مذہبی مضامینمعاشرہ اور ثقافت

ویلنٹائن ڈے: حقائق، مضمرات اور خرابیاں

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

اللہ عزوجل نے انسان کو عقل وخرد سے نوازا، نفع ونقصان کے تعین کی صلاحیت اس میں دیعت کی، اس کے لئے اچھے اور برے راستے نشان زد کئے، اس کے اندر شر وخیر دونوں مادے رکھے، اور دونوں راستوں کی جہات اور نشانات متعین کئے، اب اس کو بحیثیت ایک انسان ہونے کے اس سے ہر صادر ہونے والے فعل کے دور رس اور سنگین اثرات کے تعین کے بعدہی اس کے لئے اس کو اقدام کرنا چاہئے، اس لئے کہ انسانیت اور حیوانیت کا امتیاز ہی یہی ہے کہ اللہ عزوجل نے انسان زیور عقل مزین کیا ہے، وہ برے بھلے کی تمیز کی صلاحیت رکھتا ہے،البتہ چونکہ اللہ عزوجل نے انسان کے اندر شر وخیر، برائی وبھلائی ہر دو طرح کے مادے اس میں ودیعت فرمائے ہیں ، اس لئے کہ اس سے صادر ہونے والے ہر فعل وعمل پر اچھائی کا لیبل چسپاں نہیں کیا جاسکتا ؛ چونکہ انسان جب اپنے اندر شر کے مادے کی پرورش کرتا رہتا ہے، وہی مادہ اس کے جسم وجاں میں پیوند وپیوست ہوجاتا ہے تو اس کا ہر اٹھنے والا قدم برائی، بد حیائی اور اخلاق سوزی، سماج ومعاشرے کو کھوکھلا کرنے، اس کے بانے اور تانے بکھیرنے کی کی طرف نادانستہ یاخواہشات وجذبات کی رو میں بہہ کر اٹھتا ہے، اس لئے معاشرے اور سماج میں ہر پننے والے عمل کی توثیق وتائید نہیں کی جاسکتی ہے، اچھائی بھی یہ انسانیت کا وصف خاص ہے، حیوانیت کانہیں ، اللہ نے انسان میں اچھائی کا بھی مادہ رکھا ہے، جب وہ اس مادے کی پرورش وپرداخت کرتا ہے تو اس کو اس وقت اچھائی کی راہ کا اپنا اور اس پر چلنا اچھا لگتا ہے اور برائی برائی نظر آتی ہے، ورنہ وہ غلط راستے پر چل کر اچھائی سے بیر کرنے اور برائی سے گلے لگانے کو چاہتا ہے۔

رہتی دنیا سے لے اب تک روئے زمین پر جتنے بھی مذاہب وجود میں آئے ہیں ، سبھی مذہبوں بشمول مذہبِ اسلام سب نے اچھائی ہی کی تعلیم دی ہے، مذہب کا اطلاق بھی انہیں تعلیمات پر حقیقت میں ہوتا ہے جن میں اچھائی کا وصف ہو، جو اچھائی کی تعلیم دے اور برائی سے روکیں ، جن مذاہب میں برائی کی تعلیم کا وجود ہوتا ہے، درا صل وہاں انسانیت کی بری سوچ اور اس میں ودیعت کی ہوئی برائی کا اس میں دخل ہوتا ہے۔

در اصل اس تمہید کا مقصود یہ ہے کہ سماج میں پننے والی ہر برائی کی وہ انسانیت کی خرا ب سوچ اور اس کا انسانیت کے جامہ سے نکل حیوانیت کے جھنڈ میں چلا جانا ہوتا ہے۔

ویلٹینائن ڈے، تاریخ پس منظر :

اس سلسلے میں بے شمار روایات ہیں ، سب بے حیائی اور خدائی نظام اور فطرت انسانی سے ہٹ کر انسانیت کی اپنے خواہشات اور نفسانیت کی بندش میں بندھے ہوئے نظام کے تناظر میں وجود میں آئیں ہیں :

