میاں بیوی کے اچھے اور برے تعلقات کے اثرات و نتائج (دوسری قسط)

عبدالعزیز

بیویوں کی صفات اور فرائض:

 گھر کی اہمیت اور مرد کی حیثیت کو واضح کرنے کے بعد بیویوں کی صفات کو بیان کیا گیا ہے۔ جو درحقیقت بیویوں کی ذمہ داریاں اور فرائض اور مردوں کے ان کے ذمہ حقوق ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گھر کو صحیح معنی میں گھر بنانے اور آئندہ بچوں کی تربیت کیلئے خاتونِ خانہ کی اصل حیثیت کا تعین بھی ہے۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی کہ بیویاں اور گھروں کی ذمہ دار خواتین صالحات ہوتی ہیں ۔ یہ ان کی ایسی مستقل صفت ہے جو ان سے کبھی منفک نہیں ہوتی۔ صالحات ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ تعلقات اور گھر کے معاملات کو چلاتے ہوئے اپنے نفس کی ہدایات پر نہیں چلتیں بلکہ اللہ اور رسول کی ہدایات ان کی راہنما ہوتی ہیں ۔ وہ ہر حال میں اللہ سے ڈرنے والی اور شریعت کے احکام پر عمل کرنے والی ہوتی ہیں ۔ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار اور تنگیوں پر صبر کرنے والی ہوتی ہیں ۔ وہ ہر حال میں اپنے شوہر کی وفاداری کرتی ہیں ۔

 ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ قانتات ہوتی ہیں ۔ قانتات کا معنی ہے ’’فرماں برداری کرنے والیاں ‘‘ یعنی نیک بیویوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت فرمانبرداری کے ساتھ اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’لوگوں میں سب سے زیادہ حق عورت پر اس کے شوہر کا ہے اور لوگوں میں سب سے زیادہ حق مرد پر اس کی والدہ کا ہے‘‘۔

   مزید فرمایا: ’’اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔

  قرآن و سنت کے ان واضح ارشادات سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ جو عورتیں صالحات بن کر نہیں رہنا چاہتیں اور وہ اپنے شوہر کی اطاعت کو اپنے لئے بوجھ سمجھتی اور اسے اپنی آزادی کیلئے چیلنج گردانتی ہیں وہ درحقیقت عورت بن کر نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں مرد بن کر رہنا چاہتی ہے۔ ان کا یہ رویہ صالحات کا نہیں بلکہ فاسقات کا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جس نے اسلام کے نظم عفت و عصمت اور عائلی قوانین کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ نتیجتاً گھر برکتوں اور خوشحالیوں سے محروم ہوگئے۔

 تیسری صفت ان نیک بیبیوں کی یہ ہے کہ وہ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ ہوتی ہیں ، یعنی وہ مرد کی عزت و ناموس اور رازوں کی حفاظت کرتی ہیں اور وہ ہر اس چیز کی حفاظت کرتی ہیں جو شوہر کی غیر موجودگی میں بطور امانت عورت کے پاس ہے۔ اس میں اس کے نسب کی حفاظت، اس کی آبرو کی حفاظت، اس کے مال کی حفاظت، اس کے رازوں کی حفاظت، خود اس کی اپنی عفت اور پاکدامنی کی حفاظت، غرض سب کچھ اس میں آجاتا ہے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے قدرتی امین ہیں ۔ بالخصوص عورت کا مرتبہ تو یہ ہے کہ وہ مرد کے محاسن و معائب اس کے گھر در، اس کے اموال و املاک اور اس کی عزت و ناموس ہر چیز کی ایسی راز دان ہے کہ اگر اس کا پردہ چاک کرنے پر اتر آئے تو مرد بالکل ہی ننگا ہوکر رہ جائے۔ اس لئے قرآن کریم نے میاں بیوی کی حیثیت کو واضح کرنے کیلئے ارشاد فرمایا: ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسُ لَّھُنَّ ’’وہ تمہارا لباس ہیں تم ان کا لباس ہو‘‘۔

 لباس جس طرح ایک لباس پوش کیلئے پردہ پوش حفاظت کرنے والا اور اس سے گہرے اتصال کی علامت ہے، یہی حال میاں بیوی کا بھی ہے۔ بیوی پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ اطاعت کے ساتھ ساتھ مرد کے رازوں اور ان تمام چیزوں کی جس کا ابھی ذکر ہوچکا ہے حفاظت کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں اس کی تفصیل بیان فرمائی، جن میں سے چند ایک کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ آپؐ نے فرمایا:

