مذہبی مضامین

مسجد کا مقام و مرتبہ

تحریر: مولانا محمد اسلم ۔۔۔ ترتیب: عبدالعزیز
پہلے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ مسجد کا مقام کیا ہے؟ مسجد کی حیثیت و اہمیت کیا ہے؟ جب یہ معلوم ہوجائے گا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں مسجد کا مرتبہ کیا ہے؟ تو پھر انشاء اللہ مسجد تعمیر کرنا، اسے بناناسنوارنا، اسے آباد کرنا، آسان ہوجائے گا اور پھر اس کے تقاضہ کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے اسے انجام دینا آسان ہوجائے گا۔
مسجد وہ مقدس جگہ ہے جہاں خدائے وحدہٗ لاشریک کی عبادت کی جاتی ہے، اس کی یاد کی جاتی ہے، زمین کے جو سب سے مبارک حصے ہیں، سب سے اچھے حصے ہیں، سب سے قیمتی حصے ہیں، وہ مسجدوں کے نام سے جانے جاتے ہیں؛ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے:
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شہروں میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ جگہ وہاں کی مسجدیں ہیں اور شہروں میں سب سے ناپسندیدہ جگہ وہاں کے بازار ہیں‘‘۔ (رواہ مسلم)
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے: خَیْرُ الْاَمَاکِنِ مَسَاجِدُہَا وَ شَرُّ الْاَمَاکِنِ اَسْوَاقُھَا۔ ’’زمین کی بہترین جگہوں میں مسجدیں اور بری جگہوں میں بازار ہیں‘‘۔
ان احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمین میں سب سے مبارک اور مقدس جگہ مسجد کی ہے؛ چنانچہ مسجد حرام کی اہمیت سے کون ناواقف ہوگا، صبح و شام پانچوں وقت اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں، وہاں کعبۃ اللہ ہے، ہر سال حاجی صاحبان وہاں جاتے ہیں، طواف کرتے ہیں اور خوب مسجد حرام کا روحانی لطف اٹھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے زمین میں سب سے پہلے سب سے مقدس جگہ کعبہ کو بنایا۔ اسی کے اطراف و جوانب کے محدود حصہ کا نام مسجد حرام ہے۔ آج پوری دنیا کی تمام مساجد مسجد حرام ہی کا پَرتو ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ سب سے زیادہ ثواب مسجد حرام ہی کا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی نے اپنے گھر میں جو نماز پڑھی وہ بس ایک نماز ہے، اور اس نے جو محلہ کی مسجد میں نماز پڑھی وہ پچیس نمازوں کے برابر ہے، اور اس نے جامع مسجد میں جو نماز پڑھی وہ پانچ سو نمازوں کے برابر ہے، اور اس نے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) میں جو نماز پڑھی وہ پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، اور اس نے میری مسجد (مسجد نبویؐ) میں جو نماز پڑھی وہ بھی پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، اور اس نے مسجد حرام (مکّۃ المکرمہ)میں جو نماز پڑھی وہ لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ)
اللہ پاک سب کو قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔
نمازی اللّٰہ کا مہمان ہے: اللہ کا ایک بندہ مسجد میں آکر نماز ادا کرتا ہے تو اس نے ایک فرض ادا کیا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ اللہ اپنے گھر میں آنے والے کا اعزاز فرماتے ہیں، اس کی ضیافت کرتے ہیں کیونکہ مسجد اللہ کا گھر ہے اور گھر والا میزبان ہوتا ہے اور آنے والا مہمان ہوتا ہے؛ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کو مسجد میں جائے یا شام کو جائے تو اللہ اس کی مہمانی تیار رکھے گا خواہ وہ جب بھی جائے، صبح کو یا شام کو‘‘۔ (متفق علیہ)