۱۔ اس سلسلے میں ایک روایت یہ ہے کہ : روم کے بادشاہ کلاڈیس دوم کے وقت میں روم کی سر زمین مسلسل جنگوں کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم ہواکہ ایک وقت کلاڈیس روم کی اپنی فوج کے لئے مردوں کی بہت کم تعداد آئی، جس کی ایک وجہ یہ تھی روم کے نوجوان اپنی بیویوں اور ہم سفروں کو چھوڑ کر پردیس جانا پسند نہ کرتے تھے، بادشاہ کلاڈیس نے یہ حل نکالا کہ ایک خاص عرصے کے لئے شادیوں پر پابندی لگادی جائے ؛ تاکہ نوجوان فوج میں داخل ہوسکے، اس موقع پر سینٹ ویلنٹائن نے سینٹ مارلیس کے ساتھ مل کر خفیہ نوجوان جوڑوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا، لہٰذا جب کلاڈیس کو اس کا پتہ چلا تو اس نے سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کر کے اس کو اذیتیں دے کر ۱۴؍فروری ۲۶۹عیسوی کو قتل کردیا، لہٰذا ۱۴ ؍فروری سینٹ کی موت کے باعث اہل روم کے لئے معتبر ومحترم دن قرار پایا۔ (اگر ویلیٹائن کی حقیقت کچھ یوں ہے تو بے حیائی اور بد اخلاقی کو یہاں کہاں سے راستہ مل گیا)

۲۔ اسی طرح اس سلسلے میں ایک واقعہ یہ ملتا ہے کہ ویلیٹائن نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں بھی تھا، یہ بشب آف ٹیرنی تھا جسے عیسائیت پر ایمان کی جرم میں ۱۴فروری کو ۲۶۹عیسوی کو پھانسی دی گئی تھی، کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران بشب کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی، او روہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا، اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ویلنٹائن کہاجاتا ہے، چوتھی صدی عیسوی تک اس د ن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کے طور پر منایا جانے لگا۔ اور برطانیہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھر ے خطوط، پیغامات، کارڈ اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پاگیا۔

برطانیہ سے رواج پانے والے اس دن کے بعد امریکہ جرمنی میں بھی ویلٹنائن ڈے منایا جانے لگا، تاہم جرمنی میں دوسری جنگ عظیم تک یہ دن منانے کی روایت نہ تھی، برطانیہ میں ۱۴ ؍فروری کو لکڑی کے چمچے تحفے کے طور دیئے جانے کے لئے تراشی جاتے اور خوبصورتی کے لئے ان پر دل اور چابیاں لگائی جاتی تھی، تحفے وصول کرنے والے کے لئے اس بات کا اشارہ ہوتا کہ تم میرے دل کو اپنی محبت کی چابی سے کھول سکتے ہو۔

۳۔ اس سلسلے کی تیسری روایت یہ ہے کہ قدیم روما میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا ایک تہوار منایاجاتا تھا، اس تہوار میں کنواری لڑکیاں محبت کے خطوط لکھ کر ایک بہت بڑے گلدان میں ڈال دیتی تھیں ، اس کے بعد محبت کی اس لاٹری سے روم کے نواجوان لڑکے ان لڑکیوں کا انتخاب کرتے جن کے نام کا خط لاٹری میں أن کے ہاتھ آیا ہوتا، پھر وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں کورٹ شب (courtship) کرتے یعنی شادی سے پہلے آپس میں ہم آہنگی (under standing)پیدا کرنے کے لئے ملاقاتیں کرتے،اس کے بعد عیسائیت کے مذہبی رہنماؤں نے اس مشہور جواز باز رسم کو ختم کرنے کے بجائے اسے سینٹ ویلنٹائن ڈے میں بدل میں دیا، ویبسٹر فیملی انسائیکلوپیڈیا کے مقالہ نگار کے بموجب سیٹنٹ ویلٹائن ( جس کی وفات ۲۶۹ میں ہوئی تھی) کی زندگی کا تہوار قرار دیا، حالانکہ جو کچھ اس تہوار میں کیا جاتا ہے، ان کا کوئی تعلق نہیں ۔

