مذہبی مضامین

فوأد کیا ہے؟

منیر احمد خلیلی

 یہ انسان کیا ہے؟ دیگر بے شمار جانوروں کی طرح اعضاء و جوارح اور ہڈیوں اور گوشت پوست کا مجموعہ ہے۔اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ نے جس طرح اس کائنات کی مخلوقات میں سے کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مخلوق بھی بے مقصد پیدا نہیں کی اسی طرح جسدِ انسانی کا کوئی معمولی سے معمولی حصہ بھی بے کار اور فالتو نہیں بنایاہے۔اعضائے انسانی میں سے تقریباً ہراہم عضو کا ذکر ہمیں قُرآن حکیم میں ملتا ہے۔

1۔ پیشانی، پہلو اور پیٹھ کا ذکر بھی کئی مقامات پر آیا ہے۔ سورہ توبہ کی 35 ویں آیت میں سونے چاندی کے ڈھیر جمع کرتے جانے اوراس جمع کیے ہوئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرنے والوں کے بارے میں بتایا گیا ہے:

  یَوْمَ  یُحْمٰی عَلَیْھَا  فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ  فَتُکْوٰی  بِھَا جِبَاھُھُمْ  وَ جُنُوْبُھُمْ وَ ظُھُوْرُھُمْ

’ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنّم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں ، پہلووں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔‘

2۔ ہماری زبانوں اور ہاتھ پائوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:

  یَوْمَ  تَشْھَدُ  عَلَیْھِمْ  اَلْسِنَتُھُمْ  وَ اَیْدِیْھِمْ  وَ  اَرْجُلَھُمْ  بَمَا یَعْمَلُوْنَ (نور:24)

  ’اُن کی اپنی زبانیں ، اور ان کے اپنے ہاتھ پائوں اُن کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے۔‘

 3۔ چہروں ، پیشانی کے بالوں اورقدموں کا تذکرہ دیکھیں کس انداز میں آیا ہے:

  یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰھُمْ فَیُوئْ خَذُ  بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِ’

مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پائوں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔‘

4۔۔ پیٹھ کے لیے ظَہْر اور سینے کے لیے صَدْر کے الفاظ کے علاوہ پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے لیے الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ کے الگ الفاظ بھی ہمیں سورہ الطّارق میں ملتے ہیں۔

5۔ سر کے لیے واحد کے صیغے میں رَاْس سات مرتبہ اور جمع کے صیغے میں رُئُ وْس گیارہ مقامات پر ہم دیکھتے ہیں۔

6۔آنکھوں اور کانوں کے لیے اَعْیُنٌ اور اَذَانٌ بھی مذکور ہوئے ہیں۔

7۔ سینے کے لیے صَدْر اور صُدُوْرکے الفاظ پینتالیس چھیالیس جگہوں پرآئے ہیں۔

8۔ دل کے لیے واحد اور جمع دونوں صورتوں میں قَلْب اور قُلُوْب کے الفاظ تو کوئی 132بار ہمیں نظر آتے ہیں۔

9۔ پیٹ کے لیے واحد اور جمع کے صیغے میں بَطْن اور بُطُوْن کے الفاظ متعدد بار آئے ہیں۔

10۔ سورہ اٰلِ عمران کی چھٹی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ تخلیق کے ذکر میں رحمِ مادر کا ذکر یوں کیا ہے:

 ھُوَ الَّذِیْ  یُصَوِّ رُ کُمْ  فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآئُ ’وہی تو ہے جو تمہاری مائوں کے پیٹ (رحم) میں تمہاری صُورتیں جیسی چاہتا ہے ، بناتا ہے۔‘

 11۔ سورہ البقرہ کی 19ویں آیت میں اَصَابِعَھُمْ  (ان کی انگلیاں )سورہ الحآقّۃ میں ذِرَاعاً کی صورت میں بازووں کا ذکر ہے۔سورہ الکہف میں اصحابِ کہف کے کتے کے ذکر میں بھی یہ لفظ بطورِ تثنیہ استعمال ہوا ہے۔

