مذہبی مضامین

مزاح ومذاق: حدود وآداب

 مفتی محمد رفیع الدین حنیف قاسمی

اسلام خشک مزاجی، دنیا سے باکل کنارہ کشی اور راہبانہ وزاہدانہ زندگی کی تعلیم نہیں دیتا کہ ہر قسم کی معاشرتی دلچسبیوں اور سماجی ہنگاموں ، آپسی اختلاط اور میل جول سے الگ تھلگ ہو کر گوشۂ تنہائی میں چپ سادھے، ساکت وصامت، خشونت، تھیکے پن اور پھیکے مزاج کے ساتھ صرف اپنے آپ کو اپنی دنیا میں مگن یا مصروف طاعات وعبادت رکھا جائے، نہ کسی سے کبھی مسکرا کر بات کی جائے نہ آپس میں کسی قسم کا مزاح مذاق کا تبادلہ ہو، اس قسم کی رہبانیت اور عزلت نشینی کی زندگی کی تو اسلام نفی کرتا ہے، اس کے مقابل نبیٔ کریم انے ا س مسلمان کو بہتر اور خوب تر قرار دیا ہے جو لو گوں سے اختلاط اور ربط وضبط رکھتا ہے، سماجی دلچسبیوں میں حصہ لیتا ہے اور لوگوں سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتا ہے اس مسلمان کے مقابل جو معاشرتی اور سماجی دلچسبیوں سے کٹ کر عزلت اور تنہائی میں زندگی گذارتا ہے، گوشۂ تنہائی کو اپنا لازمہ اور خاصہ بنائے ہوئے ہے۔

اسلام نے تو تفریحِ طبع، خوش مزاجی، انبساطِ قلب اور زندگی کی یکسانیت، طبیعت کی بوری اور خشکی کو دور کرنے لئے حدود میں رہ کر مزاح ومذاق کی بھی اجازت دی ہے، یعنی خوش وقتی اور تفریحِ طبع کے لئے آپس میں کبھی ایسے سنجیدہ اورظریفانہ کلمات کہہ لئے جائیں جس سے کسی کی عزتِ نفس پر چوٹ نہ پڑتی ہو، کسی کا وقار مجروح نہ ہوتا ہو، کسی کو جانی، مالی یا نفسیاتی نقصان در پیش نہ ہوتا ہو، اس طرح کی وقتی تفریح کے لئے لذت بخش مزاحیہ جملوں کے تبادلہ میں اسلام کوئی حرج نہیں سمجھتا، حضور اکرم ا اور آپ  اکے اصحابِ رسول کی زندگی میں اس قسم کے بے شمارپر لطف لمحات کی مثالیں ملتی ہے جو ایک طرف جائز مزاح وظرافت کا نمونہ ہیں تو دوسری طرف صداقت، حکمت ودانائی، دلداری ودل بستگی کا خزینہ بھی ہیں ، آپ کے اسی مزاح مذاق کے متعلق جب نبیٔ کریم اسے حضراتِ صحابہ نے دریافت کیا تو آپ انے فرمایا :اے اللہ رسول  ا!آپ بھی ہم سے مزاح کرتے ہیں ، آپ انے فرمایا : میں مزاح اور مذاق کرتا بھی ہوں تو حق ہی کہتا ہوں ’’انّی لاأقول الّا حقّاً ‘‘(ترمذی : باب المزاح : حدیث : ۱۹۹۰)

حضور اورحضراتِ صحابہ کے مزاح کے واقعات:

حضرت انسص سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم اابوطلحہ صکے پاس آئے، وہاں ان کے لڑکے کو جن کی کنیت ’’ابوعمیر ‘‘تھی غمزدہ دیکھا، فرماتے ہیں کہ : نبیٔ کریم اجب ان کو دیکھتے تو ان سے مذاق کرتے، آپ انے ان سے کہا : ابو عمیر ! میں تمہیں غمزدہ دیکھ رہا ہوں ، لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ا! جس پرندے (نغیر )سے وہ کھیلتے تھے وہ مر گیا، راوی کہتے ہیں : آپ ان سے کہتے : ’’یا أبا عمیر ! ما فعل النغیر ‘‘اے ابوعمیر ! تمہارے ’’نغیر ‘‘نامی پرندے کا کیا ہوا (سنن النسائی الکبری: التسلیم علی الصبیان والدعاء، حدیث : ۱۰۱۶۴)یعنی اس چھوٹے بچے کی دلداری اور اس کے پرندے کے مرجانے پر اس قسم کے مقفع مسجع جملوں کے ذریعے اس کی ڈھارس بندھوانا اورآپ ا اس کو تسلی دینا چاہتے تھے اور اس جملے کے مقفع اور مسجع ہونے پر ایک طرح یہ تفریحِ طبع کا سامان بھی تھا۔

ایک دیہاتی شخص تھے، ان کا نام زاھرص  تھا، وہ نبیٔ کریم  اکو دیہات کا ہدیہ دیا کرتے تھے، اور نبیٔ کریم  اان کے جانے کے وقت ان کو شہر کا ہدیہ دیا کرتے، آپ ایوں کہا کرتے : ’’انّ زاھراً بادیتنا، ونحن حاضروہ ‘‘زاہر ہمارے دیہات ہیں اور ہم ان کے شہر ہیں ، رسول اللہ اان سے بے پناہ محبت کرتے تھے، وہ نہایت بدصورت تھے، حضورا ان کے پاس آئے، وہ اپنے سامان بیچ رہے تھے، ان کو حضورا نے پیچھے سے اپنے سینے سے چمٹا لیا، وہ آپ کو دیکھ نہیں پارہے تھے، انہوں نے کہا : مجھے چھوڑ دو، تم کون ہو ؟ وہ پیچھے پلٹے اور حضورا  کو پہچان لیا، تو اپنی پیٹھ کو حضور اکے سینے سے اور لگانے لگے، رسول اللہا نے فرمایا : ’’من یشتری ھذا العبد؟ ‘‘اس غلام کوکون خریدے گا ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ا! تب تو میں بالکل معمولی قیمت میں چلا جاؤں گا، آپ انے فرمایا :’’لکن عند اللہ لستَ بکاسدٍ، أو قال : لکن عند اللہ غالٍ ‘‘(صحیح ابن حبان : باب المزاح والضحک، حدیث : ۵۷۹۰)یعنی تم اللہ کے معمولی قیمت کے نہیں ہو، یا کہا : تم اللہ کے یہاں بہت زیادہ قیمتی ہو۔ حضور اکرم انے ان کی دلداری اور دلبستگی اور ان کے کالے اور بد صورت ہونے کے باجود اپنی ان سے محبت اور لوگوں میں عند اللہ ان قدر وقیمت کو بتانے کے لئے بھرے بازار ان کی آنکھیں بند کی اور یہ ان کے غلام نہ ہونے کے باجود بھی ان کو مزاحاً غلام کہا، یہ سب دل بستگی اور دلداری اور آپ کے ا  مزاح کا معاملہ تھا۔

حضرت حسن صسے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ : ایک بوڑھیا نبیٔ کریم اکی خدمت میں آئی، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ا! اللہ سے دعا کیجئے کہ میں جنت میں چلی جاؤں آپ انے فرمایا : فلاں کی ماں ! جنت میں تو بوڑھیا نہ جائے گی، راوی کہتے ہیں کہ : وہ روتی ہوئی واپس جانے لگی، تو آپ انے فرمایا : اس سے کہو وہ بوڑھی ہونے کی حالت میں جنت میں نہ جائے گی’’أخبروھا أنّھا لا تدخلھا وھی عجوز ‘‘  اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ’’اِنَّا أَنْشَأْنَاھُنَّ اِنْشَاء ً فَجَعَلْنَاھُنَّ أَبْکَاراً ‘‘ (الشمائل المحمدیۃ : باب ما جا ء فی صفۃ مزاح رسول اللہ، حدیث : ۲۴۱)یہ اس عورت کو بھی حضور انے ازراہِ مزاح یہ کہا کہ : بوڑھیا جنت میں نہیں جائے گی اور یہ حقیقت بھی ہے کہ بوڑھیا بوڑھاپے کی حالت میں جنت میں نہیں جائے گی ؛ بلکہ جوان ہو کر جائے گی، اس کی میں ایک حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس میں مزاح کا پہلو بھی ہے۔

