مذہبی مضامین

قتال فی سبیل اللہ 

 جہاد امت مسلمہ پر فرض کیا گیاہے۔مکی دور میں  جب مسلمانوں  پر بے پناہ ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے توبہت سے مسلمانوں  نے ہتھیاراٹھانے چاہے لیکن اسکی اجازت نہ مل سکی،لیکن مدنی دورکی ابتدائی آیات میں  ہی اﷲ تعالی نے جہاد کی اجازت دے دی اور مسلمانوں  کو صرف اجازت ہی نہیں  بلکہ حکم دیاگیا کہ دشمن کے خلاف صف آرا ہوجائیں۔ جہاد کی اس قسم کو جس میں  طاقت کی زبان میں  دشمن سے بات کی جاتی ہے شریعت اسلامی کی اصطلاح میں  ’’قتال‘‘کہاجاتاہے۔’’قتال‘‘ اسی طرح فرض ہے جس طرح نماز اور روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔قرآن نے جس طرح فرمایا کہ’’کتب علیکم الصیام (تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں ‘‘)اسی طرح حکم ہے کہ’’کتب علیکم القتال (تم پر قتال فرض کیا گیاہے‘‘)۔نماز میں  خواتین کو استثناحاصل ہے،روزہ میں  مسافراورمریض کواستثناحاصل ہے،حج اور زکوۃ تو ویسے بھی صرف ایک محدود طبقے پر فرض ہیں جبکہ قتال میں  کسی کو کوئی استثنا میسرنہیں  ہے اور قرآن نے کل مسلمانوں  پر اس عمل کوفرض قراردیاہے۔جیسے آذان ہوتے ہی سب مسلمانوں  پر نماز کی ادائگی فرض ہوجاتی ہے ویسے ہی دشمن کے حملہ کرنے پر کسی مخصوص فوج کی بجائے سب مسلمانوں  پر قتال فرض ہوجاتاہے،خواہ دشمن امت کے کسی بھی علاقے پرحملہ کرے،خواہ وہاں  مسلمانوں  کی حکومت ہو یا غیرمسلموں  کی اورحکومت اسکی اجازت دے یا نہ دے۔

مسلمانوں  کی تمام عبادات کا ایک بہت بڑا مقصد ’’قتال‘‘کی تیاری ہے۔نماز مسلمانوں  پردن میں  پانچ مرتبہ فرض کی گئی ہے۔یہ مشق دراصل ’’قتال‘‘کی تیاری کا ایک ذریعہ ہے۔دنیا بھر میں  تمام افواج پہلے دن سے پریڈ شروع کرتی ہیں  اور جب تک کوئی سپاہی کسی فوج کا رکن رہتا آخری دن تک وہ پریڈ کرتا ہے حالانکہ میدان جنگ میں  کبھی بھی افواج پاؤں  ملاکر نہیں  چلتیں  لیکن یہ انکے نظم و نسق اور سخت قسم کی تنظیمی تربیت ہوتی ہے کہ ایک حکم پر وہ چل پڑیں، ایک حکم پر رک جائیں ، ایک حکم پر دائیں  مڑجائیں، ایک حکم پر بائیں  مڑ جائیں  ایک حکم پر پیچھے کو رخ کرلیں۔ انہیں  یہ بھی سکھایاجاتاہے کہ جو بھی حکم دینے کے مقام پر آجائے اسکا حکم مانناہے خواہ وہ چھوٹاہے،بڑاہے،کم تربیت یافتہ ہے یا زیادہ تربیت یافتہ ہے۔یہی تربیت نماز کا حصہ ہے کہ باقائدہ صف بندی کی جاتی ہے،کوئی آگے پیچھے نہیں  ہوپاتا،قدم سے قدم ملایاجاتاہے،کندھے سے کندھاملایاجاتاہے اور ایک امام کی آوازپرخواہ وہ چھوٹاہو،بڑاہوعالم ہو، کم علم ہویا معاشرتی ومعاشی اعتبار سے برترہویاکم ترہو ہرحال میں  اسکی اطاعت کی جاتی ہے اس لیے کہ وہ اس مقام پرکھڑاہے جہاں  سے جاری ہونے والا حکم قابل اطاعت ہے۔فوجی تربیت میں  بعض اوقات رات گئے بگل بجتاہے اور سپاہی اپنے گرم گرم بستروں  سے نکل کر میدان میں  صف آراہوجاتے ہیں ، بعض اوقات عین کھانے کے وقت بگل بجتاہے اور بعض اوقات دوپہرکے آرام کے وقت بگل بج اٹھتا ہے اورفوجیوں  کو تربیت دی جاتی ہے کہ اگر اس طرح کے غیرمتوقع اوقات میں  دشمن حملہ کر دے تو کس طرح سے جس حال میں  بھی ہوں  اپنے اپنے کام،آرام اور لذت کام و دہن چھوڑ کر تو میدان میں  صف آرا ہوجاناہے۔نماز بھی اس طرح ایک مسلمان کی تربیت کرتی ہے کہ کبھی سردیوں  میں گرم گرم بستر سے اٹھاکر توشدیدٹھنڈمیں  مسجد میں  جاکھڑاکرتی ہے،کبھی گرمیوں  میں  ابھی نیندپوری نہیں  ہوپاتی کہ آذان آجاتی ہے،کبھی کاروبارکا خوب گرم وقت ہے اور نماز کی پیشی کا حکم آگیااورکبھی صبح امتحان ہے اور تیاری کے اوقات میں  نمازکی ادائگی کا فریضہ آڑے آجاتاہے۔

