گوشہ خواتینمذہبی مضامین

عورت: رسول اکرمﷺ کی نظر میں (قسط 4)

اسلامی تعلیم تو یہی ہے کہ اپنے بال بچوں کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھا جائے لیکن اگر کسی بھی وجہ سے ترجیح دینا روا ہوتا تو آپؐ اسے بیٹیوں کے حق میں ہی پسند فرماتے۔

 ڈاکٹر محمد واسع ظفر

حدیث کی کتابوں میں لڑکیوں کی کفالت اور پرورش کی ترغیب اور اس پر ملنے والی جزا سے متعلق اور بھی روایات ہیں لیکن سب کو نقل کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ، البتہ ایک واقعہ اُم المومنین عائشہ صدیقہؓ کا نقل کر دینا مناسب سمجھتا ہوں ۔ وہ خود بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کو اٹھائے ہوئے آئی۔ میں نے اس کو تین کھجوریں دیں ۔ اس نے ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دے دی اورایک کھجور خود کھانے کے لئے اپنے منہ تک اٹھائی ہی تھی کہ اس کی بیٹیوں نے پھراس سے وہ کھجور بھی مانگ لی۔ اس نے اس کھجور کو جسے وہ خود کھانا چاہ رہی تھی دو ٹکڑے کرکے دونوں کو (ایک ایک ٹکڑا) دے دیا۔ مجھے اس کے اس معاملہ پر بڑا تعجب ہوا (کہ خود کچھ نہیں کھایا اور سب بیٹیوں کو ہی کھلا دیا)۔ میں نے جو کچھ اس نے کیا تھا اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپؐ نے فرمایا:

’’إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ أَوْ أَعْتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ‘‘

بے شک اللہ تعالیٰ نے اس عمل کے سبب اس پر جنت واجب کردی یا فرمایا اسے جہنم سے آزاد کر دیا‘‘۔ (صحیح مسلم، کتابُ الْبِرِّ وَ الصِّلَۃِ وَالآدَابِ، فَضْلِ الاِحْسَان إِلَی الْبَنَاتِ)۔

 امام مسلم ؒنے حضرت عائشہؓ سے ہی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

’’مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ فَأَحْسَنَ إِلَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ‘‘

’’جس کو بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا اور اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ اس (شخص) کے لئے جہنم سے آڑ ہوں گی‘‘۔ (صحیح مسلم، کتابُ الْبِرِّ وَ الصِّلَۃِ وَالآدَابِ، فَضْلِ الاِحْسَان إِلَی الْبَنَاتِ )۔

امام ترمذیؒ نے اس حدیث کو الفاظ کے تھوڑے فرق سے نقل کیا ہے۔ اس میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مَنِ ابْتُلِيَ  بِشَيْئٍ مِنَ الْبَنَاتِ فَصَبَرَ عَلَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ‘‘  یعنی جو شخص کچھ بیٹیوں کے سبب آزمائش میں ڈالا گیا پھر اس نے ان (کی پرورش، تعلیم و تربیت اور شادی وغیرہ میں پیش آنے والی تکالیف) پر صبر کیا تو وہ ( لڑکیاں ) اس کے لئے دوزخ کی آگ سے آڑ ہوں گی‘‘۔ ( سنن ترمذی، کتابُ الْبِرِّ وَ الصِّلَۃِ، بابُ مَاجَآئَ فِي النَّفَقَۃِ عَلَی الْبَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ)۔

