مذہبی مضامین

ماہِ محرم الحرام: فضائل و اعمال

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

اسلامی سالِ نو کا آغاز ماہِ محرم الحرام سے ہوتا ہے، ماہِ محرم نہایت ہی فضائل وبرکات کا حامل مہینہ ہے، یہ مہینہ اپنے خصوصیات اور امتیازات کی وجہ سے دیگر ماہ وشہور سے علاحدہ شناخت رکھتا ہے، اس ماہِ حرام کی حرمت اور تعظیم زمانۂ جاہلیت سے چلی آرہی تھی، لوگ اس ماہِ مقدس میں اپنی لڑائیاں موقوف کردیا کرتے تھے،اور جنگ وجدال سے باز آتے تھے، گویا یہ ماہِ مقدس نہ صرف اسلام میں برکت وفضائل کاحامل قرار پایا ؛ بلکہ اس کا تقدس واحترام اور اس کی قدر وعظمت زمانہ جاہلیت سے بھی چلی آرہی تھی، اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں اس ماہ کی عظمت وحرمت کا اعلان کیا ہے ’’بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے ان میں سے چار عزت والے ہیں‘‘(سورۃ التوبۃ:۳۶)جو ذولقعدۃ، ذوالحجہ، محرم اور رجب ہیں جس کا تذکرہ حدیث میںآیا ہے۔

اسلام کی آمد کے بعد بھی اس ماہ کی حرمت وعظمت کو اس کی سابقہ حالت میں برقرار رکھا گیا کہ یہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کے باقیات میں سے تھے جس کو لوگ اپناتے آرہے تھے، چنانچہ قرآن وحدیث میں اس ماہ کو ’’شہر الحرام‘‘ (حرمت کا مہینہ) اور شہر اللہ( اللہ کا مہینہ) قرار دیا گیا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے: ’’سب سے زیادہ فضیلت والے روزے رمضان کے روزوں کے بعد اللہ کے مہینہ محرم الحرم کے روزے ہیں ‘‘ (مسلم: باب فضل صوم المحرم، حدیث:۲۸۱۳) امام نووی فرماتے ہیں کہ : اس روایت میں نبی کریم ﷺ نے ماہ محرم کو اللہ عزوجل کا مہینہ قرار دیا ہے جو اس کی عظمت اور تقدس کو بتلانے کے لئے کافی ہے؛ چونکہ اللہ عزوجل اپنی نسبت صرف اپنی خصوصی مخلوقات کے ساتھ ہی فرماتے ہیں (شرح النووی علی مسلم:۸؍۵۵)۔

ماہ محرم الحرام سے اسلامی سالِ نو کا آغاز

ماہِ محرم الحرام سے اسلامی سالِ نو کی ابتداء ہوتی ہے، زمانۂ جاہلیت میں لوگ اپنے فوائد ومنافع کے خاطر مہینوں کو آگے پیچھے کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع سے یہ اعلان کردیا کہ اللہ عزوجل نے جب سے آسمان وزمین کو پیدا فرمایا ہے اسی دن سے اس نے مہینوں کی ترتیب وتنظیم قائم کردی، چنانچہ آیت ہے، اس میں کوئی تغیر یا تبدل نہیں ہوسکتا ’’ بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے، جس دن اس نے زمین کو پیدا فرمایا‘‘(التوبۃ: ۳۶)اسلامی تاریخ جس کو ہجری تاریخ کہا جاتا ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس کی بنیاد رکھی گئی، اوریہ تاریخ حضرات صحابہ کرام کے مشورہ سے طئے پائی تھی،چنانچہ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں کہ:صحیح اور مشہور یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہجری تاریخ کی بنیاد رکھی، اس کی وجہ یہ بنی کہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ کی طرف سے ہم کوخط موصول ہوتے ہیں ؛ مگر اس پر تاریخ لکھی نہیں ہوتی(یعنی یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ خط کب کالکھا ہوا ہے )اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا، بعض حضرات نے مشورہ دیا کہ نبوت کے سال سے تاریخ لکھی جائے، بعض نے سالِ ہجرت کا اور بعض نے وفات کے سال کا مشورہ دیا، مگر اکثر کی رائے یہ ـتھی ہجرت سے ہی اسلامی تاریخ کی ابتداء ہو؛ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی پر فیصلہ دیا (الکامل فی التاریخ :۱؍۹، دار الکتاب العربی)کیوں کہ ہجرت نے ہی حق اور باطل کے درمیان حد فاصل کا کام کیا، بعض روایتوں میں ہے کہ پھر ان لوگوں نے کہا کہ کس مہینہ سے ابتداء ہو تو بعض نے کہا : رمضان سے، بعض نے محرم سے، کیوں کہ لوگ اس مہینہ میں حج سے واپس ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ محترم اور معزز مہینہ ہے (الکامل فی التاریخ: ۱؍۱۰) اس کے علاوہ ماہِ محرم سے سال کی ابتداء کی وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ہجرت کا جو عزم وارادہ فرمایا تھا وہ محرم میں ہی فرمایاتھا ؛ البتہ ہجرت عملی طور پر ماہ ربیع الاول میں ہوئی (فتح الباری: ۷؍۲۶۷)بڑا افسوس ہوتا ہے کہ قمری ماہ وسال اور تاریخ جس پر ہمارے ساری عبادتیں اور ہماری عیدیں اور خصوصی اور فضیلت کے حامل ایام موقوف ہیں مثلا رمضان،عیدین، حج کے ایام، محرم، شب براء کے روزے، عشرہ ذی الحجہ کے اعمال یہ سارے کے سارے امور قمری تاریخ سے متعلق ہیں، آج ہم نے قمری تاریخ کو بالکل فراموش کردیاہے، شمسی تاریخ سے اپنے امور میں مدد ضرور لیجئے ؛ لیکن قمری تاریخ سے بے اعتنائی یہ ہماری غیرت قومی اور حمیت ایمانی اور ملی دیوالیہ پن ہے۔

