مذہبی مضامین

وقت کی قدر و قیمت اور اہمیت

عبدالعزیز

 دنیا میں وہی جماعت یا فرد آگے بڑھتا ہے جو وقت کی قدر و قیمت کرتا ہے۔ فرد ہو یا جماعت قوم یا گروہ جو بھی وقت کی قدر کرنا چھوڑ دیتا ہے اسے وقت بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ آج دنیا بھر کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ وقت کی ناقدری کرتے ہیں جس کی وجہ سے وقت اور زمانہ ان کی ناقدری کرنے لگا ہے۔ جو قومیں ایک ایک پل کا حساب کرتی ہیں ایک ایک منٹ کو سیم و زر سے زیادہ قیمتی شئے گردانتی ہیں وہ قومیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ مغربی دنیا کا ہر ملک وقت کے سرمایہ کو ایک خزانہ کی طرح حفاظت کرتا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے اپنے دفاتر، کارخانے، اسکول اور اداروں میں وقت پر پہنچتا ہے یا وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے وقت کا صحیح استعمال ہوتا ہے۔ وقت کا ایک ایک لمحہ ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے۔ دنیا بھرکے مسلمان صرف مسجدوں میں نماز وقت پر پڑھتے ہیں اور مسجد کے باہر وقت ان کیلئے ایک فضول اور بیکار سرمایہ کی طرح ہوتا ہے۔ ان کا ہر کام تاخیر سے ہونے لگا ہے۔ وقت کا بہت بڑا سرمایہ یا خزانہ وہ بیدردی کے ساتھ ضائع کرنے لگے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نپولین بونا پارٹ صرف پانچ منٹ دیر سے پہنچنے کی وجہ سے ’واٹرلو‘ کی جنگ ہار گیا۔

  وقت کے تعلق سے توجہ دلانے کیلئے دنیا کے بہت بڑے اور جید عالم دین علامہ یوسف القرضاوی نے ’’الوقت فی حیاۃ المسلم‘‘ (مسلمانوں کی زندگی میں وقت کی قدر و قیمت) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کا ترجمہ معروف و ممتاز عالم دین مولانا عبدالحلیم فلاحی نے کیا ہے۔ ضرورت ہے س کا مطالعہ کیا جائے اور مسلمانوں کو وقت کی اہمیت اور قدر و قیمت سے روشناس کرایا جائے تاکہ ان کا یہ قیمتی سرمایہ ضائع ہونے سے بچ جائے۔ ع-ع)

 مقدمہ کتاب: میں ’’وقت‘‘ اور مسلمان کی زندگی میں اس کی قدر و قیمت کے عنوان سے اخبارات میں لکھ رہا تھا کہ دورانِ مطالعہ قرآن و سنت میں وقت سے متعلق حد درجہ اہتمام نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ ان صفحات کو میں کتابی شکل دے دوں۔

  دورانِ مطالعہ میں نے دیکھا کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمان اپنے اوقات کے سلسلے میں اتنے حریص تھے کہ ان کی یہ حرص ان کے بعد کے لوگوں کی درہم و دینار کی حرص سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔ اسی حرص کے سبب ان کیلئے علم نافع، عمل صالح، جہاد اور فتح مبین کا حصول ممکن ہوا، اور اسی کے نتیجے میں وہ تہذیب وجود میں آئی جس کی جڑیں انتہائی گہری ہیں اور جس کی شاخیں ہر چہار جانب پھیلی ہوئی ہیں۔

پھر میں آج کی دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ وہ کس طرح سے اپنے اوقات کو ضائع کر رہے ہیں اور اپنی عمریں لٹا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اس سلسلے میں بے وقوفی سے گزر کر مدہوشی کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔ اور یہی سبب ہے کہ آج قافلۂ انسانیت کے پچھلے حصے میں دھکیل دیئے گئے ہیں، حالانکہ ایک دن وہ بھی تھا کہ اسی قافلے کی زمامِ کار ان کے ہاتھ میں تھی۔ اور موجودہ دور میں انھوں نے نہ اہل دنیا کی طرح اپنی دنیا بسانے کا کام کیا اور نہ دین داروں کی طرح اپنی آخرت بنانے کا بلکہ دنیا و آخرت دونوں برباد کرلی اور نتیجتاً دونوں جہان کی نعمتوں سے محروم ہوگئے۔