 مذکورہ بالا احادیث پر غور کرنے سے یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ پیغمبر اسلام محمد ﷺ نے بیٹیوں کے جینے کے حق (Right to live)، نان و نفقہ کے حق (Right to Maintenance)، اچھی تعلیم و تربیت اور پرورش پانے کے حق(Right to Education & Upbringing)، سماجی عزت و وقار کے حق(Right to Social Dignity) اور بیٹوں کے مساوی سلوک پانے کے حق (Right to Get Equal Treatment Like Sons) کو کس حکمت کے ساتھ یقینی بنانے کی کوشش اور وکالت کی ہے۔ بیٹے بیٹیوں کے درمیان سلوک، لین دین اور داد و دہش میں عدل قائم کرنے کے سلسلہ میں آپؐ سے کئی اور بھی روایات ہیں ۔ مثلاً آپؐ کے ایک صحابی حضرت نعمان بن بشیرؓ نے جب اپنے ایک لڑکے کو ایک عطیہ (غلام کی شکل میں ) دیا اور آپؐ کو اس پر گواہ بنانا چاہا تو آپؐ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے اسی جیسا عطیہ اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ، اس پر آپؐ نے فرمایا :  ’’فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ‘‘ یعنی ’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو‘‘۔ (صحیح بخاری، کتابُ الْھِبَۃِ وَ فَضْلِھَا وَاتَّحْرِیْضِ عَلَیْھَا، بابُ الإِشْھَادِ فِي الْھِبَۃِ)۔ چنانچہ نعمان بن بشیرؓ نے اپنے اس بیٹے سے وہ ہدیہ واپس لے لیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:  إِنَّ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَیْنَ وَلَدِکَ کَمَا عَلَیْھِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ یَبَرُّوکَ‘‘ یعنی ’’تیرے اوپر حق (لازم) ہے کہ تو اپنی اولاد کے درمیان عدل کرے جس طرح ان پر لازم ہے کہ وہ تیرے ساتھ نیکی کریں ‘‘۔ ( سنن الکبریٰ بیہقی، کتابُ الْھِبَات، بابُ السُّنَّۃِ فِي التَّسْوِیَۃِ بَیْنَ الأَوْلَادِ فِي الْعَطِیَّۃِ، بروایت نعمان بن بشیرؓ)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

’’اعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ فِي الْنُّحْلِ کَمَا تُحِبُّونَ أَنْ یَعْدِلُوا بَیْنَکُمْ فِي الْبِرِّ وَ اللُّطْفِ‘‘

’’اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں عدل کروجس طرح تم پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی میں تمھارے ساتھ عدل کریں ‘‘۔ ( سنن الکبریٰ بیہقیؒ، کتابُ الْھِبَات، بابُ مَا یُسْتَدَّلُ بِہِ عَلٰی أَنَّ أَمْرَہُ بِا  التَّسْوِیَّۃِ بَیْنَھُمْ  فِي الْعَطِیَّۃِ عَلَی الاِخْتِیَارِ دُونَ الاِیْجَابِ، بروایت نعمان بن بشیرؓ )۔

  ایک اور روایت عبداللہ بن عباسؓ کی ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کا بیٹیوں کی طرف ہی جھکائو معلوم ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ اس طرح ہیں :

’’سَوُّوا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ  فِي الْعَطِیَّۃِ فَلَوْ کُنْتُ مُفَضِّلًا  أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَائَ ‘‘

’’اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں برابری کرو، اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں کو فضیلت دیتا‘‘۔ ( سنن الکبریٰ بیہقیؒ، کتابُ الْھِبَات، بابُ السُّنَّۃِ فِي التَّسْوِیَۃِ بَیْنَ الأَوْلَادِ فِي الْعَطِیَّۃِ)۔

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گو اسلامی تعلیم تو یہی ہے کہ اپنے بال بچوں کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھا جائے لیکن اگر کسی بھی وجہ سے ترجیح دینا روا ہوتا تو آپؐ اسے بیٹیوں کے حق میں ہی پسند فرماتے۔ غور کیجیے کہ رسول اللہ کی یہ تعلیمات اس دور کی ہیں جب بیٹے بیٹیوں کے درمیان مساوات کا سماج میں کوئی تصور ہی نہیں تھا۔

  اسی طرح اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں اس وقت حصہ دیا جب وراثت میں ان کے حصہ کا کوئی تصور ہی سماج میں نہیں تھا۔ ہمارے ملک ہندوستان میں تو ہندو عورتوں کو یہ حق ۱۹۳۷ ؁ء کے ’’ہندو ویمنس رائٹ ٹو پراپرٹی ایکٹ‘‘ (The Hindu Women’s Right to Property Act, 1937)  کے ذریعہ ملا۔ اس ایکٹ میں بھی بہت سی خامیاں تھیں جن کی اصلاح پہلے تو ۱۹۵۶؁ء کے ’’دی ہندو سکسیشن ایکٹ‘‘ (The Hindu Succession Act, 1956) اور اس کے بعد ۲۰۰۵؁ء کے’’ ہندو سکسیشن ایمنڈمنٹ ایکٹ‘‘ Hindu Succession Amendment Act, 2005) (کے ذریعہ کی گئی لیکن آج بھی ہندو معاشرہ اپنی لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ ٹھیک یہی حالت رسول اللہ ﷺ (۵۷۱ء؁ – ۶۳۲ء؁) کے دورکی عرب سوسائٹی کی تھی۔ عرب یہ سمجھتے تھے کہ وراثت پانے کا حق صرف بیٹوں کو ہے کیوں کہ وہی ہتھیار بند ہوکر بیرونی حملوں کے وقت خاندان اور قبیلے کی حفاظت کرتے ہیں ۔ لیکن اللہ رب العزت نے بیٹیوں کی وراثت کے حق میں آپؐ پر یہ آیت نازل فرمادی:

