فقہمذہبی مضامین

قیامت میں لوگوں کو ان کے (امام) نامہ اعمال کےساتھ پکارا جائے گا

مقبول احمدسلفی

بلاشبہ ائمہ کے درجات بلند ہیں، وہ احترام وتقدس کے زیادہ اہل ہیں، ان کا احترام کرنا اسلامی اخلاق وآداب کا اہم حصہ ہے۔ تاہم بعض مسلمانوں نے احترام کے نام پر امت میں غلط بیانی کی، اس غلط بیانی  میں قرآن وحدیث کے مفہوم تک کو بدل دیا۔کہیں پر ان کی ہربات ماننے کو واجب قرار دیا اور نہ ماننے کو ہتک عزت سمجھا گیا، تو کہیں پر بلاسنداقوال و واقعات ان کی طرف منسوب کرکےنبی سے اونچا درجہ دے دیا گیا، جو ان اقوال و واقعات کو قرآن وحدیث کے برخلاف ہونے پرتسلیم نہ کرے انہیں گستاخ ائمہ سے موسوم کیا گیااور عوام میں خوب خوب بدنام کیا گیا تاکہ لوگوں کے دل پر اماموں کی عقیدت کا پردہ ڈال کر قرآن وحدیث کی اصل تعلیمات سےانہیں  دور رکھا جاسکے۔

ہر انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے، ائمہ سے بھی غلطیاں ہوئیں، ہم انہیں معصوم عن الخطاء نہیں سمجھتے کیونکہ وہ بھی ہماری طرح بشر تھے۔ جب ایک بشر سے غلطی ہوسکتی ہے توپھرکسی متعین امام کی ہربات کی تقلید کرنا دین نہیں ہے، ائمہ کرام نے جو دین کا کام کیا وہ قابل مبارک باد ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان سے ہونے والی غلطی کو بھی دین سمجھ کر اس پرعمل کریں۔ اللہ نےدین و شریعت  اماموں پر نہیں نازل کیا بلکہ نبی پر نازل کیاہےاور شریعت کا بیان بھی نبی کے ذمہ لگایا۔ اماموں کی ذمہ داری یہ ہے کہ جو دین اللہ نے نبی پر نازل کیا اور جس طرح آپنے عملی نمونہ پیش کیا اور دین کی جس طرح تعبیر وتشریح کی اسی شکل میں دوسروں تک پہنچائیں۔

اہل حدیث صرف چار نہیں سارے ائمہ کا احترام کرتے ہیں جو چار سے پہلے گزرے یا ان کے بعد قیامت تک آئیں گے اور ان کی فقیہانہ بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جو لوگ ائمہ کے احترام اوران کی تقلید کی بات کرتے ہیں وہ ہم سے زیادہ بخیل اور احترام ائمہ میں تنگ دل ہیں کیونکہ کہتے ہیں چار ائمہ برحق ہیں مگر یہ صرف کہنے تک ہی محدود ہے مانتے صرف ایک امام کی ہیں۔ مثلا اگر چاروں ائمہ برحق ہیں اور چار میں سے تین امام کہیں کہ نماز میں چار مقامات پر رفع یدین کرنا سنت ہے تو پھر تقلید کرنے والوں کو یہ بات ماننی چاہئے مگر دیکھئے علمائے احناف نے رفع یدین کے رد میں کس قدر کتابیں لکھی ہیں، کس جرات سے اس سنت کا انکار کیا ہے اور کس دیدہ دلیرہ سے اس کا مذاق تک اڑا یا ہے ؟۔ کیا یہی ہے احترام ائمہ ؟ کیا اسی کو کہتےہیں چاروں امام برحق ہے ؟ یہ ایک نکتہ احترام ائمہ اور تقلید کی حقیقت واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔

اس تمہید کے بعد اب آتے ہیں موضوع کی طرف کہ قرآن کی ایک آیت سے استدلا ل کرتے ہوئے اماموں کی تقلید کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم فلاں امام کی تقلید کرتے ہیں اور قیامت میں ان کے ساتھ ہوں گے اور اہل حدیث کے پاس کوئی امام نہیں اس لئے ان کا کوئی امام نہیں ہوگا،وہ دنیا میں بغیر امام کے رہے اور قیامت میں بغیر امام کے اٹھائے جائیں گے۔

