تعلیم و تربیتمذہبی مضامینمعاشرہ اور ثقافتہندوستان

منشیات کا استعمال اسلام کی نظر میں!

محمد صدرِعالم قادری مصباحیؔ

دورِحاضرکاسب سے بڑااورعظیم ترین المیہ منشیات جنہوں نے زندگی کومفلوج کردیاہے۔نشوں کے رسیاء اپنی جان کے دشمن اوراپنے رب کریم کے ایسے ناشکرگزاربندے ہوتے ہیں جو اس کی عطاکردہ زندگی کی قدرکرنے کے بجائے اُسے بربادکرنے پرتلے رہتے ہیں اورمنشیات فروش ملک وملت کے وہ دشمن ہیں جونوجوان نسلوں کوتباہ کرکے ملک وملت کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں ۔انہوں نے صرف چندسکوں کی خاطرایسے شگوفوں کوشاخوں سے توڑکرگندگی کے ڈھیرپررکھ دیاجنہیں کشت حیات میں قاصدبہاربنناتھا۔بلاشبہ ہمارے معاشرے میں منشیات نے اغیارکی سازشوں سے راہ پائی ہے۔لیکن اس سلسلے میں ملک دشمن عناصرکابھی عمل دخل ہے۔ان بیرونی اوراندرونی دشمنوں کامدعاصرف یہ ہے کہ مسلمانوں کوجسمانی اورذہنی طورپراس قدرکھوکھلاکردیاجائے کہ وہ دنیامیں اپنامتحرک وفعّال کرداراَداکرنے کے قابل نہ رہیں ۔یہ طاقتیں اہلِ چین کے ساتھ بھی یہ ہتھکنڈاآزماچکی ہیں اورانہیں سالہاسال افیون کاعادی بناکرترقی کی دوڑمیں پسماندہ بنانے کی مذموم کوشش کرچکی ہے۔

کتنی اذیت ناک بات ہے کہ سگریٹ،شراب،افیون،ہیروئن اورنشہ آورادویات کی مخالفت توسب کرتے ہیں مگراُن لعنتوں کاسدِّباب کرنے میں مخلص کوئی نہیں ۔حدیہ ہے کہ سگریٹ قانوناً جائزہے اورجابجادھڑلے سے فروخت بھی کی جارہی ہے،لیکن اخلاق وقانون کامذاق اس طرح اُڑایاجارہاہے کہ سگریٹ کے ڈبّے پراس کے مضراثرات کااعلان بھی ساتھ ہی چھاپاجاتاہے۔یہ منافقت ذرائع ابلاغ ،حکومت اوراخلاق سدھاراِداروں کے منہ پرطمانچے سے کم نہیں ۔نتیجہ یہ ہے کہ قوم،فکری،روحانی اورجسمانی اعتبارسے مفلس ہوتی جارہی ہے۔نشہ آورچیزوں کے رسیاء عموماًوہ نوجوان ہوتے ہیں جنہیں ابھی زندگی کے تجربات نہیں ہوتے۔ جواتنابھی نہیں جانتے کہ زندگی اورموت کے درمیان کتناکم فاصلہ ہے۔وہ موت سے قبل اپنے آپ کوزندہ درگورکرلیتے ہیں ۔

ہمارے وطن عزیزہندوستان میں مسلم معاشرہ جن بڑی بڑی برائیوں کی آماجگاہ بن چکاہے اُن میں شراب جیسی اُم الخبائث بیماری کوبڑی ترقی حاصل ہے۔انگریزوں نے خاص طورسے ہراس چیزکوجوانسانیت سوزاوربے حیائی کوفروغ دینے والی ہواس کوپھیلانے میں خوب دلچسپی لی اورآج بھی لے رہے ہیں ۔شراب جس کی برائی اورنقصانات کااعتراف اہلِ یورپ کوبھی ہے لیکن وہ اس خرابی کوہزارکوشش کے بعدبھی دورنہ کرسکے اس لئے صرف یہی نہیں کہ اس کوکھلی چھوٹ دے دی ہے بلکہ اس کے فروغ میں بھرپورتوجہ دی جارہی ہے۔منشیات کے استعمال کی بنیادی وجہ دین سے دوری ،نشہ آوراشیاء کے استعمال کے نقصانات اوروعیدوں سے بے خبری ہے۔حالات کاجبر،بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورروزافزوں مہنگائی بھی اس کاباعث بن رہی ہے۔

