مذہبی مضامین

لباس سے متعلق احکام و آداب

مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی

جس کپڑے سے جسم ڈھانپا جائے اسے لباس کہتے ہیں۔ لباس پہننا سنت رسول ﷺ ہے کیونکہ اسلام میں ستر ڈھانپنا فرض ہے۔ لباس کا شمار انسان کی بنیادی ضرورتوں میں ہوتا ہے جس کا مقصد انسان کی ستر پوشی اس کی معاشرت،  اوراس کی تہذیب وتمدن اور اس کی شخصیت کو نمایاں کرنا ہے، جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے اس وقت سے ہی انسان کا کوئی مخصوص لبا س نہیں رہا،  جیسے جیسے انسانی تہذیب و تمدن ترقی کرتی گئی انسان کا لباس بھی تبدیل ہوتا گیا،  ابتدا انسان اپنی ستر پوشی درخت کے بڑے پتوں اور درخت کی چھالوں سے کرتا تھا، یا پھر جانوروں کی کھالوں سے ستر پوشی کرتا تھا۔ غرض کہ جیسے جیسے انسانی تہذیب ترقی کرتی گئی انسان کا طرز زندگی بھی بدلتا گیا،  لیکن ستر ڈھانپنا ہر دور میں رہااور ستر کا معیار بھی ہر دور میں جدا گانہ رہا۔

 ستر پوشی کے لیے لباس کا استعمال کرنا انسانی شرافت و وقار کی بھی علامت ہے۔ انسان لباس میں ہی خوبصورت لگتا ہے اب لباس کیسا اور کس انداز میں ہونا چاہیے اس کے آداب واحکام کیا ہیں اس کے لیے ہمیں شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا نا ہوگا۔ ذیل میں ان تمام چیزوں کو ذکر کیا جائے گا۔

لباس کیسا ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!!

 لباس ہمیشہ سادہ،  باوقار اور مہذب ہو اور اس پر ہمیشہ ہی اعتدال و میانہ روی سے خرچ کیا جائے لباس پہننے اور خریدنے میں ضرورت سے زیادہ عیش اور ناز و نخروں سے مکمل پرہیز و گریز کریں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا،  چنانچہ مسند احمد و شعب الایمان،  بیہقی اور ابونعیم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کاگورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا ”عیش کوشی سے بچ کر رہنا کیونکہ اللہ کے بندے عیش کوش و عیش پرست نہیں ہوتے ” یہ بیہقی کے الفاظ ہیں جبکہ مسند احمد کے الفاظ ہیں ” ہمیں عیش کوشی سے بچ کر رہنا چاہے ”اور یہ الفاظ تحدیز و زجراور توبیخ کے لئے زیادہ بلیغ ہیں۔

 وسعت کے باوجود لباس میں سادگی اختیارکرنا اہل ایمان وتقوی کی علامت ہے اور اس بات کا پتہ سنن بی دائود و ابن ماجہ،  مستدرک حاکم،  معجم طبرانی،  اورمسند الشہاب القضاعی میں وارد اس واقعہ سے چلتا ہے جس میں صحابہ کرام ایک جگہ بیٹھے دنیا کا ذکر کر رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لباس کی سادگی ایمان کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے ”

 صحیح مسلم و ترمذی اور مسنداحمدمیں ہے کہ ” اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی ظاہری حالت نہایت معمولی معلوم ہوتی ہے،  بال بکھرے ہوئے اور غبار میں اٹے ہوئے،  کپڑے بلکل معمولی اور سادہ ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر میں ان کا مرتبہ اتنا بلند ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا ہی کر دیتا ہے

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لباس صاف ستھرا ہونا چاہے اور مجموعی طور پر عاجزی وانکساری نمایاں محسوس ہونی چاہے لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آدمی پھٹے پرانے اور پیوند لگے کپڑے یا گوڈی پہن کر شکستہ حال بنا رہے اور اسے ہی دینداری سمجھ لے اور وہ لوگ جو صاف ستھرے لباس پہنے ہوئے ہوں انہیں دنیا دار قرار دے  دینداروں و دنیاداروں کا یہ تصور سرار غلط ہے،  صحیح تصور یہ ہے کہ بندے پر اللہ کی نعمتوں کے آثار نظرآنے چاہیں اسی سلسلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بھی کتبِ حدیث میں ملتی ہیں۔

