سیاستمذہبی مضامین

ووٹ کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داری

مولانا عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

انسانی عقل و خرد سے آج تک کارجہاں بانی کے جتنے نظام مرتب ہوئے، ان میں عالمی سطح پر آمریت وغیرہ کے بالمقابل جمہوریت کو ہی بہتر تسلیم کیا گیا، ہرچند کہ جمہوری نظام بھی بعض اسباب و وجوہات کے سبب  تنقید کا نشانہ بنا رہا؛مگرنسبتاًاسی کو عروج  وارتقاء حاصل ہوا۔

وطن عزیز ہندوستان کو بھی استخلاصِ وطن کی طویل جدوجہد کے بعد یہ اعزاز حاصل رہا کہ یہاں جمہوری نظام برپاکیاگیا، رفتہ رفتہ ہماراملک دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کےنام سے متعارف ہوا، نیز گذشتہ ستر سالہ طویل عرصہ میں یہ بات واضح ہوکر سامنے آگئی  کہ ہمارا جمہوری نظام مسلسل سازشوں اور پیہم ریشہ دوانیوں کے باوجودبڑی حد تک مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، گرد وپیش کے جتنے ممالک ہیں، اُن کے یہاں جمہوری نظام بالخصوص جان ومال کے تحفظ کو وہ استحکام حاصل نہیں جو ہمارے ملک کوحاصل ہے۔ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ  ہرگزرتے وقت کے ساتھ ہمارے اکابر واسلاف کے حسین خوابوں کی یہ تعبیراوران کے خون جگرسے سینچاہوایہ سرسبزباغ” ہندوستان” تیزی کے ساتھ فسطائیت کی طرف رواں دواں ہے، بھیڑ کے ذریعہ قتل کی وارداتوں نے تو جنگ آزادی کےخوف ناک مظالم کو بھی پس پشت ڈال دیاہے؛لیکن ان سب کے باوجودمشکل حالات میں ہم نے جمہوری طرز فکر پر اپنے بھرپور اعتماد کا ثبوت دیاہےاور برملایہ اعتراف کیاہےکہ  یہ مستحکم جمہوریت جہاں ملک کے لئے سلامتی کی ضامن ہے، وہیں مذہبی لسانی اور تہذیبی اَقلیتوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ جمہوری نظام کے تحت انتخابات کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ملک میں بار بار حکومتیں بدلتی رہتی ہیں؛ لیکن یہ تبدیلی نہایت پر اَمن طریقہ پر کسی تشدد اور بغاوت کے بغیر وجود میں آتی ہے، اور عام لوگ ووٹ کی طاقت کےذریعہ ظالم حکومتوں کو ہٹاکر منصف حکومتوں کو لاتے ہیں۔

پارلیمانی انتخابات کی اصل نوعیت اورموجودہ صورت حال:

جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں اور اس کا پہیہ چلتے رہنے کے اپنے اصول ہیں، آئین کی رو سے ہر بالغ شہری کو  پارلیمانی انتخابات میں ملکی مفاد کےلیےاور اسمبلی انتخابات میں ریاستی مفادکےلیےاپنے نمائندے چننے کا حق دیا گیا ہے جووہ اپنے ووٹ کے ذریعے استعمال کرتا ہے، جب ایک حکومت اپنا وقت پورا کر لیتی ہے توعوام کونئی اسمبلیاں بنانے کیلئے اپنے نمائندے چننے کا موقع دیاجاتا ہے، عوام ہی  وہ نمائندے چنتی ہے اورکسی ایک سیاسی پارٹی کو اس کیلئے منتخب کرتی ہے، جو جو بھی سیاسی پارٹیاں اس وقت ملک میں کام کر رہی ہیں ان میں سے ہر ایک کا ایک طریقہ کار ہے۔اس بناء پرسب سے پہلے ہر پارٹی کو اپنا طریقہ کار لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے جسے  پارٹی  کامنشور کہاجاتاہے، عوام کی اکثریت چونکہ ہر پارٹی کے منشور سے واقف نہیں ہوتی؛ اسلئے پارٹیاں اور ان کے نمائندے، لوگوں کے سامنے وہ منشو رکھتے ہیں، یہ کام وہ جلسےجلوسوں کے ذریعے بھی کرتے ہیں اور ڈور ٹوڈور یعنی گھر گھر جا کر بھی اپنا پیغام پہنچاتے ہیں اور لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتےہیں کہ ان کا منشور عوام کی بہتری کیلئے دوسری پارٹیوں سے بہتر ہے اسلئے وہ ان ہی کے اراکین کو ووٹ کے ذریعےپارلیمنٹ اور اسمبلی میں بھیجیں۔