لِّلرِّجَالِ نَصیِبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاء  نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُرَ نَصِیْباً مَّفْرُوضاً

’’جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ کر مریں تھوڑا ہو یا زیادہ، اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ یہ ( اللہ کے) مقرر کئے ہوئے حصے ہیں ‘‘۔ (النسآء: ۷)۔

اتنا ہی نہیں قرآن کریم نے مختلف حالتوں  (Conditions)کی نشاندہی کے ساتھ ان کے وراثتی حصہ کو  چند دوسری آیتوں میں بالکل واضح کردیا۔

چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ان احکامات کو اپنے معاشرے میں نافذ کیا اور اپنے متبعین کو یہ تعلیم دی: ’’أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا‘‘ یعنی ’’ فرائض کو ان کے اہل تک پہنچاؤ‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الفرائض، باب مِیْرَاثِ الْوَلَدِ مِنْ أَبِیْہِ وَأُمِّہِ؛بروایت عبداللہ بن عباسؓ)۔ شریعت کی اصطلاح میں وراثتی حقوق کو فرائض کہا جاتا ہے اور اس سے متعلق علم کو علم الفرائض کہتے ہیں جسے سیکھنے کی رسول اللہ ﷺ نے ترغیب بھی دی ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے وراثتی حقوق کو سمجھ سکیں اور ان کی ادائیگی میں کسی سے کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا پیغام مذکورہ حدیث میں یہ ہے کہ مال وراثت جس کی بھی تحویل میں ہو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وارثین کی تحقیق کرکے ان تک ان کا حق پہنچادے۔ اس حکم میں بیٹیوں کے حق وراثت کا تحفظ بھی شامل ہے تاہم رسول پاک ﷺ نے دو کمزور طبقوں یعنی یتیموں اور عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں خصوصی تاکید فرمائی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:

’’إِنِّي أُحَرِّجُ عَلَیْکُمْ حَقَّ الْضَّعِیْفَیْنِ ؛ الْیَتِیْمِ وَالْمَرْأَۃِ‘‘

’’میں تم پر دو کمزوروں کی حق تلفی کرنا حرام ٹھہراتا ہوں ؛ ایک یتیم اور دوسرے عورت ‘‘۔ (سنن الکُبریٰ للبیہقیؒ، کتاب آداب القاضی، باب إِنْصَافِ الْقَاضِي فِي الْحُکْمِ وَمَا یَجِبُ عَلَیْہِ مِنَ الْعَدْلِ فِیْہِ لِمَا فِي الظُّلْمِ مِنْ عَظِیْمِ الْوِزْرِ وَ کَبِیْرِ الْاِثْمِ، بروایت ابوہریرہؓ )۔

ابن حبانؒ نے اس حدیث کو الفاظ کے تھوڑے سے فرق کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں یہ ہے کہ آپؐ منبر پر (یعنی خطبہ میں ) یہ ارشاد فرماتے تھے:

’’ أُحَرِّجُ مَالََ الضَّعِیْفَیْنِ: الْیَتِیْمِ وَالْمَرْأَۃِ‘‘

’’میں دو کمزوروں ؛ یتیم اور عورت کے مال کو ممنوع و حرام قرار دیتا ہوں ‘‘۔ (صحیح ابن حبان، کتاب الْحَظْرِ وَ الْاِبَاحَۃِ، باب ذِکْرُ الزَّجْرِ عَنْ أَکْلِ مَالِ الْیَتِیْمِ، بروایت ابوہریرہؓ)۔

