مذہبی مضامین

مدینہ منورہ کی پاک سرزمین کا تقدس اور اس کے تقاضے

مولانا سید احمد ومیض ندویؔ

ساری زمین اللہ کی بنائی ہوئی ہے اور سارے شہر اللہ کے ہیں لیکن زمین کے کچھ ٹکڑوں اور کرہ ارض کی کچھ آبادیوں کو خود خالق کائنات نے غیر معمولی تقدس عطا فرمایا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ یہ دونوں ایسے پاک مقامات ہیں جن کی عظمت پر ساری عظمتیں نثار ہیں یہ دونوں کرئہ ارض کے مقدس ترین شہر ہیں جن کی قرآن مجید میں قسم کھائی گئی ہے۔ مکہ مکرمہ میں اگر خدا کا گھر ہے تو مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی مسجد نبوی ہے  ایک کواگر خلیل اللہ نے آباد کیا تھا تو دوسرے کو حبیب اللہ ﷺ نے آباد کیا مکہ مکرمہ اگر نبی پاک ﷺ کا مولد ہے تو مدینہ منورہ آپ کا مسکن ہے مکہ مکرمہ میں اگر رسول اللہ ﷺ کے آباواجداد مدفون ہیں تو مدینہ منورہ میں خود رسول اللہ ﷺ مدفون ہیں مکہ مکرمہ اگر مظہر جلال ہے تو مدینہ منورہ مظہر جمال ہے اگر حرم کعبہ کو دیکھنا عبادت ہے تو روضہ رسول ﷺ کی زیارت باعث شفاعت ہے ‘ اگر صحن کعبہ میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نما زکے برابر ہے تو مسجد نبوی ﷺ میں ایک نماز پچاس ہزار نمازوں کے برابرہے اگر مکہ میں جنت المعلیٰ ہے تو مدینہ شریف میں جنت البقیع  ہے مکہ میں حطیم ہے تو مدینہ میں ریاض الجنۃ ہے اگر یہاں جلال خداوندی ہے تو وہاں جمال مصطفوی ہے مکہ مکرمہ میں اگر بدن طواف کرتے ہیں تو مدینہ منورہ میں روح محو طواف ہوتی ہے اگر مکہ مکرمہ کے حق میں خلیل اللہ نے دعا فرمائی تو مدینہ منورہ کے لئے حبیب رب العالمین رسول اللہ ﷺنے خدا سے مانگا تھا الغرض یہ دونوں شہر عظمتوں کے مینار ہیں خداوند قدوس نے ان دونوں شہر وں کو حرم قرار دیا یہاں کا ہر ذرہ لائق احترام ہے یہاں ہر وقت فرشتوں کا نزول اور برکتوں کا صدور ہوتا ہے ‘ ان دوپاک شہروں میں ادنیٰ بے احترامی بھی سنگین جرم ہے۔