مہمانوں کے بھی درجے ہوتے ہیں: اور یہی نہیں بلکہ اللہ کے یہاں مہمانوں کے درجے اور مرتبے ہیں، کچھ لوگ بہت دور سے آتے ہیں، کچھ بہت قریب سے آتے ہیں۔ کچھ بہت پہلے مسجد میں آجاتے ہیں، کچھ بہت بعد میں آتے ہیں۔ ان سب کے درجے اور مرتبے اسی حساب سے ہیں، چنانچہ حدیث میں آتا ہے: ’’حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں نماز کے ثواب کے اعتبار سے بڑے درجے کا آدمی وہ ہے جو ان میں سب سے دور کا ے کہ اس کو سب سے زیادہ چلنا پڑتا ہے اور جو شخص نماز کیلئے ٹھہرا رہے ، یہاں تک کہ امام کے ساتھ اس نماز کو پڑھے تو ثواب کے اعتبار سے اس کا درجہ اس شخص سے بڑا ہے جو نماز پڑھ لے اور سو جائے‘‘۔
مسجد پوری امت کا اسلامی مرکز ہے: یہ چند احادیث و روایات جو پیش کی ہیں ان سے مسجد کا مقام و مرتبہ خوب اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے اور اس موضوع پر تو احادیث میں ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اور کیوں نہ ہو اللہ کا گھر پوری امت کا ایمانی، اسلامی اور روحانی مرکز ہوتا ہے۔ وہاں اللہ کی یاد سے دلوں کو گرمایا جاتا ہے۔ سینوں میں معرفت حق کی آگ لگائی جاتی ہے۔ وہاں اللہ کی فرماں برداری اور اطاعت گزاری کے عہد و پیماں کئے جاتے ہیں، پروردگارِ عالم سے رحمت و مغفرت کی بھیک مانگی جاتی ہے، خالق کون و مکان کے جاہ و جلال کے آگے خشیت و انابت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
یہی اللہ کا گھر امت مسلمہ اور دین اسلام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعیت اور اجتماعی قوت کی بنیاد مسجد میں ہوتی ہے، باہمی اخوت و محبت اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی صورتیں یہیں سے نکلتی ہیں۔ مساوات کا بے مثال منظر یہیں پیش ہوتا ہے۔ ؂
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز ۔۔۔ نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
نبی اکرمؐ کے زمانہ میں مسجد کا مقام: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد اسلامی سیاست و قیادت کا پارلیمنٹ اور مرکز ہوتی تھی۔ دین حق کے تمام امور یہیں انجام دیئے جاتے تھے۔ یہیں تعلیم و تربیت کی درسگاہیں لگتی تھیں۔ جن سے عالمی سطح کے نامور علماء، فضلاء، اکابرین، مفسرین، محدثین، جیّد فقہاء اور صوفیاء نکلتے تھے۔ یہی مسجد عدالتِ عالیہ ہوتی تھی جہاں ایسے ایسے بے نظیر فیصلے ہوتے کہ آج جن کی مثال دنیا کی عظیم ترقی یافتہ عالیشان عدالتیں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
تعمیرِ مسجد: مسجد کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کے ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت پوری کرنے سے پوری کرے۔ یہ نہ صرف اپنی ضرورت ہے بلکہ پوری ملت اور امت کی حاجت ہے۔ اللہ سے ڈرنے والے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنے والے اس کارِ خیر میں پیچھے نہیں رہ سکتے۔
مسجد کی تعمیر جنت میں اپنا گھر بنانا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس نے اللہ کیلئے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں ایک گھر بنائے گا‘‘۔ کتنا آسان ہے نیکی میں سبقت کرنے والوں کیلئے جنت میں اپنا مکان بنالینا۔
