تاریخ اسلامتاریخ و سیرتمذہبی مضامین

قوموں کی زندگی میں اخلاق کی اہمیت!

اللہ بخش فریدی

اخلاقِ معاشرہ کسی بھی قوم کی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں ۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شئے اخلاق ہے، اچھے اور عمدہ اوصاف و کردار ہیں جس کی قوت اور درستی پر قوموں کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ معاشرہ کے بناؤ اور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا، اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات،اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ جس ماحول یا معاشرہ میں اخلاقیات کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں اور جہاں شرم و حیاء کی بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو اس قوم اور معاشرہ کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے ، جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیرہوجاتی ہے۔ یہ منظر آپ اس وقت دنیا میں اپنے شرق و غرب میں نظر دوڑا کر دیکھ سکتے ہیں کہ عروج و ترقی کہا ں ہے اور ذلت و رسوائی کہاں ہے؟

اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں ۔اگر اخلاق نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں ۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائے گی۔ انسان کی عقلی قوت جب تک اس کے اخلاقی رویہ کے ما تحت کام کرتی ہے ، تمام معاملات ٹھیک چلتے ہیں اور جب اس کے سفلی جذبے اس پر غلبہ پالیں تویہ نہ صرف اخلاقی وجود سے ملنے والی روحانی توانائی سے اسے محروم کردیتے ہیں ، بلکہ اس کی عقلی استعداد کو بھی آخر کار کند کر دیتے ہیں ، جس کے نتیجے میں معاشرہ درندگی کا روپ دھار لیتا ہے اور معاشرہ انسانوں کا نہیں انسان نما درندوں کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ یہ سب اخلاقی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ انسان کی اخلاقی حس اسے اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار،حسن معاملات، اخوت، رواداری اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے وہ اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرتے ہیں اور جب یہ حس مردہ اور وحشی ہو جاتی ہے تو پورے معاشرے کو مردہ اور وحشی کر دیتی ہے تو وہ لوگوں کے حقوق کو خونی درندے کی طرح کھانے لگتا ہے توایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔انسان میں حیوانی حس کا وجود صرف لینا جانتا ہے دینا نہیں ۔چاہے اس کا لینا دوسروں کی موت کی قیمت پرہی کیوں نہ ہو۔ اور بدقسمتی سے یہی صورت حال آج ہمارے معاشرہ میں جنم لے چکی ہے ۔

اسلام میں ایمان اور اخلاق دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں ۔ ایک مسلمان کی پہچان ہی اخلاق سے ہے ۔ اگر اخلاق نہیں تو مسلمان نہیں ۔یہ ہو نہیں سکتاکہ ایک مسلمان ایمان کا تو دعویٰ کرے مگر اخلاقیات سے عاری ہو۔ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کائنات میں اخلاقیات کاسب سے اعلیٰ نمونہ ہیں جس پر اللہ کریم جل شانہ کی کتابِ لاریب مہرتصدیق ثبت کر رہی ہے۔
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلْقٍ عَظِیْمٍ o ( القلم)
بے شک آپ بڑے عظیم اخلاق کے مالک ہے۔

اورایسا کیوں نہ ہو آپ ﷺ مکارم اخلاق کے اعلیٰ معارج کی تعلیم و تربیت اور درستگی کے لیے مبعوث فرمائے گئے ۔جیسا کہ خودآپ مالکِ خلق عظیم ﷺ فرماتے ہیں ۔
بَعِثْتُ لِاَتَمِّمِ مَکَارَمِ اِخْلَاقٍ۔(حاکم ، مستدرک)
میں اعلیٰ اخلاقی شرافتوں کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔ یعنی میں اخلاقی شرافتوں کی تمام قدروں کو عملی صورت میں اپنا کر، اپنے اوپر نافذ کر کے تمہارے سامنے رکھنے اور ان کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں ۔

ہمارے آقا و مولا ﷺ کی پوری زند گی پیکرِ اخلاق تھی کیونکہ آپ ﷺ نے قرآنی اخلاقی تعلیمات سے اپنے آپ کو مزین کر لیا تھا۔ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن کے احکام و ارشادات کا آ ئینہ تھا، قرآن کا کوئی خلق ایسا نہیں ہے جس کو آپ ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں نہ سمو لیا ہو۔اسی لیے قرآن کریم میں اللہ عزوجل نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَّۃٌ حَسَنَّۃٌ
بے شک تمہارے لیے اخلاق کے اعلیٰ معارج کی تکمیل کرنے کیلئے رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے میں بہترین نمونہ ہے۔

ایمان و عبادت کی درستگی کی عملی نشانی صحت اخلاق ہے بلکہ عبادات و تعلیمات اسلامی کا لب لباب اخلاق کو سنوارنا اور نکھارنا ہے جس کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی سے ہوتی ہے۔
اَکْمَلُ الْمُوْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُہُمْ خُلْقًا
’’مسلمانوں میں کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جس کا اخلاق سب سے بہترین ہو‘‘

