مذہبی مضامین

عید الفطر کے مسنون اعمال

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

نقشۂ دنیا پر بسنے والی تمام ہی اقوام وملل کا یہ دستوراور طریقۂ کار رہا ہے کہ وہ سال کے کچھ دن بطور جشنِ مسرت کے مناتے ہیں جسے عرف عام میں ’’عید‘‘یا’’تہوار ‘‘ کہا جاتاہے، ہر قوم وملت کے خوشی اورعید منانے کے طریقے جداگانہ ہوسکتے ہیں ؛لیکن مقصود سب کا ’’خوشی منانا ‘‘ ہوتا ہے،اسلام چونکہ دین فطرت ہے ،یہ انسان کی نفسیات کی رعایت کرتا ہے ؛ اس لئے اس نے اپنے ماننے والوں کے لئے بھی دو دن بطور ’’عید‘‘ اور ’’جشن مسرت‘‘ کے عطا کئے ہیں ؛ چونکہ یہ انسانی طبیعت اور فطرت کا تقاضا بھی ہے کہ انسان زندگی کی یکسانیت سے اکتاتا ہے ، وہ کچھ وقت اور لمحات اور شب ورز ، روزانہ کے معمول سے ہٹ کر ہنس بول کر خوشی اور مسرت کے کے اظہار کے ساتھ گذارنا چاہتا ہے ۔

حضرت انس صسے روایت ہے کہ (ہجرت کے بعد)رسول صلی اللہامدینہ تشریف لائے (اہل مدینہ نے)دو دن کھیل کود کے لیے مقرر کر رکھے تھے آپ صلی اللہا نے پوچھا :یہ دو دن کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں ہم ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے ،آپ ا نے فرمایا :اللہ تعالی نے ان دنوں کے بدلہ میں تمہیں ان دنوں سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں ایک یوم الاضحی اور دوسرا یوم الفطر۔(ابوداؤد)

لیکن اسلامی اعیاد کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں ہر موقع سے خواہ وہ مسرت وشادمانی اور فرط وانبساط کے مشروع مواقع ہی کیوں نہ ہوں ؛لیکن اسلامی حدود وقیود کی پابندی کرنی ہوتی ہے ، ہر عمل کاطریقہ ٔکار ہوتا ہے ، نہ یہ کہ دوسری اقوام کے مانند شتر بے مہار کے مثل خوشی اور مسرت اور عید وتہوار کے نام پر اخلاقی اورانسانی اقداروروایات کا قتل وخون کیا جائے ،ہر طرح کی موج مستی اور عیش کوشی اور حیوانیت کی اجازت دی جائے کہ خوشی کے موقع سے انسان انسانیت کے لبادہ سے نکل کر حیوانیت اور بربریت پر اتر آئے ؛ بلکہ ہر کام کا طریقۂ کار اوراس کے اصول ہوتے ہیں ، جن کوپیش نظر رکھ کر وہ عمل انجام دیا جاتا ہے ،خصوصا عید الفطر کی مسرت وشامادنی کی گھڑی جو منائی جاتی ہے وہ رمضان کے طویل ، صبر آزما ، عبادتوں وریاضتوں سے معمور جدوجہد کے بعد ، جب بندہ ایک مہینہ کے روزے، راتوں کی طویل تراویح ، شب گذاری ، تلاوتِ قرآن ان اعمال سے جب اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے تو اس کے بعد اس کو ان صبر آزما اور مشقت آمیز اعمال کو بخیر وخوبی انجام دینے پر یہ عید کی مسرتیں اور شادمانیاں عطا کی جاتی ہیں ، پھر ان عید کے اعمال کو بھی سنت کے مطابق انجام دینا ہے ،یہاں بھی قدم قدم پر اللہ اور اس رسول ا کے احکام کو بروئے کار لاتے ہوئے عید منانی ہے ، نہ یہ اپنی من مانی اور نفسانی طریق کو اپنانا ہے ، شریعت کی روشنی میں حضور اکرم ا کے معمولات کے مطابق عید کے اعمال کو انجام دینا ہے ۔