آج کے دورمیں نوجوان نسل حتیٰ کہ لڑکیوں میں بھی شیشہ کااستعمال ایک فیشن بن کررہ رہ گیاہے جگہ جگہ شیشہ کلب کھل گئے ہیں اورصرف منشیات کااستعمال ہی نہیں بلکہ دیگربہت سی خرابیوں اورقباحتوں کے گڑھ بھی ہیں ۔یادرہے کہ جب تک منشیات کے استعمال کورواج اوربڑھاوادینے والے اسباب کاخاتمہ نہیں کیاجاتاہے اس وقت تک اس مسئلے کوکنٹرول نہیں کیاجاسکتااوراسی طرح اگرحکومت کی طرف سے اس معاملے میں سنجیدگی کامظاہرہ کیابھی جائے اوراس کے اصل اسباب کے تدارک کا اہتمام بھی ہوتب بھی جب تک زندگی کے دیگرشعبوں سے تعلق رکھنے والوں بالخصوص علماء کرام اورمنبرومحراب کی طرف سے منشیات کی روک تھام کے لئے سنجیدہ کرداراداکرنے پرزورنہیں دیاجاتااس وقت تک اسے کسی طورپرکنٹرول نہیں کیاجاسکتا۔اس وقت ضرورت اس امرکی ہے کہ صرف حکومت نہیں بلکہ تمام طبقات بالخصوص میڈیااورمنبرومحراب منشیات کے استعمال کے رجحانات کوکنٹرول کرنے کے لئے اپناکرداراداکریں ۔اس سلسلے میں ذیل میں قرآن وحدیث کی روشنی میں منشیات کے حوالے سے اسلامی احکامات اوراس کی مضرتوں کوبیان کیاجارہا ہے تاکہ اہل ایمان پڑھیں اورعبرت حاصل کریں ۔

شراب قرآن کی روشنی میں :   شراب کوعربی زبان میں خمرکہتے ہیں ۔خمرکے لفظی معنیٰ ڈھکنا،چھپاناکے ہیں اسی لئے دوپٹاکوخمارکہتے ہیں کہ وہ سرکوڈھک لیتاہے۔اورشراب کو خمراس لئے کہتے ہیں کہ وہ عقل پرپردہ ڈال دیتی ہے۔ایک حدیث شریف میں آیا۔الخَمْرُماخامَرَالعَقْلُ(مشکوٰۃ)خمروہ ہے جوعقل پرپردہ ڈال دے۔شراب کی حرمت آیات قرآنی اوراحادیث نبویہ سے بخوبی ثابت ہے۔حضوراقدس ﷺ نے ارشادفرمایا۔کلُّ شرابٍ اَسکَرَفھُوَحَرَامٌ۔(متفق علیہ)ہرپینے والی چیز جو نشہ لائے وہ حرام ہے۔اورایک اورروایت میں ہے۔کُلُّ مُسْکِرٍخَمْرٔوَکُلُّ مُسْکِرٍحَرَامٌ الخ(رواہ مسلم)ہرنشہ لانے والی چیزخمر(یعنی شراب)ہے،اورہرنشہ آورچیزحرام ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتاہے:

(1)(ائے محبوبﷺ)تم سے شراب اورجوئے کاحکم پوچھتے ہیں ۔تم فرمادوکہ ان دونوں میں بڑاگناہ ہے۔اورلوگوں کاکچھ دنیوی نفع بھی،لیکن ان دونوں کاگناہ ان کے نفع سے بڑاہے۔(سورۂ بقرہ:آیت219،پ2)

