مذہبی مضامین

مابعد عید الفطر۔۔۔! بے قید کی زندگی؟

ابراہیم جمال بٹ
ماہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے اختتام کے بعد پھر ایک بار ہم ماہ شوال نے اپنے قدم ڈال دئے۔ ماہ شوال کے پہلا ہی روز ’’عید الفطر‘‘ کے بطور منائی جاتی ہے۔ عید یعنی خوشی، گویا انسان کو ان تمام خوشیوں کی نوید سنائی گئی کہ جس میں زندگی اور آخرت کی فلاح کا دارومدار ہے۔ خوشی اس بات کی کہ مسلمان نے پورے ماہ خدا کی حتی المقدور عبادت ’’ٹریننگ پیریڈ‘‘ حاصل کر کے اپنے لیے راہ راست کا صحیح ڈھنگ پایا۔ خوشی اس بات پر کہ مسلمان کے سارے گناہ معاف کر دئے گئے۔ خوشی اس بات کی کہ مسلمان نے وہ کچھ سیکھا جو بظاہر انسان کو مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ مسلمان نے دیکھا کہ مسلسل نماز پڑھنے میں وقت ضائع نہیں ہوتا بلکہ کام میں برکت ہوتی ہے۔ ایک مومن نے پایا کہ جو لوگ آج کے اس جدید اور ترقی پسند دور میں اسلام پر چلنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن قرار دیتے ہیں، اس پر چلنا کتنا ہی آسان ہے۔ مسلمان نے محسوس کیا کہ قرآن پاک کی تلاوت کا ہر روز اہتمام کرنے سے صرف اس کی قرأت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی تلاوت سے دل کو سکون ، دماغ کو تازگی اور عملی انقلاب برپا ہوتا ہے۔ مومن نے دیکھا کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتابلکہ اس میں اور زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی اس سے معاشرے پر اچھے نتائج نکل آتے ہیں۔ غرض مسلمان کو ایسی خوشی عطا کی گئی کہ اگر انسان ثابت قدمی دکھائے تو ہر روز انسان کو خوشی کا دن ’’عید‘‘ محسوس ہو گا۔ کیوں کہ اسلام نام ہی ہے خوشی کے پیغام کا۔ اسلام جب بھی اپنی اصل کے اعتبار سے تسلیم کیا گیا، تو ماحول پر اس کے اثرات ایسے پڑے کہ دنیا خوشیوں کا مسکن بن گئی۔ وہ قوم جس نے اسلام کو عملی اعتبار سے قبول کر لیا وہ جاہلیت سے نکل کر روشنی پا گئے۔ بدامنی چھوڑ کر امن کی دہلیز پر آ گئے۔ جہالت سے نکل سے خدا کے نور سے اس قدر منورہوئے کہ نہ صرف اپنے آپ کو خدا کے غضب سے بچالیا بلکہ پوری عالم انسانیت کے لیے راہ ہدایت کے پیامبر بن کر دنیا کے امام تسلیم کیے گئے۔ یہ سب کچھ اس پیغامِ خوشی میں ہے جو ایک مسلمان ومومن نے ماہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں میں پایا، جس پر شوال کے پہلے ہی روز خوشیاں منا ئیں گئی۔
ماہ شوال کے اس مہینے میں ہمیں پہلے ہی روز یہ جو عید کی ’’خوشی‘‘ ملتی ہے یہ خدا کی طرف سے پہلے ہی روز ایک انعام ہوتا ہے، ایک اعلان ہوتا ہے، ایک پیغام ہوتاہے کہ’’ اے انسان آج کے بعد تو برابر ایسا ہے جیسے کہ تجھ سے کوئی خطا ہی نہیں ہوئی‘‘ کیوں کہ تو نے ماہ مبارک میں خدا کی فرماں برداری کر کے اور فرماں برداری کا مکمل چاٹ (تقویٰ)حاصل کر کے اب وہ مقام پایا ہے جو تمہارے گناہوں کی بخشش کی وجہ بن گیا۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’جو لوگ ایمان اور احتساب کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے گا اس کے تمام گناہ بخش دئے جائیں گے‘‘، گویا یکم شوال کے روز ایک مسلمان ایسا ہو جاتا ہے جیسے کہ اس کی پیدائش ہوئی ہو۔ اب مسلسل پاک وصاف رکھنے کے لیے مسلمان کوایک چارٹ دیا گیا، اس کے ہاتھ میں ایک پیغام نامہ تھما دیا گیا کہ اگر اس پر ثابت قدمی رہی تو دنیا میں عزت کا مقام حاصل ہو گا اور آخرت کی ابدی زندگی میں جنت تمہارا مقدر ہو گا، وہ تمہاری زندگی کی اصل عید ہو گی، لیکن اگر ثابت قدمی نہ رہی تو وہی کچھ پھر سامنے آئے گا جس سے انسان دوچار تھا۔خوشیوں کے بدلے غم اور پریشانیاں تمہارا استقبال کرنے کے لیے تیار ہو گا۔