مدینہ میں حضورؐ کا سب سے پہلا کارنامہ: ہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ میں یہ فعل مقدم دیکھا ہے؛ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکۃ المکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینۃ المنوّرہ تشریف لائے تو آپ نے کسی بیوی کا حجرہ نہیں بنایا، اپنے لئے کسی مکان کی تعمیر کی فکر نہیں بلکہ محبوب رب العالمین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ کا گھر بنایا۔ آج جسے ہم مسجد نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام کہتے ہیں۔
تاریخ مسجد نبویؐ: یہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی جن کا نام سہل اور سہیل تھا۔ یہ دونوں زرارہ بن ربیع کی پرورش و کفالت میں رہا کرتے تھے۔ آپ نے ان سے دس دینار میں یہ زمین کا ٹکڑا خریدا تھا جس کی رقم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ادا کی۔ محسن انسانیت کی زبانِ مبارک سے نکلا ’’ابوبکر جب تک اس مسجد میں عبادت اور نماز ہوتی رہے گی (یعنی) قیامت تک اس کا ثواب تیرے حصے میں لکھا جاتا رہے گا، تیری قبر پر رحمت برستی رہے گی‘‘۔
مسجد کی تعمیر صدقۂ جاریہ ہے: مسجد کی تعمیر ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب ابن آدم (انسان) مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے مگر تین چیزیں‘‘ یعنی جب تک زندگی ہے انسان اچھے یا برے عمل کرنے پر قادر ہے، روح نکلتے ہی عمل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر آدمی اس حیاتِ فانی میں کوئی صدقۂ جاریہ کرکے جائے تو مرنے کے بعد بھی یہ عمل لکھا جاتا رہے گا، مثلاً کسی نے پانی کا کل (ٹیوب ویل) لگوادیا، کنواں بنوا دیا، مدرسہ میں کمرہ بنوا دیا، راستہ بنوا دیا اور مسجد بنوا دی۔ جب تک یہ چیزیں باقی رہیں گی برابر ثواب ملتا رہے گا۔
کسی نے مسجد میں رقم لگائی، کسی نے جان لگائی، کسی نے اس کے بنانے کی فکر کی، کسی نے اینٹ پتھر اٹھا اٹھاکر دیئے۔ بندگانِ خدا جب تک سجدہ ریز ہوتے رہیں گے، اعتکاف کرتے رہیں گے، دوسری عبادات اللہ کے گھر میں انجام دیتے رہیں گے تو حصہ لینے والوں کو ثواب ملتا رہے گا۔ قیامت تک جتنے سجدے ہوں گے ، لاکھوں کروڑوں سجدوں کا اجر حصہ لینے والوں کو ملتا رہے گا۔
سیدنا حضرت عمرؓ کا سب سے بڑا کارنامہ: خلیفۂ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں نہ ایوانِ خاص بنوایا، نہ ایوانِ عام، نہ پارلیمنٹ ہاؤس، نہ گیسٹ ہاؤس، نہ ریسٹ ہاؤس بلکہ فاروق اعظمؓ نے پانچ ہزار مسجدیں اور نو سو جامع مسجدیں بنوائیں۔
مسجد کی تعمیر اور اس کی خدمت بہت اونچا عمل ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اللہ کے گھر میں روشنی کا انتظام کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت تک اس کی قبر کو نور سے روشن رکھے گا‘‘۔ ’’جو شخص مسجد میں چٹائی اور قالین کا انتظام کرے گا خدا تعالیٰ اس کو (اپنے ہاتھوں سے جنت کا) سبز لباس پہنائیں گے‘‘۔
ہمیں اپنے بنگلہ، اپنے قلعے، اپنے محلات بنانے کا بہت شوق ہے۔ لاکھوں، کروڑوں روپئے بے دریغ خرچ کردیں گے۔ محلہ میں مسجد ہے چکر پر چکر لگواکر دوچار سو روپئے دیں گے؛ حالانکہ مال اللہ کا دیا ہوا ہے اور مسجد اللہ کا گھر ہے تو اللہ کا دیا ہوا اللہ کے گھر میں لگ جائے تو کیا حرج ہے؟
