مذہبی مضامین

مدارس اسلامیہ کی عصری معنویت

 یہ سچ ہے کہ اسلام سے پہلے دنیا پر جہالت و نادانی کی تاریک گھٹائیں  چھائی ہوئی تھیں ۔بعض مقامات مثلاً یونان، ایران اور قدیم ہندوستان میں  خرافات، توہمات کا دور دورہ تھا عوام عقل و معرفت اور علم و دانش کی روشنی سے قطعی محروم تھی ادیان سابقہ کی معرفت اور تعلیم و تعلم کی اجارہ داری کاہن، ساحر، احبار و رھبان، پروہتوں  اور پنڈتوں  کو حاصل تھی۔

مگر چھٹی صدی عیسوی میں  جب رسالت محمدی کا آفتاب عالم تاب مکہ معظمہ سے طلوع ہوا تو بعثت محمدی نے دنیا کو نیاآسمانی صحیفہ عطاکیا نیا علم و حکمت نیا ذوق و شوق اور نئی بلند نظری سے ہمکنار کرایا  اور علم و دانش کی روشنی سے دنیا کے تاریک گوشوں  کو تا بناک کردیا یہ اسلام ہی کا دنیاپر احسان عظیم ہے کہ اس نے علم و معارف، عقل و آگہی کے تمام پوشیدہ خزانوں  کو وقف عام کردیا۔

   اگر ہم موجودہ زمانے میں  مدارس اسلامیہ کی تاریخ و تاسیس کو تلاش کریں  تو ماخذ کے حوالے  سے یہ بات عیاں  ہوجاتی کہ ان کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے۔عہد رسالت میں  صفہ کے نام سے ایک یونیورسٹی تھی جس میں  شائقین علوم و معارف کی بڑی تعداد موجود رہتی تھی۔ جن کی کفالت خود حضورﷺ فرماتے تھے، نبی کریمﷺ کے حکم سے صحابہ میں  سے متعدد اشخاص کتابت وحی کے عمل پر مامور تھے ماخذ کا بیان ہے کہ کاتبین وحی کی مجموعی تعداد چالیس سے متجاوز ہے۔ عقبہ ثانیہ کی بعت کے بعد اور ہجرت سے قبل حضرت معصب بن عمیرؓ کو مدینہ منورہ بھیجا گیا کہ وہ ایمان لانے والوں  کو علم دین سکھائیں ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ غزوۂ بدر کے بعض قیدیوں  کو حضورﷺ نے اس شرط پر رہا کیا کہ وہ مسلمانوں  کے دس دس لڑکوں  کو لکھنا پڑھنا سکھائیں ۔ اس طرح ہجرت کے بعد حضور ﷺ کی تعلیم کا طریقہ یہ تھا کہ مسجد نبوی عبادت کرنے کے علاوہ علم حاصل کرنے کا بھی اہم ترین مرکز تھا۔

چنانچہ آہستہ آہستہ ہر شہر میں  مسجد یں  درسگاہیں  اور دانش گاہیں  بن گئی۔ نیز کچھ صحابہ کرام کے مکان اور اہل علم کے مسکن کی شکل میں  مدینہ اور اطراف و اکناف میں  خاصی تعداد میں  مدارس و جامعات کا جال بچھ گیا، علاوہ ازیں  مختلف علاقوں  اور قبائل کی تعلیم کے لیے اہل علم حضرات کو بھیجا جاتا تھا۔ بالآخر صحابہ کرام کی سکونت کے ساتھ ساتھ علم کے بڑے بڑے مرکز قائم ہوئے اورپھر وہاں  قرآن اور دیگر مضامین کے نغمے سامعہ نواز ہونے لگے۔ اور کوفہ، دمشق، فسطاطہ وغیرہ میں  علم کے اہم ترین مرکز تیار ہوگیے۔اس کے علاوہ اور بہت سے ثبوت اس بات کی شہادت دیتے ہیں  کہ پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ عہد رسالت میں  کافی زوروں  پر تھا  کیونکہ سب سے پہلی وحی حضور پر نازل ہوئی اس میں  علم سیکھنے پر خاصا زور دیا گیا ہے۔