حضرت انس صسے روایت ہے کہ ایک صاحب رسول اللہ اکی خدمت میں حاضر ہوئے اور سواری طلب کی (یعنی کوئی اونٹ ایسا دیا جائے جو انہیں منزل مقصود تک پہنچادے )حضور اکرم  انے فرمایا : میں آپ کو اونٹنی کے بچے پر سوار کردوں گا، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ا! میں آپ سے اونٹی کا بچہ لے کر کیا کروں گا؟ حضور اکرم انے فرما یا: اونٹ کو اونٹنی کے علاوہ کون جنم دیتا ہے ’’ھل تلد الابل الّا النوق ‘‘(الأدب المفرد : باب المزاح، حدیث : ۲۷۹)(ظاہر ہے اونٹ اونٹنی کے پیٹ سے نکلتا ہے، اس کو اونٹ کا بچہ کہنا صحیح ہے اور اس میں ایک طرح کی تفریح بھی ہے کہ سننے والے یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی اونٹنی کا نومولود بچہ ہے اس پر بٹھا دیں گے )

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا ان کو ’’یا ذا الأذنین ‘‘کہہ کر پکارتے تھے (ابوداؤد : باب ما جاء فی المزاح، حدیث : ۵۰۰۲)یہاں پر بھی ایک تو مزاح مقصود ہے اور دوسرے اس بات پر توجہ دلانا ہے کہ اللہ نے دو وکان اس لئے دئے ہیں کہ کسی بھی بات کوبغور سنا جائے۔

ام ایمن نامی ایک عورت خدمت اقد س امیں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ا! میرے شوہر آپ اکو بلاتے ہیں ، آپ انے فرمایا : کون وہی جن کے آنکھ میں سفیدی ہے ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ان کی آنکھ میں تو سفیدی نہیں ہے، آپ انے فرمایا : کیوں نہیں ان کے آنکھ میں تو سفیدی ہے، اس عورت نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ان کے آنکھ میں سفیدی نہیں ہے، تو آپ انے فرمایا: بھائی کوئی ایسا ہوتا ہی نہیں جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہوتی ہو ’’ما من أحد الّا وبعینہ بیاض ‘‘(الشفا : ۲؍۱۸۸)یہاں پر بھی آپ انے لطیف مزاح فرمایا جس کو وہ عورت نہ سمجھ سکی اور اس نے اس کو حقیقت پر محمول کیا کہ آپ ااس کے شوہر کی کسی آنکھ کی کمی کی طرف اشارہ کررہے ہیں ؛حالانکہ کہ آپ اوہی سفیدی مراد لے رہے تھے جو ہر کے ایک آنکھ میں ہوتی ہے۔

صحابہ کے مزاح ومذاق کے واقعات :

٭حضراتِ صحابہ بھی اس قسم کا مزاح فرمایا کرتے تھے، حضرتِ عوف بن مالک اشجعی کو پتہ تھا کہ آپ الطیف اور حقیقت پر مبنی مزاح کو منع نہیں کرتے اور نہ اس کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ، ایک دفعہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ میں غزوۂ تبوک کے موقع سے رسول اللہ اکے پاس آیا، آپ ا چمڑے سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے قبہ میں تشریف فرماتھے، میں نے وہاں آکر آپ اکو سلام کیا تو آپ انے فرمایا : اندر آجاؤ، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ا! پورا کا پورا آجاؤں ، تو آ پ انے فرمایا : پورے آجاؤ ’’أکلّی یا رسول اللہ، قال: کلّک‘‘تو میں اندر چلاگیا (ابوداؤد : باب ما جاء فی المزاح، حدیث : ۵۰۰۲)