12۔ سورہ المائدۃ کی چھٹی آیت میں وضو کے حکم میں چہرے، ہاتھوں ، کہنیوں ،سروں اور ٹخنوں کا ذکرہے ۔

13۔  اسی سورہ کی 45 ویں آیت میں قصاص کی ذیل میں آنکھ اور کان کے علاوہ  وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ  اور وَالسِّنَّ بِالسِّنَّ ِّ یعنی ناک کے بدلے ناک اور دانت کے بدلے دانت جیسے ظاہری اعضا کوہم مذکور دیکھتے ہیں ۔

14۔ سورہ البلد میں دو آنکھوں اور زبان کے ساتھ شَفَتَیْنِ یعنی دو ہونٹوں کے بارے میں بھی پڑھتے ہیں ۔

15۔ گردن کے لیے رَقَبَۃٍ اور عُنُق دونوں لفظ قرآن پاک میں موجود ہیں ۔

ان بہت سے اعضاء و جوارح کا تذکرہ کتابِ مبین میں دیکھ کر مدت سے یہ سوال ذہن میں پیدا ہو رہا تھا کہ آخر انسانی کھوپڑی کے اندر کا وہ عضوِ رئیس اس فہرست سے کیوں خارج رکھا گیا جسے ہم دماغ ،مغز یا بھیجا کہتے ہیں ؟ سورہ الانبیاء کی اٹھارھویں آیت میں دماغ کے مادے سے لفظ یَدْمَغُہٗ آیا ہے لیکن مترجمین و مفسرین نے اس سے سر پر لگنے والی ایسی چوٹ مراد لی ہے جس کا اثر دماغ تک پہنچے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دماغ بجائے خود کیا چیز ہے؟ جدید سائنس نے اس کے بارے میں بہت سے حیران کن حقائق کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیے ہیں ۔ایک سو بلین یا ایک کھرب عصبی رگوں کا یہ حیرت خیز مجموعہ جو سارے جسم کے عصبی نظام کا مرکز ہے۔عصبی نظام کے تمام اعلیٰ مراکز اسی کے اندر پائے جاتے ہیں ۔روزانہ خیالات کی 70 ہزار لہریں اس سے اٹھتی اور اس کے خلیوں سے گزرتی ہیں ۔عجائباتِ قدرت کے اس مجموعے کے بارے میں ان تحقیقات کو پڑھ اور سن کر اور زیادہ حیرت ہوتی ہے کہ قدرت کے اس عظیم شاہ کار کو قرآ ن مجید میں کیوں بیان نہیں کیا گیا۔

  سطورِ بالا میں سورتوں اور آیات کے نمبر کے حوالوں کے ساتھ انسانی وجود کی مشین کے باہر اور اندر کے پرزوں کے نام گنوائے گئے ہیں ۔ ایک عظیم پرزہ ایسا ہے جس کا واحد کے صیغے میں پانچ بار اور جمع کے صیغے میں گیارہ مرتبہ ذکر اللہ کی پاک

 کتاب میں آیا ہے ۔ اس پرزے کا ذکرکئی مقامات پرواحد اور جمع کے صیغے میں دو اور پرزوں کے ساتھ آیا ہے۔ اس کی غیر معمولی اہمیت و خاصیت کی وجہ سے خالِق نے اس کے ساتھ شکر گزاری کا تقاضا کیا ہے۔کہیں اس نعمت سے نوازنے کی بات کر

 کے فرمایا:’شاید کہ تم (اتنی بڑی نعمت پر) شکر ادا کرو‘ اور کہیں یہ فرمایا کہ تم اس متاعِ گرانمایہ کو پانے کے باوجود کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔ اس بے مثال پرزے یا نعمت کا قرآنی نام بطورِ واحد فواْداور جمع کے صیغے میں افئِدۃ ہے۔یہاں صرف شکر کے لفظ کے ساتھ آنے والی آیات درج کی جا رہی ہیں ۔

  وَ اللّٰہُ  اَخْرَجَکُمْ  مِّنْ م بُطُوْنِ اُمَّھَاتِکُمْ  لَا تَعْلَمُوْنَ  شَیْئًا وَّ جَعَلَ لَکُمُ  السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَ ۃَ  لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ  (النّحل:78)

’اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالااِس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیے ، اس لیے کہ تم شکرگزار بنو۔‘

  وَ ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلاً  مَّا تَشْکُرُوْنَ  (المؤمنون:78)

’وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سننے اور دیکھنے کی قوّتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔‘

 ۔۔۔وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلًا  مَّا تَشْکُرُوْنَ  (السّجدۃَ:9 )

 ’۔۔۔اور تم کو کان دیے ، آنکھیں دیں اور دل دیے۔ تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔‘

  قُلْ ھُوَالَّذِیْٓ اَنْشَاَ کُمْ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَۃَ ط  قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ   (الملک:23)

’اِن سے کہو، وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔‘

راقم کے پاس قُرآن مجید کے جتنے اردو ترجمے ہیں ان میں فُوَٗاد اور اَفْئِدَۃ  کا ترجمہ دل ہی کیا گیاہے ۔ مولانا مودودیؒ نے ان الفاظ کا ترجمہ تو دل ہی کیا لیکن اس کے ساتھ ’سوچنے سمجھنے والے‘ کی ایک اضافی صفت کا خاص طور پر اضافہ کیا۔سورہ الملک کی محوّلہ بالا آیت کے تحت تفسیری نوٹ میں انہوں نے لکھا:’ یعنی اللہ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے دی تھیں ۔ تم ناشکری کر رہے ہوکہ اِن سے اور سارے کام لیتے ہومگر بس وہی ایک کام نہیں لیتے جس کے لیے یہ دی گئی تھیں ۔‘ اس نوٹ میں سمع و بصر کے ساتھ لفظ دل استعمال کرنے کے بجائے یہ تعبیر کی کہ یہ اَلْاَفْئِدَۃ ’علم و عقل‘ کے سرچشمے ہیں۔

 فَوَأد نام کے اس عضو کے بارے میں تدبّر اور غور و فکر کے دوران میں میری نظر میں ایک عربی تحریر آگئی جس سے یہ

 پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جس کو ہم دل اور انگریزی والے heartکہتے ہیں ۔اس تحریر میں یہ بتایا گیا ہے کہ فواْد  کا مقام سینہ (breast) نہیں بلکہ یہ کھوپڑی کے اندر واقع بھیجے، مغز یا دماغ کا ایک حصہ ہے۔اپنی شکل کے اعتبار سے حصان البحر(sea horse) کی طرح کا عضو ہے۔ دماغ کے اسی حصے میں تین اور اجزا ہیں جن کے لیے عربی کی اصطلاحات ’الزّنّار‘  اور ’المھاد‘ اور ’اللّوزۃ‘ استعمال ہوئی ہیں ۔یہ ان حصوں کے حقیقی نام نہیں بلکہ یہ اصطلاحی نام ہیں ۔ان کے الگ الگ تخلیقی مقاصد ہیں ۔اللّوزۃ کا تعلق یادداشتوں سے ہے۔الزّنّار جلن اور تپش کے احساس سے تعلق رکھتا ہے۔اللّوزۃکا ایک حصہ جذبات سے تعلق رکھتا ہے ۔ المھاد وہ حصہ ہے جو انسان کو بھوک پیاس کا احساس دلاتا ہے۔ فواْد سے احساس و شعور کی روشنی پھوٹتی ہے۔خوف ،غم اور خوشی کی شدّت بھی فواْد ہی سے جنم لیتی ہے۔فرعون نے جب بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے لڑکوں کے قتل کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی والدہ کو اشارہ کیا تھا کہ اگر انہیں نو مولودبیٹے کی جان کا خطرہ محسوس ہو تو اس وقت کیا اقدام کرنا ہے ۔

وَ اَوْحَیْنَا ٓ اُمِّ مُوْسٰٓی اَنْ اَرْضِِعِیْہِ ج فَاَلْقِیْہِ فِی الْیَمِّ وَلَا تَخَافِیْ وَلَا تَحْزَنِیْ ج اِنَّا رَآدُّوْہُ اِلَیْک، وَجَاعِلُوْہُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (القصص:7)