آئیے قرآن کی اس آیت کو دیکھتے ہیں اورپھر اہل تقلید کی مذکورہ بات کی حقیقت بھی جانتے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے :

يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا (الاسراء:71)

ترجمہ:جس دن ہم ہر جماعت کو اس کےنامہ اعمال  سمیت بلائیں گے۔ پھر جن کا بھی اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو شوق سے اپنا نامۂ اعمال پڑھنے لگیں گے اور دھاگے کے برابر (ذرہ برابر) بھی ظلم نہ کئے جائیں گے۔

اس آیت میں کہاگیا ہے کہ لوگوں کی جماعت کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہاں امام سے کیا مراد ہے؟

جب اس آیت کی تفسیر اٹھاتے ہیں تو ہمیں امام کی تعیین میں تین اقوال ملتے ہیں۔

(1) ایک قول یہ ہے کہ امام سے مراد رسول ہے یعنی ہر امت کو اس کے رسول کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اس طرح پکارا جائے گا اے امت نوح، اے امت محمد وغیرہ، یہ قول مجاہد اور قتادہ وغیرہ کا ہے ان کی دلیل قرآن کی یہ آیت ہے۔

ولكل أمة رسول فإذا جاء رسولهم قضي بينهم بالقسط وهم لا يظلمون(يونس:47)

ترجمہ:اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے، سو جب ان کا وہ رسول آچکتا ہے ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے  اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

(2) دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے انبیاء کی شریعت مراد ہے یعنی ہرجماعت کو شریعت کے ساتھ مثلا اے اہل تورات، اے اہل انجیل اور اے اہل قرآن کے ذریعہ مخاطب کیا جائے گا۔

(3) تیسرا قول یہ ہےکہ امام سے مراد نامہ اعمال ہے۔”بامامھم” ای بکتاب اعمالھم یعنی اپنے اعمال کی کتاب کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ اسی قول کی طرف بہت سے اہل علم گئے ہیں جن میں علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ بھی ہیں۔ دلائل کی روشنی میں یہی تیسرا راحج معلوم ہوتا ہےکہ ہر آدمی اپنے نامہ اعمال کے ساتھ پکارا جائے گاجیساکہ مذکورہ آیت میں امام کے بعد کتاب کے ذکر سے واضح ہوتا ہے۔قرآن میں دوسری جگہ بھی امام کا ذکر نامہ اعمال کےلئے آیا ہے،اللہ کا فرمان ہے:إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ (يس:12)

ترجمہ:بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہرچیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔

یہاں امام سے اعمال کی کتاب مراد ہے جیساکہ آیت سے بالکل واضح طور پر پتہ چل رہا ہےکیونکہ اعمال جس میں درج کئے جائیں وہ اعمال نامہ یا دفتراعمال ہی ہوگا۔ ایک دوسری آیت میں اللہ رب العزت نے تو واضح طور پر کتاب کا ذکر فرماکر بتلادیا کہ لوگ اپنے اعمال کی کتاب(نامہ اعمال) کے ساتھ پکارے جائیں گے، یعنی پکارے جانے کا بھی خصوصیت سے ذکر ہے، آیت دیکھیں، فرمان الہی ہے:

وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (الجاثیۃ:28)

ترجمہ:اور آپ دیکھیں گے کہ ہر امت گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا آج تمہیں اپنے کئے کا بدلہ دیا جائے گا۔