قتل وغارت گری تشدد ودہشت پسندی ہر جگہ مذموم ہے زمین کے کسی بھی خطے میں اگر کوئی دہشت پھیہلاتا ہے تو وہ انسانیت کا مجرم اور بدترین شخص ہے لیکن اسی تشدد اور دہشت گردی کا مظاہرہ اگر حرم مکہ یا حرم مدینہ میں کیا جائے تو اس کی قباحت اور سنگینی دوچند ہوجاتی ہے گزشتہ ۲۹ جون کو مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر مسجد نبوی سے قریب خود کش دھماکہ کرکے جس بدترین بربریت کا مظاہرہ کیاگیا یہ صرف مدینہ پر حملہ نہیں بلکہ اسلام کے قلب پر حملہ ہے مکہ مکرمہ اگر اسلام کا دماغ ہے تو مدینہ منورہ اسلام کا دل ہے مدینہ پر حملہ دراصل قلب اسلام پر حملہ ہے یہ ایک ایسی جرأت ہے جس پر سارے عالم کے مسلمان تلملا اٹھے ہیں ، ظالموں نے نہیں سوچا کہ انہوں نے کیسی سرزمین پر تباہی مچائی ہے یہ حرکت وہی شخص کرسکتا ہے جس کا دل خوف خدا سے عاری ہو اور جو دشمنوں کا آلہ کار بنا ہو ایسے شخص کا اسلام تو کیا انسانیت سے بھی دور کا تعلق نہیں ہوسکتا جن ملعونوں نے یہ حرکت کی ان پر خدا ورسول کی پہٹکار ہے حدیث شریف میں حضرت سائب ابن خلاد انصاری ؓ نے مروی ہے رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ جو اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے نیز ایک حدیث میں آپ نے فرمایا جس شخص نے اہل مدینہ کو ڈرایا اس نے گویا مجھے ڈرایا، نسائی کی روایت میں ہے کہ جس شخص نے اہل مدینہ کو اپنے ظلم کے خوف میں مبتلا کیا اسے اللہ تعالیٰ خوف میں مبتلا کرے گا ‘ ایک روایت کے مطابق ایسے شخص کا کوئی بھی عمل بارگاہ خداوندی میں مقبول نہیں ہوگاخواہ فرض ہو یا نفل ایک حدیث میں منقول ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے دست دعا بلند کئے اور یوں گویا ہوئے خداوندا جو شخص اور میرے شہر والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کو جلد ہی ہلاک کردے (مظاہر حق، ج:3؍416)صاحب مظاہر حق لکھتے ہیں : اس مقدس شہرکی عظمت وبزرگی ہی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو اس شہر کے رہنے والوں کی تعظیم وتکریم کی یہ وصیت فرمائی تھی کہ میری امت کے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ میرے ہمسایہ یعنی اہل مدینہ کے احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔ ان سے اگر کوئی لغزش ہوجائے تو اس پر مواخذہ نہ کرے اور اس وقت تک ان کی خطاؤں کو درگزر کریں جب تک کہ وہ کبائر سے اجتناب کریں یاد رکھو جو شخص ان کے احترام اور ان کی حرمت کو ملحوظ رکھے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا۔ اور جو شخص اہل مدینہ کی حرمت کو ملحوظ نہیں رکھے گا اسے طینۃ الخبال کا سیال پلایا جائے گا۔ واضح رہے کہ طینۃ الخبال دوزخ کے ایک ہوز کا نام ہے جو دوزخیوں کی پیپ اور لہو ہوتا ہے (حوالہ سابق)