مذکورہ  شفاف نظام کے بالمقابل موجودہ انتخابی صورت حال نہایت افسوس ناک اور غیر آئینی ہے، انسانی سماج کو دو طبقات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایک حکمراں طبقہ ہے جس میں لالچی سرمایہ دار، بدعنوان اعلیٰ افسران اور مفاد پرست سیاستداں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پسماندہ طبقات، اقلیتی سماج اور غریب عوام ہیں۔ ان دونوں طبقات کے مقاصد متضاد، مسائل مختلف اور  ضرورتیں الگ الگ ہیں۔ ایک کا مقصد اپنی سیاسی برتری قائم و دائم رکھنا اور  دوسرے کا اسے نیست و نابود کرنا ہے۔ ایک کی ضرورت عوام کو تقسیم کرنا ہے تاکہ ان کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹائی جا سکے دوسرے کی ضرورت متحد ہو کر جد و جہد کرنا ہے تاکہ بنیادی حقوق کا تحفظ ہو سکے۔جب تک ان دونوں طبقات کے مقاصدعوامی مفاد کے لیے متحد نہیں ہوں گےتب تک جبر و استحصال سے نجات نا ممکن ہے۔ معاشی استحصال اور  فسطائیت کا قلع قمع کرنے کی خاطر اخوت و محبت کی بنیاد پر ایک مشترکہ جد و جہد ناگزیر ہے۔

ووٹ کی شرعی حیثیت:

ہمارا ووٹ شرعاً تین حیثیتیں رکھتا ہے۔ (1) شہادت (2) سفارش (3) حقوق مشترکہ کی وکالت۔ تینوں صورتوں میں جس طرح قابل، اہل اور امانت دار آدمی کو ووٹ دینا موجب ثوابِ عظیم ہے اور اس کے ثمرات سب کو ملنے والے ہیں، اسی طرح نااہل اور خائن شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے، بری سفارش بھی اور ناجائزوکالت بھی اور اس کے تباہ کن اعمال بھی اسکے اعمال نامہ میں لکھے جائیں گے۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں سب سے بڑے بڑے گناہ نہ بتلاؤں ؟ یہ الفاظ آپ نے تین بار دہرائے،  ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلایئے،  آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، ابھی تک  آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا : سنو !!جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا، پھر آپ یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔( صحیح بخاری ومسلم )

حضرت خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہﷺنے نمازِ فجر ادا فرمائی، جب فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر 3 مرتبہ ارشاد فرمایا:’’جھوٹی گواہی اللہ عَزَّوَجَل کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دی گئی ہے۔‘‘ پھر یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی:ترجمہ، دور ہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے، ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہراؤ۔(ابو داؤد)

اور بیہقی حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے راوی ہیں کہ فرمایا : ’’جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے، حالاں کہ یہ گواہ نہیں، وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمے کی پیروی کرے، وہ اﷲ کی ناخوشی میں ہے۔ جب تک اُس سے جدا نہ ہو جائے۔‘‘ اور ایک حدیث شریف میں ہے کہ جو گواہی کے لیے بلایا گیا اور اُس نے گواہی چھپائی یعنی ادا کرنے سے گریز کیا وہ ویسا ہی ہے جیسا جھوٹی گواہی دینے والا۔‘‘ ( طبرانی)

اسی طرح ووٹ ایک سفارش و مشورہ ہے جسے حدیث میں امانت کہاگیا ہے، اس امانت کا تقاضا یہ ہے کہ سوچ سمجھ کر کسی بھی ذاتی مفاد اور قرابت و تعلقات کا لحاظ کیے بغیر  اجتماعی منفعت کو سامنے رکھتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کیا جائے۔اکثر وبیشتر ایسا ہوتا ہے کہ ہم خوشامد کرنے والوں، رشوت دینے والوں اور سبز باغ دکھانے والوں کے فریب میں آجاتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے اپنے روشن مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں سے داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

ماضی کا احتساب، نہایت ضروری !