1۔ عید الفطر کی نماز پڑھنے میں کسی قدر تاخیر مسنون ہے ، اور عیدالأضحی کی نماز پڑھنے میں جلدی کرنا مستحب ہے ؛ کیونکہ عید الفطر میں نماز سے پہلے صدقۂ فطر نکالنا ہوتا ہے ، اور عیدالأضحی میں نماز کے بعد جانوروں کی قربانی کا مسئلہ ہوتا ہے ، اور قربانی میں عجلت مطلوب ہے ۔(رد المحتار: 3/53 ، ط: زکریا دیوبند )

2۔ عید الفطر کی نماز سے پہلے مطلق نفل پڑھنا درست نہیں ہے ،خواہ وہ اشراق ہو یا چاشت بلکہ مختار قول پر مکروہ ہے ، نہ ہی مسجد و عیدگاہ میں صحیح ہے ، اور نہ ہی گھر میں ؛ البتہ نماز عید کے بعد عیدگاہ و مسجد میں نفل پڑھنا درست نہیں ہے ، گھر میں درست ہے اور حضور کا عمل بھی یہی تھا (درمختار و ردالمحتار : 1/557)

3۔ عیدخوشی اور حق تعالی شانہ کی ضیافت کا دن ہے؛ اس لئے اس مناسبت سے غسل کرنا اور عمدہ سے عمدہ لباس پہننا اور عطر لگانا سنت ہے (ردالمحتار : 1/556) ،حضرت عبد اللہ بن عباس  ص سے روایت ہے : ’’اللہ کے رسول اعید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل فرماتے تھے(ابن ماجۃ ) ‘‘ امام بیہقی   ؒ نے اس دن عمدہ لباس پہننے کے بارے میں نبی کریم  ااور حضرت عبد اللہ بن عمر ص کا اثر نقل کیا ہے : ’’نبی کریم  ا ہر عید میں نئی نرم منقش چادر پہنتے تھے ‘‘(بیہقی) ۔حضرت نافع نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ا عیدین میں عمدہ سے عمدہ کپڑا زیب تن فرماتے تھے ‘‘ مسجد اور عیدگاہ دونوں میں عیدین کی نماز درست ہے ، البتہ عیدگاہ میں افضل ہے ؛ کیونکہ آنحضرت اکا عمل مبارک عیدگاہ میں پڑھنے کا رہا ہے ، بلا عذر مسجد میں ادا نہیں فرمائی ؛ التبہ بارش کی وجہ سے مسجد میں نماز ادا فرمائی( ابوداؤد ،ابن ماجہ ) ؛چنانچہ حضرت ابوسعیدخدری  ص سے منقول ہے: ’’نبی کریم  ا عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تھے ، سب سے پہلے آپ انماز پڑھاتے ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں کی طرف رخ کرکے خطبہ کے لئے کھڑے ہوجاتے ، اور لوگ بدستور صفوں میں بیٹھے رہتے ‘‘ (بخاری)

4۔ عیدالفطر کے دن تمام روزے دار اللہ جل شانہ کے مہمان ہیں ، اسلئے اللہ تعالی کی ضیافت کی طرف سبقت کرتے ہوئے عید الفطر کی نماز سے پہلے ایک یا اس سے زائد طاق کھجور کھانا مسنون ہے ،اور کھجور میسر نہ ہونے کی صورت میں کوئی میٹھی چیز کھانا مستحب ہے ۔ حدیث میں ہے کہ’’نبی کریم ا عید الفطر کے روز عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ تناول فرماتے تھے ‘‘ (بخاری )اور ایک روایت میں ہے ’’اللہ کے رسول ا عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے چندکھجور کھا لیتے تھے ، اور وہ بھی طاق عدد ہی کھاتے تھے ‘‘ (ترمذی)علامہ شامی کہتے ہیں کہ : ’’حدیث کی عبارت سے ظاہر ہے کہ کھجور افضل ہے ، اگر کھجور میسر نہ ہو تو کوئی بھی میٹھی چیز کھا لے ‘‘ (ردالمحتار : 1/556 )البتہ سویاں یاکسی اور میٹھی چیز کا پکانا ضروری ہی سمجھے تو یہ عمل شریعت کے خلاف ہوگا۔جیساکہ ہمارے یہاں یہ رواج ہے کہ عید کے دن کھجور اور دودھ سے افطار کیا جاتا ہے ، یہ عمل غیر مشروع اور بدعت ہے (البحر الرائق :2؍170)