 اگر مسلمان سوجھ بوجھ سے کام لیتے تو وہ دنیا کیلئے اس طرح کام کرتے، جیسے کہ انھیں یہاں ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کیلئے اس طرح کام کرتے گویا کہ کل مرنا ہے۔ اور اس جامع قرآنی دعا کو اپنا شعار بناتے: رَبَّنَا اٰتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِیْ اْلاٰخِرَۃِ حَسَنَۃَ وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ ‘(البقرہ:201)۔ ترجمہ: (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا)۔

 اگر انھوں نے عقل و دانش سے کام لیا تو بہت ممکن ہے کہ زمانہ انھیں سکھا دے اور شب و روز کی آمد و شد انھیں ہوشیار کردے۔

  اللہ فرماتا ہے: ’’زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوش مند لوگوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں۔ وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں، پروردگار؛ یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے ، اس سے کہ عبث کام کرے۔ پس اے رب، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے، تونے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ مالک ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی، پس اے ہمارے آقا، جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انھیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ خداوندا؛ جو وعدے تونے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے‘‘(آل عمران، آیات:194-190)۔

  قرآن و سنت میں وقت کی اہمیت: قرآن و سنت میں وقت کی اہمیت مختلف پہلوؤں سے بتائی گئی ہے۔ قرآن کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے عطیۂ خداوندی قرار دیتا ہے۔ ’’اور اللہ ہی نے سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا، جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے‘‘ (ابراہیم، آیات:34-33)۔

 دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کیلئے جو سبق لینا چاہے یا شکر گزار ہونا چاہئے‘‘ (الفرقان، آیت:62)۔

 یعنی رات کو بنایا کہ وہ دن کے بعد آئے اور دن کو بنایا کہ وہ رات کے بعد آئے، تو جس کا کوئی کام ان دونوں میں سے کسی ایک میں کرنے سے رہ گیا ہو تو وہ اس کی تلافی دوسرے میں کرنے کی کوشش کرے۔

 وقت کی اہمیت بیان کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے متعدد مکی سورتوں کے آغاز میں اس کی قسمیں کھائی ہیں۔ مثلاً واللیل، والنہار، والفجر، والضحیٰ، والعصر۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی۔ (قسم ہے رات کی جب کہ وہ چھا جائے اور دن کی جبکہ وپ روشن ہو)۔

  وَالْفجر ولیالٍ عشرٍ (قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی)۔

 وَالضُّحٰی وَاللَّیْلِ اِذَا سَجٰی۔ (قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جب وہ سکون کے ساتھ طاری ہوجائے)۔

  وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔ (زمانے کی قسم؛ انسان در حقیقت خسارے میں ہے)۔

 اور یہ بات مفسرین اور اہل علم کے نزدیک معروف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی چیز کی قسم کھاتا ہے تو صرف اس لئے کہ لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرے اور اس کے عظیم فائدوں اور اثرات سے آگاہ کرے۔

 قرآن کی طرح سنت نبویؐ نے بھی وقت کی اہمیت اور اس کی قدر و قیمت پر زور دیا ہے اور قیامت کے دن خدا کے حضور انسان کو وقت کے متعلق جواب دہ قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ حساب کے دن جو بنیادی سوالات ہر انسان سے پوچھے جائیں گے ان میں سے دو کا تعلق وقت سے ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ’’قیامت کے دن کوئی بھی شخص اپنی جگہ سے ہل نہ سکے گا تا آنکہ پانچ سوالوں کا جواب نہ دے لے: یعنی عمر کہاں گزاری، جوانی کس کام میں کھپائی، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا‘‘ (ترمذی، ج 2، ص64)۔