  مدینہ کے بعد سب سے بڑے علمی مرکز کوفہ میں  قائم ہوئے۔ حضرت علی، اور فقھاء صحابہ (عبداللہ بن مسعود، حضرت ابو موسیٰ اشعری وغیرہ) کی موجوگی سے کوفہ اہم ترین علمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ ماخذ کا بیان ہے کہ مدینہ کے بعد کوفہ سب سے بڑی علمی دانشگاہ شمار ہوتی تھی۔ امام ابوحنیفہ صاحبین جیسے ا ساطین علم نے انھیں  درسگاہوں  میں  رہ کر احکام شرعیہ کی تدوین کا اہم کام انجام دیا۔ آگے ماخذ کا بیان ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے عربی لغت اور عربی زبان کے قواعد کی معرفت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ عرب عام طور پر اپنی مادری زبان میں  غلطیاں  کرنے لگے۔ اس لیے قرآن مجید میں  اعراب لگائے گئے اور معانی، بیان، صرف و نحو جیسے علوم کو فروغ حاصل ہوا۔

عہد صحابہ میں  مدارس :

 اس بات سے انکار نہیں  کیا جاسکتا کہ حضرت ابو بکرصدیقؓ کا زمانہ خلافت زیادہ تر مرتدین کی شو رشوں  کے قلع قمع میں  گزرا مگر پھر بھی آپ ؓ کے زمانے میں  تحصیل علم اور لکھنے پڑھنے کا بھی کافی حد تک زور تھا۔ہاں  حضرت عمرفاروقؓ نے اپنے زمانہ میں  تمام مفتوحہ ممالک میں  درس قرآن اور علوم اسلامیہ کی تحصیل کے لئے درسگاہیں  قائم کی۔ اور ان کے معلمین کی تنخواہوں  کا بندوبست کیا گیا۔ خانہ بدوش بدؤں  کے لیے قرآن مجید کی تعلیم، جبری طور پرلازم کی قرآنی مکاتب میں  لکھنا بھی سکھایا جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے عام طور پر تمام اضلاع میں  احکام بھیج دیے کہ بچوں  کو شہسواری اور کتابت کی تعلیم دی جائے ان کے علاوہ ادب اور عربیت کی تعلیم بھی لازمی کردی تاکہ لوگ صحت الفاظ و صحت اعراب کے ساتھ قرآن مجید پڑھ سکیں ۔

 فتح شام کے بعد علوم اسلامیہ کی تعلیم کو بہت فروغ حاصل ہوا۔حضرت عبادہؓ بن صامت معلم قرآن کی حیثیت سے حمص میں  قیام پذیر ہوئے حضرت معاذ بن جبل نے فلسطین اور حضرت ابو درداء ؓنے دمشق میں  سکونت اختیار کی۔ انھوں  نے اپنی مساعئی جمیلہ سے علوم اسلامیہ کی تعلیم کے لیے مکاتب قائم کیے نتیجتاً لوگ امڈتے ہوئے سیلاب کی طرح ان کے درس میں  شریک ہوتے تھے۔ اس زمانے میں  کتاب و سنت کے علاوہ علوم فقہ کی بھی اشاعت ہوتی اور تعلیم کی خصوصیات یہ تھیں  (1) قرآن،حدیث اور فقہ کے سواکسی دوسرے علم کی تعلیم نہیں  دی جاتی تھی۔(2) تعلیم کتابی نہ تھی، یعنی قرآن کے علاوہ حدیث و فقہ زبانی پڑھائے جاتے تھے۔ (3) تعلیم پر تنخواہ وغیرہ لینے کی باضابطہ ممانعت تھی (4)تحصیل علم کے لیے دنیاوی اغراض کا شامل کرنا جائز نہیں  تھا۔ (5)تعلیم کے لیے سفر کرنا لازمی تھا۔ (6)مسجد یں  اور علماء کے معمولی مکان تعلیم گاہوں  کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

عہد اموی میں  مدارس:

خلافت راشدہ کے بعد اموی حکومت قائم ہوئی اس کی مدت خلافت (40-132ھ) ہے اس زمانے میں  فقہ، تفسہر ادب، نحو و صرف کے علاوہ دیگر علوم و فنون کو کافی حد تک فروغ حاصل ہوا بڑے بڑے اساطین علم پیدا ہوئے جنہوں  نے قوم و ملت کی علمی تشنگی بجھانے میں  اہم رول ادا کیا۔ ماخذ کا بیان یہ ہے کہ عہد اموی میں  بیشتر مقامات پر کتاب (جمع کتاتیب و مکاتب) قائم ہوگیے۔ ابن خلکان نے اپنی وفیات الاعیان میں  لکھا ہے کہ ابو مسلم خرسانی نے عیسیٰ بن معقل کے یہاں  پرورش پائی تھی اور جب وہ بڑا ہوگیا تو حصول تعلیم کے لیے ایک مکتب میں  جاتاتھا۔