۴۔بعض لوگ اسے کیوپڈ ( محبت کے دیوتا ) اور وینس ( حسن کی دیوی ) سے موسوم کرتے ہیں ، یہ لوگ کیوپڈ کو ویلنٹائن ڈے کا مرکزی کردار کہتے ہیں ، جو اپنی محبت کے زہر بجھے تیر نوجوان دلوں پر چلاکر انہیں گھائل کرتا۔

اس کے علاوہ ویلنٹائن ڈے سے متعلق بے شمار روایات اور عقائد ہیں ، جن کا ذکر ان میں موجود بے حیائی اور بد اخلاقی کی وجہ سے کرنا نہیں چاہتا، نقل کفر کفر نہ باشد کے مصداق ان روایات کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے کہ پس منظر کو اچھی طرح سے جان لیا جائے، جن روایات اور خرافات کی بنا اس یوم عاشقاں پر رکھی گئی ہے وہ توہمات، خرافات اور برائیوں ، بے حیائیوں اور بد اخلاقیوں پر مبنی ہے۔

زمانہ قدیم سے مغربی ممالک میں یہ دلچسپ روایت بھی زبان زد عام وخاص ہے کہ اگر آپ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ یہ جان سکیں کہ آپ کی کتنی اولاد ہوگی تو ویلنٹائن ڈے پر ایک سیب درمیان سے کاٹیں ، کٹے ہوئے سیب کے آدھے حصے میں جتنے بیچ ہوں گے اتنے ہی اولادآپ کی ہوگی، جاپان میں خواتین ویلنٹائن ڈے پر اپنے جاننے والے تمام مردوں کو تحائف پیش کرتی ہیں ، اٹلی میں غیر شادی شدہ خواتین سورج نکلنے سے پہلے کھڑی کھڑ کی میں کھڑی ہوجاتی ہیں ، اور جو پہلا مرد ان کے سامنے گذرتا ہے، ان کے عقیدے کے مطابق وان کا ہونے والا خاوند ہے، جب کہ ڈنمارک میں برف کے قطرے محبوب کو بھیجے جاتے ہیں ، تحریری طور پر ویلنٹائن کی مبارک باد دینے کا رواج ۱۴ صدی میں ہوا، ابتداء میں رنگین کاغذوں پر واٹر کلر اور رنگین روشنائی سے کام لیاجاتا جس کی مشہور اقسام کروسٹک ویلنٹائن، کٹ آؤٹ، اور پرل پرس ویلنٹائن کارخانوں میں بننے لگے، ۱۹ صدی کے آغاز پر ویلنٹائن کارڈ بھیجنے کی بروایت باقاعد طور پر پڑی جو اب ایک مسقتل تہوار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

لیکن جن روایتوں کا بھی تذکرہ یہاں کیا گیا ہے، یہ حقیقت سے سے زیادہ خرافات لگتی ہیں ، اگر کسی درجے میں ان کو حقیقت تسلیم بھی کر لیا جائے تو ویلنٹائن ڈے کے حواس باختہ اور اخلاق سوز حرکات وسکنات کا اس سے کیا تعلق، آخری جو امور ذکر کئے ہیں ، وہ تو توہم وخرافات اوراٹکل سے تعلق رکھتے ہیں ، جس میں شادی کی بناء اس روز سب سے پہلے نظر پڑنے والے انسان پر رکھی جائے، یہ سب خرافات واوہمات کا منبع ہے۔

ویلٹنائن ڈے کی خرابیاں :