 میدان جنگ میں  کھانے کا کوئی نظام الاوقات نہیں  ہوسکتا،ممکن ہے کبھی کھانا مل جائے اور ممکن ہے کبھی نہ ملے اور یہ بھی ممکن ہے کبھی بے وقت کھاناپڑے جب طلب اور بھوک کوسوں  دور ہوں۔ خود ہمارے نبیﷺنے پیٹ پر پتھر باندھ کر تو’’قتال‘‘کیا۔مومن کو اس امر کی تربیت رمضان میں  ملتی ہے جب وہ فجر سے شام تک بھوکا پیاسارہتاہے۔کھانے پینے کی کتنی ہی نعمتیں  اسکے سامنے ہوتی ہیں  تخلیہ بھی میسر ہوتاہے لیکن وہ ان سے گریزاں  رہتاہے۔ شریعت اسے رات گئے نیند سے بیدارکرتی ہے اس وقت کہ جب کھانے کو ایک فیصد بھی دل نہیں  چاہتا،نیندسے بوجھل آنکھیں  اور بھاری بھرکم طبیعت لیکن شریعت نے کہا کہ اب کھاؤکیونکہ ممکن ہے میدان جنگ میں  پہروں  تک کھانا نہ ملے اور شدید بھوک لاحق ہو لیکن اپنے ساتھیوں  کی لاشیں  دیکھ کر توبھوک اڑجائے اور ایک لقمہ بھی کھانے کو جی نہ کرے تب اگر مجاہدکھائے گا نہیں  تو لڑے گاکیسے؟ تو اس وقت یہ تربیت کام آتی ہے اور نا چاہتے ہوئے بھی مومن کھاتاہے تاکہ دشمن سے ’’قتال‘‘کر سکے۔اسی طرح یہ بھی ایک فوجی تربیت کاجزولاینفک ہے کہ قسم قسم کے پکوان اور طرح طرح کی نعمتیں  دسترخوان پر دھری ہیں لیکن جب تک حکم نہیں  ملتاکسی کو بھی ہاتھ تک بڑھانے کی اجازت نہیں۔ اور سب کے لیے ایک ہی حکم کافی ہے،اس معاملے میں  کسی کوکسی طرح کاکوئی استثنابھی حاصل نہیں، کہ میدان جنگ میں  دشمن کے سامنے فوج کے اندرسب برابرکے سپاہی ہوتے ہیں، اگرچہ اپنے اندران کے درمیان کتنے ہی درجات کیوں  ناہوں۔

