مذہبی مضامین

لیلۃ القدر- فضائل و مسائل

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔
(صحیح بخاری ج1ص270باب فضل لیلۃ القدر )
جس شخص نے ایمان کی حالت میں خلوص نیت سے لیلۃ القدر میں عبادت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں۔
لیکن اس فضیلت کے حصول کے لیے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے 2 شرطیں ذکر کی ہیں :
1: عبادت کرنے والا مومن ہو یعنی عقیدہ صحیح ہو، اگر عقیدہ ہی غلط ہو تو ایک لیلۃ القدر نہیں ہزار لیلۃ القدر بھی عبادت کرتا رہے تو وہ محروم ہی رہے گا۔کیونکہ عقیدہ اصل اور بنیاد ہے۔اگر بنیاد ہی درست نہ ہو تو عبادت والی عمارت کیسے کھڑی ہوگی یعنی عقائد اسلام کی بنیاد ہیں اگر ایک عقیدہ بھی غلط ہوگیا تو گمراہی مقدر بنے گی۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس رات کی برکت حاصل کرنے کے لیے عقائد اہل السنۃ والجماعۃ کو اپنائیں اور لوگوں میں بھی ان عقائد کی محنت کریں۔
2: عبادت کرنے والے کی نیت درست ہو، اگر نیت میں ریا،دکھلاوا آگیا تو رات بھر جاگنا اور عبادت کرنا کسی کام کا نہیں۔
فائدہ: اس حدیث میں اور اس طرح کی احادیث میں جو عبادت پر گناہوں کی معافی کا تذکرہ ہے اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں باقی کبیرہ گناہ کی معافی کے لیے توبہ اور حقوق العباد والے گناہوں کی معافی کے لیے ان حقوق کی ادائیگی یا پھر صاحب حق سے معافی ضروری ہے صرف عبادت سے وہ کبھی معاف نہ ہوں گے۔
لیلۃ القدر کون سی رات ہے؟
عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان۔
(صحیح بخاری ج1ص270 )
ترجمہ: لیلۃ القدر کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔یعنی،21 ،23،25 ،27،29کی راتوں میں تلاش کرو۔اسی طرح کی ایک حدیث مسند احمد(ج16 ص399 رقم 22612)میں بھی ہے جس میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے متعلق سوال کیا کہ وہ کون سی رات ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
لیلۃ القدر کی مخصوص دعا:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے یوں دعا مانگنا:اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی۔
(سنن ابن ماجہ ص274باب الدعاء بالعفو والعافیۃ)
ترجمہ: اے پروردگار آپ بہت معاف فرمانے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند بھی فرماتے ہیں مولائے کریم مجھے معاف فرمادیں۔
لیلۃ القدر میں فضول کاموں سے بچیں:
اتنی بابرکت رات میں بھی امت کے بہت سارے افراد اعتدال کا دامن چھوڑ کر افراط وتفریط کرکے عتاب کے مستحق بنتے ہیں:مساجد پر چراغاں کرنا، اہتمام کے ساتھ اعلانات کرکے مساجد میں باجماعت صلوٰۃ التسبیح ادا کرنا۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس رات اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اس کو ذریعہ بخشش بنائے۔

مزید دکھائیں

محمد الیاس گھمن

مولانا محمد الیاس گھمن امیرعالمی اتحاد اہل السنت والجماعت ہیں۔

متعلقہ

Close