یہ آیت جاثیہ، آیت اسراء کی واضح تفسیر ہے،گویا خلاصہ یہ ہوا کہ لوگ قیامت میں اپنے نامہ اعمال کے ساتھ جو ان کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں ہوں گے بلائے جائیں گے، یہی بات قوی اور راحج ہے۔ کسی بھی مفسر نے یہ نہیں کہا ہے کہ لوگ امام ابوحنیفہ ؒ، یا امام شافعیؒ، یا امام مالک ؒ، یا امام احمد بن حنبل کے ساتھ ہوں گے۔ یہ ائمہ تو ہم نےدنیا میں  بنائے ہیں، جن کو اللہ نے دنیا اورآخرت دونوں میں امام بنایا ہے وہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اہل حدیث کا امام دنیا میں بھی محمد ﷺ ہیں اور آخرت میں بھی ان کا کوئی امام ہوگا تو محمد ﷺ ہوں گے۔ اسی لئے علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے پہلے قول کے ضمن میں ( یعنی امام سے مراد نبی ہیں ) بعض سلف کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذکرکیاہے :” هذا أكبر شرف لأصحاب الحديث لأن إمامهم النبي صلى الله عليه وسلم” یعنی یہ اہل الحدیث کے لئے سب سے بڑے شرف کی بات ہے کہ ان کا امام نبی ﷺ ہیں۔

یہ تو لوگوں کو نامہ اعمال کے ساتھ پکارے جانے کی بات ہے اور میدان محشر میں تمام انسان بشمول انبیاء ورسل جمع کئے جائیں گے تب بھی ہر امتی اپنے نبی کے ساتھ ہوں گے۔ وہاں پر دنیا کے اماموں کاکوئی جھنڈا نہیں ہوگا، سارے صدیقین، شہداء، صالحین،اولیاء، ائمہ، فقہاء، علماء، محدثین،دعاۃ ومبلغین اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گے یعنی جس نبی کا کلمہ پڑھنے والے ہوں گے ان کے ساتھ جمع ہوں گے۔ اس سلسلہ میں آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ پر نازل شدہ آخری آسمانی وحی سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیے۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَجِيءُ نُوحٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى، هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ نَعَمْ أَيْ رَبِّ، فَيَقُولُ لِأُمَّتِهِ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ لاَ مَا جَاءَنَا مِنْ نَبِيٍّ، فَيَقُولُ لِنُوحٍ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ، فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ، وَهُوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَالوَسَطُ العَدْلُ(صحيح البخاري:3339)

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی امت آئے گی تو اللہ تعالیٰ دریافت فرمائےگا: کیا تم نے انھیں میرا پیغام پہنچادیا تھا؟حضرت نوح علیہ السلام عرض کریں گے : میں نے ان کو تیرا پیغام پہنچا دیاتھا اسے رب العزت! اب اللہ تعالیٰ ان کی امت سے دریافت فرمائے گا: کیا انھوں نے تمھیں میرا پیغام دیا تھا؟وہ جواب دیں گے: نہیں!ہمارے پاس تیرا کوئی نبی نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے دریافت فرمائے گا: تمہارا کوئی گواہ ہے؟وہ کہیں گے حضرت محمد ﷺ اورآپ کی اُمت کے لوگ میرے گواہ ہیں، چنانچہ وہ( میری امت) اس امر کی گواہی دے گی کہ نوح علیہ السلام نے لوگوں کو اللہ کاپیغام پہنچا دیا تھا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اسی طرح ہم نے تمھیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہی دو۔ وسط کے معنی عدل کے ہیں، یعنی تم عدل وانصاف کے علم بردار ہو۔

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نوح علیہ السلام کی امت اپنے نبی نوح کے ساتھ ہوگی اور اللہ تعالی تبلیغ رسالت کا سوال نوح علیہ السلام سے کریں گے، تصدیق کے لئے اللہ تعالی ساری امت نوح سے سوال کریں گے، نہ کہ اس امت میں سے کسی خاص عالم سے۔

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَيَجِيءُ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ وَأَقَلُّ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ قَوْمَكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لَا فَيُقَالُ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ فَتُدْعَى أُمَّةُ مُحَمَّدٍ فَيُقَالُ هَلْ بَلَّغَ هَذَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ وَمَا عِلْمُكُمْ بِذَلِكَ فَيَقُولُونَ أَخْبَرَنَا نَبِيُّنَا بِذَلِكَ أَنَّ الرُّسُلَ قَدْ بَلَّغُوا فَصَدَّقْنَاهُ قَالَ فَذَلِكُمْ قَوْلُهُ تَعَالَى وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا(البقرہ:143)(صحيح ابن ماجه:3476)