 ’اور ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ’اِس کو دودھ پلا ، پھر جب تجھے اس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے۔‘

موسیٰ علیہ السّلام کی والدہ نے اللہ کے حکم سے انہیں دریا میں ڈال دیا۔ اللہ کی دی ہوئی تسلی کے مطابق وہ بیٹے کی جان کے معاملے میں خوف و حزن سے تو آزاد ہو گئی تھیں مگر ممتا کے جذبات جس طرح جوش کھا رہے تھے ان پر اس خاتون کا قابو نہیں تھا۔ قرآن بتاتا ہے کہ ان جذبات کی شدّت کا تعلق قلب کے بجائے فواْد سے تھا۔

  وَ اَصْبَحَ فُوئَ ادُ اُمِّ مُوْسٰی فٰرِغًاط اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ لَوْ لَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِھَا لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُوئْ مِنِیْنَ (القصص:10)

 ’ادھر موسیٰ ؑ کی ماں کا دل اُڑا جا رہا تھا۔وہ اُس کا راز فاش کر بیٹھتی اگر ہم اسے ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے کے مطابق) ایمان لانے والوں میں سے ہو۔‘

گویا ممتا کے فراواں جذبے تو اُمِّ موسیٰ ؑ کے فواْد میں جوش کھا رہے تھے اور ڈھارس اور تسلی قلب میں بٹھائی گئی۔کتاب ِمجیدہمیں بتا رہی ہے کہ دونوں باطنی کیفیات کے مرکز یعنی فواْد اور قلب ، دوالگ اور جدامقام ہیں ۔ قلب اور فواْد ایک ہی چیز کا نام نہیں ہے۔ ہم ’وسوسہ‘ اور ’تشویش‘ کے الفاظ ادا کریں تویہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وسوسہ سینے کے اندر قلب پر حملہ کرتا اور دماغ

 پر اثرات مرتب کرتاہے ۔ اس کے برعکس تشویش دماغ کے ایک حصے سے برقی لہروں کی طرح دوڑتی ہوئی دل پر وارد ہوتی ہے۔ یہ برقی لہریں فواْد ہی سے اٹھتی اور دل تک پہنچتی ہیں ۔

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں خفیف سے لفظی فرق کے ساتھ اہلِ یمن کے محاسن اور مزاج کے بارے میں ایک حدیث ہے ۔اس حدیث میں یمن والوں کی کئی اچھی خصوصیات بیان ہوئی ہیں کہ نصیحت ان کے دلوں پرفوراً اثر کرتی ہے۔ہدایت اور ایمان ان کے دلوں میں جلدی گھر کر لیتے ہیں ۔وہ بغیر جنگ کے بے تکلف اسلام میں داخل ہوئے ۔ان کے ایمان لانے میں ان کی حکیمانہ سوچ کارفرما تھی۔حدیث میں مختلف جانوروں کے ساتھ زندگی گزارنے کے ان کے مالکوں کے عادات اور مزاج پر اثر کی طرف بھی اشارہ ہے۔ بھیڑ بکریوں والے نرم مزاج، عاجز، متحمّل طبع اور غیر جلد بازہوتے ہیں ۔ان میں سکون اور وقار ہوتا ہے۔اونٹوں والوں میں گردنیں اکڑانے اور سر اونچا رکھنے جیسی متکبّرانہ خصلت پیدا ہو جاتی ہے۔جزیرۃُ العرب کے مشرقی علاقوں کے قریب و بعید اور وسطی حصوں کے لوگوں پر جنوب کے یمنیوں کے برعکس اونٹوں کی صحبت کا اثر تھااس لیے ان میں قبولیتِ حق کے معاملے میں اڑ اور ضد غالب تھی۔بخاری کی حدیث کے آغاز میں السَّکِیْنَۃُ  وَ الْوَقَارُ  فِیْ  اَھْلِ الْغَنَمِ  بھیڑ بکریاں پالنے والے اہلِ یمن کی کی قلبی سکینت اور وقار کا ذکر ہوا ہے۔حدیث کے آغاز میں ان کی جو دو خصوصیات بیان ہوئیں ان میں ایک کا تعلق فواْد سے اور دوسری کا قلب سے ہے۔صحیح مسلم کے الفاظ ہیں : جَآئَ  اَھْلُ  یَمَنِ،  ھُمْ  اَرَقُّ   اَفْئِدَۃً  وَ  اَضْعَفُ  قُلُوْباً صحیح بخاری میں اَلْیَنُ قُلُوباً کے الفاظ آئے ہیں ۔یعنی اہلِ یمن کے فوأد رحم و محبت اور ہمدردی سے سرشار تھے اور ان کے قلوب میں نرمی و ملائمت بھرے ہوئے تھے۔