شراب کی حرمت کاحکم نازل ہونے سے پہلے بھی بعض سلیم الطبع لوگ اس سے بچتے تھے۔جیساکہ حضرت صدیق اکبر،حضرت عثمان غنی اورحضرت جعفرطیاررضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں مروی ہے …..ایک مرتبہ حضرت عمرفاروق اورحضرت معاذ ن جبل نے عرض کیایارسول اللہ ﷺ !ہمیں شراب کے متعلق حکم دیجئے۔کیونکہ یہ عقل زائل کرنے والی اورمال کوبربادکرنے والی ہے۔تویہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں شراب اورجوئے کے صرف گناہ یانقصان دہ ہونے کاذکرہے اس سے بچنے کاصریح حکم نہیں دیاگیا۔اس پربعض حضرات نے یہ سوچ کرکہ جب شراب اثم(گناہ)ہے تواُسے ترک کردیا۔لیکن بعض لوگ جواس کے بڑے پکے عادی تھے استعمال کرتے رہے۔یہاں تک کہ اسی حالت میں نمازبھی پڑھ لیتے۔کیونکہ شراب پی کرپڑھنے نہ پڑھنے کاکوئی صریح حکم اب تک نازل نہیں ہواتھا۔ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے شراب پی کرنمازپڑھی۔اورامام نے سورہ’’کافرون‘‘کی تلاوت کی اوراس میں سے دوجگہ لاکوحذف کرتے گئے۔جس کی وجہ سے معنی بالکل اُلٹ گیا۔تواسوقت حکم نازل ہوا۔

(2)ترجمہ:ائے ایمان والوں !نشہ کی حالت میں نمازکے پاس نہ جاؤ جب تک اتناہوش نہ ہوکہ جوکہواسے سمجھو۔(کنزالایمان،النساء4؍43،پ5)

اس آیت کے نازل ہونے کے بعدمسلمانوں نے عام طورپرنمازکے اوقات میں شراب پیناترک کردیا۔پھرایک دن محفل میں جب شراب کادورچلاحاضرین کونشہ چڑھاتواپنے اپنے قبیلوں کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے لگے۔کسی نے انصارکی ہجومیں شعرکہ دیا۔اس پرایک انصارنے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی ان کے سرپرمارکرسرپھوڑدیا۔بارگاہ رسالت میں اس کی شکایت پیش کی گئی ۔تواب حضرت عمرؓنے التجاکی کہ ائے اللہ شراب کے بارے میں واضح حکم نازل فرما،تویہ آیات نازل ہوئیں ۔’’انماالخمروالمیسروالانصاب والازلام رجس الخ ‘‘۔

(3)ائے ایمان والوں شراب اورجوااوربت اورپانسے (ہارجیت)کے یتر)ناپاک ہی ہیں ۔شیطانی کام ،توان سے بچتے رہناکہ فلاح پاؤ۔شیطان یہی چاہتاہے کہ تم میں بیراوردشمنی ڈلوادے۔شراب اورجوے میں اورتمہیں اللہ کی یاداورنمازسے روکے توکیاتم بازآئے (ترجمہ:کنزالایمان،المائدہ،آیت 90،91)یہ سن کرحضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیاانتہیناانتہینا۔یعنی ہم بازآئے،ہم بازآئے۔

اس آیت کریمہ میں شراب اورجوئے کے بُرے نتائج اوروبال بیان فرماکرشراب اورجوئے سے بچنے کاصاف اورصریح حکم ارشادفرمایاگیا۔عرب میں شراب کاچونکہ عام رواج تھا۔گنتی کے چندآدمیوں کے علاوہ سبھی اس کے متوالے تھے ۔شراب،جواَن گنت جسمانی اورروحانی بیماریوں کاسبب،اخلاقی اورمعاشی خرابیوں کی جڑ،اورفتنہ وفساکی علت ہے۔اسلام کی پاکیزہ نظام حیات میں اس کی کیونکرگنجائش ہوسکتی تھی۔لہٰذااللہ تبارک وتعالیٰ نے اُسے قطعی حرام قراردیا۔لیکن حرمت کاحکم آہستہ آہستہ اورتدریجاًنازل ہواتاکہ لوگوں کواس پرعمل کرناآسان ہو۔چنانچہ سورۂ بقرہ میں تواتنے پراکتفاکیاگیاکہ فیھمااثم کبیرومنافع للناس واثمہمااکبرمن نفعھما (شراب اورجوئے میں بڑاگناہ ہے۔اورلوگوں کاکچھ دنیوی نفع بھی،لیکن ان دونوں کاگناہ ان کے نفع سے بہت بڑھ کرہے)اس کے کچھ عرصہ بعدیہ آیت نازل ہوئی ۔ولاتقربواالصلوٰۃ وانتم سکاریٰ۔کہ نشہ کی حالت میں نمازنہ پڑھاکرو۔یہ آیات اس آخری اورصریح حکم کاپیش خیمہ تھی۔اگرچہ شراب کی حرمت کاصراحتہً ان میں ذکرنہ تھا۔لیکن سلیم الطبع اشخاص نے اس وقت ہی سے شراب چھوڑدی تھی ۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے بارگاہ الٰہی میں اس کی قطعی حرمت کے لئے التجائیں بھی کیں ۔اسی اثناء میں چندایسے واقعات بھی رونماہوئے جیساکہ اوپرذکرہوچکاہے جن سے شراب پینے کے نقصانات کاصحابۂ کرام کوزیادہ سے زیادہ احساس ہونے لگاتھا۔اورایمان میں بھی پختگی بڑھ گئی۔

