحکم ثانی) کے کتب خانہ میں چار لاکھ کتابیں تھیں، ابن رشد وہاں درس دیتا تھا، اور یونانی، ہندوستانی اور ایرانی علوم سیکھائے جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام یورپ سے کھینچ کر طلبہ قرطبہ میں تعلیم حاصل کرنے جایا کرتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج کل لوگ تعلیم مکمل کرنے کیلئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ جاتے ہیں ۔  مہذب عربوں کا یہ ہمارے اوپر بڑا احسان ہے کہ ان کی بدولت قدیم مخطوطات کا ایک بڑا ذخیرہ ہمیں ہم دست ہو گیا۔انہی عربوں نے مفتوحہ ممالک کے کلچر کو منتقل کرنے کا کام کیا۔تاہم ریاضی، الجبرا عربوں کی ایجاد ہے، فلکیات، طبیعیات( مناظر و مرایا)، ارضیات، نباتات، طب (ابن سینا) وغیرہ کیلئے ہم بڑی حد تک عربی تمدن کے ممنون احسان ہیں ۔ سائنس نے پہلے پہل قرون وسطیٰ کی اسلامی جامعات میں بین الاقوامی صورت اختیار کی، اس زمانہ لوگ مذہبی رنگ میں آج سے کہیں زیادہ رنگے ہوئے تھے، لیکن اسلامی دنیا میں یہ چیز ان کو اس بات سے نہیں روکتی تھی کہ مذہبی اور سائنسی تعلیم دونوں ایک ساتھ ہوں ۔  سائنس مذہب کے ساتھ توام تھی اور اس کی یہ حیثیت کبھی ختم نہیں ہو سکتی تھی۔‘‘
ابتدائی مسلمانوں کی ترقی، عروج و کمالات اور علمی لگاؤ بیان کرتے ہوئے معروف مغربی مورخ ڈاکٹر گوسٹاوے لکھتا ہے۔
’’جب یورپ والے لائبریری کے مفہوم سے بھی نا آشنا تھے، یورپ کے تمام کلیساؤں کے راہبوں سے جمع کی جانے والی کتابوں کی تعداد پانچ سو سے متجاوز نہ تھی اس وقت اسلامی ممالک میں کتابوں کی جمع آواری کی داستان یہ تھی کہ قاہرہ کی لائبریری میں ایک ملین کتابیں موجود تھیں، طرابلس کی لائبریری میں تین ملین کتابیں ذخیرہ کی گئی تھیں، بغداد کی لائبریری میں چار ملین کتابیں کشش کا باعث تھیں ۔ اسپین کی لائبریری کیلئے سالانہ ستر، اسی ہزار کتابیں جمع کی جاتی تھیں ۔  تیرہویں صدی عیسوی کی ابتداء میں مستنصریہ یونیورسٹی پوری دنیا میں انفرادیت کی حامل تھی۔‘‘

امریکی مورخ انگرسال مسلمانوں کے ابتدائی دور کی عروج و کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ

’’قرآن کے وسیع تر نظریہ تعلیم کے تحت عربو ں نے جابجا کالج قائم کئے، رصد گاہیں تعمیرکیں، سائنسی علوم کو عام کیا، ہندسے رائج کیے، الجبرا سیکھایا، ستاروں کے نقشے اور زاویے بنائے، ستاروں کے نام رکھے، زمین کا حجم دریافت کیا، سن عیسوی کا کیلنڈر درست کیا، علوم فلکیہ کو ترویج دی، آلات ہےئت تعمیر کیے، جنگی اوزار بنائے، علم کیمیا کی ایجاد کی، خیراتی شفاء خانوں کا نظام رائج کیا۔‘‘

اسلام کے ابتدائی دور کے جب ترقی وکمالات پر نگاہ پڑتی ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اگر ہم غفلت کی نیند نہ سوتے، ہمیں لا پرواہی کا زنگ نہ لگتا، سستی و کاہلی کا دیمک کا کھاتا اور اختراع و ایجادات، ارتقاء و انکشافات کا سلسلہ یونہی جاری رکھتے تو آج کا مغرب ہمارے قدموں کے گرد و بخار کو بھی نہ چھو سکتا تھا۔اگر ہم قرآن سے غافل نہ ہوتے، سنت کا دامن نہ چھوڑتے تو کبھی ہمیں زوال کا دیمک نہ کھاتا۔ہم نے قرآن کوپورے نظام تعلیم سے الگ کرکے گھروں میں رکھوا دیا صرف ثواب کی غرض سے پڑھنے کیلئے،اور یہ بھی کہ زندگی کے اور کسی معاملہ میں اس کا کوئی دخل بھی نہ ہو، زندگی کے باقی معاملات میں ہمارے جمہوری خود ساختہ قوانین چلیں ۔

