مذہبی مضامین

نماز اور قربانی میں مناسبت (تیسری قسط)

تحریر:علامہ حمید الدین فراہیؒ… ترتیب: عبدالعزیز

 یہ بات گزر چکی ہے کہ قربانی کی حقیقت راہ الٰہی میں جان کی قربانی ہے، اس اعتبار سے ظاہر ہے کہ یہ ایک دوسری صورت میں بعینہٖ نماز ہے۔ نماز میں زبان اور اداؤں کے ذریعہ سے ایمان کا اقرار کیا جاتا ہے اور قربانی میں اسی ایمان کی تصدیق جان دے کر کی جاتی ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے خدا کی راہ میں جان دینے کا نام شہادت ہوا، نیز قربانی میں کمال درجہ خضوع اور اطاعت ہے۔ اس وجہ سے یہ نماز کی اصلی روح۔ اقرار توحید اور خضوع کی یہ سب سے زیادہ حامل ہے۔ علاوہ ازیں اس کے تمام آداب بھی اس کے حامل ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔مثلاً :

   ا)-         قربانی خانہ کعبہ کے پاس ہوتی ہے جو مرکز نماز ہے۔

  ب) –      اس کا آغاز بسم واللہ اکبر سے ہوتا ہے۔

  ج) –      قربانی اور قربانی کرنے والے دونوں کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے۔

   د) –       اونٹوں کو کھڑے کرکے قربان کیا جاتا ہے جس کو سجدۂ نماز میں مشابہت ہے۔

   پھر آغاز نماز کی دعا جو قرآن میں وارد ہے، یہ ہے اور یہ دعا قربانی کے وقت بھی پڑھی جاتی ہے:

  اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ْ(سورہ انعام، آیت:79)۔

’’میں نے ہر طرف سے کٹ کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔

نیز اِنَّ صَلٰوتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ (سورہ انعام، آیات:163-164)۔

’’بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ رب العالمین کیلئے ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں ہے‘‘۔

 قرآن مجید نے اس حقیقت کی طرف اشارہ بھی کر دیا ہے؛ چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ کے سلسلہ میں فرمایا: ’’جب ان دونوں نے امر الٰہی کے سامنے اپنا سر جھکا دیا اور ابراہیمؑ نے اسمٰعیل کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا‘‘ (سورہ صافات، آیت:103)۔

 یعنی ان کے ظاہر و باطن دونوں خدا کی طرف متوجہ ہوگئے ، اور ابراہیمؑ نے اسمٰعیلؑ کو سجدہ میں ڈال دیا۔

 اسی طرح قربانی کے ذکر میں فرمایا:

  ’’اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں سے قرار دیا۔ ان میں تمہارے لئے فوائد ہیں ، پس ان پر اس حال میں کہ وہ صف بہ صف ہوں ۔ اللہ کا نام لو‘‘ (سور حج، آیت:36)۔

 یعنی جس طرح تم نمازوں میں صف بستہ کھڑتے ہوئے ہو، اسی طرح وہ بھی ذبح کے وقت قطار میں کھڑے کئے جائیں ۔

اسی طرح زکوٰۃ کے بیان میں جو قربانی ہی کے ذیل کی عبادت ہے، فرمایا ہے:

 ’اور وہ زکوٰۃ دیتے ہیں ، در آنحالیکہ جھکے ہوئے ہوتے ہیں ‘‘ (سورہ مائدہ، آیت:55)۔

  یعنی زکوٰۃ دیتے وقت ان کی ہیئت سے خشوع کا اظہار ہوتا ہے، وہ متکبر اور طالب شہرت اغنیاء کی طرح تن کر زکوٰۃ نہیں دیتے۔

(5  نماز اور قربانی دونوں ذکر الٰہی ہیں ۔ نماز کا ذکر ہونا تو متعدد آیات سے واضح ہے، مثلاً:

اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ ’’اور میری یاد کیلئے نماز قائم کرو‘‘ (سورہ طٰہٰ، آیت:14)۔

 وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ’’اور اس نے اپنے رب کے نام کو یاد کیا، پس نماز پڑھی‘‘ (سورہ اعلیٰ، آیت:15)۔

  رہا قربانی کا ذکر ہونا تو یہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔ فرمایا:

 ’’تاکہ اللہ کے نام کو یاد کریں ، ان چوپایوں پر جو اس نے ان کو بخشے ہیں ‘‘ (سورہ حج، آیت34)۔

 اسی طرح ’’ان کو تمہارے لئے مسخر کیا تاکہ تم اس ہدایت پر جو اللہ نے تم کو بخشی ہے، اس کی بڑائی کرو (یعنی دین توحید اور اسلام کے دیئے جانے پر)۔ (سورہ حج، آیت:37)

 اس سے ظاہر ہے کہ جس طرح تکبیر کے ذریعہ سے ہم نماز میں اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں بعینہٖ اسی طرح قربانی کے وقت بھی کرتے ہیں ۔

(6  یہ دونوں (نماز اور قربانی) شکر ہیں ۔ نماز کا شکر ہونا تو بالکل ظاہر ہے، یہاں تک کہ بعض جگہ نماز کو تعبیر ہی شکر کے لفظ سے کر دیا گیا ہے:

’’پس مجھ کو یاد رکھو، میں تم کو یاد رکھوں گا، اور میرا شکر کرتے رہو، ناشکری مت کرنا‘‘ (سورہ بقرہ، آیت152)۔

 اب قربانی پر غور کیجئے: یہ بات بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور دنیا والوں سے بالکل مستغنی ہے۔ وہو یطعم ولایطعم (وہ کھلاتا ہے لیکن کھاتا نہیں ) اس نے جو نعمتیں ہم کو بخشی ہیں ، ان میں سے کچھ ہم اس کی راہ میں محض اس حقیقت کا اعتراف کرنے کیلئے قربان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے، سب اسی کی ملکیت اور اسی کا انعام ہے؛ چنانچہ اسی وجہ سے قربانی کے وقت ہم یہ الفاظ کہتے ہیں : ’’تیری ہی بخشی ہوئی نعمت اور تیری ہی راہ میں ‘‘۔

 اسی وجہ سے فرمایا ہے: ’’اسی طرح ہم نے ان کو مسخر کیا تاکہ تم شکر کرو‘‘ (سورہ حج، آیت:32)۔

 اور جس طرح نماز اللہ کی تمام ظاہری و باطنی نعمتوں پر ایک عام شکر ہے، اسی طرح قربانی بھی محض منافع دنیا وی کا شکر نہیں ہے بلکہ عمومی شکر کا وہی پہلو اس میں بھی ملحوظ ہے جو نماز میں ملحوظ ہے، چنانچہ فرمایا ہے: ’’تاکہ تم کو جو ہدایت بخشی ہے اس پر اللہ کی بڑائی کرو‘‘ (سورہ حج، آیت:37)۔

(7  یہ دونوں تقویٰ کی فرع ہیں ۔ یہ قاعدہ ہے کہ جس سے آدمی کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں یا جس سے وہ ڈرتا ہے اس کو برابر یاد رکھتا ہے، نماز اسی ذکر کے قائم رکھنے کیلئے ہے؛ چونکہ بندہ کو خدا کی رضا مطلوب ہوتی ہے اور وہ اس کے غضب سے ڈرتا ہے، اس وجہ سے وہ اس کے سامنے روتا اور گڑگڑاتا ہے۔ آیت ذیل میں اسی کی طرف اشارہ ہے:

 ’’اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤگے‘‘ سورہ انعام، آیت72)۔

 اب قربانی کو دیکھئے: اللہ تعالیٰ نے چوپایوں پر انسان کو جو غلبہ اور تسلط دیا ہے اس میں ایک قسم کی آقائی اور بندگی کی نمود ہے۔ اس وجہ سے ضروری ہوا کہ اظہارِ خشوع اور اقرارِ بندگی کے ذریعہ اس غرور کو مٹا دیا جائے اور قربانی کے وقت بندہ کی زبان پر شکر نعمت اور اقرار عبدیت کے ایسے الفاظ جاری کئے جائیں جن سے خدا کی ملکیت اور پروردگاری اور اس کی وحدت و یکتائی کا اظہار ہو۔