نیزاللہ اوراس کے رسول کے ہرحکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی عادت طبیعت میں رچ بس گئی توصریح حرمت کی آیات کانزول ہوا۔اب حضوررحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حرمت کے اس اوصاف اورصریح حکم کے بعدایک خادم کوحکم دیاکہ مدینے ک گلی کوچوں میں پھرکربلندآوازسے اس حکم کااعلان کردو۔جب وہ منادی اعلان کرنے لگااورکہناشروع کیا۔الااِنّ الخمرَقدحُرِّمَتْ…..(آگاہ ہوجاؤ!شراب بلاشبہ حرام قراردی گئی،سن لوشراب قطعی حرام کردی گئی)تواس وقت کئی جگہ شراب کی محفلیں آراستہ تھیں ۔بادہ نوش جمع تھے۔پیمانے گردش میں تھے۔جون ہی کان میں ھل انتم منتہون0کی آواز پہونچی۔(یعنی کیااب تم بازآئے)ہاتھوں پررکھے ہوئے شراب کے پیالے زمین پرپٹک دیئے گئے ۔ہونٹوسے لگے ہوئے جام خودبخودالگ ہوگئے۔جام وسبوتوڑدیئے گئے۔مشکوں اورمٹکوں میں بھری ہوئی شراب انڈیل دی گئی۔وہ چیز جواُنہیں ازحدعزیزتھی اب گندے پانی کی طرح گلیوں میں بہ رہی تھی۔حضوررحمت عالم ،فیض مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت کے جذبے نے صحابۂ کرام کے دلوں میں ایساگھرکرلیاتھاکہ اس کے بعدکسی صحابی نے شراب پینے کی خواہش کااظہارتک نہ کیا۔قرآن کی اثرآفرینی،حضورکے فیض تربیت،صحابۂ کرام کی کامل ترین اطاعت وفرماں برداری اوراسلام کی انقلاب آفریں قوت کایہ وہ بے نظیرمظاہرہ ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔مذکورہ بالاآیات میں مقصودتوشراب اورجواکی حرمت بیان کرناہے لیکن انصاب واَزلام(بتوں اورجوئے کے تیروں )کواس کے ساتھ ذکرکرکے ان کی قباحت کواورزیادہ واضح کردیا۔چنانچہ حضرت فاروق اعظم نے اس کے بعدفرمایا۔ائے شراب تیراذکرتوجوئے اورانصاب وازلام کے ساتھ ملاکرکیاگیابُعداًلَّکَ وسُحقًا۔تودورہو،تیراستیاناس ہو۔(ضیاء القرآن)

شراب حدیث کی روشنی میں :   شراب کوحضورنبی اکرم،نورمجسم ،سیدعالم ،شافع اُمم ﷺ نے اُم الخبائث ،یعنی تمام گناہوں کی جڑاوربعض روایات میں مفتاح الذنوب یعنی گناہوں کی کنجی فرمایاگیا۔قرآن مجیدکے ساتھ حدیثوں میں بھی بکثرت اس کی حُرمت ومذمت کاذکرآیاہے…..ذیل میں اس سلسلے کی چندحدیثیں پیش کی جاتی ہیں ۔

(1)حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمانے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ جوشراب پی لے گاچالیس دن تک اس کی نمازقبول نہیں ہوگی۔لیکن اگراس نے توبہ کرلی تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔پھراگردوبارہ اس نے شراب پی لی توپھرچالیس دن تک اس کی نمازقبول نہیں ہوگی۔لیکن اگراس نے توبہ کرلی تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالے گا…..پھراگراس نے تیسری مرتبہ شراب پی لی توپھرچالیس دن تک اس کی نمازقبول نہیں ہوگی…..لیکن اگراس نے توبہ کرلی تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔پھراگراس نے چوتھی مرتبہ شراب پی لی توپھرچالیس دنوں تک اس کی نمازقبول نہیں ہوگی۔لیکن اس کے بعداگراس نے توبہ کی تواس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔اورقیامت کے دن ا س کوجہنم میں دوزخیوں کی پیپ کی نہرمیں سے پلایاجائے گا۔(مشکوٰۃ،ص۳۱۷،بحوالہ ترمذی وغیرہ)