   ’’تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے ہاں کسی ایسے شخص کونہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو‘‘۔

  ’’وہ اس کے گھر میں سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے، اگر ایسا کرے گی تو اجر شوہر کو ملے گا اور گناہ عورت پر ہوگا نیز وہ اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے‘‘۔

  ’’بہترین عورت وہ ہے کہ جب تو اس کو دیکھے تو تمہارا دل خوش ہوجائے اور جب تو اس کو حکم دے وہ تمہاری اطاعت کرے اور جب تو اس کے پاس موجود ہو تو وہ تمہارے مال اور اپنے نفس میں تمہارے حق کی حفاظت کرے‘‘۔

شوہر کی اطاعت غیر مشروط نہیں :

 البتہ یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ یہ اطاعت غیر مشروط نہیں کیونکہ غیر مشروط اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ اگر شوہر اپنی بیوی سے اللہ کی معصیت کا مطالبہ کرے مثلاً وہ فرض نماز اور روزے سے منع کرے یا شراب پینے کا حکم دے یا پردہ شرعی ترک کرائے یا فواحش کا ارتکاب کرانا چاہے تو عورت نہ صرف انکار کرنے کی مجاز ہے بلکہ اس کا فرض ہے کہ شوہر کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرنا چاہئے اور یہی اس کی ذمہ داری ہے اور یہی رویہ اس گھر کیلئے سر تا پا رحمت ہے اور اللہ کی رحمتیں ہمیشہ اس پر برستی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ جب شوہر بیوی کو دیکھے تو بیوی مسکرائے اور بیوی شوہر کو دیکھے تو شوہر مسکرائے تو دونوں کی اس خوشی کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت ان پر مسکرانے لگتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی کی بظاہر آپس میں خوشیاں جو نفسانی خواہشیں بھی کہی جاسکتی ہیں لیکن وہ اللہ کی رحمت کا سبب بنتی ہیں ، کیونکہ یہی خوشیاں اور یہ بہتر رویہ انسانی معاشرے کی بہتری اور اس کے تہذیب و تمدن کے ارتقا کا باعث بنتا ہے، لیکن اگر کوئی بیوی شوہر کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتی ہے جسے قرآنِ کریم نے نشوز کا نام دیا ہے تو اس کیلئے اس آیت کے اگلے حصے میں ہدایات عطا فرمائی گئی ہیں ۔ ارشاد باری ہے:

  ’’اور جن سے تمہیں نشوز کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر تنہا چھوڑ دو اور ان کو سزا دو۔ پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف راہ نہ ڈھونڈو، بے شک اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے‘‘ ۔ (القرآن)

  (نشوز کی صورت میں شوہر کو تین اختیارات دیئے گئے ہیں ):  (۱) نصیحت، (۲) ہجر فر المضاجع،  (۳) تعزیر۔

نشوز کا مفہوم:

  ان تینوں اختیارات کا تعلق چونکہ نشوز سے ہے اس لئے نشوز کا مفہوم سمجھ لینا چاہئے۔ نشوز معمولی عدم اطاعت کو نہیں کہتے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بیوی نے اگر ذرا سا کسی بات سے انکار کیا یا تعمیل حکم میں لاپرواہی کی یا کسی بات میں کوتاہی ہوگئی تو یہ سمجھ لیا جائے کہ نشوز کا جرم سرزد ہوگیا اور نہ شوہر کو اتنا ذکی الحس ہونا چاہئے اس لئے کہ جس پروردگار نے شوہر کو بیوی پر قوام بنایا ہے، اسی نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:

   ’’اور اس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی ہے کہ اس نے تمہاری بیویوں کو تمہارے لئے تمہارے نفسوں سے پیدا کیا تاکہ تم ان سے سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان ہمدردی اور رحمت پیدا کر دی‘‘۔

  اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی میں صرف یہی تعلق نہیں رکھا کہ مرد حاکم ہے اور بیوی محکوم، مرد آمرے ہے اور بیوی مامور بلکہ ان کے درمیان یہ تعلق بھی ہے کہ شوہر اپنی بیوی میں سکون پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں ہمدردی اور رحمت کا رشتہ رکھا ہے۔ ہمدردی اور رحمت کے رشتے کا یہ تقاضا ہے کہ انتظامی ضرورتوں کے حوالے سے اگر چہ شوہر کو ایک فوقیت حاصل ہے اور اس کے احکام کا احترام ہونا چاہئے، لیکن اس کا رویہ اپنی بیوی سے ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہئے ، لیکن اس کا رویہ اپنی بیوی سے ہر گز ایسا نہیں ہونا چاہئے جیسے ایک حکمران اور بادشاہ کا ہوتا ہے، بلکہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسا کہ حکم ہے کہ تم میں سے دو دوست بھی اگر کہیں سفر کریں تو دونوں آپس میں ایک کو امیر بنالیں تاکہ راستے کے معمولات حسن و خوبی سے انجام پاسکیں ۔ اب اس امیر بننے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ دوستوں میں دوستی کی نزاکتیں ختم ہوگئیں اسی طرح شوہر کو اگر چہ قوام بنایا گیا ہے اور اسے ایک درجہ فضیلت حاصل ہے لیکن یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ باہمی مودت و رحمت کے رشتے کو بھول جائیں ۔ اس لئے میاں بیوی میں اگر کہیں معمولی اختلاف بھی ہوجائے تو اس کی شوہر کو ہر گز پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ اسے برداشت کرنا چاہئے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے معمولی اختلاف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آنحضرتؐ سے بھی کرتی تھیں اگر چہ جواب نہیں دیتی تھیں ، لیکن طبیعتوں میں کسی بات سے انقباض کا پیدا ہوجانا انسانی فطرت ہے، لیکن حضورؐ نے کبھی اسے برا نہیں مانا۔

حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ عائشہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو ’’رب محمد‘‘ کہہ کر قسم کھاتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو ’’رب ابراہیم‘‘ کہہ کر قسم کھاتی ہو۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا حضور: انی لا اہجر الا اسمک، حضور میں آپ کے نام کے سوا اور کوئی چیز ترک نہیں کرتی‘‘ یعنی صرف آپ کا نام نہیں لیتی ورنہ خدانخواستہ آپ سے تعلق میں تو کوئی کمی نہیں آتی۔

  اندازہ کیجئے! ازواجِ مطہرات اگر کسی معمولی ناراضگی کا شکار بھی ہوتی تھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بلند ترین مراتب کے باوجود ان باتوں کو اپنی قوامیت کے خلاف نہیں سمجھتے تھے۔

نشوز کی صورت میں شوہر کو تین باتوں کی ہدایت:

 اس لئے نشوز کا معنی عدم اطاعت نہیں بلکہ یہ ایسی سر تابی اور سرکشی کو کہتے ہیں جو کسی عورت کی طرف سے اس کے شوہر کے مقابل میں ظاہر ہو اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سر کشی کی راہ پر چل پڑی ہے اور وہ ایسا قدم اٹھانا چاہتی ہے جو مرد کی قوامیت کو چیلنج کرنے والا ہے اور جس سے گھر کے معمولات میں بد امنی اور اختلال پیدا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ اگر ایسی صورت پیدا ہوجائے تو مرد تین صورتیں اختیار کر سکتا ہے اور قرآن کا انداز بیان دلیل ہے کہ ان تینوں میں ترتیب و تدریج ملحوظ رہے۔