حضرت بکر بن عبدا للہصسے روایت ہے کہ رسول اللہ ا کے بعض اصحاب خربوز کی قاشیں ایک دوسرے پر پھینکتے، یہ ایک طرح کا تفریحی کام تھا ؛ لیکن جب کوئی مسئلہ تحقیق طلب ہوتا تو یہی لوگ جو آپس میں ہنسی مذاق کرتے مردانِ کار ہوتے تھے ’’یتبادحون بالبطّیخ فاذا کانت الحقائق کانوا ھم الرجال ‘‘(الأدب المفرد : باب المزاح: حدیث : ۲۶۶)

یعنی ان کی آپس میں تفریحات یا ہنسی مذاق کے جملوں سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ حضرات ہمیشہ غیر سنجیدہ کھیل اور تفریح کی حرکتیں کیا کرتے تھے، واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے پایہ کے محقق، حق گو، راست گفتار بزرگ تھے، اور ایسا نہیں تھا کہ ہر وقت چہروں پر خشونت، خشکی برستی ہو اور اپنے آپ کو عوام سے بلند دکھانے کے لئے نہ کبھی مسکراکر بات کرتے ہوں اور نہ کسی تفریح میں حصہ لیتے ہوں ، ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مذاق کرنے میں سامنے والی کی تحقیر نہ ہو، اس کی آبروریزی نہ ہو اور بے ہودگی اور بے حیائی کا کوئی رنگ نہ ہو، خلافِ واقعہ یا جھوٹی بات نہ کہی جائے، اس طرح کے مزاح کی شرعاً اجازت ہے۔

مزاح اور دل لگی کی حد ود کیا ہوں ؟

(۱)  دین کا مذاق نہ اڑایا جائے :

اس بارے میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ’’وَلَئِنْ سَأَلْتَھُمْ لَیَقُوْلَنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِا اللّٰہٰ وَاٰیَاتِہِ وَرَسُوْلِہَ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِؤُنَ لَا تَعَتَذِرُوْا الْیَوْمَ قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ (التوبۃ : ۶۵۔ ۶۶)اور اگر تم ان سے پوچھو تو وہ ضرور کہیں گے، ہم تو صرف دل لگی اور کھیل کرتے ہیں ، آپ کہہ دیں :کیا تم اللہ اور اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ؟ بہانے نہ بناؤ، تو اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔

علامہ ابن تیمیہ  ؒ فرماتے ہیں کہ : ’’جوشخص اللہ اس کی آیتوں اور اس کے رسول کا استہزاء اور مذا ق کرتا ہے وہ کافر ہے ‘‘جیسا کہ آج کل حضور اکی سنتوں کو استخفاف اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، داڑھی، پردہ اور ٹخنے سے نیچے پائجامہ پہنے والے کا استہزاء کیا جاتا ہے، اس سے بچنا چاہئے کہ کہیں ہمارا شمار عنداللہ کافروں میں نہ ہوجائے۔

(۲)  مذاق میں بھی سچ ہی کیا جائے :

مذاق کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذاق میں جھوٹ بھی کہنا بھی جائز ہے، ہمارے معاشرہ میں مذاق میں جھوٹ کہنے بہت رواج ہے، مثلاً : کسی کے گرنے پر کہتے ہیں : تمہارے پیسے گر گئے، حالانکہ اس کے پیسے وغیرہ گرے ہوئے کچھ بھی نہیں ہوتے کہ وہ چونک کر جلد ادھر اُدھرکی تلاشی لی، یا کسی کی آمد کی انتظارہو تو اچانک یو ں ہی مزاحاً یہ کہہ اٹھیں کہ : فلاں آگئے !حالانکہ کوئی آیاہوا نہیں ہوتا، نئی تہذیب نے اس قسم کے مذاق کو ’’اپریل فول ‘‘کا نام دے دیا ہے کہ اپریل کی پہلی تاریخ کو مزاحاًجھوٹ کہنے کو جائز کہا جاتا ہے ؛ حالانکہ مزاحاً جھوٹ کہنے پر حضور نے سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں : اس کے لئے بربادی ہے جولوگوں کوہنسانے کے لئے جھوٹ بولے، اس کے لئے تباہی ہو، اس کے لئے تباہی ہو ’’ویل لہ ویل لہ ‘‘(ابوداؤد : باب من یأخذ الشیٔ من مزاحٍ، حدیث : ۵۰۰۳)