(2)حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے ناقل ہیں کہ انہوں نے کہاکہ ائے اللہ کے نبیﷺ!میں نے چندیتیموں کے لئے شراب خریدی ہے جومیری پرورش میں ہیں ۔توآپ نے فرمایاکہ شراب کوبہادو،اورمٹکوں کوتوڑڈالو،(مشکوٰۃ ،ص318،ترمذی)

(3)حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہونگے۔(1)دائمی طورپرشراب پینے والا (2)رشتہ داریوں کوکاٹنے والا(3)جادوکی تصدیق کرنے والا،اوربعض روایتوں میں ہے وہ جنت کی خوشبونہ پائیں گے۔(مشکوٰۃ،ص318،مسندامام احمد)(4)حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پرلعنت فرمائی ہے۔(1)شراب نچوڑنے والے پر(2)شراب نچوڑوانے والے پر(3)شراب پینے والے پر(4)شراب اُٹھانے والے پر(5)اس پرجس کی طرف سے شراب اُٹھاکرلے جائی گئی(6)شراب پلانے والے پر(7)شراب بیچنے والے پر(8)شراب کی قیمت کھانے والے پر(9)شراب خریدنے والے پر(10)اس پرجس کے لئے شراب خریدی گئی ہو۔(مشکوٰۃص:242،ترمذی وابن ماجہ)

(5)حضر ت اُم سلمیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے کہ حضوراقدس ﷺنے مُسکر(نشہ لانے والی )اورمضتر(یعنی اعضاء کوسست کرنے والی،حواس کوکندہ کرنے والی چیزمثلاًافیون،بھنگ وغیرہ)سے منع فرمایا(ابوداؤد)

 (6)حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔قسم ہے میرے عزت کی جوبندہ شراب ایک گھونٹ بھی پیئے گامیں اس کواتنی ہی پیپ پلاؤں گا۔اورجوبندہ میرے خوف سے اُسے چھوڑے گامیں اس کومقدس حوض سے پلاؤ ں گا۔(امام احمد)

(7)حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورپاک ﷺ نے فرمایا۔میری اُمت میں کچھ لوگ شراب پیئں گے اوراس کانام بدل کرکچھ اورلیں گے(اسے پی کرایسی رنگ رلیاں مچائیں گے کہ)ان کے سروں پرباجے بجائے جائیں گے۔اورگانے والیاں گائیں گی۔یہ وہ لوگ ہیں کہ زمین میں دھنسادیئے جائیں گے،اوران میں کے کچھ لوگ بندراورسوربنادیئے جائیں گے۔(ابن ماجہ)

اس سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جوطرح طرح کے نئے ناموں سے شراب پیتے ہیں ۔محض نام بدلنے سے چیزکی حقیقت نہیں بدلتی۔لہٰذاشراب چاہے جس شکل میں اورجس نام سے بھی پی جائے حرام ہی رہے گی۔

(8)رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان زائل ہوجاتاہے۔ایک اورجگہ ارشادفرمایاکہ :جوزناکرے یاشراب پیئے اللہ تعالیٰ اس سے ایمان کھینچ لیتاہے جیسے آدمی اپنے سرسے کرتاکھینچ لے۔(فتاویٰ رضویہ،ج۱۱)

جوااورشراب توبنص قرآن نمازسے غافل کرنے والے ہیں ۔اس لئے وہ بدرجۂ اولیٰ حرام ہیں ۔ان کے علاوہ جوبھی عمل نمازسے غافل کرے ،روکے یاغفلت میں ڈالے اس کابھی یہی حکم ہے۔اس میں وہ تیزتمباکواورحقہ وغیرہ بھی شامل ہے جس کے استعمال سے حواس میں ایسااختلال پیداہوجاتاہے کہ نمازپڑھنی مشکل ہو۔

