مذہبی مضامین

منبر: افادیت ومقاصد اور موجودہ صورت حال

مقبول احمدسلفی

تبلیغ دین اور ارسال رسالت میں منبروں کا بہت بڑا رول ہے۔ شروع اسلام سے لیکر آج تک منبر مسلمانوں کو اتحادواتفاق،تعلیم وتربیت، ادب واخلاق، وعظ ونصیحت، پیغام رسالت ودعوت اسلام سے باخبر کرتے آرہاہے۔  دو لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں جس قدر اہمیت خطبہ جمعہ کی ہے منبر کی اس سے کم نہیں۔ جمعہ کا دن خیروبرکت اور اہمیت وفضیلت والا ہے دوسری امتوں کو اللہ نے اس دن کی برکات  سے محروم کررکھا تھا،اس دن کےفضائل وبرکات سےامت محمدیہ فیضیاب ہوئی۔ یوم جمعہ کی خصوصیات میں خطبہ جمعہ بھی شامل ہے جسے منبر پر کھڑے ہوکر دیا جاتا ہے۔ جس طرح یوم جمعہ کی فضیلت اورنماز جمعہ کی فضیلت ہے اسی طرح خطبہ جمعہ کی بھی بڑی فضیلت ہے۔ اس فضیلت کا اندازہ اس حدیث سے لگائیں جس میں ذکر ہے کہ جس نے خطبہ جمعہ کے دوران کسی کو چپ ہونے کوکہا تو وہ سارے اجر سے محروم ہوگیا۔ خطبہ عبادت ہے اس لئے اسے ہمہ تن گوش ہوکر سننے کا حکم آیاہے تاکہ خطیب جن باتوں کی طرف نمازیوں کی توجہ مبذول کرانا چاہے وہ پوری طرح ذہن میں نقش ہوجائے اور پھر انہیں عملی زندگی میں برتے۔

منبر کا خطبہ سے گہرا ربط ہے اس وجہ سے خطبہ کی اہمیتسے منبر کی اہمیت  بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں سب سے پہلے منبر رسول ﷺ کا بارے میں جانتے ہیں تاکہ ممبر کیا ہے اس کے تقاضے کیا ہیں اور اس کا استعمال کس لئے اور کس طرح کرنا چاہئے  اچھے سے پتہ چل سکے۔

اسلام کا پہلا منبر: منبر رسول، خصوصیات وکردار

شروع میں جمعہ کے دن نبی کریم ﷺ کھجور کے تنے کا سہارا لیکر جوچھت کو تھامے ہوئے تھا کھڑے ہوکر خطبہ دیتے ، اس حال میں کہ آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک عصا کا سہارا لئے ہوئے ہوتے ، وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ آٹھ ہجری میں رسول اللہ ﷺ کے لئےسب سے پہلا منبر تیار کیا گیا جو اسلام میں سب سے پہلا منبر ہے۔ یہ تین سیڑہیوں والا تھا خطبہ دیتے وقت رسول اللہ ﷺ اوپری حصے پر تشریف رکھتے اور دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھتے۔بخاری شریف میں آپ ﷺ کے لئے منبر بنائےجانے کی تفصیل  ہے :

أنَّ رجالًا أتَو سهلَ بنَ سعدِ الساعديِّ ، وقد امتَرُوا في المِنبرِ ممَّ عودُهُ ، فسألوهُ عن ذلكِ ، فقالَ : واللهِ إني لأعرِفُ ممَّا هوَ ، ولقدْ رأيتُهُ أوَّلَ يومٍ وُضِعَ ، وأوَّلَ يومٍ جلَسَ عليهِ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلمَ ، أرسلَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلمَ إلى فلانةٍ ، امرأةً قد سمَّاها سهلٌ : مُرِي غلامَكِ النجارَ ، أن يعملَ لي أعوادًا ، أجلِسُ عليهنَّ إذا كلَّمْتُ الناسَ . فأمرَتْهُ فعملهَا من طَرفاءِ الغابةِ ، ثم جاءَ بها ، فأرسلَتْ إلى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلمَ، فأمرَ بها فَوُضِعَت ها هنَا ، ثم رأيتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلمَ صلَّى عليهَا وكبَّرَ وهوَ عليهَا ، ثم ركعَ وهوَ عليهَا ، ثم نزلَ القَهقَرَى ، فسجدَ في أصلِ المنبرِ ثم عادَ ، فلمَّا فرَغَ أقبلَ على الناسِ فقالَ : أيُّهَا الناسُ ، إنمَا صنعتُ هذَا لتَأْتَمُّوا ولتَعْلَموا صلاتِي .(صحيح البخاري:917)