 گو حق تلفی تو کسی کی بھی جائز نہیں اور نہ ہی کسی کے مال میں بے جا تصرف جائز ہے لیکن عورتوں اور یتیموں کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات نے ان کی حق تلفی اور ان کے مال میں ناحق تصرف کو مزید سخت بنادیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان کے معاملات میں سخت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ نیز ان ارشادات سے ان کمزور طبقوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں آپؐ کی فکرمند ی (Concern) کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اب نبی کریم ﷺ ان ارشادت کے بعد بھی اگر کوئی شخص اپنے قریبی رشتہ دار عورتوں کو وراثتی حقوق سے محروم رکھتا ہے جیساکہ آج بھی بعض ناعاقبت اندیشوں کا رویہ دیکھا جاتا ہے تو عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شرعی عدالت سے رجوع کرکے اپنے حقوق کی بازیابی کویقینی بنائیں اور اگر وہ کسی بھی مجبوری کی وجہ سے اپنے حقوق سے باز آجاتی ہیں تو بروز حساب اللہ انہیں ان کا حق اپنے ضابطہ کے مطابق ضرور دلوائے گا اور ان کی حق تلفی کرنے والا شخص اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکے گا۔

   رسول اللہ ﷺ نے ایک اور حق جو بیٹیوں کو دیا جس کا اس زمانہ میں تصور نہیں تھا وہ ہے اپنی شادی کے سلسلہ میں فیصلہ لینے کا اختیار۔ آپؐ کی بعثت سے پہلے لڑکیوں اور عورتوں کو اپنی شادی کے معاملہ میں فیصلہ لینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ ان کے اولیاء (Guardians) جہاں چاہتے اور جس کے ساتھ چاہتے ان کی مرضی معلوم کئے بغیر بیاہ دیتے اور انہیں ان کے فیصلہ کو رد کرنے کا اختیار تو دور اپنی پسندیدگی و ناپسند یدگی کا اظہار کرنے کی بھی اجازت یا جرأت نہیں تھی۔ ایسے ماحول میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ اختیار دیا اور نکاح کے صحیح ہونے کے لئے ان کی رضامندی اور اجازت کو لازم قرار دیا۔ گو آپؐ نے لڑکیوں کے نکاح کی ذمہ داری ان کے اولیاء پرہی ڈالی لیکن انہیں اس بات کا پابند کیا کہ وہ ان کی رضامندی اور اجازت کے بغیر ان کا نکاح نہ کریں ۔ آپؐنے فرمایا: ’’لَا تُنْکِحُ الْأَیِّمُ حَتّٰی تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْکِحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَأْذَنَ‘‘۔ یعنی ’’بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے مشورہ نہ کر لیا جائے اور نہ ہی باکرہ (دوشیزہ) کا نکاح ہو جب تک اس سے اجازت نہ حاصل کر لی جائے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب اسْتِئْذَانِ الثَّیِّبِ فِي النِّکَاحِ بِالنُّطْقِ وَ الْبِکْرِ بِالسُّکُوْتِِ، بروایت ابوہریرہؓ)۔ یتیم لڑکیا ں جن کی سماجی پوزیشن اور بھی کمزور ہوتی ہے، ان کے سلسلہ میں آپؐ کا ارشاد ہے: ’’الْیَتِیْمَۃُ  تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِھَا، فَاِنْ صَمَتَتْ فَھُوَ إِذْنُھَا، وَ  إِنْ أَبَتْ  فَلَا جَوَازَ عَلَیْھَا‘‘ یعنی ’’یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت حاصل کی جائے پھر اگر وہ (طلب اجازت کے وقت) خاموش رہے تو یہی (خاموشی) اس کی اجازت ہے اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر جبر کا کوئی جواز نہیں ‘‘۔ (سنن ترمذی، کتاب النکاح، بابُ مَاجَآئَ فِي  إِکْرَاہِ الْیَتِیْمَۃِ  عَلَی التَّزْوِیْج، بروایت ابوہریرہؓ)۔

