فقہمذہبمذہبی مضامین

وراثت اسلام میں!

محمد رضی الاسلام ندوی

انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ کمایے اسے خود استعمال کرے اور اس کے قریبی عزیزوں کے بھی کام آئے _ اسلام نے اس کا اعتبار کیا ہے اور اس کا حکم دیا ہے  دیگر مذاہب میں صرف نرینہ اولاد کو وراثت کا مستحق قرار دیا گیا تھا، لیکن اسلام نے لڑکیوں اور عورتوں کا بھی حصہ متعین کیا اور کہا کہ وفات پانے والے کا مال چاہے کم سے کم ہو یا زیادہ سے زیادہ ، اس میں سے عورتوں کے حصے لازماً انھیں دیے جائیں _ (النساء :7)

وراثت کی تقسیم اور اس کی ادائیگی کو کتنی اہمیت دی گیی ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا  ہے کہ قرآن میں اس کی جزئیات بھی بیان کردی گئی ہیں ، جب کہ دیگر عبادات ، مثلاً نماز ، زکوٰۃ ، روزہ اور حج وغیرہ کے صرف اصولی احکام قرآن میں مذکور ہیں ، ان کی جزئیات احادیث میں بیان کی گئی ہیں _

وراثت کے احکام بیان کرنے کے ساتھ اس کی ادائیگی کی بہت تاکید کی گئی ہے اور جو لوگ اسے تقسیم نہیں کرتے ، انھیں جہنم کے دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے_ (النساء:10)احکام وراثت کو ‘اللہ کے حدود’ کہا گیا ہے اور جو لوگ انھیں پامال کرتے ہیں انھیں جہنم کے ابدی اور ذلت آمیز عذاب کی خبر دی گئی ہے_(النساء:14)

لیکن افسوس کہ مسلم سماج اس معاملے میں بہت زیادہ غفلت کا شکار ہے _ کسی شخص کا انتقال ہو اور اس کے بیوی بچے بھی ہوں اور ماں باپ بھی تو بیوی بچے مال و جائیداد کے مالک بن جاتے ہیں اور مرحوم کے ماں باپ کو محروم رکھتے ہیں _ اسی طرح عموماً بھائی اپنی بہنوں کو وراثت سے محروم رکھتے ہیں اور اس کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ ان کی شادی پر بہت کچھ خرچ ہوچکا ہے _

اسلامی قانون وراثت پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اس میں عورت کا حصہ مرد کا نصف رکھا گیا ہے ، حالاں کہ یہ بالکل کلّی طور پر درست نہیں ہے _ بعض صورتوں میں عورت کو مرد سے زیادہ ملتا ہے ، مثلاً کسی عورت کا انتقال ہو اور اس کا شوہر، ایک بیٹی اور ایک بھائی ہو تو بیٹی کو 50% ملے گا، جب کہ شوہر اور بھائی، ہر ایک کو 25 %ملے گا، گویا ایک عورت کو دو مردوں کے برابر ملا _ اسی طرح بعض صورتوں میں مرد اور عورت کو برابر ملتا ہے ، مثلاً کسی شخص کا انتقال ہو اور اس کی اولاد بھی ہو اور ماں باپ بھی تو ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا _(النساء:11)

صرف چند صورتیں ہیں جن میں عورت کو مرد کا نصف ملتا ہے _ یہ فرق جنس کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ نظام معاشرت میں مرد و عورت کی پوزیشن کی وجہ سے ہے _ کفالت کی ذمے داری اسلام نے عورت پر نہیں ، مرد پر رکھی ہے _ عورت جو کچھ پاتی ہے، اس کے پاس محفوظ رہتا ہے، جب کہ مرد جو کچھ پاتا ہے اسے اپنے بیوی بچوں اور دوسرے متعلقین پر خرچ کرنا پڑتا ہے _

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close