ماہ شوال اگرچہ ایک طرف خوشی کا پیغام ہے تو دوسری طرف اس بات کا اشارہ بھی کرتا ہے کہ اگر پھر واپس مڑے تو وہی حال ہو گا جو منکرین حق کا حال اس سے پہلے ہوا ہے۔ دنیا تمہارے لیے عذاب اور بدمنی کا گہوارہ بن جائے گی اور آخرت میں ابدی خسران نصیب ہو گا۔ اب انسان کے سوچنے کا کیا انداز ہے کہ وہ اس خوشی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا ابدی خسارے کا سوداکرنا چاہتا ہے، یہ سب انسان کی کوشش اور اس کی عمل پر دارومدار ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت کریمہ میں ہے کہ :
’’تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا‘‘(سورۃالنحل:۹۲)
برصغیر کے ایک عالم دین نے بہت ہی عمدہ مثال دی ہے جو اس آیت کو سمجھنے کے لئے کسی حد تک کافی ہے، کہتے ہیں کہ:
’’آپ اس شخص کو احمق قرار دیں گے جو روٹی کھانے کے بعد فورًا ہی حلق میں انگلی ڈال کر قے کر دے اور پھر شکایت کرتا ہو کہ روٹی کھانے کے جو فائدے بیان کئے جاتے ہیں وہ مجھے حاصل ہی نہیں ہوتے بلکہ میں تو الٹا روزبروز دُبلا ہی ہوتا جارہا ہوں اور مر جانے کی نوبت آگئی ہے۔ یہ احمق اپنی اس کمزوری کا الزام روٹی اور کھانے پر رکھتا ہے۔ حالانکہ حماقت اس کی اپنی ہے۔ اس نے اپنی نادانی سے یہ سمجھ لیا کہ کھانے کے فعل میں یہ جوچند ظاہری باتیں ہیں انہی کو ادا کر لینے سے بس زندگی کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے اس لئے اس نے سو چا کہ اب روٹی کا بوجھ اپنے معدے میں کیوں رکھوں؟ کیوں نہ اسے نکال پھینکا جائے تا کہ پیٹ ہلکا ہو جائے۔کھانے کے کام کی ظاہری صورت تو میں ادا کرہی چکا ہوں۔یہ احمقانہ خیال جو اس نے قائم کیا اور پھر اس کی پیروی کی تو اس کی سزا بھی تو آخر اسی کو بھگتنا چاہیے۔اس کو جاننا چاہیے تھاکہ جب تک روٹی پیٹ میں جاکر ہضم نہ ہو اور خون بن کر سارے جسم میں پھیل نہ جائے اس وقت تک زندگی کی طاقت حاصل نہیں ہوسکتی۔کھانے کے ظاہری ارکان بھی اگرچہ ضروری ہیں کیونکہ ان کے بغیر روٹی معدے تک نہیں پہنچ سکتی مگر محض ان ظاہری ارکان کے ادا کرنے سے کام نہیں چل سکتا۔ان ارکان میں کوئی جادو بھرا ہوا نہیں ہے کہ انھیں ادا کرنے سے بس طلسماتی طریقے پر آدمی کی رگوں میں خون دوڑنے لگتا ہو۔ خون پیدا کرنے کے لئے تو اﷲ نے جو قانون بنایا ہے اسی کے مطابق وہ پیدا ہوگا اس کو توڑ دو گے تو اپنے آپ کو خود ہلاک کرو گے‘‘۔
مذکورہ بالا آیت کریمہ اسی چیز کی طرف اشارہ ہے کہ ایک عورت مہینے بھر محنت ومشقت کے ساتھ سوت کاتے اور جب وہ تیار ہو جائے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ بہر حال یہ احمقوں اور نادانوں کا کام ہے ۔ کھانا کھا کر حلق میں انگلی ڈالنا بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟ انسان ماہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں اللہ کی فرماں برداری کرے، اس کا خوف رکھے اور مسجد میں پنج وقتہ نماز ادا کرے، اس کی راہ میں صدقات وخیرات دے، اور ہر وہ کام کرے جس سے روزہ برقرار رہتا ہے،اور ماہ شوال کے آتے ہی اس پورے مہینے کے تربیت شدہ پروگرام کو ترک کر کے خود اپنے طریقے پر چلے، یہ نادانی اور احمقانہ بات نہیں تو اور کیا ہے؟ ایک عالم دین اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:
’’یہ کیا ماجر ہے کہ رمضان بھر میں تقریبًا تین سو ساٹھ گھنٹے خدا کی عبادت کرنے کے بعد جب آپ فارغ ہوتے ہیں تو اس پوری عبادت کے تمام اثرات شوال کی پہلی ہی تاریخ کو کافور ہوجاتے ہیں؟ غیر مسلم اپنے تہواروں میں جو کچھ کرتے ہیں وہی سب آپ عید کے زمانہ میں کرتے ہیں حد یہ ہے کہ شہروں میں تو عید کے دن بد کاری اور شراب نوشی اور قماربازی تک ہوتی ہے اور بعض ظالم تو میں نے ایسے دیکھے ہیں جو رمضان کے زمانے میں دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو شراب پیتے اور زنا کرتے ہیں۔عام مسلمان خدا کے فضل سے اتنے بگڑے ہوئے تو نہیں ہیں مگر رمضان ختم ہونے کے بعد آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جن کے اندر عید کے دوسرے دن بھی تقویٰ اور پرہیزگاری کا کوئی اثر باقی رہتا ہو؟ خدا کے قوانین کی خلاف ورزی میں کون سی کسر اٹھارکھی جاتی ہے؟ اس احمق کی طرح قے کرکے روزے کو اپنے اندر سے نکال پھینک دیا جاتا ہے بلکہ آپ میں سے بعض لوگ تو روزہ کھولنے کے بعد ہی دن بھر کی پرہیزگاری کو اگل دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتائیے کہ رمضان اور اس کے روزے کوئی طلسم تو ہیں نہیں کہ بس ان کی ظاہری شکل پوری کردینے سے آپ کو وہ طاقت حاصل ہوجائے جو حقیقت میں روزے سے حاصل ہونی چاہیے۔ جس طرح روٹی سے جسمانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ معدے میں جاکر ہضم نہ ہو اور خون بن کر جسم کی رگ رگ میں نہ پہنچ جائے اسی طرح روزے سے بھی روحانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ آدمی روزے کے مقصد کو پوری طرح نہیں سمجھے اور اپنے دماغ کے اندر اس کو اترنے اور خیال نیت ارادہ اور عمل پر چھا جانے کا موقع نہ دے‘‘۔
غرض ماہ شوال کا پہلا دن جو ’’عید الفطر‘‘ کہلاتا ہے، مسلمان کے لیے اس میں ایک پیغام خوشی ہے۔ کہ اے انسان!تو نے جو پورے مہینے حاصل کیا اس پر آج تجھے خوشیاں مل رہی ہیں اور اگر اسی طرح اسی راہ پر ثابت قدم رہے تو یہ خوشیاں اس دنیا میں تمام عمر تمہارا مقدر بنیں گی اور آخرت میں ابدی خوشیاں تمہارے لیے سب سے بڑا انعام ہو گا۔ پوری زندگی اگر اسی طرح خدا کی فرماں برداری میں رہی تو مرنے کے بعد تمہارا پہلا ہی روز ’’عید‘‘خوشی کا ہو گا، اور اگر ثابت قدمی چھوڑ کر اس سے راہ فرار اختیار کر لیا، یہ سمجھ کر کہ’’ ایک پورے مہینے میں بہت کچھ کمایا ہے‘‘ تو اگرچہ تم بظاہر دنیا میں ترقی کی منزلیں پا جاؤ لیکن آخرت کے دربار میں تم رسوا ہو جاؤ گے اور تمہارے لیے انعامات نہیں، تمہارے لیے کوئی خوشی نہیں بلکہ تمہارے لیے تم ہی کو ایندھن بنا کر عذاب دیا جائے گا۔ ایسا عذاب جو نہ تو رُکنے والا ہے اور نہ کم ہونے والا۔ بلکہ وہ ایسا درد ناک منظر ہو گا جس کے بارے میں سن کر ہی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اُس سے بچائے۔
اس لحاظ سے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ جو عید ہم منا رہے ہیں اس کے پیچھے کیا راز ہے؟ یہ خوشی’’عید‘‘ ایک مسلمان صرف عیدکے دن تک ہی محدود رکھتا چاہتا ہے یا پوری زندگی خوشی سے گزارنا چاہتا ہے؟ بلکہ زندگی کے بعد جو ابدی زندگی حاصل ہونے والے ہی ، اس کو بھی خوشیوں سے بھردینا چاہتاہے؟ انسان خود سوچے اور خود ہی طے کرے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ خوشیاں یا غم۔۔۔؟ خود غور کیجئے اور غود ہی فیصلہ لیجئے: ایک عالم دین نے کہا ہے کہ:
’’رمضان چونکہ خیر و صلاح کے پھلنے اور پھولنے کا موسم ہے اور اس موسم میں ایک شخص نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں مسلمان مل کر اس نیکی کے باغ کو پانی دیتے ہیں اس لئے یہ بے حدو حساب بڑھ سکتا ہے۔ جتنی زیادہ نیک نیتی کے ساتھ اس مہینہ میں عمل کرو گے جس قدر زیادہ برکتوں سے خود فائدہ اٹھاو گے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو فائدہ پہنچاو گے اور پھر جس قدر زیادہ اس مہینے کے اثرات بعد کے باقی گیارہ مہینوں میں باقی رکھو گے اتنا ہی یہ پھولے پھلے گا۔ اور اس کے پھلنے پھولنے کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ تم خود اس کو اپنے عمل سے محدود کر لو تو یہ تمہارا اپنا قصور ہے‘‘۔
ایک اور جگہ فرماتے ہیں :
’’روزہ مسلمان سے ایک لمبی مدت تک شریعت کے احکام کی لگاتار اطاعت کراتا ہے۔ صبح سحری کے لئے اٹھوٹھیک فلاں وقت پر کھانا پینا سب بند کر دو۔دن بھر فلاں فلاں کام کرسکتے ہو اور فلاں فلاں کام نہیں کرسکتے۔شام کو ٹھیک فلاں وقت پر افطار کر لو پھر کھانا کھاکر آرام کر لو۔پھر تراویح کے لئے دوڑو۔اس طرح ہر سال کامل مہینہ بھر صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مسلمان کو مسلسل فوجی سپاہیوں کی طرح پورے قاعدے اور ضابطے میں باندھ کر رکھا جاتا ہے اور پھر گیارہ مہینے کے لئے اسے چھوڑدیا جاتا ہے تاکہ جو تربیت اس ایک مہینہ میں اس نے حاصل کی ہے اس کے اثرات ظاہرہوں اور جو کمی پائی جائے وہ پھر دوسرے سال ٹریننگ میں پوری کی جائے‘‘۔
اگر ہم خوشیوں کے طلب گار ہیں تو ماہ رمضان المبارک کے پورے مہینے کے چارٹ کو یاد رکھ کر اس پر ثابت قدم رہیں، قرآن کی تلاوت ہماراہر روز کا معمول بن جانا چاہئے، تلاوت اس معنی میں کہ قرآن کو صحیح طورسے پڑیں ، اس کو سمجھئیے اور سمجھ کر اس پر عمل کیجئے۔ مال کی بے جا محبت نہ رکھئے، بلکہ اسے حتی المقدور اللہ کی راہ میں وقت وقت پر خرچ بھی کریں، نمازوں کا پورا پورا اہتمام کریں، گناہ چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے،ان سے پرہیز کریں، نیک بنیں او ر نیکی کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کریں۔
مختصراً اسلام کا عملی نمونہ بن جائیں۔ قرآن کو ایک جیتی جاگتی کتاب کی شکل دیکر اسے چلتا پھرتا قرآن بنا دیں۔ دنیا میں اسلام کے اشاعت و تبلیغ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام نامہ ہمیں دیا گیا ہے وہ دنیا پر غالب آجائے۔ روزوں کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ انسان ’’تقویٰ‘‘ حاصل کرلے۔اور انسان کی خیر وبھلائی صرف ایک مہینے پرہیز گاری’’تقویٰ‘‘ اختیار کرنے میں نہیں ہے، بلکہ پوری زندگی تقویٰ کا ماحول قائم کر کے اس پر چلنے میں ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ : ’’کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو یعنی تقویٰ اختیار کرو،جہاں کہیں بھی اور جس حالت میں بھی ہو‘‘۔ یعنی ہر جگہ ، ہر وقت اور ہرمقام پر اللہ کا خوف اختیار کرو، اور یہ تقویٰ تمہاری ابدی خوشیوں سے بھری زندگی کی ضمانت ہے۔