اتنا ہی نہیں آپؐ نے بیٹیوں کو یہ حق دیا کہ اگر ان کے اولیاء نے ان کا نکاح ان کی رضامندی حاصل کئے بغیر کیا ہے تووہ اس نکاح کو رد کرسکتی ہیں ۔ آپؐ کے حضور میں اس قسم کے جو بھی معاملات آئے ان میں آپؐ نے نکاح کو رد کرنے کا ہی فیصلہ دیا۔ حضرت خنساء بنت خذامؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح (ان کی اجازت حاصل کئے بغیر) کردیا جب کہ وہ بیوہ تھیں چنانچہ انہوں نے اس نکاح کو ناپسند کیا اور (اپنا معاملہ لے کر) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپؐ نے ان کے اس نکاح کو رد کردیا۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَہُ وَھِيَ کَارِھَۃٌ، فَنِکَاحُہُ مَرْدُوْدٌ )۔ فسخ نکاح کے سلسلہ میں دوسری روایت عبداللہ بن عباسؓ کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ( ایک دن ) ایک کنواری لڑکی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے والدنے اس کا نکاح (اس کی رضا حاصل کئے بغیر) کردیا ہے اور وہ اسے ناپسند کرتی ہے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا (کہ چاہے تو وہ نکاح کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کردے)۔ (سنن ابی دائود، کتاب النکاح، فِي الْبِکْرِ یُزَوِّجُھَا أَبُوھَا وَلَا یَسْتَأْمِرُھَا )۔

  اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کو مہر کا بھی حق دیا ہے جو ان کی اہمیت اورعظمت کی علامت ہے۔ ساتھ ہی نکاح سے متعلق اخراجات کے بوجھ سے ان کے اولیاء کو آزاد رکھا ہے اور تمام تر ذمہ داری ان کے ہونے والے شوہروں اور ان کے سرپرستوں پر ڈالی ہے۔ لیکنافسوس! صد افسوس کہ آج ہم اسی مقام پر پہنچ گئے جہاں سے رسول کریم ﷺ نے معاشرہ کی اصلاح شروع کی تھی۔ ہم نے لڑکی والوں پر منگنی، تلک، جہیز اور بارات کے نام پر اتنے غیر شرعی بار ڈال دئے کہ آج لڑکیاں سماج میں بوجھ تصور کی جارہی ہیں اوران کی پیدائش کی خبردوسرے تو کیا بعض مسلم گھرانوں میں اسی قسم کی کیفیات پیدا کررہی ہیں جو ایام جاہلیت میں عرب معاشرہ میں پیدا کرتی تھیں ۔ البتہ ہم چونکہ تعلیم یافتہ، مہذب اور عقلمند ہوگئے اس لئے ہم پیدا ہونے کے بعد زندہ دفن کرنے کی نوبت نہیں آنے دیتے بلکہ حمل کے دوران الٹراسائونڈ (Ultrasound)کے ذریعہ جنس کا پتہ لگا کر اس کی فطری پیدائش سے قبل ہی اس سے چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں ! یاد رکھیں کہ یہ جنین کشی(Foeticide) ایام جاہلیت کی لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی رسم کے ہی مترادف ہے اور اس جرم کے لئے اللہ کے سامنے اسی کی مثل جوابدہ ہونا پڑے گا۔

عورت بہ حیثیت باندی؍مملوکہ وخادمہ: 

رسول پاک ﷺ کی بعثت سے پہلے اور بعد میں بھی عرب میں غلام؍باندی رکھنے کا عام دستور تھا۔ رسول پاک ﷺ نے ان کی آزادی کے لئے کئی قسم کے طریق کار (Mechanism) اپنائے۔ اولاً توآپؐ نے لوگوں کو اپنے غلام اور باندیوں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی اور اس کے ذریعہ ان کی آزادی کی راہ کو آسان بنایا۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:

’’مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً، أَعْتَقَ اللّٰہُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْہُ  عُضْوًا مِنَ النَّارِ حَتّٰی یُعْتِقَ فَرْجَہُ بِفَرْجِہِ‘‘

’’جس نے کسی مسلمان بردہ(غلام یا باندی)کو غلامی سے آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے جہنم سے آزاد کردے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو اس بردہ کی شرمگاہ کے بدلے آزاد کردے گا ‘‘۔ (صحیح مسلم، کتابُ الْعِتْقِ، باب فَضْل الْعِتْقِ)۔