غور کیجئے؛ ان تمام باتوں میں تقویٰ کی کس قدر جلوہ گری ہے؛ چنانچہ تقویٰ ہی چونکہ ان تمام حقائق کا جامع تھا۔ اس وجہ سے وہی قربانی کی حقیقت قرار پایا۔ بندہ تقویٰ ہی کی راہ سے قربِ الٰہی کے مرتبہ کو پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے کوئی قربانی اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک اس میں تقویٰ نہ ہو، چنانچہ فرمایا:

  ’’اللہ صرف متقین کی قربانی قبول کرتا ہے‘‘ (سورہ مائدہ، آیت:27)۔

 سورۂ بقرہ میں ہے: ’’اور تقویٰ کا زادِ راہ لو، کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہی ہے‘‘ (سورہ بقرہ، آیت:197)۔

  تقویٰ کو زادِ راہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، کیونکہ یہی چیز قربِ الٰہی کی منزلوں تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ یہ تقریب در اصل تقرب کیلئے ہے، جیسا کہ گیارہویں سبب میں ہم لکھیں گے، اس وجہ سے اس میں تقویٰ کا زادِ راہ ناگزیر ہوا۔

   (8  یہ دونوں منازل آخرت میں سے ہیں ، کیونکہ نماز رجوع الی اللہ اور حشر میں پروردگار کے حضور ہمارے کھڑے ہونے کی تصویر ہے۔ اسی وجہ سے اس میں معاد کی ایک جھلک پائی جاتی ہے، گویا بندہ جس وقت نماز میں کھڑا ہوتا ہے اس وقت وہ خدا کے سامنے اپنی حاضری کے دن کو یاد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ اشارہ مندرجہ ذیل آیت سے نکلتا ہے:

  ’’بے شک وہ (نماز) گراں ہے مگر ان خوف رکھنے والوں پر جن کو گمان ہے کہ ان کو اپنے رب سے ملنا ہے اور ایک دن وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ‘‘ (سورہ بقرہ، آیات:45-46)۔

 جن لوگوں کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ ایک دن خدا کی طرف لوٹنا اور اپنے تمام اعمال و اقوال کی جواب دہی کرنی ہے، وہ تمام غفلتوں اور گناہوں سے تائب ہوکر لازماً اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں اور جو خشیت اور پستی خدا کے سامنے آخرت میں ان پر طاری ہونے والی ہے، اس کا عکس دنیا ہی میں ان پر نظر آنے لگتا ہے۔ مندرجہ ذیل آیات پر غور کریں ۔

 ’’دل اس دن مضطر ب ہوں گے اور نگاہیں پست ہوں گی‘‘ (سورہ نازعات، آیات:8-9)۔

 ’’ان ایمان والوں نے فلاح پائی جو اپنی نمازوں میں سرفگندہ ہیں ‘‘ (سورہ مومنون، آیت:201)۔

 ’’ایسے لوگ ہیں جن کو تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں الٹ جائیں گے‘‘ (سورہ نور، آیت:37)۔

  یہ آیت بھی اسی کے مشابہ ہے:

 ’’بے شک انسان سرکشی کرتا ہے، اس وجہ سے کہ وہ اپنے کو مستغنی دیکھتا ہے۔ بے شک تیرے رب کی طرف پھر جانا ہے (یعنی جس کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے وہ کیسے بے پروا ہوتا ہے)، تم نے اس کو دیکھا؛ جو ایک بندہ کو روکتا ہے جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے‘‘ (سورہ علق، آیات: 6تا 10)۔

 قرآن مجید میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ خدا حشر کے دن، جب ہم کو پکارے گا تو ہم اس کی حمد پڑھتے ہوئے قبروں سے نکل کر اس کی طرف بھاگیں گے۔