  اس طرح اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک کی بڑی بڑی مساجد، مدارس اور جامعات کا کام دیتی تھیں ۔ مکہ معظمہ میں  حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا حلقہ درس بیت وسیع تھا اور وہ قرآن حدیث، فقہ، فرائض اور عربی زبان بھی سکھاتے تھے مدینہ منورہ میں  ربیعۃ الرائی کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔ امام مالک اور امام اوزاعی جیسے ماہر فن اس حلقہ درس کے تعلیم یافتہ تھے۔ ادھر کوفے میں  عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ امام شعبی، اور بصرہ میں امام حسن بصری کا حلقہ درس کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کے باوجود بھی اموی خلفاء شہزادوں  کو عربیت کی صحیح تعلیم کے لیے بادیۃ الشام میں بھی بھیجا کرتے تھے۔ اس کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ شہزادوں  کی تعلیم کے لیے ممتاز استاد مقرر کیے جاتے تھے جو ’’مودب‘‘ کہلاتے تھے: پتہ یہ چلا کہ اس زمانے میں  تحصیل علم سے لوگوں  کو کافی حد تک شوق و شغف تھا اور اموی امراء بھی اصحاب علم و فضل کی کافی قدر کیا کرتے تھے عہد اموی کے طریقہ۔ تعلیم میں  جو خصوصیات تھیں  انھیں  ذیل میں  درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ (1)علوم و فنون کی اشاعت و ترویج کے لیے تالیف وتصنیف اور ترجمہ کا سلسلہ قائم ہوا (2)اساتذہ اور طلبہ کے وظائف مقرر کیے گیے  (3)مساجد میں  حصول تعلیم کے لیے باضابطہ درس کے حلقے قائم ہوئے۔ (4)بعض اسلامی ملکوں  میں  اہل علم کو اپنا تعلیمی کام جاری و ساری رکھنے کے لیے جہاد سے مستشنی کردیا گیا۔  (5)زبانی تعلیم کے علاوہ املا کا طریقہ رائج ہوا۔ یعنی استاد جو کچھ بتاتے تھے شاگرد اسے لکھ لیا کرتے تھے۔ (6)کتابوں  کی قرأت سند و اجازت کارواج بھی اسی عہد میں  ہوا۔

عہد عباسی میں  مدارس:

 عہد عباسی میں  علوم و فنون کو جس قدر فروغ حاصل ہوا وہ تاریخ کے صفحات پر رقم ہے۔ اس عہد کو علم کا عہد زریں  سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بیت الحکمت کا قیام اس عہد کی اہم ترین خدمت ہے جس کا سہرا ہارون الرشید کے سر جاتا ہے جس میں  مختلف زبانوں  کے تراجم اور مختلف علوم و فنون کو سکھانے کے لیے مترجم اور اساتذہ متعین کیے گیے تھے۔ جنھوں  نے اپنی کوشش و کاوش سے علوم اسلامیہ کے علاوہ دیگر اہم ترین موضوعات پر کام کیا۔

  عہد عباسی میں مدارس اور جامعات کی جگہ استعمال ہونے والی عموماً مساجد کے صحن خانقاہوں  کے حجرے اور امراء کی حویلیاں  تھیں ۔ مدینہ منورہ کے علاوہ کوفہ، بصرہ اور فسطاطہ وغیرہ۔ مشہورترین علمی مراکز تھے۔ اس عہد کی دو درسگاہیں  خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ (1)امام ابوحنیفہ کی درسگاہ اور (2)مدینہ منورہ میں  امام مالک کی، ماخذ کا بیان ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے حلقہ درس میں  ہرات افغانستان سے لیکر دمشق اور شام تک کے طلباء شریک ہوتے تھے اس سے آپ کی مقبولیت و اخلاص کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ نیز امام مالک کے درس کی بادشاہت بھی کچھ کم نہ تھی۔ ان کے حلقہ درس میں  بخارا سے سمر قند تک ادھر تونس، قیروان۔قرطبہ تکہ کے طلباء آپ کے علم و فضل سے فیضیاب ہونے کے لیے مدینہ آیا کرتے تھے۔ آہ آج بھی ہمارے زمانے میں ا سطرح کے مخلصین کی جماعت ہوتی تو یقینا امت کو اس کا بے حد فائدہ ہوتا۔