احتساب وجائزہ زندہ قوموں کا شعار ہے، جس قوم کے افرادبالخصوص قائدین وزعماء، کار ِاحتساب سے غافل ہوجاتے ہیں وہ قوم پستی وادبار کی گہری کھائیوں اور ذلت ونکبت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے؛لہذاووٹ دینے سے قبل ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر ضرور اپنے ماضی کا جائزہ لیں اور مستقبل کےلیے لائحۂ عمل تیارکریں ! حضرت مولانا سفیان صاحب قاسمی اس سلسلہ میں یوں ارقام فرماتے ہیں کہ : "انتخابی انقلاب کا یہ مرحلہ کس قدر نازک، کس قدر خطرناک یا کس قدر بہتر اور کس قدر خوش آئند ہوسکتا ہے اس کا اندازہ بلاتفریق مذہب و ملّت وطن عزیز کے باشعور افراد کو ہونا چاہئے، گذرے دور حکومت میں ملک نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اس منظر نامے کے تناظر میں ہمیں اس حقیقت کے اعتراف میں مکمل کشادہ دلی اور فکری وسعت کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے ستّر سالوں پر محیط ماضی میں اپنے بیش قیمت ووٹ کے استعمال میں کہاں کہاں غلطیاں کی ہیں اور اس کے نتائج نے ہماری رو بہ تنزل فکری پستی اور طبقۂ اشرافیہ سے لے کر عام سطح تک کے آپسی انتشار و مخالفتوں نے آج ہمیں کس حد تک حاشیہ پر پہنچا دیا ہے اور منجملہ دیگرے اس کا ایک بین اور واضح ثبوت یہ ہے کہ ہمارے آج کے حکمراں جو کہ درحقیقت ہمارے اپنے کردار و عمل کے ہی آئینہ دار ہیں، وہ کس زاوےۂ فکرو نظر کے حامل لوگ ہیں اور کیا ان کے عزائم و منصوبے ہیں اور اس میں ہمارے صحیح یا غلط فیصلوں کو کتنا دخل ہے اور ستّر سال سے محض ہماری ”ایک بھول” اور ”ایک غلطی” کے استمرار نے ہمیں بھی ان کے سیاسی جرائم میں کس حدتک ان کا شریک کار بنایا ہے؟ یہ وہ سوال ہے کہ جس کا جواب کسی اور سے نہیں بلکہ خود اپنے دل سے، اپنے ضمیر سے لئے جانے کی ضرورت ناگزیر ہوچکی ہے۔ خرابی بسیار کے بعد بھی اگر سنجیدہ غور و فکر کے نتیجہ میں ہم صحیح فیصلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو خود احتسابی سے ہی اس کا آغاز کرنا ہوگا کیوں کہ موجودہ پارلیمانی نظام حکومت میں جو حکومت بھی برسراقتدار آتی ہے وہ انتخابات کے ذریعہ ہمارے اور آپ کے ووٹوں کے وسیلے سے ہی ایوان اقتدار کے مناصب تک پہنچتی ہے اور حکومت کے اعمال و افعال اس کے منتخب کرنے والے عوام کے صحیح یا غلط فیصلوں کی طرف ہی اس کا انتساب ہوتا ہے۔ اس منظر نامے میں ہمارے ووٹ کے استعمال کی دینی و دنیاوی اعتبار سے ہم پرکیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسی روشنی میں حقیقت پسندانہ سنجیدہ غور و فکر کی طرف توجہ دلانا آج کی تحریر کا موضوع اور مقصد ہے کیوں کہ یہ انتخابات کوئی کھیل تماشہ نہیں ہیں کہ جسے لاپرواہی یا غفلت سے گذار دیا جائے، تجربات شاہد ہیں کہ لمحوں کی خطاء صدیوں کی آزمائش ثابت ہوتی ہیں، یہ ایک دنیاوی اعتبار سے ہی نہیں بلکہ دینی نقطۂ نظر سے بھی انتہائی ذمہ داری کا معاملہ ہے اور بحیثیت ایک مسلمان کے ہر فرد و بشر کا یہ فرض ہے کہ اس ذمہ دارانہ مرحلے کو مکمل دیانت و امانت اور سوجھ بوجھ کے ساتھ طے کرے اور اپنے بیش قیمت ووٹ کی اہمیت و افادیت اور اس کے دور رس اجتماعی مفادات و نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے دینی ذمہ داری اور تقاضائے وقت کی اہمیت کے تناظر میں محسوس کرے۔