۱۔ حیاء انسان کا زیور ہے، خصوصا عورت پیکر حیاء کا مجسم ہے، یوم عاشقاں یہ حیاء دار انسانوں کا کام نہیں ہے، یہ بے حیائیوں اور بد اخلاقوں کا تہوار ہوسکتا ہے، ایک حیاء دار، عفیف، پاکیزہ شخص کا نہیں ہوتا، ا سی لئے کہا گیا ہے، عربی کا مقولہ ہے ’’إذا فاتک الحیاء فافعل ما شئت ‘‘ ( جب مایہ حیاء تجھ سے مفقود اور معدوم ہوجائے تو پھر جو چاہے کر )۔ اس لئے حیاء دار، عزت دار اور خود دار اورغیرت مند معاشرے ویلنٹائن ڈے یا اس قسم کے حیاء باختہ عفت سوز تہواروں کا کوئی مقام نہیں ہے۔ عورت کا وصف قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے ’’ تمشی علی استحیاء ‘‘ (پیکر حیاء بن کر چل رہی تھی)۔ چے جائے کہ عورت کسی غیر نا محرم مرد سے دوستی کرے تعلق بڑھائے یہاں تو مرد کی موجودگی میں عورت کے پیکر حیاء بن کر چلنے کا ذکر ہے، اسوقت ہمارے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو حیاء نسوانی تار تار نظر آتی ہے، عورت مرد کے شانہ بشانہ چلتی نظر آتی ہے، حیاء کو اخلاق کا تاج کہا گیا ہے، تاج صاحب مرتبت کے سر پر سجایا جاتا ہے، اور ایک جگہ کہا گیا : ’’حیاء عورت کی زینت، مرد کی فضیلت اور دونوں کی محافظ ہے ‘‘۔ اور ایک جگہ کہاگیا کہ : ’’ اللہ عزوجل کی جانب سے انسان کے حق میں سب بڑا عذاب اور عقاب یہ ہے کہ اس سے زیور حیاء چھین لیا جائے ‘‘ اور ایک جگہ فرمایا گیا:’’ حیاء خیر ہی خیر ہے ‘‘ اور ایک جگہ فرمایا: ’’إذا ذھب الحیاء حلّ البلاء‘‘ ( جب حیاء ختم ہوجاتی ہے تو بلاء نازل ہوجاتی ہے ) اور خصوصا عورت میں مادہ حیاء تو اس کا فطری زیور ہے بلا امتیاز مذہب وملت کے ہر عورت مرد سے حیاء کرتی ہے، سوائے جو بے حیاء ہوجائے۔

۲۔اللہ عزوجل نے بیوی شوہر کے رشتے کے ذریعے انسانی سماج اور معاشرے کی بنیاد رکھی ہے، یہی سے سارے رشتے اور خاندان اور معاشرہ اور سماج وجود میں آتا ہے، ان کی بطن سے ہونے والی اولاد کو ان کے ماں باپ دادای دادی اور نانا نانی لگتے ہیں ، ان کے بھائی بہن، چاچا پھو پی اور خالہ اور خالو شمار ہوتے ہیں ، پھر ان کے بھائی بہنوں کی رشتہ دار یاں ان کے لئے بھائی لگتے ہیں ، اس طرح سماج اور معاشرہ اور خاندان تشکیل پاتا ہے، عورت یا تو ماں ہوسکتے ہے، یا کسی کی بہن، بہو، بھابھی، بیوی، خالہ پھوپھو، جس تعلق کے نتیجے میں کوئی رشتہ داری وجود میں نہ آتی ہو، وہ حیوانیت ہے، اسے انسانیت نہیں کہہ سکتے، جانوروں کے مابین کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی،(Girl friend) کالفظ کسی رشتہ داری پر نہیں بولا جاتا ہے، یہ بے حیاء دوستی کا نام ہے، اگر یوم عاشقاں جیسے مرد وعورت کے بے محابا، بغیر شادی کے بندھن کے بندھے ہوئے مہلک اور تباہ کن حیاء سوختہ امور کی اجازت دی جائے تو معاشرے کا تانے بانے کا بکھرنا ضروری ہے، آج خاندان سے سکون وطمانیت رخصت ہوچکا ہے، آج کے حیاء باختہ معاشرے نے رشتے کے احترام اور تقدس کو پامال کردیا ہے، ہر شخص اپنے لذت تن بدن کی تکمیل میں لگاہوا ہے۔ نا ماں کا تقدس ہے، نہ باپ کا احترام، نہ بیوی کی قدر، غلط اور بے حدود اور بے لگام راہیں انسان کو اچھی بھانے لگی ہیں ، جس سے سماج بکھرتا جارہا ہے۔

۳۔ ویلنٹائن ڈے کے منانے کے حوالے سے یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ، بالکل بے بنیاد بات ہے، آپ مغرب کی ا س گندگی تہذیب پر نظر ڈوڑائیں جہاں یہ تہوار ہر سطح پر منایا جاتا ہے، وہاں محبت کا کیا اوسط ہے، ان کے معاشرے میں گھروں میں کس قدرمحبت ہے ؟