5۔  نماز عید کے لئے مسجد جانا ہو یا عیدگاہ کی طرف ، بہر صورت پیدل جانا مستحب ہے ؛ کیونکہ اس میں تواضع ہے ، اگر کوئی گاڑی یا کسی دوسری سواری سے عید کی نماز پڑھنے جائے ، تو نہ کوئی گناہ ہے ، اورنہ کراہت ، صرف خلاف اولی ہے ؛ البتہ واپسی میں سوار ہوکر بھی آیا جاسکتا ہے ، اس میں کوئی کراہت نہیں ہے ؛ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر ص سے روایت ہے :’’اللہ کے رسول ا  عید کے لئے پیدل چل کر آتے اور پیدل واپس جاتے تھے‘‘ (ابن ماجہ )اسی طرح کا اثر حضرت علی ص سے بھی منقول ہے (ترمذی) ’’اگر کوئی شخص پاپیادہ چلنے پر قادر ہو ، تو عیدگاہ پیدل جانا مستحب ہے ؛ اس لئے کہ یہ تواضع سے قریب تر ہے، ویسے سواری سے بھی جانا مکروہ نہیں ہے ‘‘ (کبیری : ص524 )

6 ۔ عیدین میں بکثرت تکبیر کہنا بھی مسنون ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  انے فرمایا : اپنی عیدوں کو تکبیر سے مزین کرو (کنزالعمال )عید الفطر کے موقع سے جہرا (زور سے) تکبیر نہ کہے (البحر الرائق : 2؍172)بہرحال ہر دم اللہ کی بڑائی اور عظمت کا خیال ذہن ودماغ میں ہو ، اس کی یاد زبان تر رہے ، ایسا نہیں کہ خوشی کے موقع سے اللہ کی یاد اور اس کے استحضار سے غفلت برتی جائے ۔

7۔ اور یہ بھی مسنون ہے کہ جس راستے سے عید گاہ جائے ، اس کے علاوہ دوسرے راستہ سے واپس آئے ،آپ اکا بھی معمول بھی یہی تھا کہ جس راستہ سے عیدگاہ تشریف لے جاتے ، اسی راستہ سے واپس نہ ہوتے ؛ بلکہ دوسرا راستہ اختیار فرماتے (بخاری ،ترمذی)۔

8۔ عیدگاہ جانے سے قبل صدقہ فطر بھی ادا کردے ، صدقہ فطر ہر مسلمان عاقل وبالغ پرجونصاب یا اس کے مساوی مال کا مالک ہو واجب ہے ، خواہ یہ نصاب نقدی کی شکل میں ہو یا مال تجارت کی شکل میں یا رہائشی مکان کی شکل میں ، اس کو نماز عید سے پہلے ادا کرنا اس لئے ہے کہ غرباء اور فقراء بھی عید کی خوشیوں میں سب کے برابر شریک رہیں ،نصف صاع یعنی دو پونے دو سیر گیہوں یا اس کی قیمت ادا کرے ۔حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ  انے رمضان کے آخری دنوں میں لوگوں سے کہا کہ : تم اپنے روزوں کی زکوۃ نکالو( یعنی صدقہ فطر نکالو)رسول اکرم  انے یہ صدقہ ہر مسلمان آزاد وغلام مرد وعورت اور چھوٹے بڑے پر کجھوراور جو میں سے ایک صاع اور گیہوں میں سے نصف صاع قرار دیا ہے (ابوداؤد)