چنانچہ ”ابودائود،  ترمذی،  نسائی  میں ابوالاحوص کے والد اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،  اس وقت میں بلکل معمولی پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا،  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا :” کیا تمہارے پاس کوئی مال و دولت ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا ملا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے،  اونٹ،  گائیں،  بکری اور غلام ہیں،  تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب اللہ تعالی نے تمہیں مال و دولت کی نعمتوں سے نوازا رکھا ہے تو اس کے فضل و احسان کا اثر تمہارے جسم پر بھی ظاہر ہونا چاہے ” کہ اچھا لباس پہنو۔ ۔ !

          یاد رکھیے کہ مذہبِ اسلام اور شریعت محمدی نے تمام شیطانی راستے اور دجالی شرور وفتن کے دروازوں کی طرح اس راستے اور دروازہ کو بھی بند کرنے کے لیے ایمان کے بعد سترپوشی کو فرض قرار دیا،  نماز،  روزہ اور تمام ارکانِ اسلام بعدمیں لباس پہلے فرض وواجب ہے۔ جس طرح دیگر فرائض و واجبات کے کچھ آداب ہوتے ہیں ایسے ہی لباس کے بھی آداب ہیں۔ ذیل میں آدابِ لباس کو ذکر کیا جارہاہے جس سے ان شاء اللہ کافی فائدہ حاصل ہوگا۔

آدابِ لباس

          (1) نیا لباس پہنتے وقت اللہ تعالی کی تعریف اور حمد بیان کریں (دعا پڑھیں ) خلیفہ ثانی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نیا لباس پہنے تو اس کو چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ دعا پڑھے: الحمد لِلہِ الذِی کسانِی ما وارِی بِہ عورتِی وتجمل بِہ فِی حیاتِی (اللہ تعالی کا شکر واحسان ہے جس نے ایسا لباس عطا فرمایا جس سے میرا بدن بھی چھپ جاتاہے اور میری زندگی میں زیبائش بھی حاصل ہوتی ہے)(معارف القرآن، ج۳، ص۵۳۴، ۵۳۵)

          (2) نیا لباس بنانے کے وقت پرانا لباس فقرا ء اور مساکین پر صدقہ کردیں ؛ کیوں کہ حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نیا لباس پہننے کے بعد پرانا جوڑا غریب ومسکین کو صدقہ کردے وہ اپنی موت وحیات کے ہرحال میں اللہ تعالی کی ذمہ داری اور پناہ میں آگیا۔ ( ابن کثیر عن مسند احمد بہ حوالہ معارف القرآن، ج۳، ۵۳۵ )

          (3) ایسا لباس ہرگز استعمال نہ کیا جائے جس سے تکبر اور غرور ٹپکتا ہو؛ کیوں کہ کسی بھی انسان کو تکبر اور گھمنڈ زیبا نہیں اور اگر کوئی نادان اور بے وقوف اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے غرور کا ارتکاب کرتاہے حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا،  جو چاہو کھائو اور جو چاہو پہنو،  مگر دو گناہوں۔ اسراف اور غرور سے بچتے ہوئے۔ (صحیح البخاری )

          (4) لباس اختیار کرنے میں تنعم و اسراف سے اجتناب کرے ؛ کیوں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ان المبذِرِین کانوا اخوان الشیطِینِ)سورۃبنی اسرائیل (

فضول خرچی اور اسراف کرنے والے شیطانوں کے چیلے ہیں۔

          (5) دشمنانِ اسلام یہود ونصاری اور کفار ومشرکین کے لباس سے اجتنابِ کلی ہونا چاہیے؛ کیوں کہ اس کو اختیار کرنے میں ان کی مشابہت ہوگی جس سے بڑی شدومد کے ساتھ باز رکھا گیا اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تشبہ بِقوم فہو مِنہم (مسند احمد ابن حنبل، ج۳، ص۵۰ )