شاہانِ ہند کے جلیل القدر کارنامے: شاہجہاں نے شاہی قلعہ کے سامنے مسجد بنوائی، اس کے پتھر ایران سے منگوائے، یہ شاہی مسجد چودہ ایکڑ میں ہے۔ اورنگ زیب نے کہاکہ قلعہ کے دروازے کے سامنے مسجد بنا دو تاکہ میں نکلوں تو میرے پہلی نگاہ مسجد پر پڑے، میرا پہلا سفر اللہ کے گھر سے ہو۔ قلعہ کے اندر موتی مسجد بنوائی۔ جب سنگ بنیاد رکھنے کا وقت آیا تو اعلان کرا دیا۔ سات ہزار آدمی جمع ہوگئے۔ بادشاہ نے حکم نامہ جاری کیا کہ اس بادشاہی مسجد کا سنگ بنیاد وہ رکھے گا جس کی بلوغت کے بعد سے کبھی تہجد کی نماز قضا نہ ہوئی ہو۔ میرے جیسے بڑے بڑے جبوں قبوں والے اور سبز پگڑیوں والوں کے سر جھک گئے۔ بادشاہ نے کہا کہ تم نے میرا راز ظاہر کروادیا۔ اورنگ زیب پیدا تو تخت پر ہوا ہے لیکن میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ جب سے میں بالغ ہوا ہوں اس دن سے آج تک میری تہجد قضا نہیں ہوئی۔ یہ تھے مساجد کے سچے عاشق۔ کتنا اہتمام کیا، کیا شوق و جذبہ تھا۔ اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔
عبرت و موعظت: اللہ سے بڑھ کر کوئی قدرداں نہیں اور اس سے بڑھ کر کوئی انعام دینے والا نہیں۔ لوگ مٹی کی اینٹیں مسجد میں لگاتے ہیں، خالق کائنات چاندی اور سونے کی اینٹوں سے بنا محل عطا فرمائیں گے۔ کیا خوب فرمایا صادق المصدوق محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ کیلئے مسجد بنوائے، شہرت اور ناموری مقصود نہ ہو، صرف رضائے الٰہی کیلئے تعمیر کرے تو اللہ پاک جنت میں ایسا گھر عطا فرمائیں گے جس کا مسالہ مشک و عنبر کا ہوگا، اینٹیں چاندی سونے کی ہوں گی، ہیرے جواہرات سے مزین ہوگا۔
آج موقع ہے ، خبر پر اعتماد کرتے ہوئے جان و مال اللہ کے گھر کیلئے وقف کردو، نظر آنے پر یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ جب ملک الموت روح نکالنے کیلئے آئے گا تو انسان کہے کہ مجھے تھوڑی سی مہلت دیدے۔
فَاَصَّدَّقَ وََ اکُنْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ۔ ’’میں صدقہ کرکے صالحین کے زمرہ میں شامل ہوجاؤں‘‘۔
وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْساً اِذَا جَآءَ اَجَلُھَا۔ ’’ایک سانس کی بھی مہلت نہیں ملے گی‘‘۔
؂ غنیمت سمجھ زندگی کی بہار ۔۔۔ کہ آنا نہ ہوگا یہاں بار بار
خبر پر یقین کی مثال: حضرت سرمد علیہ الرحمہ ارضِ ہند کے نہایت جلیل القدر بزرگ اور مست قلندر گزرے ہیں، عہد عالمگیر میں جلوہ گر ہوکر عالم گیر شہرت حاصل کی اور مرجع خلائق بنے رہے۔ ان کی شہرت شاہ و گدا تک پہنچ چکی تھی۔
ایک دفعہ شہزادی زیب النساء کی سواری کہیں جارہی تھی، دور سے دیکھا کہ جنگل میں ایک طرف کو کوئی فقیر بیٹھا ہوا ہے، پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے عرض کیا حضور یہ سرمدؒ ہیں۔ شہزادی کے دل میں شرفِ نیاز حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ قریب گئی تو دیکھا کہ بے خیالی میں تنہا بیٹھے ہوئے کچھ گھروندے بنا رہے ہیں، مٹی کے چھوٹے چھوٹے گھر ہیں جن میں کنگورے بھی بنے ہوئے ہیں۔ کچھ دیر کھڑی غور سے دیکھتی رہی، اس کے بعد پوچھا: سرمد چہ می کنی (کیا کر رہے ہو)؟ فرمایا: قصر خلد می سازم (جنت کے محل بنا رہا ہوں)۔ شہزادی نے پوچھا: برائے فروخت می سازی (بیچنے کے واسطے بنا رہے ہو؟) پھر فرمایا: بچہ قیمت خواہی فروخت بیک قصر (ایک محل کی قیمت کیا ہے؟) فرمایا: بیک سلفہ۔ شہزادی نے فوراً سوار دوڑا کر ایک سلفہ منگوایا اور دے دیا۔ حضرت سرمدؒ نے سلفہ لے لیا اور ایک گھرندے کے گرد انگلی سے حلقہ کھینچ کر اس کے برابر میں لکھ دیا۔