یہ کہنا بھی بے جا ہے کہ ازدواجی زندگی سے پہلے محبت ہوجائے تو زندگی بڑی کامیاب ہوتی ہے، یہ محض خواب اور سراب ہے، اس کا حقائق کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ، قاہرہ کے ایک سروے کے مطابق جس میں انہوں نے پور ی دنیا کا سروے کر کے اپنی رپورٹ مرتب کی ہے اور نتائج کو لکھا ہے کہ ایسی محبت جو ازدواجی زندگی سے پہلے ہوتی ہے، اور پھر اس محبت کی بنیاد پر جو شادیاں کی جاتی ہیں ، ان شادیوں میں سے 88%شادیاں ناکام ہوتی ہیں ، اورصرف 12%شادیاں ہی کامیاب رہتی ہیں ، اس کے بالمقابل جو شادیاں حیاء اور شرم کے دائرے اور شریعت کے حدود میں رہ کر کی جاتی ہے ایسے شادیوں میں کامیابیوں کا تناسب 78%پایاگیا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے یہ جشن اور تہوار جس معاشرے میں منایا جاتا ہے، وہاں عورتوں پر ہونے والے مظالم کی اوسط خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے : فرانس میں کئے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ کے مطابق 10ملین عورتیں اپنے شوہروں کے مظالم کی شکار ہوتی ہیں ، یا پھر ان مردوں کا شکار ہوتی ہیں جو ان کے ساتھ رہتے ہیں ، اور ان میں سے چار ہزار عورتیں ہر سال ان کے مظالم کی وجہ سے ہلاک ہوتی جاتی ہیں ۔(ویلنٹائن ڈے، مولانا عبد الستار صاحب )۔

۴۔ویلنٹائن ڈے، ہپی نیو ایئر اور عورتوں کے رضا ورغبت سے ایک دوسرے سے دوستی اورملاقات کی اجازت کے نتیجے میں جو وبال معاشرے میں آرہا ہے، یہ کسی عذاب اور سونامی اور زلزلہ سے کم نہیں ہے، زلزلے اور سونامے سے تو مکان ڈھتے ہیں ، یہاں رشتہ ڈھ رہے ہیں ، انسانیت جیتے جی مردہ اور لاشہ ہورہی ہے، گھر بابرد ہورہے ہیں ، نسلیں برباد ہورہی ہیں ، حیا لٹ رہی ہے، جوانیاں دار غ دار ہورہی ہیں ، بیٹیوں کی عفت نیلام ہورہی ہے، نوجوان کا شباب دا غ دار ہورہا ہے، بیٹا باپ کا نہیں رہتا، بیٹی ماں کی نہیں رہتی۔

۵۔ آج کل عورت کی عصمتوں کے لٹنے کا خیال تو ہر شخص کو ستا تا ہے، عورت کے وقار کا پامال ہونا ہر شخص کو نظر آتا ہے، جب کسی ماں بیٹی کی عصمت یا عفت پر کوئی بد اطوار شخص ہاتھ ڈالنے یا اس کی جانب دست درازی کی کرنے کی نا تمام کوشش کرتا ہے، تو ہر شخص اس عورت ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، عورت پر دست درازی کے بعد والے قانون سخت بنائے جانے کی مانگ کی جاتی ہے، لیکن برائی اور بے حیائی کے ان دروازں پر بند نہیں لگایاجاتا ہے، جہاں سے معاشرے میں بے حیائی پنپتی ہے، مخلوط تعلیم گاہوں ، مرد وزن کے بے محابا اختلاط، دو ٹوک میل جول پر پابندی لگانے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے، عورت کے با حیاء لباس زیب تن کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کو دقیانوس اور نیچی سوچ رکھنے والا گردانا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تک معاشرے میں اس طرح کے حیاء سوز تہواروں کے منانے سے اجتناب نہیں کیا جاتا ہے اور ان کی مذمت نہیں کی جاتی، ان کی پشت پناہی سے دور ی اختیار نہیں کی جاتی، جب تک نسل نو ان حیاء سوز کاموں سے اجتناب کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے، معاشرے اور سماج میں حقیقی چین وسکون کا حاصل ہونا صرف ایک خواب اور سراب رہ جائے گا، یہ تو موجودہ دور کی مغرب کی دین ہے، خود ہمارے شہر حیدرآباد کے علاوہ دیگر شہروں کے احوال نہایت دیگر گوں ہیں ، یہاں کے مہذب سماج میں عورت آج میں عورت خواہ وہ ہندو ہی ہو حیاء دار کپڑے زیب تن کرتی ہے، آج ہم جس روش پر چل پڑے ہیں یہ تو مغرب کی دین ہے، جو یہ چاہتا ہے کہ ہمیں آپس کے بکھیڑے میں مصروف رہ ملک وقوم کی ترقی سے پیچھے رکھ دے۔