ترجمہ:کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان کا آپس میں اس پراختلاف تھا کہ منبر کی لکڑی کس درخت کی تھی۔ اس لیے سعد رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا خدا گواہ ہے میں جانتا ہوں کہ منبر نبوی کس لکڑی کا تھا۔ پہلے دن جب وہ رکھا گیا اور سب سے پہلے جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو میں اس کو بھی جانتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی فلاں عورت کے پاس جن کا حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے نام بھی بتا یا تھا۔ آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے میرے لیے لکڑی جوڑ دینے کے لیے کہیں تاکہ جب مجھے لوگوں سے کچھ کہنا ہوتو اس پر بیٹھا کروں چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا اور وہ غابہ کے جھاؤ کی لکڑی سے اسے بنا کر لایا۔ انصاری خاتون نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہاں رکھوایا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر ( کھڑے ہو کر ) نماز پڑھائی۔ اسی پر کھڑے کھڑے تکبیر کہی۔ اسی پر رکوع کیا۔ پھر الٹے پاؤں لوٹے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا اور پھر دوبارہ اسی طرح کیا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو خطاب فرمایا۔ لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنی سیکھ لو۔

نبی ﷺ کے منبر کی بڑی فضیلت وخصوصیات ثابت ہیں۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إنَّ قوائمَ مِنبري هذا رواتِبُ في الجنَّةِ(صحيح النسائي:695)

ترجمہ: بےشک میرے منبر کے پائے بہشت کی سیڑھی ہوں گے۔

ما بين بيتي ومِنبري روضةٌ من رياضِ الجنةِ ، ومِنبري على حوضِي(صحيح البخاري:6588)

ترجمہ: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔

اس منبر سے نبی ﷺ نے اپنی امت کو دین کی تعلیم دی ہے ، وعظ ونصیحت کی ہے ،منبر پرنماز پڑھ کر سکھایا ہے ، قرآن کی تعلیم دی ہے ،  لوگوں کو جہادپرابھارا ہے، اعلائے کلمۃ اللہ کا درس دیا ہے ، امت مسلمہ کی خیروبھلائی کے لئے دعائیں کی ہیں ، دشمنوں کے لئے بددعا کی ہیں۔ نبی ﷺ کے خطبہ کے موضوعات میں جنت وجہنم ، توحیدوایمان، صفات الہیہ کا بیان، تفاصیل واصول ایمان کا بیان، عمل صالح کا بیان، آخرت کے احوال اور امم ماضیہ کے حالات کا بیان ہوتا تھا۔

منبر اونچا ہونے کی حکمت :

منبر” نبر”سے بناہے جس کے معنی بلندی کے ہے۔ منبر یعنی اونچائی سے کوئی بات کہنے پر سب کو برابر سنائی دیتی ہے خطیب کےاشارے بھی بالکل بآسانی نظرآتےہیں ، خطیب کی نگاہ مصلی کی طرف اور مصلی کی نگاہ خطیب کی طرف مرکوزہو۔ گویامنبر افہام وتفہیم کے لئے نہایت ہی اہم وسیلہ ہے۔ نبی ﷺ کو نماز کی تعلیم دینی تھی تو منبر پر چڑھے تاکہ سب کو نماز کی کیفیت اچھے سے نظر آئے ، ایک صحابی دوران خطبہ مسجد میں آئے اوربغیر دوگانہ پڑھے بیٹھ گئے آپ نے انہیں دیکھا تو دورکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا۔

منبر کی اہمیت وافادیت :

جمعہ کے دن تمام اہل اسلام کا ایک جگہ اجتماع ہوتا ہے ، یہ اجتماع اللہ کی عبادت کی غرض سے ہوتا ہے ، غسل کرکے ، عمدہ لباس پہن کر ، خوشبواستعمال کرکے مسلمان جامع مسجد میں حاضرہوتے ہیں۔ ذہن نشاط و قبول سے معمور، دل ونگاہ عبادت الہی کا جذبہ لئے ہوئے اور جسم وجاں اللہ کے حکم کی تعمیل پر فدا ہونے کے لئے تیار ہے۔ ایسی صورت میں خطیب ایسے مسلمانوں میں جس قدر چاہیں صفات حمیدہ پیداکریں ،خدمت خلق  کا جذبہ بیدار کریں ، تعلیم وتربیت سے سجاسنوار دیں ،قرآن وحدیث کی خوشبوؤں سے مشکبار کردیں ، ایمان وعمل کے ہتھیار سے لیس کردیں ، جہاد فی سبیل اللہ کا سبق پڑھائیں ، دین اسلام پر مر مٹنے کا ذوق وشوق پیدا کردیں یعنی منبر انسان کو مومن کامل بنانے کا بہترین وسیلہ ہے، اس قدر افادیت سے بھرپور دنیا کا کوئی اسٹیج نہیں ہے۔

منبر کے مقاصدوتقاضے:

منبر کا وہی مقصد ہے جو خطبہ کا مقصد ہے اور خطبہ کے اہم مقاصد میں ایک مقصد لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے۔ سارے انبیاء نے اپنی امت کو ایک اللہ کی طرف بلایا ، یہی حکم نبی آخرالزمان محمد عربی ﷺ کو بھی ملا کہ آپ لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ بلائیں۔ آج امت میں طرح طرح کے اختلاف وانتشار، شرک وبدعات اور رسم ورواج کا دوردورہ ہے ، ایک اکیلا مثالی خطیب ان کے ازالے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے اور سماج سے شروفساد، ظلم وجور، شرک وبدعت ، کفروضلالت، غفلت وسستی، جہل ونادانی، افعال قبیحہ، اعمال شنیعہ، بے دینی وبے ایمانی کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ منبر کا اہم مقصد ہے کہ لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلائیں ، برائی کا حکمت سے اور نادانی کا علم سے  مقابلہ کریں ، امت مسلمہ کی اصلاح ہوگی تو ہمارے گفتار وکردار سے خود  اسلام کاغیروں میں بھی تعارف ہوگا اور کفارومشرکین ہمیں دیکھ کر ہی اسلام میں داخل ہوتے رہیں گے۔ افسوس کہ گفتار وکردار کے ایسے خطباء سے منبرمحروم ہے  اور ساتھ ساتھ منبرکا جو اصل مقصد ہے وہی بروئے کار نہیں لایا جاتا۔

موجودہ دور میں منبر کا استحصال:

آج اکثرجگہ مسلم خطوں میں منبروں کا استحصال ہورہاہے۔ موجودہ زمانے میں  ذاتی مقاصد، دنیاوی فائدے، سیاسی منفعت، ذاتی رنجش ونزاع ،بغض وحسد ، دل کی بھڑاس، مسلکی تشدد، فقہی تنازعات،فروعی مسائل، ذات وبرادری کی عصبیتیں ، تجارتی منافع،منصب کی مصلحتیں جیسے کام منبروں سے  لیا جارہاہے جبکہ دوسری طرف ممالک اسلامیہ خاک وخون میں ڈوبے ہوئے ہیں، کفر کی ساری خدائی ایک ہوچکی ہے، ہم مسلمان پوری طرح کفار کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں ، جگہ جگہ مسلمانوں کا خون رائیگاں ، عزتیں نیلام اور طاقتیں کمزور ہورہی ہیں  اور ہمارے خطباء وواعظین اپنے ہی کاشانے جلانے پہ مستمر ہیں۔ منبروں سے اشتعال انگیزاور پرتشدد  بیانوں سے مسلمانوں کے آپس کے گھرگھر تباہ ہورہے ہیں ، فردوجماعت میں ایک دوسرے مسلک والوں کے تئیں تشددوتنفر پیدا ہورہاہے ، اسلامی اتحاد پارہ پارہ اور مسلمانوں کی طاقت پاش پاش ہورہی ہے۔

جب منبر بھی تنازعات ، تنافرات ، تباغضات، تعصبات، تشددات سے پاک نہ رہے تو ہماری کون سی جگہ پاک رہے گی۔ فوری طورپرہمیں ہوش کے ناخن لیناہے ، منبروں کواستحصال سے بچانا ہے ، ایسے کم علم  وبے عمل  خطیب سے انہیں پاک کرنا ہے جو منبر وں پر داغ لگے ہوئے ہیں اور ایمان وتوحید کے منافی خطبوں سے فرزندان توحید کے گھروں اور دلوں کو تباہ کرتے ہیں۔ اور جو باصلاحیت  وباعمل علماء ہیں صرف انہیں ہی خطابت کے لئے بحال کئے جائیں ،ایسے ہی علماء کواسٹیج واجلاس کی زینت بنائی  جو صلاحیت کے ساتھ ساتھ عمل صالح سے لیس ہوں اور امت اسلامیہ کی اصلاح کا درد اپنے دلوں میں رکھتے ہوں، گھروں، بستیوں، ملکوں اور دلوں کوجوڑنے کا کام  عقیدہ توحید کی بنیاد پر  کرتے ہوں۔

بازار کفر میں ایمان کا سودا ہورہاہے،  منکرات وسیئات کی آماجگاہ میں حسن وشباب کے ننگے ناچ سے قلب وضمیر پر کارعصیاں کے زنگ لگائے جارہے ہیں۔ ایسے میں جہاں عوام کو بیدار ہونا ہے اور کفروعصیاں سے دامن بچانا ہے وہاں خطیب وواعظ کی ذمہ داری عوام سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ خطیب تو لوگوں کے لئے نمونہ ہے، انہیں اپنے گفتاروکردار سے عوام کی اصلاح کرنی ہے۔ خطیب کو اصلاح کی ابتداء منبروں کو تشددواستحصال اور غیض وغضب سے پاک کرکے کرنا ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close