جو بندئہ خدا کسی جماعت اور قوم کی شباہت اپنائے گا وہ اسی میں سے ہے یعنی قیامت میں اسی قوم کے ساتھ اٹھے گا۔

          (6) تہہ بند یا اس کی جگہ استعمال ہونے والا کوئی بھی کپڑا (پائیجامہ وغیرہ)نصف پنڈلی تک ہو یا کم از کم ٹخنوں سے اوپر ہو؛ کیوں کہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے پر بڑی سخت وعید ہے

 ارشادِ نبوی ہے: ماا سفل مِن الکعبینِ مِن الازارِ فِی النارِ (بخاری شریف )ٹخنوں کا جو حصہ ازار کے نیچے رہے گا وہ حصہ جہنم میں جائے گا۔

          (7) ریشمی کپڑا مردوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے،  اس سے بچنا چاہیے،  حدیث نبوی ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انما یلبس الحرِیر فِی الدنیا من لا خلاق لہ فِی الآخِرِ (بخاری ومسلم)فرمایا جو شخص دنیا ہی میں ریشم کا کپڑا پہنے گا کل قیامت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

          (8) خالص سرخ اور زرد لباس مردوں کے لیے غیرمناسب اورمکروہ ہے(فتاوی شامی)

          (9) مرد عورتوں کا لباس اور عورتیں مردوں کا لباس استعمال نہ کریں ؛ کیوں کہ ایساکرنے والے نبی کی بددعا کے مستحق ہوں گے حدیث ہے لعن النبِی صلی اللہ علیہِ وسلم المتخنِثِین مِن الرِجالِ والمترجلاتِ مِن النِساِ وقال خرِجوہم مِن بیوتِکم (بخاری شریف)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی شباہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایاکہ: اے مسلمانو! تم ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو!

          (10) ایسا لباس جو جسم اور بدن سے چپکا ہوا ہو اور بہت زیادہ چست ہو ایسے لباس سے مردوں اور عورتوں دونوں کو بچنا چاہیے بالخصوص عورتوں کو؛ کیوں کہ حدیث پاک میں ایسے لباس والی عورتوں کو لباس سے عاری اور برہنہ کہا گیا ہے جن کے لیے دوزخ کی وعید ہے نِسا ء کاسِیات عارِیات (مسلم شریف)

دوزخ میں ایسے ایسے لوگ جائیں گے جن میں وہ عورتیں بھی ہیں جو کپڑا پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔

          (11) اتنا باریک لباس جس میں جسم کے اعضا نظر آتے ہوں عورتوں کے لیے ایسا لباس بالکل جائز نہیں،  اور مردوں کو لنگی یا پائیجامہ ایسا(باریک) پہننا جائز نہیں البتہ دوسرے کپڑے باریک ہوں تو مضائقہ نہیں کیوں کہ مردوں کا ستر صرف تہہ بند یا پائیجامہ سے چھپ جاتا ہے۔ (فتاوی دارالعلوم، ج۱۶، ص۱۲۸)

          (12) مرد اور عورت ہمیشہ ایسا لباس وملبوس استعمال کریں جو ان کی جنس کے اعتبار سے خوبصورتی اور زینت کا سبب بنے اور ایسا لباس ہرگز اختیار نہ کریں جس میں بے ہودگی اورحماقت ٹپکتی ہو؛ کیوں کہ ارشادِ باری تعالی یبنِی آدم خذوا زِینتکم عِند کلِ مسجِد کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی ؒفرماتے ہیں : اس آیت میں لباس کو زینت سے تعبیر فرمایا جس سے ایک مسئلہ یہ بھی نکلتا ہے کہ نماز میں افضل اور اولی یہ ہے کہ صرف سترپوشی پر کفایت نہ کی جائے؛ بلکہ اپنی وسعت کے مطابق زینت اختیار کی جائے۔ نواسہ رسول حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ نماز کے وقت اپنا سب سے بہتر لباس پہنتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ: اللہ تعالی جمال کو پسند فرماتے ہیں ؛ اس لیے میں اپنے رب کے لیے زینت وجمال اختیار کرتا ہوں پھر یہی آیت کریمہ تلاوت فرماتے۔ (معارف القرآن،  ج۳، ص۵۷۳)