حج تو صریحاََ ’’قتال‘‘کی تربیت ہے، خیموں  میں  کبھی شہری آبادیاں  نہیں  رہتیں  یہ فوجیوں  کا مسکن ہی ہوتاہے۔سردیاں  ہو یاگرمیاں  دوکپڑوں  میں  رہنا،رات دن اسی طرح رہنا،ان ایام کو خیموں  میں  بسر کرنا،سرپرٹوپی نہ لے سکنااورنہ ہی پاؤں  کو ڈھکنے والی جوتی پہن سکنا،اپنے ہاتھوں  سے قربانی کرنا اور شیطان کو نشانے پر پتھرمارنا اور حج کے دوران ایک رات تو ایسی آتی ہے جب حاجی ننگی زمین پر سوتا ہے اس وقت اسکے اوپر خیمہ بھی نہیں  ہوتا اور اسے چادر تک لینے کی اجازت نہیں  ہوتی اگر چہرے پر چادر آجائے تو جرمانے میں  قربانی کرنی پڑتی ہے۔’’قتال‘‘کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ حج کے دوران خواتین اسلام کو نقاب کی پابندی سے بھی آزاد کردیاگیاچنانچہ احرام کی حالت میں  گویا ’’قتال‘‘کے دوران حجاب جیسے سخت قانون کی سختیاں  بھی نرم پڑجاتی ہیں۔ احرام کی جملہ پابندیاں  بھی ملاحظہ کی جائیں  توساری کی ساری قتال کی تیاریوں  کاعندیہ دیتی ہیں۔ ایک سپاہیانہ زندگی کاتقاضاہے کہ خوشبونہ لگائی جائے،بیوی سے دوررہاجائے،رنگ برنگے کپڑوں  سے احترازکیاجائے،دوسروں  کی ناپسندیدہ باتوں  پر بھی صبرکادامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور گالم گلوچ و لڑائی جھگڑانہ ہونے پائے وغیرہ۔

  مومن ہر سال زکوۃ دیتاہے تب ہی اسے یہ توفیق ہوتی ہے کہ اگر’’قتال‘‘کے لیے چندہ مانگاجائے تووہ گھرکاپوراسامان یا گھرکاآدھاسامان پیش کر دیتا ہے،1971میں  جب پاک فوج نے قوم سے چندہ مانگاتو ڈیرہ غازی خان سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹرنزیرشہیداپنے بال بچوں  کو لے کر گھرسے نکل آئے اور فوجیوں  سے کہاکہ گھرکاساراسامان لے جاؤ اور شام کاکھانا پڑوسیوں  سے منگوا کر کھایا۔گویایہ زکوۃ بھی مومن کو ’’قتال‘‘کے لیے خرچ کرنے کاحوصلہ دیتی ہے اورزکوۃ کے علاوہ صدقات اور قربانی کا جذبہ تو مسلمانوں  کے معاشرے میں  ’’قتال‘‘کے ماحول کو خوب خوب اجاگرکرتاہے۔سالانہ بنیادوں  پرزکوۃ کو فرض کیاگیا،فرضیت سے پہلے اس کی ادائگی کی اجازت بھی دے دی یعنی فرض کریں  اگر کوئی ماہانہ بنیادوں  پرزکوۃ تھوڑی تھوڑی کرکے اداکرنا چاہے توقتال کاسبق گویا ہر ماہ آموختہ کے ساتھ تازہ ہوتارہے گا۔فصل والوں  کو ہر فصل پر عشراداکرنے کاپابندبنایاتاکہ انہیں  بھی قتال کے لیے جیب سے رقم خرچ کرنے کی عادت ہواور جب اچانک میدان جنگ میں  جانے کی تیاری آن پہنچے توہر صاحب حیثیت مسلمان اپنی گزشتہ زندگی میں  خرچ کرنے کی تربیت کے باعث اپنے خزانوں  کے منہ کھولتاچلاجائے۔