تاڑی:  شراب اورتاڑی کاپینا،اس کی تجارت اوراس کوکھانے یالگانے کی دواؤں میں ملانابھی حرام ہے۔اورشراب وتاڑی دونوں ناپاک ہیں ۔اگریہ بدن اورکپڑوں پرلگ جائیں توبدن اورکپڑاناپاک ہوجائے گا۔اوراگرایک قطرہ شراب یاتاڑی کاکنویں میں گرجائے توکنواں ناپاک ہوجائے گا۔اورکنویں کاکل پانی نکال کرکنویں کوپاک کرناضروری ہوگا۔یہی حکم شراب اورتاڑی کے ڈول کابھی ہے۔

شراب کے 10نقصانات:  شراب کی وجہ سے انسان کے اخلاق توتباہ ہوتے ہی ہیں ۔ساتھ میں معاشرے پربھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں :٭شراب کی وجہ سے جرائم کی شرح حدسے زیادہ بڑھ جاتی ہے٭شرابی کواپنے پرائے کی تمیزنہیں رہتی٭شرابی والدین کے بچوں پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ٭شراب بندے کی عقل میں فتورڈال دیتی ہے٭شراب مال کوضائع اوربربادکرتی اورتنگ دستی کاسبب بنتی ہے٭شراب کھانے کی لذت اوردرست کلام سے محروم کردیتی ہے٭شراب ہربرائی کی کنجی ہے اورشرابی کوبہت سے گناہوں میں مبتلاکردیتی ہے٭یہ شرابی کوبدکاروں کی مجلس میں لے جاتی ہے،اپنی بدبوسے اُس کے کاتب فرشتوں کوایذادیتی ہے٭یہ شرابی پرآسمانوں کے دروازے بندکردیتی ہے،40؍دن تک اس کاکوئی عمل اوپرپہنچتاہے نہ دعا٭یہ شرابی کی جان اورایمان کوخطرے میں ڈال دیتی ہے۔اس لئے مرتے وقت ایمان چھن جانے کاخدشہ رہتاہے۔

شرابی کی دنیامیں سزا:  شراب نوشی ،شرابی پر80کوڑے واجب کردیتی ہے لہٰذااگروہ دنیامیں اس سزاسے بچ بھی گیاتوآخرت میں مخلوق کے سامنے کوڑے مارے جائیں گے۔

شرابی کی قبرمیں سزا:  قبرمیں شرابی کاچہرہ قبلہ سے پھرجاتاہے۔اس پردوسانپ مقررکردیئے جاتے ہیں جواس کاگوشت نوچ نوچ کرکھاتے رہتے ہیں ۔(شرح الصدور،ص172)

شرابی کی آخرت میں سزا:  شرابی بروزِقیامت اس حال میں آئے گاکہ اس کاچہرہ سیاہ ہوگا،زبان سینے پرلٹک رہی ہوگی ،تھوک بہ رہاہوگااورہردیکھنے والااس سے نفرت کرے گا۔(الکامل فی ضعفاء الرجال،2؍502)٭آگ کی سولی پرلٹکایاجائے گا،پیاس لگنے پرکبھی بدبودارپسینہ توکبھی کھولتاپانی پلایاجائے گا،کھانے کوکانٹے داردرخت ہوں گے،پاؤں میں آگ کی جوتیاں پہننے کی وجہ سے دِماغ کھولنے لگے گایہاں تک کہ ناک اورکان کے راستے بہ جائے گا۔٭شرابی جہنم میں فرعون وہامان کاپڑوسی ہوگا۔(نیکیوں کی جزائیں اورگناہوں کی سزائیں ،ص22تا31ملخصاً)

مذکورہ آیات کریمہ واحادیث طیبہ سے شراب کی حرمت اورشرابی کی سزاواضح طورپرثابت ہوئی اس لئے ہمارے جومسلمان بھائی اس مذموم فعل میں مبتلاء ہیں انہیں درس عبرت حاصل کرناچاہئے اوراس اُم الخبائث بیماری سے اپنے اوراپنے مسلمان بھائیوں کومکمل طورسے دوررہنے کی تلقین کرنی چاہئے ۔  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگوہوں کہ منشیات کے اس برے مرض سے پوری اُمت مسلمہ کواپنے محبوب علیہ السلام کے صدقے میں بچنے کی توفیق عطافرما۔آمین

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close