مذہبی مضامین

نماز کا مقصد اور فوائد (دوسری قسط)

 عبدالعزیز

 انتخابِ امیر: انسان اجتماعی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اجتماعی زندگی کے ہر مرکز کیلئے … خاندان ہو یا قبیلہ، محلہ ہو یا بستی، شہر ہو یا ملک … ایک سربراہ کی ضرورت ہوگی۔ اب ضرورت ہے کہ ملک کے اندر جگہ جگہ ایسے مراکز قائم ہوں جہاں سربراہوں کو قیادت کی اور عوام کو سمع و طاعت کی تربیت دی جائے اور آپس میں ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت کی عملی تعلیم دی جائے تاکہ ایک خاندان سے لے کر ملک تک کے باشندوں کو امن و سکون کی زندگی بسر کرنا نصیب ہو۔

 ایک اسلامی نظام حکومت میں نماز کے قیام سے یہ چیز بآسانی حاصل ہوسکتی ہے۔ باجماعت نماز ادا کرنے کیلئے ہر محلہ اور ہر بستی کی مسجد میں ایک امام ہوگا اور اس محلہ یا بستی کے تمام بالغ مسلمان اس کے مقتدی ہوں گے۔ شریعت میں امام اور مقتدیوں کے کچھ فرائض ہیں اور کچھ حقوق بھی۔ ظاہر ہے کہ جب با جماعت نماز میں امام اور مقتدی اپنے اپنے فرائض ادا کریں گے اور آپس میں حقوق کی نگہداشت رکھیں گے تو اس طرح دن رات میں پانچ وقت امام کو قیادت کرنے کی اور مقتدیوں کو سمع و طاعت کی عملی تربیت ملے گی۔ اسلام کے علاوہ کسی دوسرے تمدن میں قیادت اور سمع و طاعت کی عملی تربیت کیلئے اس سے بہتر اور کم خرچ کوئی انتظام نہ موجود ہے اور نہ ممکن ہے۔

اب دیکھئے کہ با جماعت نماز میں امام کو قیادت کی تربیت کیسے حاصل ہوتی ہے۔ پہلے امام کے فرائض پر غور کیجئے۔

 مقتدیوں کے آگے ایک ہی سطح فرش پر کھڑے ہوکر امامت (قیادت) کے فرائض ادا کرنا۔

 دن رات کی پانچوں فرض نمازوں میں سے تین نمازوں میں قرآن مجید سے سورۂ فاتحہ کے علاوہ کوئی سورۃ یا اس کا کچھ حصہ بلند آواز سے قرأت کرنا۔

 جمعہ کی نماز میں خطبہ دینا۔

 چھوٹوں، بڑوں، کمزوروں، ضعیفوں اور حاجت والوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ہلکی نماز پڑھانا(قرأت اور رکوع و سجود میں زیادہ طوالت نہ کرنا)۔

 اگر دورانِ نماز میں امام کسی وجہ سے امامت کے فرائض ادا کرنے کے قابل نہ رہے تو اپنی جگہ کسی اہل اور موزوں مقتدی کو خلیفہ مقرر کرنا۔

 نماز کے مقررہ اوقات پر پابندی کے ساتھ مسجد میں حاضر ہونا اِلّا یہ کہ کوئی شرعی عذر مانع ہو۔

   نماز میں غلطی کا علم ہوجانے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرکے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔

اسلامی نظام حکومت میں مسجد کی امامت وہ بلند مقام ہے جہاں حکومت کے ذمہ دار عمّال کھڑتے ہوتے تھے۔ مسجد نبویؐ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود امامت کے فرائض ادا فرماتے تھے اور آپ کے وقت میں مدینہ سے جن جن مقامات پر عمال مقرر ہوکر جاتے تھے وہی وہاں کے امام بھی ہوتے تھے۔ خلفائے راشدینؓ کے وقت میں بھی اسی طریق کار پر عمل ہوتا رہا۔ اب جب سے مسلمانوں نے دین و سیاست کی علاحدگی کا سراسر غلط نظریہ اختیار کیا ہے اس کے نتیجہ میں ایک طرف تو مسجد کی امامت مذاق بن کر رہ گئی اور دوسری طرف حکومت کے سربراہ اور عمال نماز میں قیادت کی صحیح اسلامی تربیت سے محروم ہوگئے ہیں۔

 عوام میں گھل مل کر فرائض ادا کرنا: ایک ہی سطحِ فرش پر مقتدیوں کے آگے کھڑے ہوکر امامت کرنے سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ امام دوسرے نمازیوں سے کوئی الگ اور بالاتر مخلوق نہیں ہے بلکہ انہی میں سے ایک فرد ہے۔ اسے چند صفات کی بنا پر رہنمائی او ر نمائندگی کیلئے آگے کھڑا کیا گیا ہے۔ اس سے یہ تربیت حاصل ہوتی ہے کہ مسجد کے باہر کسی قیادت یا رہنمائی کا کوئی منصب ملے تو وہ تخت بچھا کر حکمرانی اور فرماں روائی نہ کرے بلکہ لوگوں کی سطح پر رہ کر اوران میں گھل مل کر اپنے فرائض ادا کرے۔ اسلامی نظام حکومت میں ا س کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ ہو:

  حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں مفتوحہ علاقوں کی زمینوں کی تقسیم سے متعلق مشورہ کرتے وقت سرکردہ اصحاب سے خطاب فرماتے ہیں:

 ’’میں نے آپ حضرات کو صرف اس لئے زحمت دی ہے کہ جس بارِ امانت کو میرے سپرد کیا گیا ہے اور جن معاملات کی ذمے داری آپ لوگوں نے مجھ پر لادی ہے اس کے اٹھانے میں میری مدد کریں، اس لئے کہ میںبھی آپ ہی لوگوں جیسا ایک آدمی ہوں ‘‘۔

  خطاب کرنے کی مشق: قیادت یا سربراہی کے فرائض ادا کرنے کیلئے تقریر کے ذریعہ مافی الضّمیرکے اظہار کی ضرورت اکثر پیش آتی ہے۔ نماز میں بلند آواز سے قرأت کرنے اور جمعہ میں خطبہ دینے سے ضمنی طور پر تقریر کی مشق بھی حاصل ہوجاتی ہے۔

 ہمدرد ی کے احساس کی مشق: ہلکی نماز پڑھانے سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ مسجد سے باہر جب کسی کو قیادت یا سربراہی کا موقع ملے تو جماعت میں اس کا طرز عمل کیسا ہونا چاہئے؛ یعنی بوڑھوں کا خیال رکھے۔ چھوٹوں کے ساتھ نرمی برتے، کمزوروں کو سہارا دے اور حاجت مندوں کو سہولتیں بہم پہنچائے۔

منصب خالی کرنا: نماز کے دوران میں عذر کی بنا پر خلیفہ مقرر کرنے سے اس بات کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص قیادت یا سربراہی کے فرائض ادا کرنے کے قابل نہ رہے، قطع نظر اس کے کہ کسی دوسرے کو اس کا علم و احساس تک نہ ہو وہ اپنا منصب خود خالی کردے اور اپنی جگہ کسی دوسرے کو کام کرنے کا موقع دے اور علاحدگی کی ایسی صورت بھی اختیار نہ کرے کہ اس کے ہٹنے کے بعد جماعت کا نظام درہم برہم ہوجائے۔

 فرض شناسی: قیادت یا سربراہی کیلئے فرض شناس ہونا ضروری ہے۔ نماز کے مقررہ اوقات سے اور ارکان اور واجبات اور سنن و آداب کی پابندی سے فرض شناسی کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔

غلطی کا اعتراف: نماز میں غلطی کا علم ہوجانے پر سجدہ سہو کرنے سے یہ تربیت ملتی ہے کہ سربراہ کو اپنی غلطی کا علم و احساس ہوجانے کے بعد (خواہ یہ از خود ہو یا کسی کے توجہ دلانے سے) بلا تامل اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا چاہئے اور اس کی ممکن تلافی اور اصلاح بھی کرلینی چاہئے اور اس کے علانیہ اعتراف و اصلاح میں بھی کوئی چیز مانع نہ ہونی چاہئے۔

   سمع و طاعت: ہر نظم کی کامیابی کا دار و مدار … جماعت ہو یا حکومت؛ اس بات پر ہے کہ جماعت کے افراد یا حکومت کے شہری جس کو اپنا قائد یا سربراہ تسلیم کرلیں اس پر پورا پورا اعتماد کریں اور دل سے اس کا احترام کریں۔ اس کی بات غور سے سنیں اور اس کے تمام جائز احکام کی تعمیل کریں۔

   اب دیکھئے کہ با جماعت نماز میں کس طرح امام پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ کس جذبہ کے ساتھ اس کے احکام کی تعمیل کی جاتی ہے اور کس احترام کے ساتھ اس کی غلطی کی نشان دہی کی جاتی ہے۔

  مقتدی ہر حال میں امام کی اقتدا کرنے پر مجبور ہے، کیونکہ شریعت میں اس کے خلاف کرنے والوں کیلئے سخت وعید آئی ہے۔

 امام اگر قرأت یا نماز کی ترتیب میں کوئی غلطی کرے تو بڑے احترام کے ساتھ اس کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ اس سے صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ تجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔ قرأت میں تو صرف صحیح چیز پیش کر دی جاتی ہے اور نماز کی ترتیب میں غلطی کے وقت ’سبحان اللہ‘ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہر قسم کی غلطیوں سے مبرا ہے۔ انسان سے غلطی ہوسکتی ہے اور آپ بھی غلطی کرگئے ہیں۔ اپنے رہنما یا قائد کی غلطی کی نشان دہی کرنے کا کیا ہی خوبصورت انداز ہے جس کی تعلیم نماز میں دی جاتی ہے۔ پھر اگر امام اپنی غلطی کو غلطی نہ سمجھ کر تصحیح نہیں کرتا ہے تو اس صورت میں بھی بقیہ نماز میں اس کی اقتدا کی جاتی ہے اور نماز ختم ہونے کے بعد اگر ضروری ہوتو شریعت کے مقرر کردہ طریقوں سے اس کی تلافی کرلی جاتی ہے۔