 آنکھوں کے سامنے اچانک کوئی غیر متوقع اور انوکھا منظر آ جائے تو ان ہونی چیز کے مشاہدہ کے فوری اثرات ذہن پر پڑتے ہیں اور وہاں سے حیرت اور سراسیمگی کی تأثراتی لہریں دل میں داخل ہو تی ہیں ۔گویا تحیّر کا ابتدائی مرکز دماغ میں وہ مقام ہے جس کا قُرآنی نام فوأد ہے ۔وہاں سے خوف کا سیلان قلب کی طرف ہوتا ہے ۔منظر کی نسبت سے قلب وحشت زدہ اور مضطرب ہو جاتا ہے۔منظر اگر انسان کی توقع سے کہیں بڑھ کر خوش گوار ہو تو ہَول کے بجائے اسی قدر مسرّت پیدا ہوتی ہے ۔ اس سے بھی دل کی عمومی حالت میں بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ کبھی تو غیر متوقع خوشی کی لہریں اتنی شدید ہوتی ہیں کہ قلب ان کو سہار نہیں سکتا ہے اورانسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کے سامنے جبریل امین ؑ کا اپنی اصلی شکل میں آنا مادّی دنیا میں کسی بھی دوسرے بڑے سے بڑے مشاہدے سے بڑھ کر انوکھا مشاہدہ تھا۔ مشاہدہ آنکھوں سے ہوااور فوأد پر اس کے اثرات وارد ہوئے اور پھر اس کی روئیں دل کی طرف اتریں ۔ لیکن جس قدر مشاہدہ عظیم تھا، نبی اکرم ﷺ کے فوأد اور قلب میں اس کو برداشت کرنے کا جوہر بھی اتنا ہی قوی ڈال دیا گیا تھا۔اللہ کی کتاب اس واقعہ عظیم کے بارے میں بتاتی ہے:

  عَلَّمَہٗ  شَدِیْدُ  الققُوٰی ۔ ذُوْ  مِرَّۃٍ ط  فَا سْتَوٰی۔  وَ  ھُوَ  بِالْاُفُقِ  الْاَعْلٰی ۔  ثُمَّ  دَنَا  فَتَدَلّٰی ۔ فَکَانَ  قَابَ  قَوْسَیْنِ  اَوْ  اَدْنٰی ۔  فَاَوْحٰٓی  اِلٰی  عَبْدِہٖ  مَآ  اَوْحٰی ۔  مَا  کَذَبَ الْفُوئَ ا دُ  مَا رٰی ۔(النّجم: 11-5)

’اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحبِ حکمت ہے۔وہ سامنے آ کھڑا ہوا جب کہ وہ بالائی اُفق پر تھا، پھر قریب آیا اور اُوپر معلّق ہو گیا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچائی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا ، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔‘

        مشاہدے میں آنے والی تصویر اور اس سے بننے والا تصورعقل و فکر اور شعور سے تعلق رکھتا ہے۔احساسات و جذبات عقل و فکر کے اس فیصلے کی پیداوار ہوتے ہیں کہ مشاہدہ کی نوعیت کیا ہے۔عقل و شعور ہی سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مشاہدے میں آنے والی چیز دوست ہے یا دشمن اور فائدہ مندہے یا ضرر رساں ۔ فوٗادیہ نتیجہ اخذ کرنے میں دیر نہیں لگاتا اور نتیجہ اخذ ہونے کے ساتھ ہی انسان یا توششدر یا ہیبت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کے مشاہدے میں آنے والی پر جلال ہستی کے بارے میں نبوّت کی روشنی سے مستنیر مرکزِ عقل و شعورسے یہ فیصلہ صادر ہواتھاکہ یہ کوئی وہمہ نہیں بلکہ حقیقی ہستی ہے۔مَا کَذَبَ الْفُوَٗادُمَا رَاٰی یعنی نظر نے جو کچھ دیکھا— مرکزِ عقل و شعور—نے اس میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہونے دی ۔ دوسری بار معراج کے موقع پر سِدْرَۃُ الْمُنْتَھٰی کے پاس پھر وہی صاحبِ جلال ہستی اس طرح نظر آئی کہ اس کے وجود کے نور نے اس مقام کو جس کے لیے رَبِ کائنات کی نظر میں موزوں ترین لفظ سِدْرٰی تھا، اس پر چھا کروہاں کے سارے ماحول کو نور سے ڈھانپ لیا تھالیکن ان تجلّیات کے بارے میں فُوأدُنے اعتدال سے ہٹی ہوئی کوئی ایسی اضطرار ی کیفیت پیدا نہ ہونے دی کہ اس سے جڑے ہوئے دو اعضاء یعنی سمع و بصر اسے دیکھنے سننے کی سکت کھو بیٹھتے یا ان  پر اس فوق العادہ منظر کو دیکھنے سے کوئی منفی اثر پڑتایا قلب پر خوف طاری ہوتا۔ نور کے سیل بے پایاں کے اس مشاہدے کی وجہ سے بصر کی فطری صلاحیت و لیاقت میں کوئی نقص پیدا نہ ہوا۔شوقِ دیدکی وجہ سے نہ تو نگاہوں نے حدود سے تجاوز کیااور نہ ان میں ایسی کمی آئی جس سے اس منظر کے مشاہدے سے یہ عاجز رہتیں ۔ حیرت انگیزمشاہدے نے اعصاب پر کوئی ایسا منفی اثر نہ ڈالا کہ نظر آنے والی ہستی حقیقت میں جو تھی سوچ اور فکر کے اس مرکز– فوٗاد–میں اس کا کوئی اور تصور پیدا ہوتا مَا زَاغَ  الْبَصَرُ وَ  مَا طَغٰی یعنی نگاہ نہ (وفورِ نور سے) چندھیائی اور نہ حد سے متجاوز ہوئی۔

   قُرآن مجید میں شعور، عقل، تدبّر ، بصیرت اور حکمت کی جو اصطلاحیں آئی ہیں یہ سب دماغ سے تعلق رکھتی ہیں ۔عقل کا ایک بڑا با فضیلت مقام یا اس کی ایک ممتاز قسم وہ ہے جس کے لیے قُرآن حکیم میں ’اَلْبَاب‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو ’  لَب‘ کی جمع ہے۔ اُوْلِی الْاَلْبَاب‘ یا اُوْلُوالْاَلْبَاب  وہ اصطلاح ہے جو16 مقامات پر آئی ہے۔کم و بیش ہر مقام پرذکر، تذکّراور تقویٰ کی خصوصیت اس کا لازمہ بتایا گیا ہے۔یعنی اُوْلُوالْاَلْبَاب ان لوگوں کی صفت ہے جوسبق حاصل کرتے ہیں ، نصیحت پکڑتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں ۔اہلِ علم کے نزدیک’  لَب‘ بالکل خالص اوربے آمیزعقل ہوتی ہے۔جو بندۂِ مومن دنیا