’’قتال‘‘کی اہمیت کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ محسن انسانیت ﷺاپنی ساری زندگی میں  کسی دوست سے ناراض نہیں  ہوئے سوائے ان تین مسلمانوں  کے حضرت کعب بن مالکؓ،حضر ت  مرارہ بن ربیع  ؓ اورحضرت ہلال بن امیہؓ جنہوں  نے جنگ تبوک میں  محض سستی کی وجہ سے شرکت نہیں  کی تھی۔ جنگ سے واپسی پر وہ خدمت اقدس میں  پیش ہوئے تو آپ ﷺ نے رخ انور دوسری طرف پھیر لیا،پھر باقی مسلمانوں  کو حکم دیا کہ وہ بھی ان تینوں  سے قطع تعلق کرلیں ، کچھ دنوں  بعد ان کی بیویوں  کو بھی الگ رہنے کاحکم دے دیاگیا۔یہ تمام معاشرتی مقاطعہ صرف ’’قتال‘‘میں  عدم شرکت کے باعث تھا حالانکہ وہ گزشتہ تمام غزوات میں  شریک ہوئے تھے،صوم و صلوۃ کے پابند تھے اور مخلص مسلمان تھے۔پچاس دنوں  تک یہ مقاطعہ جاری رہاتب بھی محسن انسانیتﷺ نے تو معاف نہ کیا البتہ وحی الہی میں  ان مسلمانوں  کے توبہ قبول کرنے کی خوشخبری آگئی تو اﷲ تعالی بہر حال نبی علیہ السلام سے تو بڑا ہے تب آپ ﷺ نے بھی انہیں  گلے لگایا۔قرآن مجید نے ’’قتال‘‘سے دور رہنے والوں  کومنافق کہاہے، آپ ﷺ نے اس شخص کو منافق کہا ہے جس کے دل میں  شہید ہونے کی خواہش ہی پیدا نہ ہوئی،قرآن مجید نے شہیدکوزندہ کہا ہے اور ساتھ فرمایا کہ انہیں  اﷲ تعالی کے ہاں  سے رزق بھی ملتاہے،حدیث نبویﷺ میں  وارد ہوا ہے کہ شہید کے خون کا پہلاقطرہ زمین پر گرنے سے پہلے جنت میں  اسکے محلات اسے دکھا دیے جاتے ہیں، سب لوگوں  سے حساب کتاب ہوگا لیکن شہیدبغیرحساب کتاب کے جنت میں  داخل کر دیا جائے گا۔ایک اور حدیث نبویﷺ میں  ہے کہ اﷲ تعالی کے راستے میں  گردآلود ہونے والے پاؤں  اور دوزخ کی آگ ایک جگہ جمع نہیں  ہوسکتے اور سلطنت اسلام کی سرحدوں  پر جاگنے والی آنکھ دوزخ میں  نہیں  جاسکتی۔

 گزشتہ امت، بنی اسرائیل،نے جب ’’قتال ‘‘سے انکار کیااور حضرت موسی علیہ السلام سے کہا کہ ’’تو اور تیرارب جاکر لڑوہم تو یہیں  بیٹھے ہیں ‘‘تو چالیس سال تک ان پر صحرانوردی مسلط کر دی گئی اوروہ ریگستان میں  بھٹکتے رہے یہاں  تک کہ وہ تمام نسل مر کر ختم ہوگئی۔ جس نے قتال سے انکار کیا تھااور نئے صحرانشین لوگ جب ابھرکر سامنے آئے تو انہوں  نے بذات خود وقت کے نبی سے آکرکہا اپنے رب سے کہو ہم لڑنا چاہتے ہیں  تاکہ کوئی تمدنی زندگی اختیار کر سکیں  آخر کب تک ہم ریت کے ٹیلوں  میں  گم گشتہ رہیں  گے۔تب اﷲ تعالی نے ان میں  سے طالوت کوبادشاہ مقرر کیا جس کی قیادت میں  انہوں  نے ’’قتال ‘‘کیااور انہیں  ایک عزت والی زندگی نصیب ہوئی۔

 آج امت پر رسوائیاں  اسی لیے آرہی ہیں  کہ امت نے ’’قتال‘‘ترک کردیاہے اور اسے اپنے میں  سے ایک گروہ ’’فوج‘‘کی ذمہ داری سمجھ لیاہے،الگ سے فوج رکھنا،الگ سے انکی بیرکیں  بنانا اور شہریوں  کے لیے کسی علاقے کوممنوعہ قراردیناوغیرہ نوآبادیاتی اور سیکولرروایات ہیں۔ اسلام نے کل مسلمان معاشرے پرعام طورسے اور ہر لڑسکنے والے مرد پربالخصوص ’’قتال‘‘فرض کیاہے اور اسی لیے مرتد کی سزا قتل رکھی ہے کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ سپاہی تھاورریاست کے فوجی رازاسکی دسترس میں  تھے اب کافرہوکر وہ سب راز دشمن کے پاس جانے کے امکانات پیداہوجائیں  گے اور ریاست غیرمحفوظ ہوجائے گی چنانچہ جس طرح اسلام نے مرتدیعنی غدار فوجی کی سزاقتل رکھی ہے،اسی طرح دنیابھرکی افواج میں  غدارکی سزاموت ہے۔فرق یہ ہے کہ اسلام نے انسانی وعدالتی تقاضے پورے کرکے سزا نافذکرنے کاحکم دیاہے جب کہ باقی افواج میں  شک کی بنیادپر بھی کمانڈر کے حکم سے تہہ تیغ کردیاجاتاہے۔چنانچہ اس فرض ’’قتال‘‘کی ادائگی لے لیے سب مسلمانوں  کو لازمی فوجی تربیت ملنی چاہیے اور بوقت ضرورت کل مسلمان دشمن کے سامنے صف آرا ہوں  یہی شریعت کاتقاضاہے اور اسی میں  امت کی عزت و احترام اور بقا ہے۔

