مذہبی مضامین

قمری مہینوں کا ذکر احادیث میں

مقبول احمد سلفی

قمری مہینے اللہ کی طرف سے زمین وآسمان کی تخلیق سے ہی مقرر ہیں جن کی تعداد بارہ ہے۔ ان مہینوں کا تعلق سورج وچاند اور ان کی آمدورفت سے، لیل ونہار اور گردش  ایام  سے، عبادات ومعاملات سے اور حساب وکتاب سے لیکر متعدد علوم ومعارف سے متعلق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ابتدائے آفرینش سے ہی انہیں مقرر کر رکھا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالی نے ذکرفرمایا ہے کہ کائنات کی تخلیق سے ہی بارہ مہینے مقرر ہیں، فرمان الہی ہے :

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُۚ فَلَا تَظْلِمُوافِيهِنَّ أَنفُسَكُمْۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ  كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚوَاعْلَمُواأَنَّاللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (التوبة:36)

ترجمہ : مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے، ان میں سے چار حرمت وادب کے ہیں۔ یہی درست دین ہے۔ تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرواور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ تعالی متقیوں کے ساتھ ہے۔

اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے، ان بارہ مہینوں میں چار مہینے حرمت کے ہیں۔ آدم علیہ السلام لیکر اب تک جتنے واقعات وحادثات رونما ہوئے وہ سب انہی باروں مہینوں کے اندر محصور ہیں، یہاں ان کا دراسہ مقصود نہیں ہے بلکہ قمری مہینوں کا ذکر حدیث رسول میں آیا ہے ان کی ایک ایک دلیل ذکر کرنا مقصود ہے۔

قمری مہینوں کے اسماء ترتیب کے ساتھ اس طرح ہیں۔

(1)محرم(2)صفر(3)ربیع الاول(4)ربیع الثانی(5)جمادی الاولی(6)جمادی الآخره(7)رجب (8)شعبان(9)رمضان(10)شوال(11) ذوالقعدہ(12)ذوالحجہ۔

حرمت والے مہینے یہ ہیں : ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ حرمت والے ان چار مہینوں کے نام بھی حدیث سے ثابت ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔

(1)محرم حدیث میں : یہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے،احادیث میں اس ماہ کی بڑی عظمت بیان ہوئی ہے، اسی میں عاشوراء کا روزہ ہے اورنبی ﷺ نے اس ماہ میں روزوں کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:أفضلُ الصيامِ، بعد شهرِ رمضانَ، صيامُ شهرِ اللهِ المُحرَّمِ(صحيح مسلم:1163)

ترجمہ: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں۔

(2)صفر حدیث میں : کفارومشرکین صفر کے مہینے سے نحوست لیا کرتے تھے جبکہ نحوست  جاہلانہ اورمشرکانہ تصور ہےاسلام میں نحوست کا کوئی تصور نہیں ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لا عدوى ولا طَيَرةَ، ولا هامَةَ ولا صَفَرَ(صحيح البخاري:5707)

ترجمہ: مرض کا متعدی ہونا نہیں (یعنی اللہ کے حکم کے بغیرکوئی مرض کسی دوسرے کو نہیں لگتا )اور نہ بدفالی لینا درست ہے، اور نہ ہی صفر کا مہینہ منحوس ہے۔

(3) ربیع الاول حدیث میں:یہی وہ مہینہ ہے جس میں رسول رحمت کی ولادت ہوئی اور اسی ماہ میں آپ کی وفات بھی ہوئی، اس طرح اسلامی تاریخ وسیرت آپ کے ذکرمسعود سے معطر ومشکبار نظر آتی ہے۔اس ماہ میں مکہ سے مدینہ کی ہجرت بھی ہوئی۔ صحیح بخاری کی ایک لمبی سى حدیث ہے، اس کا ایک ٹکڑا یہ ہے:

فلم يَمْلِكِ اليهوديُّ أن قال بأعلى صوتِه : يا معاشرَ العربِ، هذا جَدُّكم الذي تنتظرون، فثار المسلمونَ إلى السلاحِ، فتَلَقَّوْا رسولَ اللهِ بظَهْرِ الحَرَّةِ، فعدَل بهم ذاتَ اليمينِ، حتى نزل بهم في بني عمرو بنِ عوفٍ، وذلك يومُ الاثنينِ من شهرِ ربيعٍ الأولِ(صحيح البخاري:3906)

ترجمہ:یہودی بے اختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو! تمہارے یہ بزرگ سردار آگئے جن کا تمہیں شدت سے انتظار تھا۔یہ سنتے ہی مسلمان ہتھیار لے کر آپ کے استقبال کو دوڑے چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کو مقام حرہ کے پیچھے ملے، انہیں ساتھ لئے دائیں مڑے، پھر انہوں نے بنو عمرو بن عوف کے ہاں پڑاؤ کیا۔ یہ واقعہ ماہ ربیع الاول سوموار کے دن کا ہے۔

(4) ربیع الثانی حدیث میں :جب ربیع الاول کا ذکر حدیث سے معلوم ہوگیا تو یہ مہینہ خود بتلاتا ہےکہ ربیع الثانی بھی ہوگا کیونکہ اول کے ذکر سے ثانی کا ذکرآپ خود سامنے آتا ہے۔ احادیث میں خصوصیت کے ساتھ اس ماہ کا ذکر بہت زیادہ نہیں آیا ہے(تواریخ وسیر میں تمام مہینوں کا غیرمعمولی ذکر ہے)، ایک جگہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مدینہ سے سفر پہ نکلنے کا ذکر ہے جسے حافظ ابن حجر نے ذکر کیا ہے:

خرج عليٌّ في آخرِ شهرِ ربيعٍ الآخرِ سنةَ ستٍ وثلاثينَ(فتح الباري لابن حجر:13/59)

ترجمہ:سیدنا علی چھتیس ہجری میں ربیع الآخر کے آخر میں نکلے۔

صحیح بخاری(6973) میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا شام کی طرف نکلنے کا ذکر ہے، وہاں مہینے کا ذکر نہیں ہے مگر اسلامی تاریخ سے ربیع الثانی کا مہینہ معلوم ہوتا ہے۔

(5) جمادی الاولى حدیث میں :صحیحین میں جنگ موتہ کا ذکر ہے جس میں مسلمانوں کے کئی سپہ سالارشہید ہوگئے، آخر میں خالد بن ولید نے کمان سنبھالی، ان کا بیان ہے کہ جنگ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹیں، ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں باقی رہ گیا۔صحیحین میں مہینے کا ذکر نہیں ہے مگر مجمع الزوائد میں مہینے کی صراحت ہے۔ اس کا ایک ٹکڑا دیکھیں:

ثم اصطلح المسلمونَ بعدَ أُمراءِ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم على خالدِ بنِ الوليدِ فهزم اللهُ العدوَّ وأظهر المسلمين وبعثهم رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم في جمادَى الأُولَى(مجمع الزوائد:6/163 | رجاله ثقات)

ترجمہ:پھر مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کے سپہ سالاروں کے بعد خالد بن ولید پر اتفاق کیا، پس اللہ نے دشمن کو ناکام بنا دیا اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو جمادی الاولی میں بھیجا تھا۔

(6) جمادی الآخرہ حدیث میں : ایک  حدیث میں مذکور ہے کہ سال کے سارے مہینے ہوتے ہیں۔ قرآن میں بھی سال کا ذکر "سنہ”، "عام” اور "حول” کے لفظ سے آیا ہے۔ حدیث کے الفاظ دیکھیں جس میں اشھر حرم(حرمت والے مہینے) کا  نام آیاہے۔

السنةُ اثنا عشرَ شهرًا منها أربعةُ حُرُمٌ : ثلاثةٌ مُتوالياتٌ : ذو القَعدةِ وذو الحَجَّةِ والمُحرَّمُ، ورجبُ مُضرَ، الذي بين جُمادَى وشعبانَ .(صحيح البخاري:4406)

