مذہبی مضامین

غصہ  کے اسباب وعلاج (آخری قسط)

مقبول احمد سلفی

غصہ روکنے والے اسباب:

غصہ اور نرمی دونوں اوصاف ہر انسانی فطرت میں موجود ہے، کوئی غصہ زیادہ کرتا ہے اور نرمی کا دامن چھوڑدیتا ہے اور کوئی نرم مزاجی اپناتا ہے اور غصہ کم رکھتا ہے۔ گویا ایک انسان اپنی فطرت کو بدل نہیں سکتا مگر غصہ کو کم ضرور کرسکتا ہے۔ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ جب غصہ آجائے تو اس کا فوری علاج کیا ہے ؟ اب یہاں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ غصہ کو ہمیشہ کنٹرول میں کیسے رکھ سکتے ہیں ؟

سب سے پہلے نمبر پہ ان تمام اسباب سے بچنا ہے جو غصہ بھڑکانےاور غصہ میں زیادتی پیدا کرنے والے ہیں۔ پہلے غصہ دلانے والے اسباب ذکر کئے جاچکے ہیں۔ ان میں تکبر، برے اخلاق، لوگوں کی جہالت ونادانی، بے صبری،انتقام کا جذبہ، تشدد پہ مبنی فلم بینی،شیطانی عمل،ذہنی تناؤ، عصبیت وغیرہ ہیں۔

اسی طرح طبیعت میں نرمی پیدا کرنا، عبادت پہ اجتہاد کرنا، کثرت سے روزہ رکھنا، زبان کوذکر الہی سے تر رکھنا، فضول گوئی سے بچنا بلکہ خاموشی کی صفت اختیار کرنا، صدقہ وخیرات کرنا، فقراءومساکین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، گناہ کبیرہ اورفحش کاموں سے بچناغصہ کم کرنے میں معاون ہے۔

اللہ کا فرمان ہے :

وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشورى:37)

ترجمہ:اور کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کر دیتے ہیں۔

اس آیت میں کبیرہ گناہوں سے بچنےاور فحش کاموں سے رکنے کا ذکرکرکےاللہ نے مومن کی ایک صفت یہ بھی  بیان کی کہ وہ غصہ کے وقت معاف کردیتے ہیں۔ مزید ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ اللہ نے ہمیں غصہ کا انتقام لینے کی طاقت دی ہے مگر معاف کرنے والا اللہ کے نزدیک بہتر انسان ہے۔ ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے خرچ کرنے والے، غصہ روکنے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والےکی تعریف کی ہے۔ فرمان الہی ہے :

الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران:134)

ترجمہ:جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصّہ پینے والے اور لوگوں سے درگُزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے۔

اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ غصہ روک سکتے ہیں، یہ کوئی ایسی صفت نہیں ہے جس پہ بندوں کا اختیار نہ ہو۔اگر غصہ پہ قابو نہیں پایا جاسکتا تو پھر ہرکمزور اپنے سے طاقتورسے بدلہ لے لیتا، اس طرح دنیا میں کوئی ظلم نہیں کرتا مگر ظالم سے کمزور وں کابدلہ نہ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ کمزور نے اپنے غصہ پہ قابو رکھ لیا تاکہ کہیں وہ ظالم سے مزید ظلم کے شکار نہ ہوجائے۔ قدرت رکھتے ہوئے معاف کردینے والا جنت میں من پسند حور منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں :

من كظمَ غيظًا وَهوَ يستطيعُ أن ينفذَه دعاهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ علَى رءوسِ الخلائقِ حتَّى يخيِّرَه في أيِّ الحورِ شاءَ(صحيح الترمذي:2021)

ترجمہ:جو شخص غصہ ضبط کر لے حالانکہ وہ اسے کر گزرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے منتخب کر لے۔