دنیامیں  سینکڑوں  نہیں  ہزارہازبانیں  بولی جاتی ہیں، لیکن ایک زبان ایسی ہے جسے سب قومیں  سمجھتی ہیں  اوروہ زبان’’ڈنڈے کی زبان‘‘ہے۔اسلام نے اپنے ماننے والوں  کے لیے یہ زبان سیکھنافرض قراردیاہے۔جب تک امت مسلمہ کے حکمران اقوام متحدہ کے سراب کاتعاقب جاری رکھیں  گے،امن کی بھاشابولتے رہیں  گے،مزاکرات پر یقین رکھیں  گے،جمہوریت کے راگ الاپتے رہیں  گے،سڑکوں  پر پرامن مظاہرے کرتے رہیں  گے اوردوسری اقوام سے ہاتھ جوڑجوڑ کر معافیاں  تلافیاں کرتے رہیں  گے تب تک خون مسلم کی ارزانی رہے گی اور دشمن ہمیں  لڑاکر ہمارے تماشے دکھائے گا۔جس دن امت مسلمہ نے ’’ڈنڈے کی زبان‘‘بولی اسی رات صرف نصف شب کوہی فلسطین سے برماتک اور گروزنی سے کشمیر تک سارے مسئلے حل ہوجائیں  گے۔ سینکڑوں  سال کی تاریخ کاسبق ہے کہ دشمن کے پاؤں  چاٹوتوسرپر جوتے مارتاہے اور دشمن کے سرپر جوتے ماروتوپاؤں  چاٹتاہے۔ایک حدیث مبارکہ میں  آپﷺ نے فرمایا کہ ’’میری امت کارزق نیزے کی انی کے نیچے رکھ دیاگیاہے‘‘پس جب قتال کافرض اداکیاجائے گاتو عزت کا رزق ملے گا بصورت دیگر اپنی نسلوں  کو ناک تک سود میں ڈبوکر ذلت آمیزبھیک ملے گی اور اس کے بدلے میں  بھی اپنی آزادی،عزت،غیرت،ایمان وغیرہ سب کچھ گروی رکھناپڑے گا۔قتال کاایک اورفائدہ یہ بھی ہوگا کہ جرات مند صالح اور دیندار قیادت میسر آئے گی جبکہ اگرقتال سے روگردانی رہی تو بدعنوان،بدکرداراوربزدل قیادت کے پیچھے چل کر تباہی کے گڑھے میں  گرنامقدرٹہرے گا۔

 جن قوموں  کے ہاتھوں  میں  تلوارہوتی ہے اور جن کے نوجوان فنون حرب سے آشناہوتے ہیں  انہیں  دنیامیں  کوئی شکست نہیں  دے سکتااورجن اقوام کے نوجوانوں  میں  آرام پرستی،سکون طلبی،جاہ پسندی،جنسیت اور موسیقیت درآئے ان کے اخلاق بگڑجاتے ہیں  تب وہ دن رات جنس مخالف کے تصورمیں  ہی رہتے ہیں  اور باربارکی یاددہانی کے باوجود بھی ان کی زبانوں  سے ’’ہنوزدلی دوراست‘‘کی آوازہی نکلتی ہے تب یاتوان کا وجود تاریخ کی کتابوں  میں  دفن ہوجاتاہے یاپھروہ دیگرقوموں  کی غلامی کے اندھیرے غارمیں  دھکیل دیے جاتے ہیں۔ امت مسلمہ کے کاوہ طبقہ جس نے ہتھیارپکڑ کر اپنی زندگی کاثبوت دیاہے اس پر طرح طرح کے ناپسندیدہ الزامات دھرکر انہیں  دیوارسے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور باقی ماندہ نوجوانوں  کے گروہ کے گروہ مقصدزندگی سے نابلدان پر بدیسی تہذیب و ثقافت غیرمحسوس طورپرمسلط کی جارہی ہے۔لیکن جب تک روح محمدﷺاس امت کے جسم میں  موجود ہے دشمن ہماراکچھ بھی نہیں  بگاڑ سکتااوربہت جلد وہ سورج طلوع ہونے والاہے جس کے عقب میں  اسلام کانورتوحیدپوری دنیاکواپنی ٹھنڈی چھاؤں  میں  لیاچاہتاہے،انشاء اﷲ تعالی۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

Close