مذہبی مضامین

فرشتے اُتریں گے!

امتیازعلی شاکر

بیشک اللہ سبحان تعالیٰ ہرچیزپرقادرہے،جوچاہے ،جب چاہے،جیساچاہے کرتاہے،اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کی آمد سے قبل فرعون کوخبردارکرکے بھی بے خبروبے بس کردیا،جب نجومی نے فرعون کو پیش گوئی کی کہ وہ بچّہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیری سلطنت اور حکومت ختم کردے گا۔ توفرعون نے اپنے جلادوں کو حکم دے دیا کہ سلطنت میں جو بھی بچّہ پیدا ہو، اْسے قتل کردیا جائے، جو بچّہ پیدا ہوتا فرعون کے جلّادسپاہی تلاش کرتے اور ماں باپ سے چھین کرموت کے گھاٹ اْتار دیتے،اس طرح تقریباً 30ہزار بچّے قتل کردیئے گئے، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی توآپ علیہ السلام کے والدین سخت پریشان ہوئے کہ بچے کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تین مہینے تک بچے کی پیدائش سے متعلق کسی کو بھی خبر نہ ہوئی،آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ بہت پریشان ہوتیں اور روتی رہتیں ، آخراللہ تعالیٰ کے حکم سے ا ٓپ علیہ السلام کی والدہ نے ایک صندوق تیار کیاجو مضبوط اورپانی سے محفوظ رہ سکے، اس صندوق میں معصوم بچے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رکھ کر دریا میں چھوڑدیا اور اپنی صاحب زادی سے کہا کہ تم بھی دریا کے کنارے چلتی جاؤاور دیکھو یہ صندوق کہاں جاتا ہے؟

آپ علیہ السلام کی ہمشیرہ دریا کے کنارے چل رہی تھیں کہ صندوق بہتا ہوا اْس نہر میں چلا گیاجو فرعون کے باغ کی طرف بہتی تھی، فرعون اْس وقت اپنی اہلیہ حضرت بی بی آسیہ کے ہمراہ باغ کی سیرکررہاتھا،نوکرنہرمیں صندوق دیکھ کر اْسے فرعون کے پاس لے گئے ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن نے یہ تمام حال والدہ کوجاکربتایا۔والدہ غم سے نڈھال ہوکراللہ کے حضور سجدہ ریزہو گئیں ،اْدھر جب فرعون نے صندوق کھول کر دیکھا کہ ایک نوزائیدہ معصوم بچّہ لیٹاہوا ہے تواْس نے ہامان سے کہا کہ یہ وہی لڑکا تو نہیں جس کے بارے میں نجومیوں نے خبر دار کیا ہے؟فرعون نے اپنے سپاہیوں کوحکم دیااسے فوراً مار ڈالو، فرعون کی اہلیہ نے کہا کہ میں اس خوب صورت بچّے کو قتل نہیں کرنے دوں گی ،فرعون نے اپنی بیوی حضرت بی بی آسیہ کی بات مان لی اور بی بی آسیہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا بیٹا بنا لیا، دائیوں کو حکم دیا کہ اْسے دودھ پلاؤ ،آپ علیہ السلام کسی کا دودھ نہ پیتے،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن جوبار بارانجان بن کر فرعون کے دربار میں آتی تھیں ،اپنی والدہ کو بْلا لائیں ،والدہ نے جیسے ہی موسیٰ علیہ السلام کو گودمیں لیا تواْنہوں نے اپنی والدہ کا دودھ پینا شروع کردیا۔اللہ تعالی نے اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے کیا وعدہ پورا کردیا۔

جب آپ علیہ السلام تین برس کے ہوئے تو ایک دن حضرت آسیہ نے آپ علیہ السلام کو فرعون کی گود میں بٹھا دیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اْس کی ڈاڑھی پکڑ کر اس قدر زور سے کھینچی کہ چند بال بھی ہاتھوں میں آگئے،فرعون غصّے میں لال پیلا ہو گیا اورکہنے لگایہی ہے وہ بچہ ہے جو میری سلطنت کو برباد کرے گا، فرعون نے آپ علیہ السلام کو پھرقتل کرنا چاہا ،اللہ سبحان تعالیٰ نے حضرت آسیہ کے بہانے ایک بار پھرحضرت موسیٰ علیہ السلام کو بچا لیا، اس کے بعد فرعون نے کبھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف توجّہ نہیں دی، وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ آپ علیہ السلام جوان ہوگئے،اورپھروہی ہواجواللہ تعالیٰ کومنظورتھا،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لشکرکے ساتھ سمندرنے راستہ دیااورفرعون اپنی فرعونیت سمیت غرق سمندرہوگیا،نجومیوں کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی ،فرعون نے تقریباً 30ہزار بچّے قتل کردئیے پھربھی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف ز ندہ رکھابلکہ فرعون کے گھرمیں پالا،جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے فرعون کے گھرمیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرمائی وہ آنے والے زمانوں اورحکمرانوں کوکھلاپیغام ہے کہ جتناچاہے کوشش کرلو ہوگاوہی جورب تعالیٰ چاہے گا۔