غصہ اختیاری معاملہ ہے، کوئی غصے میں کسی کا قتل کردے تو دنیا کی عدالت بھی اس کی سزا معاف نہیں کرے گی اور اللہ کے یہاں سزا تو ہوگی ہی۔ ایک انسان جب اس حیثیت سے کہ غصہ کا انجام برا ہے، اس پہ اللہ کے یہاں مواخذہ ہوگا، سوچے گا تو اس کا غصہ نرم ہوگا اور غصے میں بھی معصیت کا کوئی کام کرنے سے بچے گا۔نبی ﷺ نے  غصہ کے وقت حق گوئی کی اللہ سے دعا مانگی ہے، فرمان رسولﷺ ہے :

أسألُكَ كلمةَ الحقِّ في الرِّضا والغضَبِ(صحيح النسائي:1304)

ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے خوشی اور غصہ دونوں حالتوں میں کلمہ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں ڈرنے پر یہ کلمات کہنے کو سکھلاتے تھے:

أعوذُ بِكَلماتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، من غَضبِهِ وشرِّ عبادِهِ، ومن هَمزاتِ الشَّياطينِ وأن يحضُرونِ(صحيح أبي داود:3893)

ترجمہ: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلموں کی اس کے غصہ سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کے میرے پاس آنے سے۔

اللہ اوراس کے رسول کا غصہ :

غصہ ہونا اللہ اور اس کے رسول کی بھی صفت ہے، اس لئے ہرقسم کا غصہ معیوب نہیں ہے بلکہ بعض جگہوں پراعتدال کے ساتھ غصہ امر مستحسن ہے۔ اللہ تعالی کے غصہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :

لَمَّا قَضَى اللَّهُ الخَلْقَ كَتَبَ في كِتابِهِ فَهو عِنْدَهُ فَوْقَ العَرْشِ إنَّ رَحْمَتي غَلَبَتْ غَضَبِي.(صحيح البخاري:3194)

ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو اپنی کتاب (لوح محفوظ) میں، جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے، اس نے لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔

اللہ اپنے بندوں پر یونہی ناراض نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے احکام کی نافرمانی ہوتی ہے تو اللہ غصہ ہوتا ہے اور بندوں کو سزا دیتا ہے، کبھی دنیا میں دیتا ہے اور کبھی آخرت میں دے گا اور کبھی دنیا وآخرت دونوں جگہ سزا دیتا ہے۔ اللہ کے غصے سے متعلق قرآن کی چند آیات ملاحظہ کریں۔

اللہ کا فرمان ہے:وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ (البقرۃ:61)

ترجمہ:ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ کا غضب لے کر وہ لوٹے یہ اسلئے کہ وہ اللہ تعالٰی کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔

اللہ کا فرمان ہے: وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء:93)

ترجمہ:اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالٰی کا غضب ہے، اسے اللہ تعالٰی نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اللہ کا فرمان ہے : كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِي ۖ وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي فَقَدْ هَوَىٰ (طہ:81)

ترجمہ:تم ہماری دی ہوئی پاکیزہ روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ یقیناً تباہ ہوا۔

اس قسم کی کئی آیات ہیں طوالت کی وجہ سے صرف نظر کرتا ہوں۔ یاد رکھیں، اللہ کا غصہ دوزخ میں لے جانے کا سبب ہے۔ نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :

إنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بالكَلِمَةِ مِن رِضْوانِ اللَّهِ، لا يُلْقِي لها بالًا، يَرْفَعُهُ اللَّهُ بها دَرَجاتٍ، وإنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بالكَلِمَةِ مِن سَخَطِ اللَّهِ، لا يُلْقِي لها بالًا، يَهْوِي بها في جَهَنَّمَ.(صحيح البخاري:6478)

ترجمہ:بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی(غصہ) کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے۔

اللہ کے غیظ وغضب سے بچنے کے لئے بندہ اس کی نافرمانی سے بچتا رہے اور صدقہ کا خصوصی الزام کرے کہ یہ اللہ کا غصہ بجھا دیتا ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں : إنَّ الصدقةَ تُطْفِئُ غضبَ الربِّ، وتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ(الترمذی:667)

ترجمہ: صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔

یہ حدیث سندا ضعیف ہے مگر اس کے پہلے حصے کو شیخ البانی نے کثرت شواہد کی بنیاد پر قوی کہا ہے۔ (تمام المنة:390)