من ایں قصر خلد بنام شاہ زادی زیب النساء بیگم بیک سلفہ فروخت کردم (میں نے جنت کا یہ محل ایک سلفہ کے عوض زیب النساء کے ہاتھ فروخت کیا)، اس کے بعد ہاتھ مار کر تمام گھروندے مٹا دیئے اور مجذوبانہ ایک طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ شہزادی بھی محل میں واپس چلی آئی۔ اسی شب کو تقریباً تین بجے چوب داروں نے آکر شہزادی کے محل پر دستک دی، شہزادی گھبراکر اٹھی، پوچھا کیا بات ہے؟ عرض کیا جہاں پناہ بلا رہے ہیں۔ رات کے وقت اس طرح بلاوے سے شہزادی کے حواس اڑ گء، گھبرائی ہوئی پہنچی۔ شہنشاہِ وقت اورنگ زیب نماز تہجد میں مشغول تھے وہ دست بستہ مؤدب کھڑی رہی۔ نماز سے فارغ ہوکر بادشاہ نے پوچھا: آج تم نے کوئی خرید و فروخت کی ہے؟ شہزادی کا ذہن بھی حضرت سرمدؒ کے معاملہ کی طرف منتقل نہ ہوا، بہت معمولی بات تھی، ایک مجذوبانہ کھیل تھا۔ اورنگ زیب نے کہا کوئی جنت کا محل خریدا ہے۔ شہزادی خوف کی وجہ سے خاموش رہی۔ بادشاہ نے کہا ڈرو مت؛ واقعہ بیان کرو۔ میں خواب میں وہ محل دیکھ آیا ہوں۔ جس پر لکھا ہوا تھا کہ شاہ زادی زیب النساء کے ہاتھ ایک سلفہ میں خریدا گیا ہے۔ میں نے اندر جانے کی کوشش کی مگر کسی نے داخل نہ ہونے دیا۔ اب شہزادی نے سارا واقعہ بیان کر دیا۔ فرمایا ٹھیک ہے، چنانچہ صبح ہوتے ہی بادشاہ خود اٹھ کر حضرت سرمدؒ کی طرف گیا۔ وہی الفاظ کہے جو شاہزادی نے کہے تھے۔ حضرت سرمدؒ نے جواباً کہا: جاؤ اورنگ زیب یہ خرید و فروخت روز نہیں ہواکرتی۔
مسجد کی تعمیر ایمان والوں کا کام ہے: آنکھ سے دیکھ کر سب پکاریں گے اے پروردگار؛ اب دنیا میں دوبارہ بھیج دے، نیک عمل کرکے آئیں گے، مسجد آباد کرکے آئیں گے۔ اللہ پاک فرمائیں گے کَلاَّ (ہر گز نہیں)۔ آج اللہ اور اس کے رسولؐ کے فرمان پر خلوص سے عمل کرتے ہوئے ان مساجد کو آباد کریں، کیونکہ مساجد اللہ کے گھر ہیں اور ان کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں جو آخرت کے حساب و کتاب کو برحق جانتے ہیں؛ قرآن حکیم میں باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اللہ کے گھروں کو آباد کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں، نماز قائم کرتے ہوں، زکوٰۃ دیتے ہو اور سوائے اللہ کے کسی سے نہ ڈرتے ہوں‘‘ (سورہ توبہ:آیت 18)۔ سو ایسے ہی لوگوں کی نسبت یہ امید ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے (یعنی جنت حاصل کرلیں گے)۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف اور واضح طور پر ارشاد فرما دیا کہ مسجد کو وہی لوگ آباد کریں گے جنھیں اللہ کی ذات پر بھروسہ اور یقین ہو اور انھیں آخرت کے حساب و کتاب، جزا و سزا کا بھی یقین ہو کہ یہاں جو کچھ کرکے جائیں گے وہ وہاں مل جائے گا۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عمارتِ مسجد کا جو تذکرہ فرمایا وہ کئی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک ظاہر درو دیوار کی تعمیر، دوسرے مسجد کی حفاظت، صفائی اور دیگر ضروریات کا انتظام، تیسرے عبادت کیلئے مسجد میں حاضر ہو۔
ہم سب محتاج ہیں جنت کے اور جنت کے بے داغ محلوں کے۔ اللہ کی رحمت کے، قیامت تک صدقہ جاریہ کے اور اس آیت کے مقصداق بننے کے، کہ اللہ کے گھروں کو آباد کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت پر سچا ایمان و یقین رکھتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں، زکوٰۃ بھی دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور پوری پوری امید رکھتے ہیں کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close