ماہ محرم کے روزے

ماہِ محرم کے روزوں کی بھی فضلیت وارد ہوئی ہے، تمامی مہینہ کے روزوںکے بابت بھی نبی کریم ﷺ نے تلقین فرمائی ہے، نعمان بن سعد، علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے علاوہ کون سے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں، حضرت علی نے فرمایا: میں نے صرف ایک آدمی کے علاوہ کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے نہیں سنا، میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اس نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ مجھے رمضان کے علاوہ کون سے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا :اگر رمضان کے بعد روزہ رکھنا چاہے تو محرم کے روزے رکھا کرو ؛کیونکہ یہ اللہ کا مہینہ ہے اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالی نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور اس دن دوسری قوم کی بھی توبہ قبول کرے گا۔ (ترمذی: صوم المحرم، حدیث:۷۴۱)مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح ہے کہ : علامہ سندھی کہتے ہیں کہ اس حدیث میںمکمل مہینہ کے روزوں کے استحباب کو بتلانا ہے۔ اس لئے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ (مرعاۃ المفاتیح، ۷؍۴۳،الجامعۃ السلفیۃ بنارس)

 یوم عاشورہ کی فضیلت

ماہِ محرم کی دسویں تاریخ کو ’’عاشورہ ‘‘ کہتے ہیں، ’’عاشورہ‘‘ یہ عشر سے ماخوذ ہے، اس سے مراد محرم الحرام کی دسویں تاریخ ہے۔ بطور مبالغہ کے’’ عاشورہ‘‘’’ فاعولا‘‘ کے وزن پر استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ یوم عاشورہ سے انبیاء کے خصوصی وابستگی اور ان کی حیات سے متعلق اہم واقعات کا اس روز میں پیش آنا، یوم عاشورہ کی فضیلت کی بین دلیل ہے۔ چنانچہ صاحب عمدۃ القاری یوم عاشورہ سے متعلق وقائع کا تذکرہ کرشتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:عاشورہ کے دنيحضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی،اسی دن وہ جنت میں داخل کئے گئے۔اور اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی،اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی بھی جبل جودی پر آٹھہری، اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن نمرود کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے گئے،اسی دن حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات ملی اور فرعون اپنے لشکر کے ساتھ دریائے نیل میں غرق ہوگیا۔حضرت ایوب علیہ السلام کو ان کی بیماری سے شفاء نصیب ہوئی، حضرت ادریس علیہ السلام کو اسی دن آسمانوں کی جانب اٹھالیا گیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملک کی عظیم بادشاہت نصیب ہوئی۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹ آئی، اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کنویں سے نکالے گئے، حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ نکالاگیا، حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت اسی دن ہوئی اور اسی دن آسمانوں کے جانب اٹھا لئے گئے۔ ( عمدۃ القاری شرح البخاری، باب صیام یوم عاشوراء :۷؍۸۹)یہ بے شمار فضائل یوم عاشورہ سے متعلق ہیں، جس سے یوم عاشورہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

عاشورہ کا روزہ:

عاشورہ کے روزے بے انتہا فضیلت کے حامل ہیں چنانچہ ابو قتادہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یوم عاشورہ کے روزے کے تعلق سے امید کرتا ہوں کہ وہ پچھلی سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گئے (ترمذی: الحث علی صوم یوم عاشوراء، حدیث:۷۵۲)اور ایک روایت میں عاشورہ کے روزہ کی فضیلت یوں بیان کی گئی :حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دن روزہ کا ارادہ کرتے ہوں اور اس دن کو کسی دوسرے دن پر فضیلت دیتے ہوں۔ مگر اس دن یعنی یوم عاشورا کو اور اس مہینہ یعنی ماہ رمضان کو دوسرے دن اور دوسرے مہینہ پر فضیلت دیتے تھے۔(بخاری: باب صیام یوم عاشوراء،حدیث:۱۹۰۲)