ایک اور حدیث مبارکہ ہے ۔
اَحْسَنُکُمْ اَحْسَنُکُمْ خُلْقاً
تم میں بہتر وہ ہے جو تم میں اخلاق کے ا عتبار سے بہتر ہے۔

اخلاق کیا ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے اخلاق کی تربیت دیتے ہوئے فرمایا۔
’’اخلاق یہ ہیں کہ کوئی تمہیں گالی دے تو تم جواب میں اس کو دعا دو،یعنی گالی کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ دعا اور اچھے الفاظ سے دو۔ جو تمہیں برا کہے تم اس کو اچھا کہو، جو تمہاری بد خوئی کرے تم اس کی تعریف اور اچھائی بیان کرو، جو تم پر زیادتی کرے تم اسے معاف کر دو۔‘‘

یہ ہمارے لیے اخلاق کی تربیت کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے اگر ہمارا معاشرہ اس پر عمل کرے تو معاشرہ سے تمام اخلاقی خرابیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں اور معاشرہ امن، اخوت، بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اگر کوئی تمہیں گالی دیتا ہے اور تم اس کے جواب میں اسے دعا دو تو ایک دن اسے خود بخود شرم آئے گی کہ میں تو اسے گالی دیتا ہوں اور وہ مجھے جواب میں دعا دیتا ہے تو مجھے شرم آنی چاہیے کیوں نہ میں بھی اسے دعا دوں اور اس کی تعریف کروں کہ وہ ایک اچھا انسان ہے جو میری گالی کے جواب میں دعا دیتا ہے، گالی کا جواب گالی سے نہیں دیتا۔ اگر کوئی تمہیں برا کہتا ہے اور تم اسے اچھا کہتے ہو تو ایک دن وہ تمہیں اچھا کہنے لگ جائے گا۔اگر کوئی تم سے زیادتی کرتا ہے اور تم اسے معاف کر دیتے ہو تو اس کے دل میں تمہاری قدر اور خلوص بڑھے گا۔ اگر کوئی تمہارے حقوق تلف کرنے کا موجد بنتا ہے تو تم اس کے حقوق کے محافظ بن جاؤ تو یقیناًایک دن ضرور اسے بھی شرم آئے ہی جائے گی اور اس طرح معاشرہ خود بخود سدھرتا چلا جائے گا۔

بد قسمتی سے آج کے ہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرہ میں اخلاقیات ، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی نہیں پائے جاتے جس کی وجہ نبی کریم ﷺ کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قوموں میں رسواء اور زوال پذیر ہو رہے ہیں اور بگاڑ کا گھن ہمیں دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ وہ دین جس کی حقیقی پہچان اخلاقیات کا عظیم باب تھا اور جس کی تکمیل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے وہ دین جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا تھا، آج اسی دین کے ماننے والے اخلاقیات اور معاملات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، جیل خانہ جات میں جگہ تنگ پڑرہی ہے، گلی گلی، محلہ محلہ میں جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و زیادتی، فساد، کینہ ، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیا ت کے بازار، ہوس کے اڈے ، شراب خانے ، جوا ، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،زنا کاری، رشوت خوری، سود و حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، تمہ، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کون سی وہ اخلاقی مرض اور بیماری ہے جو ہم میں نہیں پائی جاتی ۔ خود غرضی اور بد عنوانی و کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی قسم ہے جو اس ملک میں زوروں پر نہیں ؟ تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہرے ہیں جو ہمارے اسلامی معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ مگر پھر بھی ہم مسلمان کہلوانے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے۔ایسے غلیظ اخلاق و اطوار والی قوم کا مسلمان کہلوانا تو دور کی بات ، ہمارے اسلاف کہتے ہیں کہ ایسے میں اسلام ، اللہ و رسول ﷺ کا نام پاک بھی اپنی ناپاک زبانوں سے لینے کی جسارت نہ کرو اس لیے کہ تم ان کی بدنامی کا باعث بنتے ہو۔

گر نہ داری از محمد رنگ و بو
از زبان خود میسا لا نام او

یعنی اگر تمہاری سیرت و کردار ، اخلاق و اطوار اپنے نبی کریم ﷺ کے رنگ و بو سے بہرہ ور نہیں ، یا تم سے آپ ﷺ کے اخلاق حسنہ کی بو نہیں آتی تو تمہیں قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنی ناپاک زبان سے آپ ﷺ کا نام پاک لینے کی جسارت کرو مسلمان کہلوانا تو بہت دور کی بات۔