اس حدیث میں گرچہ مسلمان بردہ کا لفظ آیا ہے لیکن دوسری روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی بردہ کو آزاد کرنا اجر کا باعث ہے اور شرمگاہ کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا کہ اس کاگناہ بڑا ہی سخت ہے لہذا جب جسم کے اس حصہ کو نجات مل جائے گی تو دوسرے حصہ کو بدرجہ اولیٰ نجات حاصل ہوگی۔

 دوئم یہ کہ غلام؍باندی کو آزاد کرنے کی فضیلت کو آپؐ نے اپنے غلاموں اور باندیوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اس بات کی ترغیب دی کہ وہ دوسروں کے غلام ؍باندی کو آزاد کرانے میں ان کی مالی امداد کرکے اجر و ثواب کے مستحق ہوسکتے ہیں بالخصوص ایسے غلاموں اور باندیوں کی رہائی میں جن کے مالک کا برتائو ان کے ساتھ اچھا نہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا: ’’أفضل الصدقۃ ما تُصدِّقُ بہ علی مملوک عند مالک سوء‘‘ یعنی ’’افضل ترین صدقہ وہ ہے جو برے مالک کے غلام پر کیا جائے‘‘۔ (مسند الفردوس للحافظ الدیلمی، دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، ۱۹۸۶ ؁ء، حدیث نمبر ۱۴۲۰، بروایت ابوہریرہؓ)۔

  سوئم یہ کہ غلام یا باندی کی آزادی میں معاونت کو آپؐ نے مالی امداد تک ہی محدود نہیں کیا بلکہ ان کے مالک کے پاس آزادی کی سفارش کرنے پر بھی اجر و ثواب کی بشارت دی اور اسے بہترین صدقہ قرار دیا۔ چنانچہ سمرہ بن جندبؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:

’’اَفْضَلُ الصَّدَقَۃِ الشَّفَاعَۃُ بِھَا تُفَکُّ الرَّقَبَۃُ‘‘

’’بہترین صدقہ وہ سفارش ہے جس کے نتیجہ میں (بردہ)کی گردن کو نجات حاصل ہو جائے‘‘۔(مشکاۃ المصابیح، کتاب العتق بحوالہ شُعَبِ الْاِیْمَانِ لِلْبَیْہَقِی)۔

چہارم یہ کہ آپؐ نے کئی قسم کے اعمال کا کفارہ بہ اذن الٰہی غلام یا باندی کو آزاد کرنا متعین کیا۔ مثلاً رمضان کے روزہ کی حالت میں بیوی سے قصداً ہمبستر ہونے پر روزہ کی قضا کے علاوہ کفارہ ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو مسلسل دو ماہ  کے روزے رکھنا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الصوم، بابُ إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ وَ لَمْ یَکُنْ لَہُ شَیْئٌ فَتَصُدِّقَ عَلَیْہِ فَلْیُکَفِّرْ، روایت ابوہریرہؓ، حدیث ۱۹۳۶ نیز ۱۹۳۷)۔ اسی طرح  قتل خطا یعنی کسی مومن کو غلطی سے قتل کردینے کا کفارہ دیت (Compensation) کے علاوہ ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا یا پھر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا ہے (النسآء: ۹۲؛ صحیح مسلم، کتاب القَسَامَۃِ وَ الْمُحَارِبِیْنَ وَالْقِصَاصِ وَ الدِّیَاتِ، باب دِیَۃِ الْجَنِیْنِ وَ وُجُوْبُ الدِّیَۃِ فِي قَتْلِ الْخَطَأ وَ شِبْہِ الْعَمَدِ عَلٰی عَاقِلَۃِ الْجَانِي، روایات ابوہریرہؓ و مغیرہ بن شعبہؓ)، قسم توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانایا کپڑے پہنانا یا ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو تین دنوں کے روزے رکھنا ہے (قرآن، المائدہ: ۸۹ ) اور ظہار یعنی بیوی کو ماں کے برابرقرار دینے کا کفارہ ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے (قرآن، المجادلۃ:۳-۴؛ سنن ابی دائود، کتاب الطلاق، باب فِي الظِّھَارِ، روایات سلمہ بن صخر بیاضیؓ و خویلہ بنت مالکؓ، حدیث نمبر ۲۲۱۳ و ۲۲۱۴ )۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے بہ اذن الٰہی ایک ایسا میکنزم اپنایا جس کے ذریعہ بہت سے غلاموں اور باندیوں کے لئے آزادی کی راہ ہموار ہوئی۔

  پنجم یہ کہ باندی کی تعلیم و تربیت کے بعد اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کرنے اور سماج میں عزت وبرابری کا مقام عطا کرنے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے ہر عمل پر دوہرے اجر کی بشارت سنائی ہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’ إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَہُ فَأَحْسَنَ تَأْدِیْبَھَا وَ عَلَّمَھَا فَأَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا ثُمَّ أَعْتَقَھَا فَتَزَوَّجَھَا کَانَ لَہُ أَجْرَانِ‘‘

’’ جب کوئی شخص اپنی باندی کو اچھی طرح ادب سکھلائے اور اسے اچھے طریقہ سے تعلیم دے، پھر اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لئے دوہرا اجرہے‘‘۔ (صحیح، بخاری، کتابُ أَحَادِیْثُ الْأَنْبِیَائَ، باب قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاذْکُرْ فِي الْکِتَابِ مَرْیَمَ  إِذِانْتَبَذَتْ مِنْ أَھْلِھَا مَکَانًا شَرْقِیًّا )۔

اس طرح آپؐ نے نہ صرف باندیوں کے تعلیم و تربیت پانے کے حق کو یقینی بنایا بلکہ بحیثیت انسان ان کی عظمت اور سماجی وقار کو بحال کیا۔

مذکورہ بالا ترغیبات کے بعد بھی جن لوگوں نے اپنی ضرورت کے تحت باندی؍غلام کو باقی رکھا انہیں رسول پاکﷺ نے ان کے حقوق سکھائے۔ حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’ إِنَّ  إِخْوَانَکُمْ خَوَلُکُمْ جَعَلَھُمُ اللّٰہُ تَحْتَ أَیْدِیْکُمْ، فَمَنْ کَانَ أَخُوْہُ  تَحْتَ یَدِہِ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَلْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ، وَلَا تُکَلِّفُوھُمْ مَا یَغْلِبُھُمْ، فَاِنْ کَلَّفْتُمُوھُمْ مَا یَغْلِبُھُمْ فَأَعِیْنُوھُمْ‘‘

’’تمھارے خادم (لونڈی وغلام) بھی تمھارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمھارے ماتحت کردیا ہے لہٰذا جس شخص کا کوئی بھائی اس کے ماتحت ہو (تو اسے چاہیے کہ) اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور اس سے کوئی ایسا کام نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اور اگر ایسا کوئی کام اس سے لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو تو اس کام میں خود بھی اس کی مدد کرے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتابُ الْعِتْق، باب قَوْلِ النَّبِیِّ ﷺ ’’الْعَبِیْدُ إِخْوَانُکُمْ فَأَطْعِمُوْھُمْ مِمَّا تَأْکُلُوْنَ‘‘ )۔

 مملوک کے نفقہ کے سلسلہ میں ایک روایت عبداللہ بن عمروؓ کی ہے۔ حضرت خثیمہؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمروؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کا کارندہ آیا۔ جب وہ اندر داخل ہوا تو انھوں نے (یعنی عبداللہ بن عمروؓ نے) پوچھا کہ (کیا) تم نے غلاموں کو ان کا روزینہ (سامان خوراک) دے دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں ۔انھوں نے کہا:جاؤ انھیں دو (اور) کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’کَفٰی بِالْمَرْئِ اِثْمًا أَنْ یَّحْبِسَ عَمَّنْ یَّمْلِکُ قُوتَہُ‘‘

’’انسان کے لئے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا مالک ہے ان کی خوراک روک لے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، بابُ فَضَلِ النَّفَقَۃِ عَلَی الْعِیَالِ وَالْمَمْلُوکِ وَ اِثْمِ مَنْ ضَیَّعَھُمْ أَوْحَبَسَ نَفَقَتَھُمْ عَنْھُمْ)۔

اس کے ساتھ ہی رسول پاک ﷺ نے اپنے غلام؍باندی کے ساتھ حسن سلوک کی بھی تاکید کی اور بدسلوکی سے منع فرمایا۔ حضرت رافع بن مکیثؓ نقل کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا:

’’حُسْنُ الْمَلَکَۃِ یُمْنٌ وَسُوئُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ‘‘

’’ اپنے مملوک کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک خیر و برکت (کا باعث) ہے اور اپنے مملوک کے ساتھ بدسلوکی نحوست( بے برکتی کاباعث) ہے‘‘۔(سنن ابودائود، کتاب الأَدَب، فِي حَقِّ الْمَمْلُوکِ)۔

دوسری روایت ابوبکر صدیقؓ سے ہے کہ آپؐ نے فرمایا:  ’’لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ سَيِّئُ الْمَلَکَۃِ‘‘ ’’اپنے مملوک(باندی وغلام) کے ساتھ برائی وبدسلوکی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘۔ (ترمذی، ابواب البر و الصلۃ، باب مَا جَائَ فِی الْاِحْسَانِ اِلَی الْخَادِمِ)۔

 رسول پاک ﷺ نے باندی؍غلام کی خطائوں کو معاف کرنے اور انھیں سزا نہ دینے کی بھی ترغیب دی۔ عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ !ہم کتنی مرتبہ اپنے خادم (باندی و غلام) کی خطائیں معاف کریں ؟آپ ؐ (سن کر) خاموش رہے۔ اس شخص نے پھر اپنی بات دہرائی تو آپؐ پھرخاموش رہے۔ پھر جب اس نے تیسری مرتبہ یہی پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: ’’أعْفُو عَنْہُ فِي کُلِّ یَوْمٍ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً‘‘ یعنی ’’ہردن ستر بار اسے معاف کرو‘‘۔ ( سنن ابو دائود، کتاب الأَدَب، فِي حَقِّ الْمَمْلُوکِ)۔ سوچنے کا مقام ہے کہ رسول پاک ﷺ نے باندی؍غلام کو روزانہ ستر مرتبہ معاف کرنے کو کہا۔ آپؐ کے اس فرمان سے سماج کے دبے کچلے اور محکوم طبقے کے تئیں آپؐ کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہاں یہ بھی غور کرنے کی بات ہے جب مملوک کے لئے اس درجہ تک معافی اور حسن سلوک کی ہدایت ہے تو آزاد خادم اور خادمہ کس درجہ رعایت کے مستحق ہوں گے۔

جو لوگ اپنے غلام؍باندی کو ناحق سزا دیتے ہیں انہیں آپؐ نے کفارہ کے طور پر اس غلام؍لونڈی کو آزاد کرنے کاحکم فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

’’مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَہُ، حَدًّا لَمْ یَأْتِہِ، أَوْ لَطَمَہُ، فَاِنَّ کَفَّارَتَہُ أَنْ یُعْتِقَہُ‘‘

’’جس نے اپنے غلام(باندی) کوناکردہ جرم میں کوئی حد لگائی(یعنی بے گناہ مارا پیٹا)یا اس کو طمانچہ مارا تو اس (عمل) کا کفارہ یہ ہے کہ اس (غلام یالونڈی ) کو آزاد کر دے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب الأَیْمَانِ وَالنُّذُوْرِ، بابُ صُحْبَۃِ الْمَمَالِیْکِ وَ کَفَّارَۃِ مَنْ لَطَمَ عَبْدَہُ)۔

  غلام و باندی کے حقوق کے سلسلہ میں آپؐ کی فکرمندی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس دارفانی سے رخصت ہوتے وقت جو آخری کلام آپؐ کی زبان مبارک پر تھا وہ نماز کی حفاظت اور غلام و باندی کے حقوق کی حفاظت کے ہی متعلق تھا۔ حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں :

’’کَانَ آخِرُ کَلَامِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ الصَّلَاۃَ الصَّلَاۃَ اتَّقُوا اللّٰہَ فِیْمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ‘‘

رسول اللہ ﷺ کی آخری بات (انتقال کے وقت) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا اور جو تمھاری ملکیت میں (غلام اور باندی) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا‘‘۔ ( سنن ابو دائود، کتاب الأَدَب، فِي حَقِّ الْمَمْلُوکِ)۔

گویا کہ آپؐ کی آخری وصیت امت کو نماز اور باندی و غلام کے حقوق کی حفاظت کے سلسلہ میں ہی رہی۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

Close