فقہمذہبمذہبی مضامین

ننگے سر نماز پڑھنا

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی

 کسی اجنبی تہذیب کو اس لیے اختیار کیاجاتا ہے کہ وہ بظاہر طاقتور اور مادی چمک دمک رکھتی ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو کر اسے اپنایاجاتا ہے، اس لیے کہ کسی تہذیب کی ظاہری تقلید اس کی روح سے متاثر ہوئے بغیر ممکن نہیں، یہ محال ہے کہ کسی تہذیب کی روح کو قبول کیے بغیر اس کے جمالیاتی ذوق و فکر کی تقلید کی جائے، لہٰذا جب کوئی مسلمان دوسروں کے طور، طریقے کی نقل کرتا ہے تو اس تہذیب کے تئیں اپنے اندرونی رجحان کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ کوئی تہذیب محض شکل نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک زندہ قوت ہوتی ہے اور جس لمحے ہم شکل کو اپناتے ہیں تو اس کے اندر موجودہ قوتیں اور اثرات ہم پر کام کرنا شروع کردیتے ہیں اور ہمیں غیر محسوس طریقے پر آہستہ آہستہ اپنی فکر میں ڈھالنا شروع کردیتے ہیں، اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :

’’ من تشبہ بقوم فھو منھم‘‘ (ابو دائود :4031، مسند احمد :5114۔)

’’جو کوئی کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کر ے تو وہ انہیں میں سے ہے ‘‘۔

 اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور سنتوں کے ذریعے اسلامی زندگی کی صورت گری اور تشکیل ہوتی ہے، سنت اسلامی قلعے کا فولادی کور (Cover) ہے، جسے اگر عمارت سے الگ کر دیا جائے تو وہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی، اس لیے شاید یہ عمل اپنے آپ میںزیادہ اہم نہ ہو کہ ہم دائیں ہاتھ سے کھائیں یا بائیں ہاتھ سے، لیکن نفسیاتی اور معاشرتی اعتبار سے اس کی بڑی اہمیت ہے، لہٰذا ایسا ہرگز نہیں ہوناچاہیے کہ بعض سنتوں کو صرف اس لیے چھوڑ دیں کہ وہ غیر ضروری نظرآتی ہیں، بلکہ ہر سنت کو اپنی زندگی میں داخل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جن سنتوں کے بارے میں کوتاہی ہورہی ہو، اسے بھی محبت و احترام کی نگاہ سے دیکھنا اور عمل نہ کرسکنے پر ندامت اور افسوس کا اظہار کرنا چاہیے ۔

 نبی ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت ٹوپی پہننا او ر عمامہ باندھنا بھی ہے، چنانچہ علامہ ابن قیم لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عمامہ اور ٹوپی دونوں پہنتے تھے اور کبھی عمامہ کے بغیر صرف ٹوپی پہن لیتے اور کبھی ٹوپی کے بغیر صرف عمامہ باندھ لیتے۔ (زاد المعاد:1/135۔)غرضیکہ آپ ﷺعام حالات میں ننگے سر نہیں رہتے اور یہی حال صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین اور ائمہ دین کا بھی تھا، بلکہ پورا اسلامی سماج اسی رنگ میں رنگاہوا تھا اور ان میں ننگے سر رہنے کا کوئی تصور نہیں تھا اور بہت بعد میں استعماری غلبے کے دوران مسلمانوں میں ننگے سر رہنے کا رواج بڑھا ہے، چنانچہ علامہ البانی لکھتے ہیں کہ سید سابق نے فقہ السنۃ میں لکھاہے کہ ابن عساکر نے عبداللہ بن عباسؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ کبھی کبھار اپنی ٹوپی اتار کر اسے اپنے سامنے رکھ کر ’’سترہ‘‘ بنالیتے، اس روایت کو نقل کرکے وہ کہتے ہیں کہ نماز میں سر ڈھکنے کی افضلیت کے سلسلے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے، علامہ البانی نے اس روایت پر کلام کرتے ہوئے جوکچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

 اس حدیث سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ حدیث ضعیف ہے، (دیکھیے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ:2538۔) اور اگر صحیح مان بھی لیاجائے تو یہ مطلقاً ننگے سر نماز پڑھنے پر دلالت نہیں کرتا، اس لیے کہ اس سے صرف یہ معلو م ہوتا ہے کہ آنحضور ﷺ ایسا صرف اس وقت کرتے تھے جب کہ سترہ کے لیے کوئی دوسری چیز نہ ہوتی، کیونکہ ستر ہ بنانا سرڈھکنے سے زیادہ اہم ہے، اس سلسلے میں میری رائے

 یہ ہے کہ ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے کہ یہ مسلم ہے کہ مکمل اسلامی لباس کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ ’’فاللّٰہ احق ان یتزین لہ ‘‘، ’’اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے زیب وزینت اختیارکی جائے‘‘۔

  اور ننگے سررہنے کی عادت بنالینا اور اسی ہیئت میں باہراور عبادت کی جگہوں میں جانا سنت کی نگاہ میں پسندیدہ نہیں ہے بلکہ یہ غیروں کا طریقہ ہے جو مسلمانوں میں اس وقت داخل ہواجب مسلم ملکوں میں غیرمسلموں کا غلبہ ہوا اور اپنے ساتھ اپنی خراب عادتیں لے آئے اورمسلمانوں نے ان کی تقلیدکی اور اس کے اور اس طرح کے دیگررسوم ورواج کے ذریعے اسلامی پہچان کو ضائع کرنے کے درپے ہوئے، لہٰذ ا دوسروں کے ذریعہ مسلط کیے گئے طریقوں کی وجہ سے اسلامی عرف کی مخالفت صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اسے ننگے سر نماز پڑھنے کی دلیل بنانا درست ہے ۔

 ہمارے بعض مصری بھائیوں نے جو ’’انصار السنۃ‘‘ نامی جماعت سے وابستہ ہیں اس کے جواز کے لیے حالت احرام میں ننگے سر رہنے کے ذریعے استدلال کیا ہے لیکن یہ باطل ترین قیاس ہے او ر یہ قیاس کیسے صحیح ہوسکتا ہے ؟ جب کہ حج میں ننگے سر رہنا اسلامی شعائر میں سے ہے، اگریہ قیاس صحیح ہو تو پھر نماز میں ننگے سر رہنا واجب ہوگا، کیوں کہ یہ حج میں واجب ہے ۔

 بعض لوگوں نے اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے جو حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :

’’ ائتوا المساجد حسرا ومعصبین فان العمائم تیجان المسلمین‘‘

’’مسجد میں ننگے سر اور عمامہ باندھ کر آئو کیونکہ عمامہ مسلمانوں کا تاج ہے ‘‘۔

لیکن یہ حدیث بہت ضعیف ہے، بلکہ میرا خیال ہے کہ موضوع ہے، کیونکہ اس کے ایک راوی میسرہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ حدیثیں گھڑا کر تا تھا اور محدث عراقی نے اسے متروک قرار دیا ہے اور علامہ منادی نے جامع الصغیر کی شرح میں لکھا ہے کہ سیوطی نے اسے ضعیف کہا ہے، البتہ اس کی تائید ابن عساکر سے منقو ل اسی جیسی ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ دوسری روایت بھی اسی میسرہ سے منقول ہے ۔

 ا س تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ سید سابق کا یہ دعویٰ کہ نماز میں سر ڈھکنے سے متعلق کوئی دلیل موجود نہیں ہے، مطلقاً درست نہیں، الا یہ کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ اس سے متعلق کوئی خصوصی دلیل نہیں تو ان کی بات درست ہے، لیکن عمومی دلیل کا انکار کرنا صحیح نہیں اور عمومی دلیل یہ ہے کہ نماز کے لیے معروف اسلامی لباس میں آنا چاہیے اور عمومی دلیل کے بر خلاف کوئی دلیل نہ ہو تو وہ تمام لوگوں کے نزدیک حجت ہے ۔(تمام المنۃ:166۔)

 ایک مجلس میں شیخ البانی سے سوال کیاگیا کہ کھلے سر نمازپڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ کھلے سر نماز پڑھنا میرے نزدیک مکروہ ہے، کیونکہ اس کا رواج استعماری طاقتوں کے زمانے میں ہوا ہے اور یہ اسلامی عادت اور طریقہ نہیں ہے، اس لیے کہ مسلمانو ں کو اس بات کاپابند کیاگیاہے کہ وہ نمازکے لیے بہتر ہیئت اور زینت کے ساتھ آئیں، کیونکہ  اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ :

’’ یٰٓـبَنِیْٓ اٰدَمَ خُذُوْازِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ‘‘(الاعراف:31۔)

’’ آدم کی اولاد! ہرنماز کے وقت زیب و زینت اختیار کرلیا کرو۔‘‘

مذکورہ آیت میں نزول کے اعتبار سے زینت سے مراد ستر پوشی ہے لیکن ضابطہ اور اصول یہ ہے کہ لفظ کے عموم کا اعتبار کیاجاتا ہے، مخصوص سبب نزول کا نہیں، اور صحیح حدیثوں سے اس عمومی مفہوم کی تائید ہوتی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :

’’ من کان لہ ازار ورداء فلیا تزرولیرتد فان اللّٰہ احق ان یتزین لہ‘‘

’’جس کے پاس چادر اور لنگی دونوں ہو تو وہ لنگی باندھ لے اور چادر اوڑھ لے  کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کے لیے زینت اختیار کی جائے ‘‘۔

اس حدیث سے معلو م ہوتا ہے کہ نماز کے لیے بہتر سے بہتر ہیئت اور اچھی حالت میں آنا چاہیے اور یہ حکم اس وقت دیاگیا جب کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیاجاتا تھا کہ کیا کو ئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے تو رسول اللہ ﷺ فرماتے کہ کیا تم میں سے ہرایک کے پاس دو کپڑا موجود ہے ؟ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ صرف لنگی پہن کر بھی نماز پڑھنا جائزہے لیکن اسی سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ جس کے پاس د و کپڑے موجود ہوں تو اسے ایک کپڑے میں نماز پڑھنا مناسب نہیں ہے، خود ایک دوسری روایت میں اس کی وضاحت ہے کہ تم میں سے کوئی اس حالت میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کوئی کپڑا نہ ہو ۔

 جب عمومی دلیلوں سے نماز کے لیے زینت حاصل کرنا اور سر ڈھانکے رہنا مسلمانوں کے طور و طریقے کاہونا ثابت ہے تو میرے نزدیک کھلے سرنماز پڑھنا مکروہ ہے، کیونکہ اس میں مسلمانو ں کے طریقے کی مخالفت ہے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے متعلق منقو ل ہے کہ انہوں نے اپنے غلام نافع کو ننگے سر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا تم ان حکمرانوں کے پاس ننگے سرجانے کی جرأت کرسکتے ہو ؟ انہوں نے کہا، نہیں، تو فرمایا اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے ۔

آج بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ معمولی چیزیں ہیں اور چھلکے کی طرح ہیں، ان پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ روح اور گودے کا خیال رکھنا چاہیے، کاش کہ ایسا کہنے والے گودے اور مغز کا خیال رکھتے، اس لیے کہ مغز کی حفاظت چھلکے کے بغیر ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ چھلکے گودے کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں اور مادی چیزوں کی طرح روحانی امور کی حفاظت کے لیے بھی کچھ چیزیں بنائی گئی ہیں، لہٰذا امت مسلمہ اگر زندہ رہنا چاہتی ہے تو اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ  دلی اعتبار سے مسلم ہو اور لباس و پوشاک کے اعتبار سے غیر مسلم ۔( سلسلۃ الھدی والنور شریط رقم(189)۔)

اور مذکورہ آیت کی تفسیر میں علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ:

’’اللہ تعالیٰ نے نماز کے لیے ستر ڈھانکنے کے ساتھ ایک زائد حکم بھی دیا ہے اور وہ ہے زینت اختیار کرنا، چنانچہ فرمایا ہے کہ نماز کے لیے زینت اختیار کرو تو اللہ تعالیٰ نے ستر پوشی کے بجائے زینت اختیار کرنے کاحکم دیا ہے ‘‘۔(الفتاویٰ الکبری:5/326۔)

اور علامہ کوثری کہتے ہیں کہ :

’’سر ڈھانکنا بھی زینت میں شامل ہے جس کا مذکورہ آیت میں حکم دیا گیا ہے اور یہ سمجھنا محض وہم ہے کہ مذکور ہ آیت تو صرف ان لوگوں کے لیے نازل ہوئی ہے جو زمانہ جاہلیت میں ننگے طواف کیا کرتے تھے کیونکہ اصول یہ ہے کہ لفظ کے عام ہونے کااعتبار ہوتا ہے، کسی خصوصی سبب کا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ تمام مسلکو ں کے فقہاء کے یہاں نماز کے لیے لنگی، چادر اور ٹوپی مستحب ہے ‘‘۔(مقالات الکوثری :171۔ )

 حاصل یہ ہے کہ ننگے سر رہنا ایک ناپسندیدہ عمل ہے، کیونکہ یہ اسلامی تہذیب و ثقا فت کے خلاف ہے، خصوصاً ننگے سر نمازپڑھنا اور بھی زیادہ ناپسندید ہ ہے کیونکہ نماز میں خصوصی طور سے زیب و زینت اختیار کرنے کاحکم دیاگیا ہے اور اسی وجہ سے حدیث میں دو کپڑے موجود ہونے کی حالت میں کندھے کو ڈھکنے کاحکم دیاگیاہے، حالانکہ کندھا ستر میں شامل نہیں، اسی کے ساتھ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ٹوپی صاف ستھری ہو اور میلی کچیلی اور بدہیئت نہ ہو، نیز لوگوں کو ٹوپی پہن کر مسجد آنے کی ترغیب دینی چاہیے لیکن اگر کوئی شخص اس کے بغیر نماز پڑھنے لگے تو نماز کے دوران اسے ٹوپی نہیں پہنانا چاہیے اور نہ ہی اس طرح پڑھنے والوں پر نکیر کرنا چاہیے کہ نماز میں ٹوپی پہننامحض مستحب ہے، واجب اور ضروری نہیں ۔

مزید دکھائیں

ولی اللہ مجید قاسمی

مولانا ولی اللہ مجید قاسمی معروف عالم دین ہیں اور جامعتہ الفلاح، اعظم گڑھ میں فقہ و حدیث کےاستاذ نیز دار الافتاء کے ذمہ دار بھی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. حكم كشف الرأس في الصلاة
    قال سيد سابق – رحمه الله – "فقه السنة” (ج1/128): "كشف الرَّأس في الصلاة: روى ابنُ عساكر عن ابنِ عباس: "أنَّ النَّبيَّ – صلَّى الله عليه وسلَّم – كان رُبَّما نزع قَلَنْسُوَتَه فجعلها سُترةً بين يديه”.وعند الحنفية: أنَّه لا بأس بصلاة الرَّجلِ حاسِرِ الرَّأسِ، واستحبُّوا ذلك إذا كان للخشوع.
    ولم يرِدْ دليلٌ بأفضليَّةِ تغطية الرَّأس في الصَّلاة”اهـ.
    قلت: سيأتي كلام العلامة الألباني – رحمه الله تعالى – في كتابه الماتع "تمام المنَّة” في التعليق على هذا الكلام، وحكم هذا الحديث في "الميزان الحديثي” وفيه كشف لبعض الشُّبه فارتقبْه.
    ***
    جاء في فتاوى اللجنة الدائمة السؤال الأول من الفتوى رقم: (4143)
    س1: ظهرتْ في بلادي فرقةٌ تتكوَّن من الشَّباب فهم يصلُّون جماعةً مكشوفي الرَّأس ويقولون: إنَّ الرَّسُول – صلَّى الله عليه وسلَّم – ما كان يلبس قَلنسُوة للصَّلاة، فما هو الحكم الشَّرعيُّ في لبس القَلَنسُوَة للصَّلاة؟
    ج1: سَتْرُ رأس الرَّجل في الصَّلاة ليس واجبًا، والأمر في ذلك واسع.
    وبالله التوفيق وصلَّى الله على نبيِّنا محمَّدٍ وآله وصحبه وسلَّمَ.
    اللَّجنةُ الدَائمة للبحوثِ العلميَّة والإفتاءِ
    عضو: عبد الله بن قَعود // عضو: عبد الله بن غَديَّان // نائب رئيس اللجنة: عبد الرَّزَّاق عَفيفي // الرئيس: عبد العزيز بن عبد الله بنِ بازٍ.

    السؤال الأول من الفتوى رقم: (5699)
    س1: ما حكم الصَّلاة بدون غطاء للرَّأس سواء أكان المصلِّي إمامًا أم مأمومًا؟
    ج1: ليس الرَّأس ممَّا يجب ستره في الصَّلاة بالنِّسبة للرَّجل سواء كان إمامًا أو مأمومًا، وأمَّا المرأةُ فيجب عليها سترُه.
    وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللَّجنة الدَّائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو: عبد الله بن قَعود // عضو: عبد الله بن غَديَّان // نائب رئيس اللجنة: عبد الرَّزَّاق عَفيفي // الرئيس: عبد العزيز بن عبد الله بنِ باز.

    السؤال الأول من الفتوى رقم: (7522)
    س1: ما حكم تغطية الرَّأس بالنِّسبة للرِّجال، وهل لبس الطَّاقية أو القَلنسُوة واجبٌ وخصوصًا في الصَّلاة، حيث يوجد هنا مجموعة من الشَّباب يرونها واجبةً، للعلم أنَّهم ليسوا بعلماءَ، وإذا توفَّر إمامٌ لا يغطِّي رأسَه هل نصلِّي خلفَه؟
    ج1: لا يجب تغطية الرَّأس على الرَّجل في الصَّلاة ولا في غيرها، ويجوز الائتمام بمن لا يغطِّي رأسه، لأنَّ الرَّأس بالنِّسبة للرَّجل ليس بعورةٍ.
    وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو: عبد الله بن قعود // عضو: عبد الله بن غديان // نائب رئيس اللجنة: عبد الرزاق عفيفي // الرئيس: عبد العزيز بن عبد الله بن باز.

    السؤال الأول من الفتوى رقم: (8594)
    س1: هل صحيح أنَّ تغطية الرَّأس كلبس الطَّاقية كوفيَّةً مثلًا سُنَّة ولا سيَما عند أداء الصَّلاة؟
    ج1: تغطية الرَّجل رأسه في الصَّلاة ليستْ مِن سُننِها.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو: عبد الله بن قعود // عضو: عبد الله بن غديان // نائب رئيس اللجنة: عبد الرزاق عفيفي // الرئيس: عبد العزيز بن عبد الله بن باز.
    ***
    صلاة عاري الرأس وأدب سماع القرآن الكريم من "فتاوى الأزهر” (1/47)
    المفتي: حسن مأمون.ذو الحجة 1374 هجرية – 15 أغسطس 1955 م
    المبادئ:
    1 – صلاة الرجل عاري الرأس صحيحة فى جميع المذاهب إماما كان المصلى أو مأموما أو منفردا ، غير أن الأفضل غطاء الرأس فى الصلاة .
    2 – يكره عند الحنفية للرجل أن يصلى حاسرا رأسه تكاسلا، ولا كراهة عندهم إذا كان ترك ذلك لعدم القدرة أو للأعذار، ولا بأس بترك ذلك عندهم تذللا وخشوعا للّه سبحانه وتعالى…..إلخ .
    السؤال:
    من السيد (أ أ ح) يقول: ما حكم الإمام الذي يصلي عاري الرأس بالناس، وحكم صلاة المأموم الذي يصلى خلفه عاري الرأس، وحكم صلاة المنفرد عاري الرأس، وهل صلاتهم صحيحة أو مكروهة أو باطلة أو محرمة؟
    الجواب:
    1 – بأن صلاة الرجل إماما كان أو مأموما أو منفردا عاري الرأس صحيحة فى جميع المذاهب، لأن شرط صحة الصلاة ستر العورة، ورأس الرجل ليست عورة باتفاق حتى يشترط لصحة الصلاة سترها، ولكن الأفضل تغطية الرأس فى الصلاة .
    وعلماء الحنفية يذهبون إلى أنه تكره صلاة الرجل حاسرا رأسه للتكاسل بأن يستثقل تغطيته ولا يراه أمرا هاما فى الصلاة فيتركه لذلك، ويقولون بجواز ترك تغطية الرأس مع عدم الكراهة إذا كان الترك لعدم القدرة أو لعذر من الأعذار، وليس الترك للتخفيف والحرارة من الأعذار عندهم، وقالوا إنه لا بأس بترك تغطية الرأس فى الصلاة للتذلل والخشوع ..” اهـ .

    غطاء الرأس أثناء الصلاة من "فتاوى الأزهر” (1/56)
    المفتي: أحمد هريدى .شوال 1380 هجرية – 11 أبريل 1961 م
    المبادئ:
    1 – صلاة الرجل إماما كان أو مأموما أو منفردا عاري الرأس صحيحة فى جميع المذاهب لكن الأفضل تغطيتها فى

متعلقہ

Close