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی 
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

دنیاکی دوسری قومیں جو ایک مدت اور عرصہ دراز تک اہل اسلام کے خرمنِ کمالات کی خوشہ چین رہیں آج دنیاوی ترقی کی اس معراج تک جاپہنچی ہیں کہ اس زمانہ کے مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔  اس کی اصل وجہ صرف ہماری غفلت، کاہلی و بے پر واہی ہے، قرآن و سنت سے دوری ہے۔اپنے دینی اصولوں، اپنے ضابطہ حیات، اپنے طرز زندگی سے بیزاری ہے اپنے اسلاف، اپنے بزرگوں کے اعلیٰ کارناموں سے ناواقفیت ہے۔جب ہم اپنے نظام حیات کو چھوڑ کے دوسروں کی نقل اور تقلید پر اتر آئے تو ہم دنیا ہی میں ذلیل و رسوا ء ہو کر رہ گئے۔قرآن پر عمل پیرا نہ ہونے کے باعث آج مسلمان زندگی کے ہر میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔  شروع میں جب مسلمانوں نے دینی علم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم بھی حاصل کیا اور دوسرے علوم و فنون کو بھی نہ صرف سیکھا بلکہ انہیں مزید ترقی اور وسعت دی تو وہ ساری دنیا پر غالب آ گئے۔  اس لحاظ سے علم مسلمانوں کا قومی ورثہ ہے اور اس عظیم وراثت کو صحیح استعمال میں لا کر مسلمان دین و دنیا کی جملہ کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کر سکتے ہیں ۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ غیر مسلم قومیں دنیاوی علوم و فنون میں ترقی یافتہ ہیں اور آج مسلمانوں سے بہت آگے ہیں اور وہ دنیا پر حکومت کر رہی ہیں لیکن کیونکہ وہ دینی وروحانی علم سے محروم ہیں جس کے سبب دنیا میں امن وسکون نہیں ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ پہلے تو وہ صحیح معنوں میں مسلمان بنیں، اپنی اصلاح کریں، اپنے معاشرہ کی اصلاح کریں، اپنے معاشرہ کو ہر قسم کی تمام برائیوں سے پاک کر کے ایک حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ بنائیں ۔  دینی علوم کو فروغ دیں اور دنیا پر واضح کر دیں کہ اسلام مسلکوں اور فرقوں کا نام نہیں بلکہ اسلام ایک نظام کا نام ہے، اسلام ایک ضابطہ حیات کا نام ہے۔ پھر اسلام پے چل کر، قرآن و سنت کا دامن مضبوطی سے تھام کرجدید علوم و فنون، سائنس،انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں انتہا درجہ کی مہارت حاصل کریں ۔ وہ اتنی ذکاوت و مستعدی اور علم رکھتے ہوں اور سخت سے سخت محنت کرنے پر کمربستہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جو طبعی قوتیں پیدا کی ہیں، اور زمین میں دولت و قوت کے جو چشمے اور دفینے رکھ دیے ہیں، ان سے کام لیتے ہوئے اِن کو اسلام کے عظیم مقاصد اور صحیح تشخص کے لیے مفید بناسکیں ۔

دورِ حاضر سائنس و ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کا دور ہے ہمیں روایتی تدریس سے ہٹ کر جدید ذرائع سے اپنی تعلیم کو موثر کرنا ہوگا تاکہ طلبا کو روز ہونے والی تبدیلیوں اور انقلابات سے واقف کراتے ہوئے ان میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا جاسکے، صرف اسی صورت میں مسلمان پوری دنیا پر غالب آ سکتے ہیں اور دنیامیں اپنا کھویا ہوا عظیم مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں جب وہ زیورِتعلیم کو قرآن و سنت کے بالکل آئین مطابق آراستہ کریں وگرنہ ترقی یافتہ اقوام کی غلامی اور صہیونی و سامراجی قوتوں سے نجات پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

تبصرے