ترجمہ: حضرت ابو سعید رضی للہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) ایک نبی آئے گا۔اس کے ساتھ صرف دو آدمی ہوں گے۔(جو اس پر ایمان لائے)اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ صرف تین آدمی ہوں گے۔(اسی طرح تمام نبیوں ؑ کے ساتھ)زیادہ اور کم افراد ہوں گے۔ نبی سے سوال کیا جائے گا کیا تم نے اپنی قوم کو(اللہ کے احکام) پہنچادیےتھے۔؟وہ نبی فرمائے گا! ہاں۔اس قوم کو بلا کرکہاجائےگا کیا اس نے تمھیں (اللہ کے احکام)پہنچادیے تھے؟ وہ کہیں گے نہیں (نبی سے) کہاجائے گا آپ کا گواہ کون ہے۔؟وہ فرمائے گا۔حضرت محمد ﷺ اور ان کی اُمت۔محمدﷺ نبی سے کہا جائے گا کہ کیا اس نبی نے (اپنی قوم کو اللہ کے) احکام پہنچائے تھے ؟مومن کہیں گے ہاں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمھیں کیا معلوم؟مومن کہیں گے ہمارے نبی ﷺ نے خبر دی تھی کہ انبیائے کرام ؑ نے(اپنی اپنی امت کو اللہ کے احکام) پہنچائے تھے۔ہم نے نبی ﷺ کو سچا تسلیم کیا۔اللہ کے اس فرمان کایہی مطلب ہے۔ ( وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا) ااور (جیسے ہم نے تمھیں ہدایت دی۔اسی طرح ہم نے تمھیں افضل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجائواور رسول تم پر گواہ ہوں۔

یہ حدیث بھی بالکل واضح ہے کہ ہر امتی اپنے اپنے نبی کے ساتھ آئے گاکیونکہ وہ اپنی قوم کے امام وپیشوا ہوں گے اور رسالت وتبلیغ کی بابت اللہ تعالی انہیں سے سوال کرے گا۔

آخری بات اور آخری پیغام : دین نام ہے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا۔ اللہ تعالی نے نبیوں اور رسولوں پر شریعت نازل کی ہے اسی لئے اللہ نے اپنے ساتھ صرف رسولوں کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اتباع سے روگردانی کرتے ہیں وہ یقینا ناکام ہونے والے ہیں۔ نبی ﷺ کا واضح اعلان سنیں۔

وَعَن مَالك بن أنس مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُولِهِ « رَوَاهُ مالك فِي الْمُوَطَّأ»

ترجمہ: مالک بن انس ؒ مرسل روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، پس جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، (یعنی) اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔

اس حدیث کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے۔ (تخريج مشكاة المصابيح للالبانی:184)

اس حدیث کو پڑھنے کے بعد ہمیں اپنے عقائد واعمال کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق عمل کرتے ہیں یا اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر نبی کے امتی کی باتوں پر چلتے ہیں ؟ کیا ہمارا امام و پیشوا محمد ﷺ ہیں یا آپ کے سوا کوئی اورہمارا امام وپیشوا ہے؟ جب ہم نےعملی زندگی میں محمد ﷺ کا اپنا امام نہیں مانا تو یوم حساب محمد ﷺ کے ساتھ جمع ہوتے وقت کتنی شرمندگی محسوس ہوگی ؟

اس سوال ساتھ  میرا یہ آخری پیغام ہے کہ آپ دنیا میں اپنا امام محمد ﷺ کو بنالیں، آپ کے فرمان کے مطابق عمل کریں،  آخرت میں بھی آپ کا امام محمد ﷺ ہوں گے اور آپ کو سنت رسول پر چلنے کی وجہ سے کامیابی ملے گا،ان شاء اللہ۔ یہ بات اپنے دامن میں گرہ لگاکر رکھ لیں کہ سنت رسول کے علاوہ اور کوئی راستہ کامیابی کا نہیں ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close