عاشورہ کے روزہ کی ابتداء

بنو اسرائیل فرعون اور اس کے ظلم وستم سے نجات کی خوشی میں یوم عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے، حضرت موسی علیہ السلام کے دور سے ان کا یہ معمول تھا، جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تویہودیوں کو اس دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو اس روزہ کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتلایا کہ ہم موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے فرعون سے نجات کے شکرانے میں یہ روزہ رکھتے ہیں، تو نبی کریم ﷺنے فرمایا : ہم موسی علیہ السلام کی موافقت کرنے کے زیادہ حق دار ہیں (مسلم : باب صوم یوم عاشوراء، حدیث: ۲۷۱۲)لیکن آپ ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ مشابہت نہ رہے ؛ اس کے لئے فرمایا کہ دسویں محرم الحرام کے روزہ کے ساتھ نویں یا گیارہویں کا روزہ بھی ملالیا جائے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورا کے دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!یہ تو وہ دن ہے جو یہود و نصاری کے ہاں بڑا باعظمت ہے اور چونکہ یہود و نصاری کی مخالفت ہمارا شیوہ ہے؛ لہٰذا ہم روزہ رکھ کر اس دن کی عظمت کرنے میں یہود و نصاری کی موافقت کیسے کریں ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کو ضرور روزہ رکھوں گا۔(مسلم: باب أی یوم یصام، حدیث:۱۱۳۴) اسی مشابہت سے بچنے کے لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ نے فرمایا: ’’نویں اور دسویں کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو‘‘(ترمذی: عاشوراء أی یوم ھو،حدیث:۷۵۵)مسند البزار میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عاشوراء کے روزے کے تعلق سے فرمایا: یہ روزے رکھو، یہودیوں کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد بھی روزہ رکھو‘‘(مسند بزار، مسند ابن عباس، حدیث:۵۲۳۸)

محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ عاشورے کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے ؛مگر اس کے ساتھ ہی عاشورہ سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھنا مستحب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف عاشورا کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے ؛کیونکہ اس سے یہود کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔(مرقاۃ المفاتیح:باب صیام التطوع:۴؍۱۴۱۲)۔

عاشورہ کے روزہ کا استحباب

رمضان کے روزوں فرضیت سے پہلے عاشورہ کا فرض تھا؛ لیکن رمضان کی روزوں کی فرضیت نازل ہونے کے بعد محرم کے روزہ کو مستحب قرار دیا گیااوراس کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزہ رکھتے تھے جب مدینہ آئے تو وہاں خود اس کا روزہ رکھا۔ اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، تو عاشورہ کے دن روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ جس کی خواہش ہوتی اس دن روزہ رکھتا اور جس کی خواہش نہ ہوتی اس دن روزہ نہ رکھتا۔(بخاری: سورۃ البقرۃ: حدیث:۴۲۳۴)۔بہرحال ان احادیث کی روشنی میں عاشورہ کے روزہ کی فضیلت اور اس کا مسحتب ہونا اور رمضان کے روزوں کے بعد اس کی فرضیت کا منسوخ ہونامعلوم ہوا؛ لہٰذا اب دسویں محرم کا روزہ نویں یا گیارہوں کو ملاکر رکھنا مستحب ہے۔

شہادتِ حسین :

گو شہادتِ حسین کا غمناک اور المناک واقعہ اسی ماہِ محرم میں پیش آیا، شہادتِ حسین بلا شبہ تاریخ اسلامی کا عظیم سانحہ ہے، جو آج بھی اہل ایمان کے دلوں کو بے تاب کئے جاتاہے، لیکن ماہ محرم کی فضیلت کو صرف شہادتِ حسین پر منحصر کرنا یہ صحیح نہیں ہے، اسی مہینہ کی یکم تاریخ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقع ہوئی اور دیگر بڑے بڑے امور اس ماہ میں پیش آئے، یہ سب چیزیں مجموعی طور پر اس ماہ کی فضیلت واہمیت کی وجہ بنتے ہیں۔

بہر حال یہ مہینہ نہایت فضیلت واہمیت کا حامل مہینہ ہے، بہت سے بڑے بڑے امور اس مہینہ میں پیش آئے، انبیاء علیہم السلام کو بہت سارے امور میں فتح وکامرانی اسی میںنصیب ہوئی، حق واضح ہوا، باطل ناکام نامراد ہوا، حق کے خاطر، حصول حق کے لئے جدوجہد، محنت وجستجو بھی اس ماہ کا خاصہ ہے، دین حق کے خاطر ظالم وجابر بادشاہ اور وقت کے حکمراں کے سامنے سینہ پر ہوجانا اور اپنی جان کی بازی لگادینا یہ اس ما ہ کا خصوصی سبق ہے، صرف واقعہ شہادت پر غم وافسوس کا اظہار ہی واقعہ شہادتِ حسین کا حق ادا نہ کرسکا، جس احقاق اور ابطال باطل کے حضرت حسین نے اپنے پاکیزہ اور پاکباز خانوادہ کی جانوں کو میدان جنگ کے نذر کردیایہ صفت اور احقاقِ حق کا جذبہ ہمارے اندر پیدا ہوجائے یہ اس ماہ کا اصل سبق ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close