کیونکہ ایسے گھٹیا اوصاف والی قوم کا مسلمان کہلوانا عظیم اخلاق والے دین حق اسلام کو بدنام کرنے والی بات ہے۔ آج دنیا میں اسلام بدنام ہے اور اس کا حقیقی چہرہ مسخ ہو چکا ہے ، یہ کسی اور نے نہیں خود ہم نے کیاہے۔آج دنیا اس پر طنزو تنقید اور باتیں کھسنے لگی ہے ، آج دنیا کے ہر کونے سے انگلی ہمارے عظمت والے دین پر اٹھتی ہے اس پر نقطہ چینیاں کی جاتیں ، اس پر ہنسی ، تضحیک اور اس کے خاکے تراشے جاتے ہیں اور باطل اسے دنیا سے ناپید کرنے کی کشمکش میں ہے ۔ آج دنیا اسے بدخلقی، ناانصافی، ظلم و زیادتی کا دین تصور کرتی ہے صرف ہمارے اوصاف کی وجہ سے۔ صحیح و اکمل دین کی دنیا میں ذلت و رسوائی کا سبب ہم ہیں ، ہمارے سیاہ اوصاف ہیں ، ہمارے غلیظ اخلاق ہیں ، ہمارے گندے اطوارہیں کیونکہ ہم خود اس کا حقیقی چہرہ مسخ کر کے اور اس کا حلیہ بگاڑ کر دنیا کو دکھا رہے ہیں جس کے سبب دنیا اسلام پر طنز اور نقطہ چینیاں کرتی ہے ۔ مجھے یہاں ایک ہندو شاعر کی اسلام پر طنز و تنقید یاد آرہی ہے جو چند دن پہلے میری نظر سے گذری۔ ہندو شاعر لکھتا ہے۔

جام پے جام پیا اور مسلمان رہے
جس نے پالا پیمبرؐ کو وہ رہا کافر
قتل اماموں کو کیا اور مسلمان رہے
یزیدیوں نے قتل حسین کیا اور مسلمان رہے
یہی دین ہے تو اس دین سے توبہ ماتھور
شک پیمبرؐ پہ کیا اور مسلمان رہے

یہ اس شاعر نے ہمارے اخلاقی رویہ ہی کی عکاسی ہے ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو غلاظت کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں ، گمراہی و ضلالت کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں مگر ہم ان کو مسلمان کہتے ہیں ۔ ہم میں ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو حضورسید عالم ﷺ کے محسنین، آپ ﷺ کی پرورش کرنے والے آپﷺ کے شفیق دادا اور چچا حضرت سیدنا عبد المطلب اور حضرت سیدنا ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو کافر گردانتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ کا کلمہ نہیں پڑھا اور یزیدیوں اور یزیدجیسے درندنے کو مسلمان کہتے ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کی آل پاک پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ہم میں پیغمبر ﷺ پر نقطہ چینیاں کرنے والے اور عیبوں کا سراغ لگانے والے گروہ بھی موجود ہیں مگر ہم ان کو بھی مسلمان کہتے ہیں ۔

حکیم الامت ، ترجمان حقیقت حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ بھی اس کی منظر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بد اخلاق امت پیغمبر ﷺ کی دنیا میں رسوائی کو سبب بنی ہوئی ہے۔
ہاتھ بے زور ہیں ، الحاد سے دل خوگر ہیں
امتی باعثِ رسوائی پیغمبر ﷺ ہیں

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ معاملہ عبادات کا ہو یا معاملات کا، حقوق و فرائض ہوں یا تعلیم و تربیت، امانت، دیانت، صدق، عدل ،ایفاے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کا ہم میں فقدان ہے۔کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے۔

لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں ۔ یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے قومی اجتماہی مزاج میں داخل ہوچکے ہیں ۔یہ وہ صورت حال ہے جس پر ہر شخص کف افسوس ملتا ہوا نظر آتا ہے۔اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ اخلاقی بگاڑ اور رواداری و معاملات کی بیخ کنی جو کسی بھی اسلامی معاشرہ میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ شائد ہی دنیا کے کسی دوسرے معاشرہ میں پائی جاتی ہو۔

مزید دکھائیں

اللہ بخش فریدی

I wrote books on the topic of community awareness, community correction, aligned nation, effective Reforms, Unity & Stability of the Muslim Nations and enforcing the Islamic laws in Muslim Countries. All words and paragraphs of the books are very effective on the soul, revolutionary, influential, very strong powerful books on the wake up of the Ummah, Optimization، Consciousness and awareness and unity of the Muslim Ummah. So that these texts it opened the eyes of society they have enough to awakening. Very appreciated by the Holy Prophet (Allah’s blessing and salutation on him) in the dreams. This article Inshallah! will be a landmark in the community and the Islamic Revival prediction which would pave the way for revival of Islam which the community hopes. That's my motto and main goal of life. I've dedicated my life to achieve these noble goals. In addition, I set future strategy process of the Muslim Ummah which Named '' New Islamic World Order, for enforcement of Islamic Revivalism'' it contains 40 points. If this applies to the entire Muslim world together then we become a great power in the world. In another addition, I present new idea and plan of Real Welfare Islamic Government System، Which is the guarantor of peace and security in society, Human well-being improvement and maintaining the purity and chastity of the Society. I hope that you will understand my feelings and cooperation with to raising the wave of awareness in the Muslim Ummah and to raise the feelings of the people to awaken them slumber. These books are in Urdu language. If you know read Urdu I send you soft copies of these books and the idea of New Islamic World order and the plan of real Islamic government.

متعلقہ

Close