ہماری ذمہ داری :

ووٹ ایک انتہائی اہم امانت ہے قوم کا ہر وہ شخص جو خود کو ہندوستانی کہتا ہے، ووٹ اس کے ملک اور قوم کی امانت ہے اور امانت میں خیانت بلاشبہ سنگین جرم ہے۔ چاہے وہ خیانت ووٹ نہ دے کر کی جائے یا اس کا غلط استعمال کر کے کی جائے۔ ووٹ کا اصل حقدار کون ہے اس کا فیصلہ ایک فرد اور اس کا ضمیر کرتا ہے۔ سیاسی منفی مقاصد اور طرف داریوں کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر قومی مفاد میں مستقبل کے لئے ایک بہتر فیصلہ ہی دانشمندی ہے۔قوم کے ہر فردبالخصوص نوجوانوں سے پر زور استدعا ہے کہ وہ ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں آپ ہی اس قوم کے معمار ہیں۔ بے شک آج کا نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ با صلاحیت، محبِ وطن، مخلص اور قوم کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا ہے اس لئے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ اگر ہم گھر میں بیٹھے رہیں گے تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی؟نظام کیسے بدلے گا ؟یہ سوچنے کا مقام ہے جب عوام ہی اپنے فرض سے غافل ہوں گے جب ہم خود ہی تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو پھر نظام سے شکایت جائز نہیں۔ جہدِ مسلسل ہمارا فرض ہے اور سچے دل سے کی گئی کوئی محنت رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر ہم سب صرف ایک منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ووٹ کے استعمال سے دستبردار ہو جائیں گے تووہی استعماری قوتیں برسرِ اقتدار آ جائیں گی جو شروع سے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔

حاصلِ کلام یہی ہے کہ ووٹ ایک ملی و قومی ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کو اہتمام انجام دیا جائےاور اس کی ترغیب دی جائے۔ اگرہمارے حلقے میں‌ کوئی نسبتاً بہتر اور قابل امیدوار ہے تو اسے ووٹ دینے سے گریز کرنا شرعاً ممنوع اور قوم و ملت پر ظلم کے مترادف ہے۔ اگر حلقے میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنوں‌ میں قیادت کے لائق اور دیانتدار نہیں ہے تو موجود امیدواروں میں سے کسی بھی امیدوار کی ایک صلاحیت یا ایک خوبی کو مدِنظر رکھ کر کم برائی کواختیارکرنےکے خیال سے ووٹ دیناچاہیے۔ اس معاملہ میں یہ اصول بھی ذہن نشین کر لیں‌ کہ شخصی معاملات میں کسی فرد کی غلطی کا اثر صرف اسی فرد تک محدود رہتا ہے، اس کی سزا و جزا کا حقدار بھی وہی ہے۔ البتہ قومی و ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے۔ آپ کا ووٹ نہ دینا یا غلط پارٹی کو منتخب کرنا پوری قوم کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے ووٹ مکمل ذمہ داری کے ساتھ دیں اور اپنے علاقے کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے اس حق کا استعمال کریں۔

مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

متعلقہ

Close