9۔  مصافحہ اور معانقہ یہ اظہار محبت کے ذرائع میں سے ہیں ؛ اس لئے مصافحہ اور معانقہ کے بڑے فضائل احادیث میں بیان فرمائے گئے ہیں ، البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ معانقہ کس جانت سے ہو تو مفتی رشید احمد صاحب (صاحب احسن الفتاوی نے )بائیں جانت معانقہ کو معمول اور راجح بتایا ہے ، چونکہ معانقہ کا مقصود ہیجان المحبۃ ہے ،اس کے لئے بائیں جانب ہی راجح ہے جو محل قلب ہے (احسن الفتاوی : 8؍411)مفتی محمود الحسن صاحب نے معانقہ کے طریقہ میں صرف ایک جانب یعنی بائیں جانب ملنے کو کافی قرار دیا ہے ، تین مرتبہ نہیں جیسا کہ رواج ہے (فتاوی محمودیہ : 19؍118)جس طرح عام حالات میں دو مسلمان بھائی ملتے ہیں ، تو مصافحہ اور معانقہ کرتے ہیں اسی طرح عیدین کی نماز کے بعد بھی اسی خیال سے ملیں ، اس کو ضروری نہ خیال کریں اور جو حضرات مصافحہ و معانقہ نہ کریں ، تو وہ قابل ملامت نہیں ؛ کیونکہ وہ تارک سنت نہیں ہیں ؛اس لئے کہ عیدین کی نماز کے بعد خاص طور پر مصافحہ اورمعانقہ کرنا مسنون نھیں ہے، بلکہ عام سنت ہے ،اور اس عموم میں نماز عیدین کے بعدبھی شامل ہے (حاشیہ طحطاوی : ص215)نیزعیدین کا دن خوشی و مسرت کا دن ہے ، لوگ ایک دوسرے سے مل کر خوش و خرم ہوتے ہیں ، اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکبادی دیتے ہیں ، ایسے موقع سے مصافحہ و معانقہ روکے جانے میں فطری شادمانی کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے ، ایک مسلمان بھائی مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھائے دوسرا ہاتھ کھینچے ، تو ہاتھ بڑھانے والے کی دل شکنی ہوگی ، اس لئے ایسے موقع پر عالم کو بھی چاہئے کہ اگر کوئی آدمی مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا دے ، تو اس سے مصافحہ کرلے ، انکار نہ کرے ۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کی نماز کے بعد جب ایک کی دوسرے سے ملاقات ہو ، تو دونوں ایک دوسرے کو یوں دعا دے کہ ’’تقبل اللہ منا ومنکم‘‘ ( اللہ تعالی ہماری اور تمہاری(عبادت) کو قبول فرمائے (مجمع الزوائد)

نماز عید کی ترکیب :

نماز عید کی تکبیرات میں عموما غلطیاں ہوتی ہیں ، یعنی کونسی تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھائے اور کب نہیں ، ہاتھ کب چھوڑے اور کب باندہے ، پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے ساتھ کل چار تکبیریں ہیں ، چاروں تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور پہلی اور چوتھی تکبیر کے وقت ہاتھ باندھ لے ، یہ یاد رکھ لے جہاں تکبیر کے بعد کچھ پڑھنا ہے وہاں ہاتھ باندھ لے اور جہاں کچھ پڑھا نہیں جاتا وہاں چھوڑدے ۔

تکبیر اولی                       ہاتھ اٹھا کر باندھ لے

تکبیر ثانیہ                       ہاتھ اٹھا کر چھوڑدے

تکبیر ثالثہ                       ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دے

تکبیر رابعہ                     ہاتھ اٹھا کر باندھ لے

اس کے بعد قرات اور رکوع وسجدہ کے ساتھ ایک رکعت مکمل دوسر ی رکعت میں قرات کے بعد رکوع سے پہلے چار تکبیرات کہیں گے ، پہلی تین تکبیروں میں ہاتھ اٹھا کر چھوڑدے اور چوتھی تکبیر میں ہاتھ اٹھائے بغیر تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں چلا جائے ۔(فتاوی رحیمیہ: 6؍171)

اگر ان مسنون اعمال اور امور کی رعایت کے ساتھ ہم نماز عید کی ادائیگی کا اہتمام کریں گے تو نہ صرف یہ کہ ہمیں عید کی خوشیاں اور مسرتیں حاصل ہوں گی ؛ بلکہ ساتھ ہی ساتھ سنت طریقے پر اس کے اہتمام کی وجہ سے ہمارا عید کا ہر عمل ہمارے لئے عبادت بن جائے گا ، اللہ ہمیں توفیق ارزانی عطا کرے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close