 پہلا مرحلہ یہ ہے کہ نصیحت و ملامت کرے۔ قرآن کریم میں وعظ کا لفظ ہے جس کے اندر فی الجملہ زجر و توبیخ کا مفہوم بھی پیام ہے، یعنی وہ ہر ممکن طریقے سے بیوی کو سمجھانے کی کوشش کرے کہ دیکھو تم نے جو رویہ اختیار کیا ہے اس سے ہمارا گھر برباد ہوجائے گا۔ ہم دونوں یک دوسرے سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔ اولاد پر اس کے اثرات نہایت منفی بھی ہوسکتے ہیں ، جب تک چھوٹے ہیں ہماری بے توجہی کا شکار ہوں گے، بڑے ہوجائیں گے تو ہماری نافرمانی کریں گے کیونکہ بیوی جب شوہر کا احترام اور اطاعت نہیں کرتی تو اولاد کیسے کرے گی؟ اور جب شوہر اپنا مقام و مرتبہ کھو دے گا تو اولاد ماں کی بھی پرواہ نہیں کرے گی۔ اس طرح یہ گھر گھر نہیں رہے گا بلکہ سرائے بن جائے گا۔ اگر شوہر کا سمجھانا موثر نہ رہا ہو تو خاندان کے بزرگوں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ مختصر یہ کہ شوہر کو نصیحت اور سمجھانے بجھانے کے کاتمام ممکن ذرائع اور تمام موثر اسالیب سے کام لے کر اصلاح حال کی کوشش کر دیکھنی چاہئے لیکن اگر یہ تمام مساعی بیکار ثابت ہوں تو پھر دوسرے مرحلے میں دوسری ہدایت پر عمل ہونا چاہئے۔ وہ یہ کہ شوہر اپنی بیوی سے بے تکلّفانہ خلا ملا ترک کر دے۔ میاں بیوی کے درمیان جو بھی بے تکلفی کے تعلقات رشتۂ ازدواج کی علامت ہیں ان سے یکسر لاتعلقی اختیار کی جائے تاکہ بیوی کو اندازہ ہوجائے کہ معاملہ بہت بگڑ گیا ہے۔ اب اگر میں نے اپنی روش نہ بدلی تو اس کے نتائج دور رس بھی ہوسکتے ہیں ۔

یہاں بھی دو باتیں ذہن میں رہنی چاہئیں ۔ پہلی بات تو یہ کہ جس طرح بیوی کیلئے ہر گز جائز نہیں کہ وہ اپنے اور شوہر کے درمیان فاصلہ رکھے اور شوہر سے صنفی تعلق سے احتراز کرے اس طرح مرد کیلئے بھی اس بات کی بالکل گنجائش نہیں ہے کہ وہ معمولی باتوں پر بیوی سے قطع تعلق کرے اور اس کے احساس کو زخمی کرے۔ یہ قطع تعلق صرف نشوز کی صورت میں بیوی کی راہ راست پر لانے کیلئے جائز ٹھہرایا گیا ہے۔

ترکِ مباشرت لامحدود نہیں :

          دوسری بات یہ کہ یہ ترک تعلق لامحدود نہیں بلکہ آیت ایلا کے ذریعے اس کی ایک فطری حد مقرر کر دی گئی ہے، یعنی ترک مباشرت اور لاتعلقی چار مہینے سے زیادہ نہ ہو کیونکہ اگر بیوی کی طبیعت میں ذرا بھی سلامتی اور اصلاح کا مادہ ہوگا تو وہ اپنی روش بدلنے پر آمادہ ہوجائے گی، لیکن اگر وہ ایسی شوریدہ سر ہے کہ اس انتہائی اقدام کی بھی پرواہ نہیں کرتی تو آخری درجے میں مرد کو جسمانی سزا دینے کا بھی اختیار ہے، لیکن اس میں بھی دو باتوں کا لحاظ بہت ضروری ہے۔

1.      پہلی بات یہ کہ شوہر کو اس بات کا اطمینان کرلینا چاہئے کہ جس خاتون نے نصیحت کا اثر قبول کیا نہ ترک تعلق اور ترک مباشرت سے راہ راست پر آئی کیا جسمانی سزا اسے راہ راست پر لے آئے گی؟ کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین اپنے بگاڑ میں بھی بعض تخصصات رکھتی ہیں ۔ ایسی سختی ان پر بالعموم منفی اثرات پیدا کرتی ہے۔ اگر صورت حال ایسی ہو تو پھر جسمانی سزا سے احتراز کرنا چاہئے۔ البتہ؛ اگر واسطہ کسی ان پڑھ خاتون یا ایسے مزاج کی خاتون سے ہو تو پھر اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مقصد تو اصلاح احوال ہے۔

2 .     دوسری بات جس کی طرف توجہ دینا بہت ضروری ہے وہ یہ کہ جسمانی سزا اس حد تک ہونی چاہئے جس حد تک ایک معلم و مودب اپنے کسی زیر تربیت شاگرد کو دے سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد سے ہمیں واضح راہنمائی ملتی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

 ’’عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت حاصل کرو کیونکہ وہ تمہارے ماتحت ہیں ۔ تم اس کے سوا کسی اور شے کے مالک نہیں مگر جب وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ترک تعلق کرو اور انھیں ہلکی مار دو۔ اگر وہ اطاعت کرلیں تو ان سے کچھ نہ کو‘‘۔