 والوں کے بنائے ہوئے پیمانوں سے صاحبِ عقل ہونے کے بجائے اولوالالباب  میں شمار ہونے لگے اس کی آنکھوں پر سے سب سے پہلے اس مادی دنیا کے پردے ہٹ جاتے ہیں ۔یہ لَب عقیدہ و ایمان کی روشنی پاتی ہے تو بندے پراخروی دنیاکے حقائق کھل جاتے ہیں ۔ وہ اس جہانِ آب و گل سے بلند ہو کر اخروی دنیا کی فکرمیں مبتلا ہو جاتا ہے ۔سورہ اٰلِ عمران کی آیت 190میں اِن اولی الالباب کے ذکر کے ساتھ آگے کی تین آیات میں اولوالالباب کی سوچ اور ان کے طرزِ فکر اوربندگانہ رویّے کی ایک شاندار تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔:

 اِنَّ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰ تِ  وَ  الْاَرْضِ  وَ  اخْتِلَافِ  الَّیْلِ  وَ  النَّھَارِ  لَاٰیَاتٍ  لِّاُولِی  الْاَلْبَابِ ٭

’ زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں اُن اولی الالباب ( جَلا بخشی ہوئی شفاف عقل رکھنے والے) ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں ۔۔۔‘

 اس کے بعد ان کے اوصاف کی ایک عمدہ تصویر سامنے آتی ہے۔

  الَّذِ یْنَ   یَذْکُرُوْنَ  اللّٰہَ  قِیٰمًا  وَّ  قُعُوْدًا  وَّ  عَلٰی  جُنُوْبِھِمْ  وَ  یَتَفَکَّرُوْنَ  فِی  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِ  ج  رَبَّنَا  مَا  خَلَقْتَ  ھٰذَا  بَاطِلَا ج   سَبْحٰنَکَ  فَقِنَا  عَذَابَ  النَّارِ ۔  رَبَّنَآ  اِنَّکَ  مَنْ  تُدْ خِلِ  النَّارَ  فَقَدْ اَخْزَ یّتَہٗ ط  وَ  مَا  لِلظّٰلِمِیْنَ   مِنْ  اَنْصَارٍ ۔  رَبَّنَآ  اِنَّنَا  سَمِعْنَا  مُنَادِ یًا  یُّنَادِیْ  لِلْاِ یْمَانِ  اَنْ  اٰمِنُوْا  بَرَبِّکُمْ  فَاٰمَنَّا ق صلے  رَبَّنَا  فَا غْفِرْلَنَا  ذُنُوْبَنَا  وَ  کَفِّرْ  عَنَّا  سَیِّاٰ تِنَا  وَ  تَوَفَّنَا  مَعَ  الْاَبْرَارِ ۔  رَبَّنَا  وَ  آتِنَا  مَا  وَعَدْ تَّنَا  عَلٰی  رَسُلِکَ  وَ  لَا  تُخْزِنَا  یَوْمَ  الْقِیٰمَۃِ ط  اِنَّکَ  لَا  تُخْلِفُ  الْمِیْعَادَ ۔

 ’وہ اُٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خُدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں ۔ (وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں ) پروردگار، یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایاہے، تو پاک ہے اِس سے کہ عبث کام کرے۔ پس اے رَب، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے، تُو نے جسے دوزخ میں ڈالا اُسے در حقیقت بڑی ذِلّت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔ مالِک، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھاکہ اپنے رَب کو مانو۔ ہم نے اُس کی دعوت قبول کر لی، پس اے ہمارے آقا، جو قصور ہم سے ہوئے اُن سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ خُدا وندا، جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے

 کیے ہیں اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رُسوائی میں نہ ڈال، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔‘

مزید دکھائیں

منیر احمد خلیلی

منیر احمد خلیلی تقریباً چالیس برس شعبہ تعلیم سے وابستہ رہ کر ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ موصوف گزشتہ پچاس برس سے قلم و قرطاس سے وابستہ ہیں۔ مختلف اخباروں میں شائع ہونے والی ہزاروں تحریروں کے علاوہ آپ کے قلم سے مختلف موضوعات پر کم و بیش 16 کتب نکل کر شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں انفاق فی سبیل اللہ، تزکیہ نفس کیوں اور کیسے؟، عصر حاضر کی اسلامی تحریکیں، مقالات تعلیم، عورت اور دور جدید، اور مغربی جمہوریت کا داغ داغ چہرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close