   دلچسپ بات یہ ہے کہ مامون الرشیدا ور مابعد کے خلفاء کے دور میں  بغداد ساری دنیائے اسلام کے طلباء کا کعبۂ تعلیم اور علماء و فضلاء  کا قبلہ حاجت تسلم کیا گیا تھا۔ ان مرکزی شہروں  کے علاوہ بعض دور دراز مشرقی مقامات میں  بھی درس و تدریس کا چرچا تھا۔ چنانچہ ابن حوقل(م367ھ) نے سجستان میں  بہت مساجد دیکھی تھیں ، جن میں  ابتدائی تعلیم سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک کانظم و ضبط تھا۔ مقدسی کا بیان ہے کہ چوتھی صدی ہجری میں  فلسطین،  شام، مصر اور ایران میں  ایسی بے شمار مساجد سے گزر ہوا۔ا صبھان، نیشاپور، ہمذان، سمرقند اور بخارا میں  مشہور دانشگاہوں  کے نام سے جانی جاتی تھیں ان میں ان گنت فقہاء، محدثین، صوفیاء، ادبااور دیگر علوم و فنون کے شہسوار بن کر نکلے۔

مختلف ادوار میں مدارس:

  مقریزی کا بیان ہے کہ مصرمیں  جامع عمرو بن عاص صحابہ، تابعین و تبع تابعین کے زمانے سے علوم دینیہ کا مرکز تھی۔ عہد طولونی میں  مسجد احمد بن طولون علوم اسلامیہ کا دوسرا مرکز تھی لیکن اس کو حقیقی سرپرستی امام شافعیؒ اور ان کے تلامذہ مثلاً البویطی، المزنی اور الربیع الشافعی کے ساتھ ساتھ ابوجعفر الطحاوی اور ابن ہشام کی حاصل تھی۔ 359ھ / 970ء میں  فاطمی جرنیل جوہر الکاتب الصقلی نے جامع ازھر کی تاسیس کی۔ اور فاطمیوں  نے اسے مزید وسعت دی اس وقت درسگاہ میں  شیعی علوم و فنون کی تعلیم دیجاتی تھی اور یہاں  سے فاطمی دعاۃ دنیائے اسلام میں  بھیجے جاتے تھے۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے مصر پر قبضہ کیا تو جامعہ ازہر کو اہل سنت و الجماعت کے علوم و معارف کی تدریس کا مرکز قرار دیا۔

چوتھی صدی کے اواخر میں  مدارس کے لیے مستقل عمارت بنانے کی بناء پڑی، طبقات الشافعیہ میں  لکھا ہے کہ دنیائے اسلام میں  مدرسہ کے لیے پہلی عمارت نیشا پور میں  بنائی گئی۔

  آگے مصنف نے لکھا ہے کہ محمود غزنوی نے متھراکی فتح سے واپس جاکر 410ھ میں  ایک عالیشان مدرسہ بنوایا تھا جس میں  مختلف کتب خانوں  سے کتابوں  کی نقل کرواکر نہایت اہتمام سے سنوارا گیا تھا۔ سلطان کے بھائی امیر قیصر نے اپنی عمارت میں  ایک مدرسہ نیشا پور میں  قائم کیا۔ اس کو پھر امام ابواسحاق (م418ھ) کو سونپ دیاگیا۔ علام شبلی نے بڑی اہم بات لکھی ہے بلخ، ہرات اور نیشا پور کے مدارس علمی حیثیت سے خاصے ممتاز تھے۔ خوارزم کا بڑا مدرسہ فلسفہ کے امام فخرالدین رازی (م606ھ) کی ذات سے منسوب تھا۔ اسی طرح آل سلجوق میں  ارسلان اور ملک شاہ نامور اور باعزت حکمراں  ہوئے ہیں  انھوں  نے اپنی عملداری میں مکاتب اور مدارس قائم کیے تھے اور اپنی کل جاگیروں  میں  سے دسواں  حصہ مدارس کے لیے وقف کردیا تھا اس کا عظیم الشان کارنامہ مدرسہ نظامیہ کی تعمیر تھا۴۵۷ھ میں  اس کی تعمیر شروع ہوئی اور 459ھ میں  اس کا افتتاح عمل میں  آیا مدرسہ نظامیہ کا فیض تین سوسال تک جاری رہا، فارسی کے مشہور ادیب شیخ سعدی شیرازی اس کے آخری زمانے کے طالب علم تھے۔ ابو اسحاق شیرازی، امام غزالی، ابوعبداللہ طبری، خطیب شیرازی، اور بہاؤالدین بن شدادجیسے اصحاب علم فضل اس مدرسہ میں  موقع بموقع صدر مدرس کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں ۔ اس کے احاطے میں  ایک کتب خانہ بھی موجود تھا جس میں  دنیا کے تمام علوم و فنون کی کتابیں  موجود تھیں ۔ طب کیلیے وظیفے مقرر تھے جس کا اس سے پہلے کبھی رواج نہ تھا۔ مدرسہ بغداد کے بعد دوسرا اہم ترین علمی مرکز مدرسہ مستنصریہ تھا جس کی تاسیس 425ھ خلیفہ مستنصرباللہ نے کی تھی۔

مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

متعلقہ

Close