          (13) مرد کا ستر جس کو ہرحالت میں چھپانا فرض ہے،  ناف سے گھٹنوں کے نیچے تک ہے،  اس حصہ بدن میں اسے کوئی عضو حالتِ نماز میں کھل جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے اور عام حالت میں کھل جائے تو گناہ ہوگا۔ (معارف القرآن،  ج۳ص۵۴۴ )

          (14) عورت کا تمام بدن ستر ہے؛ البتہ چہرہ،  دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم ستر سے مستثنی ہیں،  یعنی حالت نماز میں یا عام حالت میں ضرورت سے ان کو کھول دیا جائے تو نماز درست ہوگی اور کوئی گناہ بھی نہیں ہوگا؛ لیکن یہ مطلب نہیں کہ چہرہ وغیرہ کھول کر عورت غیرمحرموں کے سامنے بے روک ٹوک نکلے اس کی قطعا اجازت نہیں ہے۔ (فتاوی دارالعلوم، ج۱۶، ص۱۸۶ )

          فائدہ: حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس گھر میں عورت ننگے سر ہو اس گھر میں نیکی اور فرشتے نہیں آتے۔ (معارف القرآن ج، ۳، ۵۴۴)

          (15) ایسا لباس زیب تن کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے جسے پہن کر انسان اپنے دوستوں اور عوام کے سامنے جانے میں عار اور شرم محسوس کرتاہو جیسے صرف بنیان پہن کر نماز پڑھنا )معارف القرآن، ج۳۔ ص۵۴۴)

          (16) نماز میں پردہ اور ستر پوشی کے علاوہ زینت اختیار کرنے کا بھی حکم ہے پس ننگے سر نماز پڑھنا،  مونڈھے یا کہنیاں کھول کر نماز پڑھنا مکروہ ہے (معارف القرآن،  ج۳، ص، ۵۴۴)

          (17) کوٹ پتلون پہن کر اگرچہ نماز ہوجاتی ہے،  مگر تشبہ بالکفار کی وجہ سے ان کا پہننا مکروہ وممنوع ہے۔ (فتاوی دارالعلوم، ج۱۶، ص۱۵۴)

          (18) جس علاقہ میں جس لباس کا رواج ہو عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے؛ البتہ کوئی بھی لباس ہو یہ ضروری ہے کہ کشف عورت اس میں نہ ہو اور عورتوں کے لیے افضل وہ لباس ہے جس میں ستر (پردہ)زیادہ ہو جیسے کرتا،  پاجامہ اور اوڑھنی۔ (فتاوی دارالعلوم، ج،  ۱۶، ص۱۵۸)

          (19) سرپرٹوپی کی جگہ کوئی چھوٹا سا رومال یا کپڑا باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ اور بے ادبی ہے۔ (معارف القرآن، ج۳، ص۵۴۴ )

          (20) جس لباس میں واجب الستر اعضا کا حجم اور بناوٹ نظر آتی ہو،  مرد اور عورت دونوں کے لیے حرام ہے اور اس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے، اور مروجہ لباس میں اس قباحت کے علاوہ کفار کے ساتھ مشابہت بھی ہے،  اس لیے جائز نہیں۔ (احسن الفتاوی ج۸ص۸۲)

 تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ لباس تو ویسے بھی پہننا ہے تو مناسب ہے کہ شریعت کے اصولوں کے مطابق پہنا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمین یارب العالمین)

مزید دکھائیں

مولانا محمد طارق نعمان

مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی جامع مسجد خالد بن ولید فیزٹاؤن پکھوال روڈ مانسہرہ کے خطیب، مسجد فیصل شاپنگ آرکیڈ پنجاب چوک مانسہرہ کے امام اور مدرسۃ البنات صدیقہ کائنات و جامعہ اسلامیہ انوارِ مدینہ مانسہرہ کے ناظم تعلیمات ہیں۔ موصوف صوبائی اسلامک رائٹر موومنٹ کے پی کے کنونیر ہیں۔ آپ کے مضامین روزنامہ اسلام، اوصاف، ایکسپریس، جنگ، اخبارنو، شمال، جرات وغیرہ کے علاوہ دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close