مدینہ کے ساتھ بدخواہی کرنے والا دراصل محسن انسانیت ﷺ کے قلب اطہر پر آرا چلاتا ہے اس لئے کہ آپ ﷺ کو مدینہ منورہ سے بے پناہ محبت تھی چنانچہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ جب کبھی سفر سے واپس ہوتے تو مدینہ منورہ کی دیواریں دیکھ کر اپنے اونٹ کو دوڑانے لگتے اور اگر گھوڑے یا خچر پر سوار ہوتے تو اس کو تیز کرتے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ آپ کو مدینہ منورہ سے محبت تھی (بخاری شریف ) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بطور دعا کے یوں فرمایا اے اللہ مدینہ کو اس برکت سے دوگنی برکت عطا فرما جو تو نے مکہ مکرمہ کو عطا فرمائی ہے (بخاری مسلم ) ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکراور حضرت سیدنا بلال ؓ بخار میں مبتلا ہوگئے حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو ان کی بیماری کی اطلاع دی آپ نے یوں دعا فرمائی اے اللہ تو مدینہ کو ہمارا محبوب بنادے جس طرح تو نے مکہ کو ہمارا محبوب بنایا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب وہوا کو درست فرمادے اور مدینہ کے صاع اور مد میں ہمارے لئے برکت عطا فرما اور مدینہ کی بخار کو یہاں سے نکال کر جحفہ کو منتقل فرما (بخاری مسلم) نبی رحمت ﷺ کو مدینہ کے پہاڑوں اور وہاں کے ذرے ذرے سے محبت تھی حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی نظر مبارک جب اُحد پہاڑ پر پڑھی تو آپ نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں پھر آپ نے فرمایا اے اللہ حضرت ابراہیمؑ نے مکہ کو حرم بنایا اور میں اس قطعہ زمین کو محترم قرار دیتا ہوں جو سنگ سان مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہے مدینہ وہ شہر ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے حرم کا درجہ عطا فرمایا ہے بعض حدیثوں میں آپ نے وہاں کے درخت کاٹنے سے منع فرمایا ہے مدینہ وہ عظیم شہر ہے جس کے راستوں پر فرشتے متعین ہے اور وہاں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتا چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مکہ اور مدینہ کے علاوہ ہر شہر کو دجال روندے گا اور مکہ اور مدینہ میں سے ہر ایک کے راستوں میں کوئی راستہ ایسا نہیں ہے جس پر صف باندھے ہوئے فرشتے نہ کھڑے ہوں جو ان شہروں کی نگہبانی کرتے ہیں جب دجال مدینہ سے باہر شور زمین میں نمودار ہوگا تو مدینہ اپنے باشندوں کے ساتھ تین مرتبہ ہلے گا جس کے نتیجے میں ہر کافر اور منافق مدینہ سے نکل پڑے گا اور دجال کے پاس چلا جائے گا (بخاری مسلم )

یہ وہ شہر ہے جہاں موت پانے والے کے لئے نبی کی سفارش حاصل ہو چنانچہ حدیث میں ہے کہ جو شخص مدینہ میں مرسکتا ہو تو مدینہ میں ہی مرنا چاہئے کیونکہ جو شخص مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا (مسند احمد ) ایک اور حدیث میں آپ ﷺنے فرمایا جس شخص نے مدینہ میں سکونت اختیار کرکے اس کی سختیوں پر صبر کیا قیامت کے دن میں اس کی اطاعت کا گواہ بناوں گا اور اس کے گناہوں کی بخشش کی شفاعت کروں گا اور جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کرے گا قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ امن والوں میں اُٹھائے گا۔ حضرت یحییٰ بن سعید ؒ نے فرمایا کہ مدینہ میں ایک قبر کھودی جارہی تھی اور رسول کریم ﷺ بھی وہاں تشریف فرما تھے ایک شخص نے قبر میں جھانکا اور کہنے لگا یہ قبر مومن کے لئے بری خواب گاہ ہے رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا : بری تو وہ بات ہے جو تم نے کہی اس شخص نے عرض کیا میرا منشاء  یہ نہیں تھا بلکہ اس بات سے میرا مطلب اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت کو ظاہر کرنا تھا آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں شہید ہونے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے لیکن یہ بات بھی ہے کہ روئے زمین کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں جس میں میری قبر بنے اور وہ مدینہ سے زیادہ محبوب ہو آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی (موطا امام مالک )

اتناہی نہیں علماء نے لکھا ہے کہ مدینہ کی غبار تک میں شفا ہے حضرت شیخ عبدالحق محدث دھلوی ؒ نے اپنی کتاب جدب القلوب الی دیار محبوب میں لکھا ہے کہ حضور کو مدینہ کی غبار سے تک محبت تھی آپ کے چہرے انور پر مدینہ کا غبار پڑھ جاتا تو اسے صاف نہیں فرماتے صاحب مظاہر حق نے لکھا ہے کہ حکیم مطلق اللہ جل شانہ نے اس شہر پاک کی خاک پاک اور وہاں کے میوہ جات میں تاثیر شفا ودیعت فرمائی ہے اکثر احادیث میں منقول ہے کہ مدینہ کی غبار میں ہر قسم کے مرض کی شفا ہے بعض دوسرے طرق سے منقول ہے کہ مدینہ کی غبار میں جزام اور برص کی شفا ہے آنحضرت ﷺ نے اپنے بعض صحابہ کو حکم فرمایا تھا کہ وہ بخار کا علاج مدینہ کی خاک پاک سے کریں چنانچہ نہ صرف مدینہ میں اس حکم پر عمل ہوتا رہا بلکہ اس خاک پاک کو بطور دوا لے جانے کے سلسلے میں کتنے ہی آثار منقول ہیں اور بعض علماء نے تو اس معالجہ کا تجربہ بھی کیا حضرت شیخ مجددالدین فیروز آبادی کا بیان ہے کہ میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے کہ میرا ایک خدمت گار مسلسل ایک سال تک بخار کے مرض میں مبتلا تھا میں نے مدینہ کی وہ تھوڑی سے خاک پاک پانی میں گھول کر اس خدمت گار کو پلادی اور وہ اسی دن صحت یاب ہوگیا۔ حضرت شیخ عبدالحق ؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ کی خاک پاک سے معالجہ کا تجربہ مجھے بھی ہوا ہے وہ اس طرح کے جن دنوں میں میں مدینہ منورہ میں مقیم تھا میرے پاؤں میں ایک سخت مرض پیدا ہوگیا تھا جس کے بارے میں اطباء کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اس کا آخری درجہ موت ہے اور اب صحت دشوار ہے میں نے اس خاک پاک سے علاج کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں بہت آسانی سے صحت حاصل ہوگئی (مظاہر حق ج 3؍415)

مدینہ منورہ عام شہروں کی طرح کوئی شہر نہیں بلکہ اسے دیار نبی ہونے کا اعزاز حاصل ہے یہ وہ شہر ہے جو حسن ولطافت کا مرقع اور انوار وتجلیات کا مخزن ہے یہ دراصل خدا کی رحمتوں کا خزینہ ہے اور پُرسکون فضاؤں کی آماجگاہ ہے جس کی ماحول میں رسول اللہ ﷺ کی پاکیزہ سانسیں رچی بسی  ہیں اس کا ایک ایک ذرہ نور علی نور کا پیکر ہے علامہ اقبال ؒ نے تعلیم کے لئے انگلساتان تشریف لے گئے جب آپ کا جہاز عدن کے قریب پہنچا تو آپ نے سرزمین مدینہ سے مخاطب ہوکر یوں فرمایا : اے عرب کی مقدس سرزمین تجھ کو مبارک ہو تو ایک پتھر تھی جس کو دنیا کے معماروں نے رد کردیا تھا مگر ایک یتیم بچہ نے خدا جانے تجھ پر کیا فسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کی تہذیب وتمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی اے پاک سرزمین تیرے ریگستانوں میں ہزاروں مقدس نقش قدم دیکھے ہیں اور تیری کھجوروں کے سائے میں ہزاروں ولیوں کو تمازت آفتاب سے محفوظ رکھا کاش میرے بدکردار جسم کی خاک تیری ریت کے ذروں میں مل کر تیرے بیابانوں میں اڑتی پھریں اور یہی آوارگی میری زندگی کے تاریک دنوں کا کفارہ ہے کاش میں تیری صحراؤں میں لٹ جاؤں اور دنیا کے تمام سامانوں سے آزاد ہوکر تیری تیز دھوپ میں جلتا ہوا اور پاؤں کے آبلوں کی پرواہ نہ کرتا  ہوا اس پاک سرزمین میں جاپہنچوں جہاں کی گلیوں میں اذان بلال کی عاشقانہ آواز گونجتی تھی۔

اصحاب قلم اور صاحبان علم وادب نے مدینہ کی شان میں کیسے کیسے شہہ پارے پیش کئے گویا قلم کی ساری توانائیاں جھونک کر محبت وعقیدت کے پھول نچھاور کئے ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے :

’’ یہ ایسی بارگاہ ہے جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے صبح شام نازل ہوکر درود شریف پڑھتے ہیں جہاں ایک نماز پچاس ہزار رکعت کا ثواب رکھتی ہے اور ایک نیکی پچاس ہزار نیکی کے برابر ہے جہاں سو میں سے نوے رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ جہاں حاضر ہونے سے گنا بخش دئے جاتے ہیں جہاں کا دربار فیض بار ہے جہاں جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے جہاں تمام افکار وہموم دفع ہوکر دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے ‘ جہاں کا روضہ مبارک عرش اعلیٰ سے بھی افضل ہے جہاں فوت ہونے والا حضور ﷺکی شفاعت کا مستحق ہوتا ہے جہاں دل کا گلستان کھل اٹھتا ہے، ہر مردہ چہرے کو رونق اور قلب وجان کو تسکین ملتی ہے جہاں آنسو محبت واحترام کے انداز سیکھتے ہیں ، جہاں دھڑکنیں شکرو سپاس کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔ جہاں قدم رک جاتے ہیں سر جھک جاتے ہیں تاریک دل روشن ہوجاتے ہیں ، زبانیں ندامت گناہ سے گنگ ہوجاتی ہیں زندگی پشیمان ہوجاتی ہے اعمال نادم اور خطائیں شرمندہ ہوجاتی ہیں روح کی آلائشیں ختم ہوجاتی ہیں تقدیر بدل جاتی ہے مقدر جاگ جاتے ہیں التجائیں آنسوؤں کا روپ دھار لیتی ہیں یہ تقدس پاکیزگی امن وسلامتی اور محبت واحترام کی جگہ ہے یہاں مہر وفا پانی بھرتے ہیں آسمان سر جھکاتے ہیں انوار وتجلیات کی بارش ہوتی ہے باران کرم برستا ہے سعادتوں اور برکتوں سے جھولیاں بھری جاتی ہیں یہاں کے ذرے ذرے مہہ پارے نظر آتے ہیں یہاں زمانے کے تاجور اہل تخت وتاج اور وقت کے فاتح سر بہ خم نظر آتے ہیں ارباب خرد سرگزشتہ وحیران ہوتے ہیں شوق محبت آتشیں ہوجاتا ہے بصارت بصیرت ہوجاتی ہے جذبے نثار جسم سراپا نیاز اور دھڑکنیں بے اختیار ہوجاتی ہیں ، نگاہیں گنبد خضراء کی طرف جاتی ہیں تو واپس نہیں آتیں وہیں قربان ہوجاتی ہیں یہاں ایک لمحہ صدیوں کی عبادت پر بھاری ہوتا ہے ( بارگاہ رسالت میں از متین خالد )

ایسی مقدس سر زمین کی حرمت کو پامال کرنا اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کی سنگینی کو الفاظ میں بیان کیا جانا ممکن نہیں ہے اور یہ حقیقت ہے کہ مدینہ منورہ کے تقدس کو  پامال کرنے والے کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے حدیث شریف کے مطابق جو کوئی مدینہ منورہ کے ساتھ سازش کرتا ہے وہ اس طرح پگھل جاتا ہے جیسے پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔ (شکوٰۃ شریف ) لیکن امت مسلمہ کو دشمنوں کی سازشوں سے آٓگاہ ہونا چاہیے آج نورالدین زنگی جیسے جیالوں کی ضرورت ہے جنہیں خواب میں روضہ انور سے متعلق ہونے والی سازش سے آگاہ کیا گیا تو وہ فوراً دمشق سے مدینہ منورہ پہنچے اور ان دو یہودیوں کو گرفتار  کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جو روضہ انور سے قریب قیام کرکے سرنگ کھود رہے تھے امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور حرمین شریفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کو اپنی سعادت سمجھے۔

مزید دکھائیں

سید احمد ومیض ندوی

مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث و صدر شعبہ دعوۃ جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد ہیں۔

متعلقہ

Close