حضور اکرم انے فرمایا : ’’میں اس کے لئے جنت کے درمیان ایک گھر کی ضمانت لیتا ہوں جو مذاق میں بھی جھوٹ کو ترک کردے، ’’أنا زعیم ببیت فی وسط الجنّۃ لمن ترک الکذب ان کان مازحاً ‘‘(شعب الایمان : فصل فی المزاح : حدیث : ۵۲۴۳)

(۳)  مذاق میں کسی کو گھبراہٹ میں مبتلا نہ کیا جائے :

مذاق میں کسی کو خوف زدہ کردینا اور اس کو اچانک پریشان کردینا، یااس کو گھبراہٹ میں مبتلا کردینا، اس طرح پر کہ اس کی کوئی چیز چھپادیں ، یا کسی کو غفلت کی حالت میں ڈرا دیں ، آپ انے اس قسم کے مذاق کوجس میں کسی مومن کو تکلیف ہو سختی سے منع فرمایا ہے۔

ابن عباسص سے روایت ہے کہ : اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو اور نہ اس سے (ایسا )مذاق کرو(جس سے اس کو تکلیف پہنچے )اور نہ ایسا وعدہ کرے جس کو پورا نہ کر سکو ’’لا تمار أخاک ولا تمازحہ وتعدہ موعداً فتخلفہ ‘‘(ترمذی : باب ما جاء فی المراء : حدیث : ۱۹۹۵)

نبیٔ کریم اکا ارشاد گرامی ہے کہ : تم کا کوئی شخص اپنے بھائی کے سامان کو نہ حقیقت میں لے اور نہ مزاق میں لے، اگر کوئی شخص کسی کی لاٹھی لے تو اسے لوٹادے ’’فاذا أخذ أحدکم عصا صاحبہ فلیردھا الیہ ‘‘(ابوداؤد : باب من یأخذ الشیٔ علی المزاح، حدیث : ۵۰۰۳)

 ایک روایت میں ہے کہ نعمان بن بشیرص روایت کرتے ہیں کہ : ہم ایک سفر میں رسول اللہ اکے ساتھ تھے، ایک شخص کو اس کی سواری پر اونگھ آگئی، ایک دوسرے شخص نے اس کے ترکش سے  تیر نکالا، وہ آدمی اچانک بیدار ہو کر گھبرا گیا تو آپ  انے فرمایا : ’’لا یحلّ لرجلٍ أن یروّع مسلما‘‘کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کردے( مجمع الزوائد : باب فیمن اخاف مسلماً، حدیث: ۱۰۵۲۹)

(۴)کسی کا ٹھٹا نہ کرے :

اللہ عزوجل نے لوگوں کو مختلف العقول بنایا ہے، کسی کی حس اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت قوی ہوتی ہے اورکوئی اس بارے میں کمزور اور ضعیف العقل ہوتا ہے، بعض لوگ اس کی ان کو کمزوری کو موـضوعِ بحث بنائے رہتے ہیں اور اس کا تمسخر کرتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مومن کامل ہو، وہ اللہ عزوجل اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ دوسرے کا ٹھٹا اور مذاق کر ہی نہیں سکتا، کسی کا مذاق اڑانا، اس کو حقارت آمیز الفاظ سے ملقب کرنا اس کے پسِ پردہ کبر وغرور، اپنی بڑائی اور عظمت کا احساس مخفی ہوتا ہے اور یہ در اصل اللہ عزوجل کے یہاں بڑائی اور عظمت کے پیمانوں سے ناواقفیت اور جہالت کا نتیجہ ہوتا ہے، ارشاد خداوندی ہے : ’’لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَیٰ أَنْ یَکُوْنُوْا خَیْراً مِنْھُمْ وَلَا نِسَائٌ مِنْ نِسَائٍ عَسَیٰ أَنْ یَکُنَّ خَیْراً مِنْھُنَّ ‘‘(الحجرات : ۱۱)ایک گروہ دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں کیا عجب ! کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ، کیا عجب ! کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔

اللہ عزوجل کے یہاں بھلائی، اچھائی اور خوبی کا معیار تو ایمان، اخلاص اور اللہ عزوجل کے ساتھ لگاؤ اور وابستگی ہے، جسموں ، صورتوں کی خوبصورتی، مال ودولت، عزت وحشمت ان کی اللہ عزوجل کے یہا ں کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ، ارشادِ نبوی ہے : انّ اللہ لا ینظر الی صورکم ولا أموالکم ولٰکن ینظر الی قلوبکم وأعمالکم ‘‘(المسلم: باب تحریم ظلم المسلم، حدیث : ۲۵۶۴)اللہ عز وجل تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتے، وہ تو تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتے ہیں ۔

(۵)  مزاح ومذاق کی کثرت نہ ہو :

مذاق کے جواز کا مطلب یہ نہیں ہے اس کو عادت سی بالی جائے اور ہر وقت مذاق کیاجائے اسکی وجہ سے آدمی کا وقار اور اس کا رعب وعب چلا جاتا ہے، اور یہ عموماً ایذا رسانی کا باعث بنتا ہے، جس کی وجہ سے کینہ، بغض اور حسد جیسے خبیث امراض طرفین میں پیدا ہوجاتے ہیں ، اور دل بے حسی اور پژمردگی کا شکار ہوجاتا ہے، حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں : ’’جوشخص بکثرت مزاح ومذاق کرتاہے تو وہ بے حقیقت اور بے حیثیت ہوجاتا ہے ’’من کثر مزاحہ استخف بہ ‘‘اور جو شخص جس چیز سے بکثرت شغل رکھتا ہے وہ اسی سے جانا جاتا ہے‘‘  (شعب الایمان : فصل فی المزا ح: ۵۲۴۶)

(۶)  لوگوں کی حیثیت اور قدر کا پتہ لگائے :

کسی سے مذاق کرنا ہوتو سب سے پہلے یہ پتہ لگائے کہ کس سے مذاق کررہا ہے، نہ یہ کہ ہر کس وناکس کے ساتھ اس کے رتبہ اور حیثیت کا پتہ لگائے بغیرمذاق کرنا شروع کردیں ، عالم کا حق اداکرنا ہے، بڑے کی عزت کرنا ہے، بوڑھے کی توقیر کرنا ہے، اسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا : کم مذا ق کیا جائے، چونکہ مزاح اور مذاق کی زیادتی اس کے حسن اور خوبصورتی کو لی جاتی ہے اور بیوقوف تم پر جری ہوسکتے ہیں ’’ویجرّیٔ علیک السفھاء ‘‘

(۷)اس میں کسی کی غیبت نہ ہو  :

مذاق اس حد تک نہ ہو کہ اس میں کسی کی غیبت اور چغلی کی جارہی ہے، اس کو ضرور ملحوظ رکھا جائے، بعض لوگ غیبت کرتے ہیں ؛لیکن اس پر مذاق وغیرہ کا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، حالانکہ نبیٔ کریم انے غیبت کی تعریف ہی یوں فرمائی کہ : تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز سے کرو اس کو برا لگے ’’ذکرک اخاک بما یکرہ ‘‘(مسلم )

بہرحال شریعت نے مزاح ومذاق کی اجازت تو ضرور دی ہے، پر اس کے لئے ان شرائط اور حدود کا لحاظ کرنا ضروری ہے، ورنہ ہم اس کو مذاق ہی سمجھتے رہتے ہیں ، حالانکہ ہمارا یہ مذاق شریعت کے سرحدوں کو پار کرچکا ہوتا ہے، ہمیں اس کا پاس ولحاظ بھی نہیں ہوتا۔

مزید دکھائیں
Close