مذہبی مضامین

عید الاضحی :عظمت اور مسنون اعمال

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری

           اسلام میں اللہ تعالی نے دو عیدیں رکھی ہیں۔ ایک عید الفطر دوسری عید الاضحی ۔ اسلام میں عید کی ابتدا اس وقت سے ہوئی جب نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے، آپ ﷺنے دیکھا کہ یہاں کے لوگ نیروز اور مہرجان کے نام سے دو خوشی کے دن اور تہوار مناتے ہیں، صحابہ نے عرض کیا کہ اس میں شرکت کی جاسکتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: وقد أبدلکم اللہ بھما خیرا منھما:یوم النحر ویوم الفطر۔ ( نسائی:1544) اللہ تعالی نے تمہارے لئے اس کے بدلے ان سے بہتر دودن عنایت فرمائے ہیں، ایک عید الفطر اور دوسرا عید الاضحی۔ دو عیدوں کا بھی خاص پس منظر ہے، عید الفطر رمضان کے تیس روزے رکھنے کے بعد بطور انعام و اجر کے لئے ہے جس میں مسلسل ایک مہینہ تک حکم الہی کے مطابق چلنے والے بندوں کوانعام اور مغفرت سے نوازاجاتا ہے۔ عید الاضحی حج جیسے عظیم فریضہ کی تکمیل کے موقع احسان ِ خداوندی کا دن ہے۔ ساری دنیا میں مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق جانور ذبح کرکے اللہ تعالی کے حکم کی اہمیت اور اس کی عظمت کا ثبوت دیتے ہیں۔ جانور کی قربانی بھی ایک تاریخی پس منظر رکھتی ہے کہ اس روئے زمین پر اللہ کے وفادار بندے حضرت ابراہیم ؑ نے اشارہ ٔ غیبی پاکر اپنے اکلوتے فرزند حضرت اسماعیل ؑ کو قربان کرنے تیار ہوگئے۔ اللہ تعالی کو ان کی یہ ادا اور عمل اس قدر پسند آیا کہ قیامت تک آنے والے ایمان والوں کو حکم دے کیا کہ اگر و ہ صاحب حیثیت ہے تو قربانی ضرور دے، اور فداکاری کا نمونہ پیش کرے۔ حضرت اسماعیل جب چلنے پھرنے اور والد حضرت ابراہیم ؑ کا ساتھ دینے کے لائق ہوگئے، تقریبا ۱۳ سال کی عمر کو پہنچ گئے(روح المعانی:۲۳/۱۲۸بیروت)اور ماں باپ کے لئے ایک سہارا بن کر ابھرنے لگے اسی دوان پہلے دن حضرت ابراہیم ؑ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے فرزند کو ذبح کررہے ہیں، صبح اٹھے توبڑی تشویش ہوئی اور تذبذب کا شکار رہے، دوسرے دن بھی اسی طرح دکھائی دیا، اب آپ سمجھ گئے کہ انبیا ء کے خواب جھوٹے نہیں ہوتے، یہی اللہ کا حکم ہے، صبح بیدار ہوئے تو حقیقت سمجھ میں آگئی تھی، اس خواب کا تذکرہ کرنے آپ اسماعیل ؑکے پاس آئے اور اپنے خواب کو بیان کیا۔ جیسا اطاعت گزارباپ تھا ویسا فرماں بردار بیٹا بھی، حضرت اسماعیل ؑنے فرمایا:اباجان! آپ کو جوبھی حکم دیا جارہا ہے آپ اس کو پورا کیجئے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (الصافات:)خواب کے پہلے دن کو یوم الترویہ ( تذبذب کا دن )دوسرے دن کو یوم العرفہ( پہچان لینے کادن) اور تیسرے دن جس میں قربانی کے لئے دونوں نکلے یوم النحر(قربانی کادن )کہا جاتاہے۔ (الجامع لاحکام القران للقرطبی:۱۸/۶۶بیروت)جب سیدنا ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ نے حکم خداکو پورا کرنے کا کام انجام دیدیا، بالآخر اللہ تعالی نے اپنے خلیل کواس موقع پر بھی کامیاب دیکھااور محبت الہی میں سرشار پایا تو آواز دی:ونادیناہ ان یا ابراھیم  قد صدقت الرؤیا اناکذلک نجزی المحسنین ان ھذا لھو البلا ء المبین وفدینٰہ بذبح عظیم وترکنا علیہ فی الاخرین سلام علی ابراھیم (الصافات:104۔ 109) اور ہم نے آواز دی کہ : اے ابراہیم !تم نے خواب کو سچ کردکھایا۔ یقیناہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ کا فدیہ دے کر اس بچے کو بچالیا۔ اور جو ان کے بعد آئے، ان میں یہ روایت قائم کی ( کہ وہ یہ کہا کریں کہ:)سلام ہوا براہیم پر۔ حضرت ابراہیم ؑ اس عظیم اور حیر انگیز امتحان میں کامیاب ہوگئے، وفا شعار بیٹے نے حکم خدا کو پوراکرنے میں باپ کا مکمل ساتھ دیا۔ باپ اور بیٹے کی یہ ادائیں اور اطاعت اللہ تعالی کو اس قدر پسند آئیں کہ تاقیامت قربانی کے عمل کو مسلمانوں میں جاری کردیا او رجانور کی قربانی کو انجام دینے کا تاکیدی حکم بیان کردیا۔ بہرحال یہ بقر عید کا پس منظر ہے۔ اسلامی عیدوں کا بڑا عجیب و غریب امتیاز ہے، عیدخوشی و مسرت کا دن ہے اور لوگ عموماخوشی کے دن حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں، اگر ہم دیگر مذاہب کی عیدوں کو دیکھیں تو صاف نظر آئے گا کہ ان کی عیدیں کوئی خاص پیغام لے کر نہیں آتی، اور نہ ہی ان کو حدود و دائرے میں رہنے کی تلقین کرتی ہیں۔ اس کے برخلاف اسلام میں جو دو عیدیں ہیں یہ اپنی انفرادیت اور خصوصی تعلیمات کی بناء بڑی نرالی ہیں۔ ہر دو عید میں مسلمانوں کو خاص ہدایتیں دی گئیں، انعام و اجر کے وعدے کئے گئے، خالق ومالک کی مرضیات پر چلنے اور پوری زندگی گزارنے کی تعلیم د ی گئی۔ چناں چہ ذیل میں عید الاضحی کے مسنون اعمال ذکر کئے جاتے ہیں :