 ’’جس دن وہ تم کو پکارے گا تو تم    اس کی حمد پڑھتے ہوئے اس کی طرف دوڑوگے اور خیال کروگے کہ تم بہت کم ٹھہرے‘‘ (سورہ اسراء، آیت52)۔

 اسی طرح نمازی نماز کی پکار کی طرف لپکتے ہیں اور صف بستہ ہوکر خدا کی حمد کرتے ہیں ۔

  بعینہٖ یہی حقیقت قربانی میں بھی جلوہ گر ہے۔ وہ بھی نماز کی طرح رجوع الی اللہ ہے، جیسا کہ دوسرے اور تیسرے سبب کے بیان میں مذکور ہوچکا ہے۔ یہاں اس پر ہم ایک دوسرے پہلو سے نظر ڈالیں گے۔

 جس طرح چوپایوں کو خدا نے ہمارے لئے مسخر کیا ہے، اسی طرح ہمارے جسموں کو بھی ہمارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ ایک معین مدت تک کیلئے ہم ان کو اپنا مرکب بنائیں اور ان سے اپنے کاموں میں مدد لیں اور پھر ان کو خدا کے حوالہ کردیں ۔ چوپایوں کے بارہ میں فرمایا ہے:

 ’’تمہارے لئے ایک متعین مدت تک کیلئے ان میں منفعتیں ہیں ، پھر ان کو خدا کے قدیم گھر کی طرف لے جانا ہے‘‘ (سورہ حج، آیت:33)۔

 جس طرح قربانی کے جانوروں کو ہم بیت اللہ کی طرف لے جاتے ہیں ، اسی طرح اپنے اجسام کو بھی لے جاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ہے:

’’اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، کہ آویں تمہارے پاس پیادہ پا اور لاغر اونٹوں پر جو آئیں گے گہرے راستوں سے‘‘ سورحج، آیت:27)۔

دیکھئے؛ ہمارے جسموں اور ہمارے چوپایوں کیلئے سمت سفر ایک ہی معین ہوئی اور یہ اشتراک ہر چیز میں نمایاں ہے، جس طرح قربانی کے جانوروں کا ہم احترام کرتے ہیں اور ان کیلئے ایک مخصوص شعار قرار دیتے ہیں ، بعینہٖ وہی معاملہ ہم اپنے جسموں کے ساتھ کرتے ہیں ۔ بس اتنا فرق ہے کہ ہم جانوروں کی طرح اپنے جسموں کو ذبح نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح حضرت اسمٰعیلؑ کی جان اس چیز کے عوض چھڑا لی گئی جو ان کی قائم مقام بن کر قربان ہوئی۔ اسی طرح ہم جانوروں کے فدیہ کے عوض اپنی جانوں کو چھڑا لیتے ہیں ، لیکن جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیلؑ کا ہدیہ ایک دوسری شکل میں قبول فرمایا کہ حضرت اسمٰعیلؑ کو اپنے گھر کی خدمت کیلئے مخصوص فرمالیا، اسی طرح ہم بھی اپنی جانوں کو فدیہ دے کر چھڑا تو لیتے ہیں لیکن وہ ہم کو واپس نہیں کر دی جاتی ہیں بلکہ وہ ہماری امانت میں دے دی جاتی ہیں تاکہ جب ضرورت پیش آئے ہم اللہ کی راہ میں ان کو قربان کرسکیں ۔ قرآن مجید میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے:

  ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کا مال جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور شہید ہوتے ہیں ۔ یہ ایک سچا اور پکا عہد ہے اور توراۃ، انجیل، قرآن سب میں مذکور ہے۔ جنھوں نے اللہ سے اپنے عہد کو پورا کیا، ان کیلئے ہمارا پیام یہ ہے کہ اپنے اس معاملہ کے سبب سے جو تم نے کیا ہے خوشخبری حاصل کرو۔ یہی بڑی کامیابی ہے‘‘ (سورہ توبہ، آیت:111)۔  (جاری)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close