نبی ﷺبھی غصہ ہوتے تھے، وعظ ونصیحت کے وقت غصہ ہوتے، کسی کو جھگڑتے دیکھتے تو غصہ ہوتے، کسی کے بارے میں غلط سنتے یا کسی کو غلطی کرتے دیکھتے تو غضبناک ہوجاتے۔ اس سلسلے میں احادیث میں بے شمار واقعات موجود ہیں جن سب کا ذکر اس چھوٹے مضمون میں ممکن نہیں ہے۔ تاہم چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔

(1)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں داخل ہوئے، گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں تھیں، اس کی وجہ سے نبی ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔(صحیح البخاری: 6109)

(2)ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں فجر کی نماز میں تاخیر کر کے اس لئے شریک ہوتا ہوں کہ فلاں صاحب فجر کی نماز بہت طویل کر دیتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں :”فما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قطُّ أشد غضبًا في موعظة منه يومئذ”یعنی اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غصہ ہوئے کہ میں نے نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ غضب ناک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا۔(صحیح البخاری: 6110)

(3)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا، حلہ عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عزیز عورتوں میں بانٹ دیئے۔ (صحیح البخاری: 5840)

(4)حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

خرجَ علَينا رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ ونحنُ نتَنازعُ في القَدرِ فغَضبَ حتَّى احمرَّ وجهُهُ، حتَّى كأنَّما فُقِئَ في وجنتيهِ الرُّمَّانُ(صحيح الترمذي:2133)

ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے، آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔

ممنوع اور مطلوب غصہ:

ہر وہ غصہ ممنوع ہے جسے اللہ اور اس کے رسول ناپسند کریں۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت میں غصے والا کوئی بھی کام کرنا ممنوع ہے مثلا کسی پربغیر غلطی کےغصہ ہونا، حق بات بولنے والے پر غصہ ہونا، ناحق پر ہوتے ہوئے بھی غصہ کرنا، انتقام کی آگ میں جلنا،کمزوروں کو دبانے کے لئے غصے کا اظہار کرنا، غصہ کے وقت فیصلہ کرنا، زبردستی دھونس جماکر دوسروں کا حق چھیننا، طاقت ومال کے زعم میں تکبر کرنا، عہدومناصب کا ناجائز فائدہ اٹھانا، ماتحتوں پر رعب جمانا وغیرہ۔ بیجا غصہ والا کام تو منع ہے ہی، معصیت کا کوئی کام بھی اللہ کے غصہ کا سبب ہے۔ ہم سے مطلوب ہے کہ منکر کے مٹانے میں حد اعتدال میں رہتے ہوئے غصہ کا اظہار کریں جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے بچوں کو ترک نماز پہ مارنے کا حکم دیا ہے، سرکشی پہ بیوی کو ہلکی مارمار نے کا ذکر ہے، برائی دیکھنے پر پہلے ہاٹھ سے مٹانے کا حکم ہوا ہے، ان سارے کام میں غصہ کا عنصر شامل ہے۔ اس وجہ سے ہمیں حق ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر غصہ کا اظہار کریں اور غصہ بھی اس قدر نہ ہو کہ فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوجائے اور اظہار غصہ میں مناسب وقت اور حکمت ودانائی بھی ضروری ہے۔ بات بات پہ غصہ، بے محل غصہ، حد اعتدال سے بڑھا ہوا غصہ تباہی کا سبب ہے اس سے بچنا  ضروری ہے۔ مطلوب غصہ میں معیار یہ فرمان رسول ہے:

ما انْتَقَمَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ لِنَفْسِهِ في شيءٍ قَطُّ، إلَّا أنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ، فَيَنْتَقِمَ بهَا لِلَّهِ.(صحيح البخاري:6126)

ترجمہ: نبی ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کسی سے بدلہ نہیں لیا البتہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی کی حرمت وحد کو توڑتا تو آپ اس سے محض اللہ کی رضامندی کے لئے بدلہ لیتے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close