 انسان سے اس کی عمر کے بارے میں عمومی طور پر اور جوانی کے بارے میں خصوصی طور پر سوال کیا جائے گا۔ اگر چہ جوانی بھی عمر ہی کا ایک حصہ ہے لیکن اس کی ایک نمایاں حیثیت ہے۔ اس لئے کہ یہ عزم و حوصلہ اور کچھ کر گزرنے کی عمر ہوتی ہے، اور یہ دو کمزوریوں، بچپن اور بڑھاپے کے درمیان طاقت و قوت کا مرحلہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمھیں قوت بخشی، پھر اس وقت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا‘‘ (الروم، آیت:54)۔

  اسلامی شعائر و آداب وقت کی قدر و قیمت پر زور دیتے ہیں: اسلامی فرائض و آداب وقت کی قدر و قیمت اور اس کی اہمیت و افادیت کو اپنے ہر مرحلہ میں بلکہ ہر جزو میں بھرپور طریقے سے واضح کرتے ہیں اور انسان کے اندر کائنات کی گردش اور شب و روز کی آمد و شد کے ساتھ وقت کی اہمیت کا احساس اور شعور بیدار کرتے ہیں۔

 چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب رات رخصت ہوتی ہے، اور فجر کے چہرے سے اپنا نقاب اتارتی ہے تو اللہ کی طرف بلانے والا اٹھتا ہے اور اذان کی گونج سے آفاق کو بھر دیتا ہے اور زمانے کے کانوں میں رس گھولتا ہے، غافلوں کو ہوشیار کرتا ہے اور سونے والوں کو جگاتا ہے، وہ اٹھیں اور پاکیزگیِ صبح سے بہرہ ور ہوں۔ ’’حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ‘‘۔ آؤ نماز کی طرف، ’’حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ‘‘۔ آؤ بھلائی کی طرف۔ اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ‘‘۔ نماز نیند سے بہتر ہے۔ لہٰذا جو لوگ پاکیزہ اور با وضو ہوتے ہیں، جن کی زبانیں ذکر الٰہی سے تر اور دل شکر گزاریوں سے لبریز ہوتے ہیں۔ وہ اس کا جواب دیتے ہیں، ’’صَدَّقْتَ وَ بَرَرْتَ‘‘۔ تم نے سچ کہا اور تم نے نیک کام کیا۔ اور جیسے ہی تم جلدی سے نماز کیلئے اٹھتے ہو شیطان کی ساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔

 جب دوپہر کا وقت ہوجاتا ہے، سورج ڈھلنے لگتا ہے اور لوگ دنیوی مشاغل میں منہمک ہوجاتے ہیں تو اس وقت منادی اللہ کی کبریائی، بزرگی اور رسالتِ محمدیؐ کے اقرارکے ساتھ نماز اور کامیابی کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے۔ اور یہ پکار سنتے ہی لوگ اپنے کاروبار اور زندگی کی مصروفیات سے باہر نکل آتے ہیں، تاکہ چند منٹ کیلئے اپنے خالق و رازق کے حضور کھڑے ہوں اور مال و دولت کے حصول کی سعی و جہد سے اپنے آپ کو تھوڑی دیر کیلئے یکسو کرلیں۔ یہ کیفیت بالعموم ظہر کے وقت ہوتی ہے۔

 جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہوجاتا ہے اور سورج کسی قدر مائل بغروب ہونے لگتا ہے تو مؤذن تیسری بار نمازِ عصر کیلئے پکارتا ہے۔ جب سورج کی ٹکیہ روپوش ہوجاتی ہے اور اس کا چہرہ افق سے غائب ہوجاتا ہے تو چوتھی بار مؤذن نماز مغرب کیلئے بلاتا ہے جو دن کی آخری اور رات کی پہلی نماز ہے۔

 جب شفق غائب ہوجاتی ہے تو پھر ایک بار عشاء کی نماز کیلئے ربانی آواز بلند ہوتی ہے اور یہ اذان مسلمان کے دن کے خاتمے کی نماز کیلئے ہوتی ہے۔ اس طرح مسلمان اپنے دن کا آغاز بھی نماز سے کرتا ہے اور اختتام بھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close