مذہبی مضامین

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے!

  مفتی محمد صادق حسین قاسمی

 رمضان المبارک کا رحمتوں اور برکتوں والامہینہ گزرچکا ہے ،رمضان المبارک کے آنے کی جتنی خوشی ایک مسلمان کو ہوتی ہے اور جس طرح اس کی آمد کا انتظار کیا جاتا ہے ،رمضان المبارک کے چلے جانے بعد اور ہم سے رخصت ہونے کے بعد افسوس وملال بھی ہوتا ہے۔رمضان المبارک کی برکت سے ایک مسلمان کچھ نہ کچھ عبادت انجام دینے کی فکر وکوشش میں لگارہتا ہے۔ماہِ رمضا ن کا چاند نظر آتا ہے تو ہماری مسجدیں آباد ہوجاتی ہیں ،نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے،صفیں کم پڑنے لگتی ہیں ،مسجدیں بھری بھری نظر آنے لگتی ہے ،لیکن جیسے ہی شوال کا چاند نظر آتا ہے مصلیوں کی تعدا دگھٹ جاتی ہے ،مسجدیں نمازیوں سے خالی ہوجاتی ہیں ،اور پھر ایک ایسا ماحول چھاجاتا ہے کہ گویا مسجدوں سے مسلمانوں کا کوئی تعلق ہی نہیں ،وہ اللہ کے بندے نہیں ،بلکہ صرف رمضان کے مسلمان تھے.

ہمیں یہ بات ذہن ودماغ میں پیوست رکھنی چاہیے کہ رمضان المبارک صرف ایک مہینہ کی عبادت کرواکر چلے جانے کے لئے نہیں آیا تھا ،چند دنوں کے نماز وروزہ کا پابند بنانے کے لئے نہیں آیا تھا،اور نہ ہی موسمی اور رواجی مسلمان بناکر مسلمانوں کی فہرست میں نام درج کروانے کے لئے آیا تھا بلکہ رمضان  المبارک کے ذریعہ مومن کی جو تربیت کی جاتی ہے اور عبادات کے سانچے میں جو ڈھالا جاتا ہے ، احکامات کی پابندی اور شریعت کی پیرو ی کا جو ذہن بنایا جا تا ہے ،من مانی زندگی چھوڑ کر رب چاہی زندگی گذارنے کے ذوق کو جو پروان چڑھایا جاتا ہے ،اس کو ہمیشہ کے لئے مضبوط کر نے اور ایمان کی بھٹی کو ہمیشہ گرم رکھنے اور سال پورا اور زندگی بھر رمضان جیسی ہی اطاعت و عبادت کے ساتھ گذارنے کا پیغام دینے کے لئے آتا ہے ۔کسی نے کیا پیار ی بات کہی ہے کہ:

من کان یعبدرمضان؟جو لوگ رمضان کی عباد ت کررہے تھے؟

فان رمضان قد رحل !(سن لیں !) رمضان رخصت ہوچکا ہے۔

ومن کان یعبد اللہ !اور جو اللہ کی عباد ت کررہے تھے۔

فان اللہ باق حی لایموت!(جان لیں کہ !)بیشک اللہ باقی رہنے والاہے،ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ،جسے فنا نہیں ۔

فالصوم لن ینتھی!پس روزہ ہرگز ختم نہیں ہوا۔

والقراٰن لن یرحل!قرآن ہرگز بھی چلا نہیں گیا۔

والمساجد لن تغلق !مسجدیں قطعی بند نہیں ہوگئیں ۔

والاستجابۃ لن تتوقف!قبولیت بالکل بھی موقوف نہیں ہوگئی۔

والاجر لن ینقطع!اورہرگزبھی اجر کے کمانے کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔

اعبد ربک حتی یاتیک الیقین!اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ موت آجائے۔

کن ربانیاولاتکن رمضانیا!اللہ والے بن جاؤ،رمضانی مسلمان نہیں !

مفکراسلام مولاناسید ابوالحسن علی ندوی ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک بات یہ بھی ہے کہ یہاں سے رمضان ختم ہونے کے بعد آپ یہ نہ سمجھیں کہ چھٹی ہوگئی ،اب ہم آزاد ہیں ،جوچاہیں کریں ،ہر گز ایسا نہیں ہے،آپ آزادبالکل نہیں ہیں ،آپ کے گلے میں اسلام کا طوق پڑا ہوا ہے ،آپ کی تختی ،آپ کے شناختی کارڈ پر لکھا ہوا ہے کہ آپ مسلمان ہیں ،اللہ تعالی کے یہاں ا س روزہ کا حساب ہوگا اور اُس روز ہ کا بھی حساب ہوگا ۔جو چیز حرام ہے قیامت تک حرام رہے گی،دنیا میں کسی کو اجازت نہیں ،اور نہ اس کے لئے مجال ہے کہ اس میں ترمیم کرے۔‘‘

اللہ تعالی کو وہ بندے پسند ہیں جو استقامت اور مداومت کے ساتھ اعمال کو انجام دیتے ہوں اور رب کی اطاعت وفرماں برداری میں ہمیشہ لگے رہتے ہوں ۔قرآن کریم میں ایسے بندوں کو بشارتیں دی گئیں ۔ارشادہے:

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملائکۃ الاتخافوا ولاتحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون ۔( حم السجدۃ:30)

’’جن لوگوں نے کہاکہ :’’ہمارا رب اللہ ہے‘‘اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے تو بے شک فرشتے ( یہ کہتے ہوئے ) اتریں گے کہ :نہ کوئی خوف دل میں لاؤ،نہ کسی بات کا غم کرو،اور اس جنت سے خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیاجاتا تھا۔‘‘

ہماری ذمہ داری ہے کہ مسجدوں کو سدا آباد رکھیں ،رشتہ ٔ عبدیت کو کسی بھی صورت میں کمزور ہونے نہ دیں ،اللہ تعالی کی اطاعت اور نبی ﷺ کی پیروی کو پوری زندگی کا لازمی جز وبنالیں ،اسی میں ہماری کامیابی اور یہی طریقہ ٔ نجات وسعادت ہے۔رمضان المبارک کے ذریعہ اسی کی تربیت کی گئی اور مسلمانوں کو عبادتوں کا خوگر بنایا گیا ،لیکن ہم نے یہ سمجھا کہ رمضان بھر بہت پابندیاں کرلیں ہیں لہذا پھر آئند ہ رمضان تک آزادیوں کے ساتھ جئیں گے،یہ روش نہایت غلط اور یہ طرزِ عمل احسان مندی والا نہیں بلکہ بغاوت ونافرمانی والا ہے۔

اس وقت پورے عالم کے مسلمان کن حالات سے گزررہے ہیں ہم جانتے ہیں اور بالخصوص ہمارے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ جوسلوک وبرتاؤ کیا جارہا ہے وہ بھی ہمیں معلوم ہے ،ظلم وستم برپا ہے ،قتل وخون زیری پر دشمن آمادہ ہے ،خون آشام بھڑئیے انسان روپ میں دندناتے پھررہے ہیں ،بہانہ اور بے بہانہ مارنے ،ستانے ،پریشان کرنے اور جان ومال کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ،ایسے سخت حالات میں تو ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہم اپنے تعلق کواپنے پروردگار سے مضبوط کریں ،اپنی مساجد کو آباد رکھیں ،دعا ومناجات کے ذریعہ مدد ونصرت کے طلب گار رہیں ،احکام ِ شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ عمل کریں تاکہ ہمارے دشمن ہماری عملی کمزوریوں کو دیکھ احکامِ اسلام پر قد غن لگانے کا مطالبہ نہ کرسکے،ہماری ایمانی کمیوں کو دیکھ اسلام کے خلاف سازش نہ کرسکے۔مسجدیں ہمارے لئے ایمانی قوت وطاقت کے مرکز ہیں ،اصلاح اور ہدایت کے سرچشمے ہیں ،مسجدوں سے اگر ہم مربوط رہیں گے تو ان شاء اللہ اصلاح وہدایت کا فیض بھی ہم کو ملتے رہے گا ،احساسِ عبدیت وبندگی بھی ہر وقت تازہ رہے گا،اعمال کے انجام دینے میں فکر مندی رہے گی ،قرآن وسنت کی تعلیمات بھی زندگیوں میں آئیں گی،اخوت ومحبت ،ایثار وہمدردی کا مزاج بھی پروان چڑھے گا،دنیا اور مسلمانوں کے حالات سے بھی باخبر رہیں اور حالات وتقاضوں کے لحاظ سے لائحہ ٔ عمل طے کرنے کچھ کرنے کی راہیں بھی سامنے آئیں گی ۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مساجد کو پابند ی سے آنے والے بہت ساری چیزوں میں ان لوگوں سے سبقت کرتے ہیں جن کا تعلق مسجدوں سے بہت کمز و ر رہتا ہے،اور جو لوگ ہفتہ میں ایک بار اور مہینہ وسال میں کبھی کبھار حاضری دلانے آتے ہیں ان کے اندر امت کے تئیں فکر واحساس زیادہ نہیں ہوتا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:

انما یعمر مساجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ فعسی ان یکونوا من المھتدین۔( التوبۃ:18)

’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ پر اور یوم ِآخرت پر ایمان لائے ہوں ،اور نماز قائم کریں،اور زکوۃ اداکریں ،اور اللہ کے سواکسی سے نہ ڈریں ۔ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔‘‘

اس لئے یہ ضروری ہے کہ اب جب کہ ماہ ِ رمضان ہم سے رخصت ہوگیا توکسی بھی طرح ہم اپنے تعلقات کو اپنی مساجد سے کمزور نہ کریں ،پورے اہتمام کے ساتھ مسجدوں میں حاضر ہوں ،عبادتوں کو انجام دینے کی فکرکریں ،اور صرف اپنے آپ کو رمضان کا مسلمان نہ سمجھیں بلکہ پوری زندگی کا مسلمان بنائیں ،اور ہر آن وہر گھڑی اللہ کے احکام اور نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے والے بنیں ۔ورنہ پھریہ شکوہ بجا ہوگا کہ:

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close