دورحاضرمیں دیکھیں تو پتہ چلتاہے کہ وقت کے حکمران بھی اپنااقتداربچانے کیلئے کسی حدسے بھی گزرجاتے ہیں ،ویل چیئرپربیٹھے غیرت مند، مرد مجاہد،عاشق رسول اللہ ﷺ کواسلام آبادحضرت غازی ملک ممتازحسین قادری شہید کے عرس میں جانے سے روکنے کیلئے نظربندکردیاگیا،وہ عاشق رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہم سے زیادہ کوئی پرامن نہیں ،ہم سے بڑاکوئی محب وطن نہیں اورپھریہ سچ کردیکھایاکہ نہ کہیں سکیورٹی اداروں کے ساتھ ہاتھاپائی ہوئی نہ ہی کسی نے قانون ہاتھ میں لیا،محترم علامہ خادم حسین رضوی کوصرف اس لئے عرس اورکانفرنس میں جانے سے روکاگیاکہ انہوں مردہ دلوں کومحبت رسول اللہ ﷺ سے زندہ کردیاہے،وہ حق اورسچ سرعام بولتے ہیں ،فرعون کوتونجومیوں نے خبردی ہمیں درویش وقت سید عرفان احمد المعروف نانگامست بابامعراج دین نے خوش خبری سنادی ہے کہ جس رب رحمان نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوفرعون کے گھرمیں پالااُسے کچھ مشکل نہیں ،تحفظ ناموس رسالت مآب ﷺ کاجومشن محترم علامہ خادم حسین رضوی لے کرچلے ہیں اس میں کوئی ان کو تنہاء یاکمزور سمجھنے کی غلطی نہ کرے،اب یہ قافلہ رکے گانہ تھمے گا،تحفظ ناموس رسالت مآبﷺ کے راستے میں نہ صرف انسان بلکہ فرشتے بھی قربان ہونے کیلئے بیتاب ہیں ،مرشدسرکارنے فرمایاہم دیکھ رہے ہیں کہ جلد پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بنے گا،لبیک یارسول اللہ ﷺ کانعرہ حکومتی ایوانوں میں گونجھے گا۔

محترم المقام علامہ خادم حسین رضوی سچ فرماتے ہیں کہ وچ گل کوئی ہوراے،دیکھوسفید داڑھی،نہتے ویل چیئر پربیٹھے سادہ انسان سے فرعون وقت تھرتھرکانپ رہے ہیں ،محبت رسول اللہ ﷺ نے خادم حسین رضوی کووہ طاقت عطافرمائی ہے جس کاسامناکوئی فرعون نہیں کرسکتا،اسلام کے مجاہدوں کی تعدادنہیں جذبہ میدان جنگ میں لڑتاہے،فتح مقدرکرنااللہ تعالیٰ کے ذمے ہے،جتنے لوگوں کوسمجھ آئے گی وہ لبیک یارسول اللہ ﷺ کا نعرہ لگائیں گے باقی کام کرنے آسمان سے فرشتے اُتریں گے،مبارکبادپیش کرتاہوں عاشقان رسول اللہ ﷺ کوعنقریب کہ اُن کی مدد کیلئے اللہ سبحان تعالیٰ آسمان سے فرشتے اُتارنے والاہے،ہرطرف لبیک یارسول اللہ ﷺ کانعرہ گونجھے کا،اللہ تعالیٰ ناموس رسول اللہ ﷺ پرپہرہ دینے والوں سے بہت خوش ہے ،جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون کووقت دیااُسی طرح کچھ وقت آج کے فرعونی حکمرانوں کابھی باقی ہے جلد اللہ تعالیٰ عاشقان رسول اللہ ﷺ کوغالب فرمائے گا،کنٹینرتوکیاسمندر،پہاڑ بھی عاشقان رسول اللہ ﷺ کوخودراستہ دیں گے .

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close