  ایک دوسرے ارشاد میں فرمایا: ’’جب وہ معروف میں تمہاری نا فرمانی کریں تو انھیں ہلکی مار دو اور چہرہ پر نہ مارو اور برا بھلا نہ کہو‘‘۔ سزا ایسی نہ ہو کہ پائیدار اثر چھوڑ جائے۔



⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

ایک تبصرہ

  1. ایک روز شوہر نے پرسکون ماحول میں اپنی بیوی سے کہا :
    بہت دن گزر گئے ہیں میں نے اپنے گھر والوں بہن بھائیوں اور ان کے بچوں سے ملاقات نہیں کی ہے۔ میں ان سب کو گھر پر جمع ہونے کی دعوت دے رہا ہوں اس لیے براہ مہربانی تم کل دوپہر اچھا سا کھانا تیار کر لینا۔
    بیوی نے گول مول انداز سے کہا : ان شاء اللہ خیر کا معاملہ ہو گا۔
    شوہر بولا : تو پھر میں اپنے گھر والوں کو دعوت دے دوں گا۔
    اگلی صبح شوہر اپنے کام پر چلا گیا اور دوپہر ایک بجے گهر واپس آیا۔ اس نے بیوی سے پوچھا :
    کیا تم نے کھانا تیار کر لیا ؟ میرے گھر والے ایک گھنٹے بعد آ جائیں گے !
    بیوی نے کہا : نہیں میں نے ابھی نہیں پکایا کیوں کہ تمہارے گھر والے کوئی انجان لوگ تو ہیں نہیں لہذا جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ ہی کھا لیں گے۔
    شوہر بولا : اللہ تم کو ہدایت دے … تم نے مجھے کل ہی کیوں نہ بتایا کہ کھانا نہیں تیار کرو گی ، وہ لوگ ایک گھنٹے بعد پہنچ جائیں گے پھر میں کیا کروں گا۔
    بیوی نے کہا : ان کو فون کر کے معذرت کر لو ۔۔۔ اس میں ایسی کیا بات ہے وہ لوگ کوئی غیر تو نہیں آخر تمہارے گھر والے ہی تو ہیں۔
    شوہر ناراض ہو کر غصے میں گھر سے نکل گیا۔
    کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ بیوی نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کے اپنے گھر والے ، بہن بھائی اور ان کے بچے گھر میں داخل ہو رہے ہیں !
    بیوی کے باپ نے پوچھا : تمہار شوہر کہاں ہے ؟
    وہ بولی : کچھ دیر پہلے ہی باہر نکلے ہیں۔
    باپ نے بیٹی سے کہا : تمہارے شوہر نے گزشتہ روز فون پر ہمیں آج دوپہر کے کھانے کی دعوت دی ۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دعوت دے کر خود گھر سے چلا جائے !
    یہ بات سُن کر بیوی پر تو گویا بجلی گر گئی۔ اس نے پریشانی کے عالم میں ہاتھ ملنے شروع کر دیے کیوں کہ گھر میں موجود کھانا اس کے اپنے گھر والوں کے لیے کسی طور لائق نہ تھا البتہ یقینا اس کے شوہر کے گھر والوں کے لائق تھا۔
    اس نے اپنے شوہر کو فون کیا اور پوچھا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ دوپہر کے کھانے پر میرے گھر والوں کو دعوت دی ہے۔
    شوہر بولا : میرے گھر والے ہوں یا تمہارے گھر والے ۔۔۔ فرق کیا پڑتا ہے۔
    بیوی نے کہا : میں منت کر رہی ہوں کہ باہر سے کھانے کے لیے کوئی تیار چیز لے کر آجاؤ ، گھر میں کچھ نہیں ہے۔
    شوہر بولا : میں اس وقت گھر سے کافی دُور ہوں اور ویسے بھی یہ تمہارے گھر والے ہی تو ہیں کوئی غیر یا انجان تو نہیں۔ ان کو گھر میں موجود کھانا ہی کھلا دو جیسا کہ تم میرے گھر والوں کو کھلانا چاہتی تھیں.. "تا کہ یہ تمہارے لیے ایک سبق بن جائے جس کے ذریعے تم میرے گھر والوں کا احترام سیکھ لو” !.
    (لوگوں کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تم خود ان کی طرف سے اپنے ساتھ معاملہ پسند کرتے ہو)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے