مذہبی مضامین

نکاح، رسوم و رواج  اور اسلام

زاہد احمد ڈار

(ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورسٹی)

 شادیوں کی تقریبات آسان، کم خرچ اور سادہ طریقے سے منعقد کرنے پر زور دیا جاتا ہے جس قدر لکھا اور سنایا جارہا ہے ہم اسی قدر ان کا انعقاد دھوم دھام سے کرکے دریا دلی، فیاضی اور سخاوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہر شادی پچھلی شادی سے بڑھ چڑھ کرہورہی ہے اور پچھلا ریکارڑ توڑ کر نیا ریکارڑ قائم کر رہی ہے فضول خرچی کے عادی لوگ یہ تک نہیں سوچتے کہ فرسودہ رسم و رواج کی وجہ سے وہ مہمان بھی خدمت کیے بغیر نہیں رہتے جو ان بڑی دعوتوں پر مدعو کئے جاتے ہیں تعجب اس بات کا ہے کہ جو لوگ سماجی بدعتوں اور برائیوں کی پیروی کرنے سے عوام الناس کو روکتے ہیں اور مختلف محفلوں میں سماجی بھلائی کے کاموں کی ضرورت واضح کرنے کیلئے لمبے چوڑے لیکچر دیتے رہتے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کی شادی بیاہ کی تقریبات میں حد سے زیادہ فضول خرچی کرتے ہیں جب ان سے اس سلسلے میں استفسار کیا جاتا ہے تو وہ اس کیلئے اپنی بیگم اور سسرال والوں کو ذمہ دار قرار دے کر بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کے اندر دراصل یہ سب برائیاں اس لئے پیدا ہوچکی ہیں کہ ہم نے ہر معاملے شریعت اسلامیہ کو نظر انداز کر دیا ہےـ  اسی لئے ہم ہر وقت پریشان ہیں ـ  ہم نے نکاح جیسی سادہ اور نہایت سستی تقریب کو بھی مہنگا بنا دیا ہے ـ  ہمارے ہاں اکثر شادیاں ایسی ہوتی ہیں جو یقیناً اسلامی اسپرٹ کے خلاف ہیں ـ  شادی بیاہ کے معاملے میں ہم رشتہ تلاش کرتے وقت اخلاق اور دینداری کو نہیں بلکہ اسے بالائے طاق رکھکر صرف اور صرف مال و جائیداد اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہیں ـ

ہمارے معاشرے میں ایک غلط قسم کا تاثر پیدا ہوا ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کو لاکھوں روپے مالیت کا جہیز دیتا ہے تو اس کا پڑوسی یا رشتہ دار استطاعت نہ ہونے کے باوجود بنکوں سے قرضے حاصل کرکے اس سے بڑھ چڑھ کر جہیز دیتے ہیں  اس طرح جہیز کی رسموں اور اس پر صرف ہونے والی رقومات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ـ

جہیز کو کاروبار کی شکل میں تبدیل کرنے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ لڑکے والے اس کے مانگ کر رہے ہیں ـ  اگر یوں کہا جائے کہ لڑکے کی بولی لگ جاتی ہے تو بے جا نہ ہوگا ـ واقف کار حلقوں کے مطابق لڑکی والوں سے نہ صرف جہیز کے نام پر گاڑی اسکوٹر، فرج، واشنگ مشین اور بڑی بڑی رقومات وصول کی جاتی ہیں بلکہ انہیں اس بات کیلئے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ لڑکے کی تعلیم و تربیت پر خرچ کی گئی رقم بھی ان کے حوالے کردیں، دوسرے الفاظ میں لڑکے والے بھکاری بن جاتے ہیں لیکن اس سلسلے میں صرف لڑکے والوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا نہیں جاسکتا کیونکہ بہت ساری لڑکیاں ایسی ہیں جو اپنے والدین سے خود جہیز کا تقاضا کرتی رہتی ہیں تاکہ سسرال میں ان کی ناک اونچی رہے، وہ جہیز کو ہی اپنی عزت اور وقار تصوّر کرتی ہیںـ

جہیز کی بدعت کو فروغ دینے میں سماج کا وہ طبقہ خاص طور سے ذمہ دار ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ کی فراوانی ہےـ وہ اپنے کالے دھن کو جہیز پر صرف کرکے سماج کے غریب طبقے پر ظلم ڈھا رہا ہےـ ایک غریب لڑکی میں ہزاروں خوبیان ہونے کے باوجود جہیز نہ ہونے کی صورت  میں عمر بھر ترستی رہتی ہے یا پھر زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتی ہےـ

جہیز کے سلسلے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ـ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ سنّت ہے کیونکہ علمائے کرام حضور صلی اللہ  علیہ وسلم کی جانب سے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ان کے نکاح کے وقت جہیز دینے کا ذکر اپنی تقریروں میں کرتے ہیں ـ جہیز وہ سامان کہلاتا ہے جو باپ اپنی بیٹی کو اپنی جانب سے نکاح کے وقت دیتا ہے یا نکاح سے قبل ہی اس کے سسرال بھیجتا ہے ـ اگر حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنھا کے نکاح کے وقت حضور  صلی اللہ  علیہ وسلم کی جانب سے دئے گئے سامان کو جہیز مان لیا جائے تو پیارے حضور  صلی اللّٰہ  علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں نا انصافی کا تصوّر پیدا ہوتا ہے کیونکہ حضور  صلی اللّٰہ  علیہ وسلم نے بقیہ تین بیٹیوں کو کوئی سامان نہیں دیا تھا اور آپ  صلی اللہ  علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جو سامان دیا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس رقم سے خریدا گیا تھا جو انہوں نے اپنی زرّہ فروخت کرکے مبلغ چار سو اسّی  درہم لاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دئے تھے ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رقم میں سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ذریعے ضروری سامان بستر،  برتن ، گدہ،  تکیہ،  چکی،  مشکیزہ وغیرہ خریدوایا تھا ـ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ اُمِّ سلیم کے ذریعے بناؤ سنگار، عطر اور خوشبو وغیرہ اس رقم سے خریدوائی تھی، اس لئے اسے جہیز کا نام کیسے دیا جاسکتا ہے؟

سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہونے والی شادیوں کو آسان بنانے کیلئے ہم کیوں نہیں کچھہ کر سکتے ہیں؟ دعوت نامے دیکھئے،اخراجات دیکھئے، کھانے پینے کا اہتمام اور انتظام دیکھئے، دعوتوں کا انداز دیکھئے، وازوان کے نام پر لاکھوں روپے اُڑائے جارہے ہیںـ کوئی یہ تک نہیں سوچتا کہ اخراجات کی یہ گاڑی آخر کہاں جاکر رُکے گی ـ کتنی مشکل اور کتنی مہنگی ہوتی جارہی ہیں ہمارے ہاں کی شادیاں ـ جو چیز آسان اور سہل الحصول تھی اسے ہم نے اپنے نادانی سے پیچیدہ بنادیا ـ نتیجتاً ہم خود بھی مشکل میں پڑے ہیں اور دوسروں کو بھی مصیبت میں ڈال دہے ہیں ـ لڑکی جو پہلے نورِ نظر ہوا کرتی تھی وہ اب کانٹا بن کر آنکھوں میں کھٹک رہی ہے ـ یہ ربّ العالمین کی مہربانی ہے کہ اُس نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے لیکن اسے خرچ کرنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے اور حدود بھی مقرّر کئے ہیں ـ اولاد پر اپنا مال خرچ کیجئے لیکن یہ بات بھی یاد رکھئے کہ فضول خرچی کرنے والے کو اللہ نے شیطان کا بھائی قرار دیا ہےـ پھر سوچئے کہ ہم کس کے بھائی ہیں؟

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close