 مسنون اعمال:

   ٭غسل کرنا۔ ٭مسواک کرنا۔ ٭ حسب طاقت عمدہ کپڑے پہنناچاہیے نئے ہو یا دھلے ہوئے ہو۔ ٭خوشبو لگانا۔ ( بدائع الصنائع:2/249 دارلکتب العلمیہ، بیروت)

عید گاہ جلد جانے کی کوشش کرنا:

    ٭نماز عید کے لئے عید گاہ جلد جانے کی کوشش کرے تاکہ جلد پہنچنے کی فضلیت حاصل ہو، اور صبح جلدی بیدار ہوجائے۔ ( حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی :530بیروت)

 قربانی سے کچھ نہ کھانا:  

   ٭قربانی کرنے والے کوچاہیے کہ عید کے دن نماز سے قبل کچھ نہ کھائے، عید کی نمازکے بعد اپنی قربانی کے جانور کے گوشت سے کھائے۔ ( الفتاوی الہندیۃ:1/165 دارالکتب العلمیۃ، بیروت)اگر کوئی قربانی سے پہلے کھالے تو حرام نہیں ہوگا(رد المحتار:3/60دارعالم الکتب الریاض)بلکہ یہ حکم استحبابی ہے، واجب نہیں ( کتاب الفتاوی :4/(149۔

آمد ورفت کا راستہ:

   ٭ ایک راستے سے عید گاہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آناچاہیے، نبی کریم ﷺ کا ایسے ہی معمول تھا۔ (اعلاء السنن :6/2428دارلفکر بیروت)

 عیدگاہ پیدل جانا:

   ٭جو پیدل چل کر جانے پر قادر ہوں، ان کے لئے پیدل جانا مستحب ہے۔ ( الفتاوی الہندیۃ:1/(165اور واپسی میں سوار ہوکر آنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (رد المحتار:3/49)

تکبیر کہتے ہوئے جانا:

    ٭بلند آواز سے عید گاہ جاتے ہوئے تکبیر کہتے ہوئے جائیں۔ ( البحر الرائق :2/285 بیروت)(اوروہ کلمات یہ ہیں :اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الااللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد۔

عید سے قبل نفل نہ پڑھنا:

    مسئلہ:عید کے دن فجر کی نماز کے بعدعید کی نماز سے پہلے گھرمیں یا کسی بھی جگہ کوئی بھی نفل نماز نہ پڑھیں۔ ( رد المحتار:3/50)بعض لوگ عید گاہ پہنچ کر نمازِ عید سے قبل نمازیں پڑھتے ہیں اور پوچھنے پر کہتے ہیں کہ ہم فجر کی نماز پڑھ رہے ہیں، تو اجتماعی طور پر عید گاہ میں قضا پڑھنا طرح طرح کی چہ می گوئیوں اور انتشار کا سبب بنتا ہے؛اس لیے اس طریقہ سے احتراز لازم ہے۔ اول تو مسلمان کی یہ شان نہیں ہے کہ کوئی نماز قضا کرے اور اگربالفرض نماز قضا ہوجائے تو اسے برسر عام پڑھنے کے بجائے گھر میں ادا کرے تاکہ اپنی کوتاہی مخلوق کے سامنے نہ آسکے۔ (کتاب المسائل:1/472)

عید کی مبار ک بادی دینا:

    عید کے دن مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اگر خرابیوں سے بچ کر ہو تو مستحب ہے، کیوں کہ صحابہ وتابعین کے کئی اقوال وافعال سے عید کی مبارک باد ثابت ہے۔ اسی وجہ سے محقق فقہائے کرام نے عید کے دن ’’ تقبل اللہ منا ومنکم ‘‘کے ذریعہ مبارک باددینے کو جائز ومستحب ہونے کا حکم بیان کیا ہے۔ ( الموسوعۃ الفقہیۃ :14/,99البحرا لرائق :2/277)حضرت واثلہ ؓ سے مروی ہے کہ: انہوں نے عید کے دن نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی اور ’’تقبل اللہ مناومنکم ‘‘کہا تو آپ ﷺ نے بھی ’’تقبل اللہ منا ومنکم ‘‘ فرمایا۔ ( السنن الکبری للبیہقی:(5814

عید کی نماز کے بعد معانقہ کرنا:

   عید کی نماز کے بعد ملنا اور معانقہ یا مصافحہ کرنا امر مسنون نہیں ہے، ہاں اگر کسی سے اسی وقت ملاقات ہویا نماز کے کچھ فصل کے بعد محض ملاقات کی نیت سے مصافحہ یا معانقہ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ( کتاب المسائل:1/478)اس لیے کہ شریعت میں مصافحہ کسی مسلمان سے ملاقات کے بعد ہے نہ کے نماز کے بعد۔ ( رد المحتار:9/548)الغرض ضروری سمجھے بغیر اور عید کی سنت نہ قرار دیتے ہوئے اگرعید کی نماز کے علاوہ وقت میں معانقہ کرے تو کرسکتے ہیں۔ چناں چہ مفتی رشید احمد لدھیانوی ؒ لکھتے ہیں :معانقہ بھی اس میں شامل ہے یعنی نماز کے فورا بعد معانقہ بھی جائز نہیں ہے، ویسے عید کے دن بوقت ملاقات مصافحہ ومعانقہ درست ہے۔ ( احسن الفتاوی :1/354)

نماز ِ عید کا طریقہ:

    عید کی نماز واجب ہے۔ ( البدائع الصنائع :2/(237 اوریہ دورکعت چھ زائد تکبیرات کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ چناں چہ دل ہی دل میں نیت کریں کہ دو رکعت نماز عید چھ زائد تکبیرات کے ساتھ پڑھ رہا ہوں۔ پہلی رکعت میں ثنا پڑھ  ’’سبحانک اللہ‘‘  پڑھ کر تین بار ’’ اللہ اکبر ‘‘کہے اور ہر بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر’’اللہ اکبر‘‘ کہتا ہواچھوڑدے، البتہ تیسری بار نہ چھوڑے بلکہ باندھ لے اور امام کو چاہیے کہ ہر دفعہ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے کے بعد کم ازکم اتنی دیر ٹھہرے جتنی دیر تین بار’’ سبحان اللہ‘‘ کہنے میں لگتی ہے۔ پہلی رکعت میں تین بار ’’اللہ اکبر ‘‘کہنے کے بعد امام تعوذ اور تسمیہ پڑھ کر حسب قاعدہ قرات کرے ,اس کے بعدرکوع اور دوسجدوں کے ذریعہ پہلی رکعت مکمل ہوگی۔ دوسری رکعت میں پہلے قرأت ہوگی، قرأ ت کے بعد رکوع سے پہلے اسی طرح تین با ’’اللہ اکبر ‘‘کہے جیسے پہلی رکعت میں کہاتھا، تین دفعہ ہاتھ اٹھائے اور چھوڑدے اور چوتھی تکبیر کہتا ہوا ہاتھ اٹھا بغیر رکوع میں چلاجائے اور حسب قاعدہ نماز مکمل کرلے۔ (الفتاوی الہندیۃ:1/(165مسئلہ:عید کی نماز کے بعد بھی تکبیراتِ تشریق پڑھیں۔ ( حاشیۃ الطحطاوی :541بیروت)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close