آج ماہ رمضان المبارک کے رخصتی کے بعد اگر ہم میں تقویٰ کی صفت پیدا نہ رہی تو ہمارے وہ دن جن میں ہم نے حلال کھانا پینا ترک کیا، حلال وحرام کو چھوڑا۔۔۔ سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔ تقویٰ یعنی خوف خدا، جس قدر ہم میں یہ خوف خدا پیدا ہو گا اسی قدر ہماری زندگیوں میں عملی تبدیلی آجائے گی، ہم جن حالات سے اس وقت گزر رہے ہیں ان سے خلاصی پا کر ایک آزاد اور پرامن زندگی انعام کے طور پر حاصل ہو سکے گی۔ اگر پورے ماہ روزہ رکھنے کے باوجود ہم میں یہ صفت تقویٰ پیدا نہ ہوا تو روزہ دار رہنے کے باوجود ہم ذلیل و خوار ہوں گے، ہمارے حصے میں صرف بھوکا پیاسا لکھا جائے گااور ہماری ہر کوشش کا انعام خدا ئے ذوالجلال کی ناراضگی ہو گی۔یہ حالت ہماری کیونکر ہو گی اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ اس بارے میں سید مودودیؒ ایک جگہ رقمطراز ہیں :
’’سوچئے اور غور کیجئے کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے؟ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عبادت کا مفہوم اور مطلب ہی غلط ہوگیا ہے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سحر سے لے کر مغرب تک کچھ نہ کھانے اور نہ پینے کا نامز روزہ ہے اور بس یہی عبادت ہے۔ اس لئے روزے کی تو آپ پوری حفاظت کرتے ہیں۔ خدا کا خوف آپ کے دل میں اس قدر ہوتا ہے کہ جس چیز میں روزہ ٹوٹنے کا ذرا سا اندیشہ بھی ہو اس سے بھی آپ بچتے ہیں۔ اگر جان پر بھی بن جائے تب بھی آپ کو روزہ توڑنے میں تامل ہوتا ہے، لیکن آپ یہ نہیں جانتے کہ یہ بھوکا پیاسا رہنا اصل عبادت نہیں بلکہ عبادت کی صورت ہے اور یہ صورت مقرر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ آپ کے اندر خدا کا خوف اور خدا کی محبت پیدا ہو اور آپ کے اندر اتنی طاقت پیدا ہوجائے کہ جس چیز میں دنیا بھر کے فائدے ہوں مگر خدا ناراض ہوتا ہو اس سے اپنے نفس پر جبر کرکے بچ سکیں اور جس چیز میں ہر طرح کے خطرات اور نقصانات ہوں مگر خدا اس سے خوش ہوتا ہو، اس پر آپ اپنے نفس کو مجبور کرکے آمادہ کرسکیں۔یہ طاقت اسی طرح پیدا ہوسکتی تھی کہ آپ روزے کے مقصد کو سمجھتے اور مہینہ بھر تک آپ نے خدا کے خوف اور خدا کی محبت میں اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے اور خدا کی رضا کے مطابق چلانے کی جو مشق کی ہے اس سے کام لیتے، مگر آپ تو رمضان کے بعد ہی اس مشق کو اور ان صفات کو جس اس مشق سے پیدا ہوتی ہیں اس طرح نکال پھینکتے ہیں جیسے کھانے کے بعد کوئی شخص حلق میں انگلی ڈال کر قے کردے، بلکہ آپ میں سے بعض لوگ تو روزہ رکھنے کے بعد ہی دن بھر کی پرہیزگاری کو اگل دیتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتائیے کہ رمضان اور ا س کے روزے کوئی طلسم تو نہیں ہیں کہ بس ان کی ظاہری شکل پوری کر دینے سے آپ کو وہ طاقت حاصل ہوجائے جو حقیقت میں روزے سے ہونی چاہئے، جس طرح روٹی سے جسمانی طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ معدے میں جاکر ہضم نہ ہو اور خون بن کر جسم کی رگ رگ میں نہ پہنچ جائے، اسی طرح روزے سے بھی روحانیت طاقت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ آدمی روزے کے مقصد کو پوری طرح سمجھے نہیں اور اپنے دل و دماغ کے اندر اس کو اترنے اور خیال، نیت، ارادے اور عمل سب پر چھا جانے کا موقع نہ دے۔‘‘

مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close