ترجمہ: سال بارہ ماہ کا ہے۔ اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں، تین تو مسلسل ہیں: ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور ایک رجب ہے جو جمادی الآخره اور شعبان کے درمیان ہے۔

یہاں جمادی سے مراد جمادی الآخره ہے کیونکہ اس کے اور شعبان کے درمیان ہی رجب  آتاہے۔

مجمع الزوائد میں ہے :

قُتِلَ الزُّبيرُ بنُ العَوَّامِ يومَ الجَمَلِ في جُمادى لا أدري الأولى أو الآخرةِ سنةَ ستٍّ وثلاثين( مجمع الزوائد:9/155)

ترجمہ: زبیر بن عوام جمل والے دن جمادی کو قتل کئے گئے، مجھے نہیں معلوم جمادی الاولی کو یا جمادی الآخرہ کو چھتیس ہجری میں۔

(7) رجب حدیث میں : اس ماہ میں نبی ﷺ نے کوئی عمرہ نہیں کیاہے  پھربھی بدعتی اس ماہ میں کثرت سے عمرہ کرتے ہیں حالانکہ بطور خاص اس ماہ میں عمرہ کرنے کا حکم نہیں آیا ہے  اور نہ ہی اس ماہ میں عمرہ کرنے کی کوئی علاحدہ فضیلت ثابت ہے، عمرہ کبھی بھی کرسکتے ہیں اور رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ(صحيح البخاري:1777)

ترجمہ:حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔

(8) شعبان حدیث میں : ترمذی شریف میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :ما رأيتُ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يصومُ شَهرينِ متتابعينِ إلَّا شعبانَ ورمضانَ(صحيح الترمذي:736)

ترجمہ: میں نے نبی ﷺ کو لگاتار دومہینوں کے روزے رکھتے نہیں دیکھا سوائے شعبان اور رمضان کے۔

(9) رمضان حدیث میں : اپنی فضیلت کے باعث اس ماہ مبار ک کا قرآن میں بھی ذکر آیا ہے اور احادیث میں بہت ہی زیادہ  مذکور ہے۔ نبی ﷺ کافرمان ہے:مَن صامَ رمضانَ إيمانًا واحتسابًا، غُفِرَ لَهُ ما تقدَّمَ من ذنبِهِ (صحيح البخاري:2014)

ترجمہ:جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ گناہ بخش دئے جاتے ہیں۔

(10) شوال حدیث میں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن صامَ رمضانَ ثمَّ أتبعَه بستٍّ من شوَّالٍ فَكأنَّما صامَ الدَّهرَ(صحيح أبي داود:2433)

ترجمہ: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔

(11) ذوالقعدہ حدیث میں : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کرتے ہیں :

أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ(صحیح مسلم:3033)

ترجمہ:اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) چارعمرے کئے اور اپنے حج والے عمرے کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کئے۔

(12) ذوالحجہ حدیث میں : یہ مہینہ متعدد عبادتوں کے ذکر سے بیحد معروف ہے، ان عبادتوں میں ایک حج بھی ہے جس کی ادائیگی کے لئے پوری دنیا کے مسلمان مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔ ذوالحجہ سے متعلق ایک حدیث دیکھیں۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:شهرانِ لا ينْقُصَانِ، شهرَا عيدٍ : رمضانُ وذو الحَجَّةِ .(صحيح البخاري:1912)

ترجمہ: عیدکے دونوں مہینے یعنی رمضان اور ذوالحجہ کم نہیں ہوتے۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ تعداد ایام کے اعتبار سے کم ہو سکتے ہیں لیکن کمال عبادت میں دونوں کا حکم ایک ہے۔ اگر کسی نے انتیس روزے رکھے تو اسے ثواب تیس روزوں ہی کا ملتا ہے۔ اس کے ثواب کے متعلق کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، اسی طرح وقوف عرفہ میں غلطی ہو جائے تو اس کا حج پورا ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ (فتح الباری:4/161)

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close