  اس طرح دن رات میں پانچ وقت با جماعت نماز سے مقتدیوں کو اپنے قائد یا سربراہ کے احترام کرنے اور اس کے جائز احکام کی اطاعت کرنے کی تعلیم و تربیت ملتی رہتی ہے۔

  یہ یاد رہے کہ امام کے ساتھ مقتدیوں کا یہ طرز عمل صرف ان غلطیوں کے بارے میں ہے جو جزئی نوعیت کی ہوں، لیکن اگر امام سنت نبویؐ کے خلاف نماز کی ہیئت اور ترکیب ہی بدل دے یا قرآن کو تحریف کرکے پڑھے یا نماز پڑھانے کے دوران میں کفر و شرک یا کھلی معصیت کا ارتکاب کرے یا اس کی عقل میں فتور آجائے تو جماعت کا فرض ہے کہ نماز توڑ کر اس سے الگ ہوجائے اور اسے ہٹا کر کسی دوسرے قابل شخص کو اس کی جگہ قائم کرے۔ پہلی صورت میں امام کی اقتدا کرنا اس سے بڑا گناہ ہے۔

 امداد باہمی: اگر کہیں کسی نئی بستی یا آبادی کی بنیاد رکھی جائے تو اس میں بہت سے ایسے کام ہوتے ہیں جو امداد باہمی کے ذریعہ ہی سر انجام پاسکتے ہیں۔ مثلاً عام صفائی کا کام، بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام، پانی کے نکاس کیلئے پختہ نالیوں کی تعمیر اور ان کی صفائی، گلیوں کا پختہ بنانا وغیرہ۔

 اب دیکھئے کہ نماز سے کس طرح امداد باہمی کے ذریعے ایسے مشترکہ کام کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔ نئی بستی یا آبادی کی بنیاد رکھنے والے اگر مسلمان ہیں تو نقشہ بناتے وقت سب سے پہلے باہمی مشورہ سے وہ اس بات پر غور و خوض کریں گے کہ مسجد کیلئے جگہ کہاں چھوڑی جائے اور اس کے بعد سب سے پہلا جو مشترکہ کام سر انجام پائے گا وہ مسجد کی تعمیر ہوگی۔ باہمی مشورہ سے مسجد کی تعمیر کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو مسلمانوں سے عطیات وصول کرکے مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں تمام انتظام کرے گی۔ جو مسلمان نقد عطیات دینے کا مقدور نہ رکھتے ہوں گے وہ مسجد کی تعمیر کیلئے محنت مزدوری کے کاموں میں اپنی خدمات پیش کریں گے اور اس طرح مل جل کر کام کرنے سے مسجد تیار ہوجائے گی۔ اس کے جملہ انتظامات مثلاً مؤذن اور امام کا تقرر، صفائی، روشنی، پانی اور فرش وغیرہ کے انتظامات مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے سپرد ہوں گے۔

مختصر یہ مسجد ہی ہے جس سے وہاں کے باشندوں کو مشترکہ کام کرنے کی تربیت و رہنمائی حاصل ہوگی، لیکن یہ تربیت یا رہنمائی اسی صورت میں مل سکتی ہے جبکہ بستی یا آبادی میں نماز کے قیام کا پورا اہتمام ہو اور ہر بالغ مرد مسجد میں حاضر ہوکر با جماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرتا ہو۔ اس صورت میں نمازیوں کو مسجد کی ضروریات کا انتظام کرنے کیلئے ایک انتظامیہ کمیٹی کے انتخاب کی ضرورت اور احساس پیدا ہوگا، مگر موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں میں مساجد کی تعمیر کا شوق تو کچھ باقی ہے، لیکن ان کی آبادکاری کے احساس کا فقدان ہے۔

اگر اندازہ لگایا جائے تو کسی مسجد میں نمازیوں کی تعداد پانچ فیصدی سے زیادہ نہ ہوگی اور یہ نمازی بھی بالعموم متوسط اور غریب طبقہ کے ہوتے ہیں۔ کھاتے پیتے بیشتر مسلمان اوّل تو نماز پڑھتے ہی نہیں اور اگر ان میں سے کوئی نماز پڑھتا بھی ہے تو مسجد میں حاضر ہوکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتا۔ اس طرح مسجد کی آباد کاری ان چند نمازیوں کے محدود وسائل اور رحم و کرم پر ہوتی ہے اور کچھ دیہات میں تو مساجد کی عام حالت بالعموم ناگفتہ بہ ہے۔ اذان اور نماز باجماعت کا کوئی معقول انتظام نہیں، مسجد میں صفائی اور روشنی کا انتظام نہیں اور جب نمازی ہی نہ ہوئے تو وضو کرنے کیلئے پانی یا فرش یا چٹائیوں کی کیا ضرورت،  ایسی آبادیوں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ امداد باہمی کی برکات سے محروم کرکے انتشار و افتراق اور ایک دوسرے کو گرانے اور نیچا دکھانے کی ختم نہ ہونے والی مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (جاری)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close