مذہبی مضامین

عید کے دن کیسے گزاریں؟

مولانا محمد کلیم اللہ حنفی

            ادیان عالم میں ہر مذہب سے وابستہ ہر قوم اپنا ایک  مذہبی تہوار رکھتی ہے۔ جس میں وہ اپنی خوشی کے اظہار کے  ساتھ ساتھ اپنے جدا گانہ تشخص کا اظہار بھی کرتی ہے۔ مسیحی قوم کرسمس ڈے، ہندووں کی ہولی اور دیوالی اور پارسیوں کے ہاں نوروز اور مہرجان کی عیدیں ان کے تہوار کی نمائندہ ہیں۔ جبکہ مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔ دیگر مذاہب  کے مذہبی تہواروں میں جنسی آزادی اور فسق و فجور پایا جاتا ہے لیکن اہل اسلام کو عید کے دن اللہ رب العزت کی خوشنودی اور رضا کی طلب ہوتی ہے۔ اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی، اسوہ نبوی، جذبہ ایثار و قربانی، اجتماعیت، غریب پروری، انسانی ہمدردی رکھتی ہے۔ جانور کی قربانی کرنا دراصل اسلامی احکامات پر عمل کرنے کے لیے خواہشات کی قربانی کا سنگ میل ہے۔ یہ دن کیسے گزارا جائے آئیے شریعت کی رہنمائی میں چند باتیں دیکھتے ہیں۔

عید کے دن کرنے کے کام :

1:         بہتر ہے کہ عیدالاضحیٰ والے دن نماز عید کے  بعد قربانی کے گوشت سیکھانے پینے کا آغاز کریں (اس سے پہلے کچھ نہ کھائیں پئیں )

2:         غسل کرنا

3:         خوشبو لگانا

4:         مسواک کرنا

5:         عمدہ، صاف، پاک اور اچھا لباس پہننا

6:         عید کی نماز کے لیے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا

7:         عید گاہ تک پیدل جانا

8:         بلند آواز سے تکبیرتشریق کہنا

            مکروہ :عید کے روز عید کی نماز سے قبل گھر میں یا عید گاہ میں کوئی بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

عید کی نماز کا وقت:

             عیدین کی نمازکا وقت سورج کے اچھی طرح نکل آنے  سے شروع ہوتا ہے اور سورج ڈھلنے تک رہتا ہے۔ (اگر نمازِ عید کے دوران سورج ڈھل گیا تو عید کی نماز ٹوٹ جائے گی)

عید الاضحٰی تین دن:

            عید الاضحی تین دن ہوتی ہے اس لیے اگر عیدالاضحی کی نماز کسی وجہ سے ذوالحجہ کی دس تاریخ کو نہ پڑھی جا سکی تو گیارہ ذوالحجہ کو اور اگر گیارہ کو بھی نہ پڑھی جا سکی تو پھر بارہ ذوالحجہ کو پڑھی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد نہیں پڑھی جا سکتی۔ یہ حکم اجتماعی نماز کا ہے اگر کسی ایک فرد کی نماز عید رہ گئی تو وہ کسی بھی دن اکیلے نمازِ عید نہیں پڑھ سکتا۔ بلا عذر عیدکی نماز دوسرے دن پڑھنا گناہ ہے۔

نمازعید پڑھنے کا طریقہ:

            عید کی نماز دو رکعت ہے۔ عام نماز اور عید کی نماز میں یہ فرق ہے کہ اس میں چھ تکبیریں زیادہ کہی جاتی ہیں۔ تکبیرِ تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھ کر ثنا پڑھی جائے گی، پھروقفے وقفے سے دو دفعہ تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں گے اور پھر تیسری دفعہ تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لئے جائیں گے۔ پھر امام صاحب بآوازِ بلند سورۃ الفاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں گے۔ پھر رکوع اور سجدہ جیسا کہ باقی نمازوں میں ادا کرتے ہیں اسی طرح کریں گے۔ دوسری رکعت میں امام صاحب کے بآوازِ بلند سورۃ الفاتحہ اور کوئی سورت پڑھنے کے بعد، رکوع میں جانے سے پہلے امام صاحب کی پیروی میں وقفے وقفے سے تین دفعہ تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیے جائیں گے اور پھر چوتھی دفعہ تکبیر کہتے ہوئے رکوع کیا جائے گا۔ دو تکبیروں کے درمیان اتنا وقفہ مستحب ہے کہ جس میں تین مرتبہ تسبیح (سبحان اللہ ) پڑھا جا سکے۔

عیدین کا خطبہ:

             عید کی نماز کے بعد امام صاحب جمعہ کی طرح دوخطبے دیں گے جن میں عید اور قربانی کے احکامات بیان فرمائیں گے۔

ایامِ تشریق:

            ایامِ تشریق 9 ذوالحجہ نماز فجر سے لیکر 13 ذوالحجہ نماز عصر تک۔

تکبیراتِ تشریق کا حکم:

             ایامِ تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد ایک بار تکبیرِ تشریق کہنا ہر نمازی پر واجب ہے۔

تکبیراتِ تشریق کے الفاظ: اَللہ اَکبَر، اَللہ اَکبَر، لَااِلٰہَ اِلَّا اللہْ وَاللہْ اَکبَر، اَللہْ اَکبَر، ولِلّٰہِ الحَمدْ

ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اوراللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں۔

قربانی کے جانور:

             عید الاضحی کی نماز کے بعد صاحبِ استطاعت لوگ اللہ کی راہ میں گائے، بھینس، بھیڑ، بکری یا اونٹ (نر یا مادہ)خالص اللہ کی رضا کیلئے ذبح کریں گے۔

قربانی کا وقت :

            اس شہر اور دیہات میں فرق  ہے، شہر والوں کے لیے قربانی کا وقت 10 ذی الحجہ کو نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لیے صبح صادق سے شروع ہوجاتا ہے۔ اختتام میں کوئی فرق نہیں، دونوں کے لیے12 ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک وقت رہتا ہے۔ چنانچہ دیہات والے صبح صادق کے بعد طلوع آفتاب سے پہلے بھی قربانی کرسکتے ہیں اور شہر والے نماز عید کے بعد قربانی کرسکتے ہیں، اگر شہر میں کسی بھی جگہ عید کی نماز نہیں ہوئی تھی کہ کسی شہری نے قربانی کردی تو قربانی نہیں ہوگی۔ ہاں دیہات والوں کے لیے مستحب وقت یہ ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد قربانی کریں اور شہر والوں کے لیے مستحب وقت یہ ہے کہ خطبہ عید کے بعد قربانی کریں۔ پہلا دن قربانی کے لیے سب سے افضل ہے، پھر دوسرے دن کا درجہ ہے، پھر تیسرے دن کا۔ کسی ایک جگہ نماز عید کا ہوجانا قربانی کے جانور ذبح کرنے  کے لیے کافی ہے، اگر شہر میں متعدد جگہ نماز عید ہوتی ہے تو قربانی کی صحت کے لیے ایک جگہ نماز ہوجانا کافی ہے۔ ہر قربانی کرنے والے کا نماز عید پڑھ کر قربانی کرنا ضروری نہیں۔ شہر میں سب سے پہلی نماز کے بعد کسی نے خود نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کردی تو جائز ہے۔

رات میں قربانی کرنا :

            دسویں اور تیرہویں رات کو قربانی کرنا جائز نہیں۔ گیارہویں اور بارہویں رات کو جائز ہے، مگر رات میں رگیں نہ کٹنے، یا ہاتھ کٹنے، یا قربانی کے جانور کے آرام میں خلل کے اندیشہ سے ذبح کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم بات یاد رکھیں کہ قصاب کا مسلمان ہونا ضروری ہے ان دنوں میں بعض غیر مسلم مثلا مسیحی لوگ بھی مسلمانوں کے جانوروں کو ذبح کرنے لیے قصابوں کا روپ دھار لیتے ہیں اگر ان سے ذبح کرایا تو شرعا قربانی ادا نہیں ہوگی۔

گوشت کی تقسیم:

            اس کے بعد مرحلہ پیش آتا ہے گوشت کو تقسیم کرنے کا۔ اگر وزن کی مشقت سے بچنا چاہیں تو اس کی آسان تدبیر یہ ہے کہ سری پائے یا کلیجی کے ٹکڑے کرکے ہر حصہ میں ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ اس طرح اندازہ سے تقسیم کرنا بھی جائز ہوجائے گا۔ اگر کسی نے پورا جانور اپنے گھر کے افراد کے لیے رکھ لیا تو تقسیم کرنا ضروری نہیں، مثلاً: گائے خریدی اور اس کا ایک حصہ اپنے لیے، ایک حصہ بیوی کے لیے اور باقی حصص بالغ اولاد کے لیے رکھ لیے، پھر ذبح کرنے کے بعد پورا گوشت تقسیم کئے بغیر گھر میں رکھ لیا اور سب ایک ہی گھر میں رہتے اور کھانا مشترک کھاتے ہیں تو جائز ہے۔

قربانی کے گوشت کے تین حصے مستحب ہیں :

            افضل یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصے کر کے ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لیے رکھے، ایک حصہ اقارب و احباب میں تقسیم کرے، ایک حصہ فقراء میں تقسیم کرے۔ جس شخص کے اہل و عیال زیادہ ہوں وہ تمام گوشت خود بھی رکھ سکتا ہے، یہ استحباب کے خلاف نہیں۔

آلائشوں کو کچرا کنڈیوں میں ڈالیں :

            قربانی کے جانور ذبح کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اجتماعی قربان گاہیں قائم کی جائیں عیدالاضحی پر قربان کئے جانے والے جانوروں کی آلائشوں کو شاہراہوں اور گلیوں میں نہ ڈالیں بلکہ ان آلائشوں کو کچرا کنڈیوں یا پہلے سے طے شدہ مخصوص مقامات تک پہنچائیں تاکہ وہاں سے انہیں آسانی سے اٹھا لیا جائے انہوں نے کہا کہ آلائشوں کے علاوہ جانوروں کے استعمال میں آنے والی مختلف اشیا بالخصوص چارے وغیرہ کو بھی گلیوں میں نہ پھینکیں تاکہ گلی محلے صاف رہیں، آلائشوں اور قربانی سے متعلق بچ جانے والے دیگر سامان کو پبلک مقامات پر نہ پھینکیں۔ اس حوالے سے مقامی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

مزید دکھائیں

محمد کلیم اللہ حنفی

مولانا محمد کلیم اللہ حنفی مرکزی سیکرٹری اطلاعات عالمی اتحاد اہل السنت والجماعت ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close