اس لئے گذارش یہ ہے یہ ہماری مشرق اور حیاء دار تہذیب سے میل کھانے والے تہوار نہیں ، اس لئے اس سے بالکلیہ اجتناب ہی میں معاشرے کی کامیابی وکامرانی اور قوم کی ترقی وتعمیر ممکن ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

ایک تبصرہ

  1. فکرانگیزتحریر
    ہر سال ویلنٹائن ڈے ایک جارح لشکر کی طرح ہماری روایات کے بوسیدہ قلعے پر حملہ آور ہوتا ہے اور تمام درودیوار کانپنے لگتے ہیں۔ پہلے سےموجود درازیں مزید وسیع ہو جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ نئے شگاف بھی نمودار ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے غنیم کے سپاہی ہر سال پہلے سے زیادہ تعداد میں آ کراس تہذیبی قلعے کے مختلف حصوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔ کسی کو یقین نہیں ہے تو پچھلے چند برسوں میں اس دن کی مقبولیت کو دیکھ لے۔ اسے نہ ہائی کورٹ کے احکامات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی حکومتی پابندیاں موثر ہو سکتی ہیں۔

    ہمیں نئی روایات کے سیمنٹ سے تہذیبی اقدار کی ان دیواروں کو نئے سرے سے تعمیر کرنا ہو گا۔ لیکن ہماری ضد ہے کہ دور قدیم کی مٹی اور گارا ان شگافوں کو پرکرنے کے لئے کافی ہے۔ کچھ تو ایسے ہیں کہ بس دشنام طرازی اور الزام تراشی کی ہا ہا کار کو ہی دفاع کا واحد رستہ گردانتے ہیں۔

    دور قدیم میں بھوک کے ہاتھوں بے حال یورپ کے وحشی قبائل رومی سلطنت پر حملہ آور ہوتے اور ان کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو جاتا تو روم کے حکمران ان لشکریوں کو اپنی شرائط پر شہروں میں رہنے کی اجازت دے دیا کرتے تھے۔ بعد میں انہی جنگجوؤں کو فوج میں بھرتی کر کے آنے والے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا جاتا تھا۔ صدیوں تک اسی حکمت عملی کی بدولت رومی سلطنت ایک سپر پاور بنی رہی۔

    ہرقوم کے تہذیبی اور فکری ارتقا کے لئے بھی یہی طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے۔ عالمگیریت کے اس دور میں خیال تازہ کے مسالے سے روایات کی ایسی دیواریں تعمیرکرنا پڑیں گی جن کی بنیادیں ہماری دھرتی میں مضبوطی سے گڑی ہوں اور جن کی اٹھان میں جدید دورکی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ اسی طریقے سے ہی ہم اس قابل ہو پائیں گے کہ حملہ آور روایات کو اپنی شرائط پر سماجی قلعے میں داخلے کی اجازت دے سکیں۔

    دوسری صورت میں یا تو ہمارا معاشرہ تاریخٰی قوتوں کے ہاتھوں خوار ہوتا رہے گا یا پھر یہ قلعہ سر ہو جائے گا اور ہم اپنی پہچان کھو کر اجنبی تہذیب کا حصہ بن جائیں گے۔

    محترم مجاہدصاحب کی وال سےماخوذ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close