مذہبی مضامین

ٹک ٹوک: ایک حیاء سوز فتنہ

مفتی محمد ندیم  الدین قاسمی

(مدرس  ادارہ اشرف العلوم  حیدر آباد )

امت  مسلمہ  جن مصائب ومشکلات سے دو چار ہے  وہ کسی دیدہ ور سے مخفی  نہیں، ہر دن  اپنے جلو میں  نت نئے  فتنے لئے  جلوہ گر  ہو رہا ہے ،  اور ہر رات  اپنے ساتھ  آزما ئشوں   کی نئی  ظلمت لئے  چلی آ رہی ہے،  تسبیح  کا  دھا گہ ٹوٹ جانے  کے بعد جس طرح  دانے  گرتے ہیں  اسی طرح  فتنے یکے بعد دیگرے  رو نما ہو رہے ہیں،  ایک فتنہ تھمتا  نہیں  کہ  دوسرا  فتنہ سر اٹھا لیتا ہے۔

 میری صراحی سے قطرہ قطرہ  نئے حوادث ٹپک رہے ہیں

 میں اپنی تسبیحِ روز وشب کا شمار کر تا ہو ں  دا نہ دانہ

آپ ﷺ نے فرما یا :

  با دروا با لاعما ل  فتنا  کقطع اللیل المظلم  یصبح الرجل مؤمنا ویمسی کا فرا  أو یمسی مؤمنا ویصبح کا فرا (  رواہ الترمذی وأحمد)

ترجمہ؛ اعمال  صالحہ میں جلدی کرو ان فتنوں کے آنے  سے پہلے  جو اندھری رات کے ٹکڑوں کی طرح  یکے بعد دیگرے آئینگے، آدمی اس حال میں  صبح  کریگا  کہ وہ مؤمن ہو گا،  اور شام اس حال میں کریگا  کہ  وہ ایمان  سے محروم ہو چکا ہو گا،  دنیا کی حقیر متاع کے عوض وہ  اپنا  دین وایمان بیچ چکا ہو گا۔

ان ہی  فتنوں میں  سے ایک بہت تیز پھیلنے والا  فتنہ  جس نے  نسل  نو   کے ایمان کو کمزور کردیا ، یا د إلہی سے غافل کر دیا،  عشق نبیﷺ کی چنگا ری کو بجھا دیا، اور ان کے قیمتی اوقات  کو ضائع کر دیا،  اور انہیں فضول اور لا یعنی  کا موں میں مصروف کر دیا،  وہ چائنہ سے ۲۰۱۶  میں لونچ ہو نے والے  وہ ایپ ہے  جسے ’’ٹک ٹاک‘‘  کہا جا تا  ہے،  جس نے صرف  دو سال کے قلیل عرصہ میں  وہ طوفانِ بد تمیزی  بپا کیا  جسے پچھلے  ۵۰ سال میں  یو ٹیوب اور فیس بک  بھی نہ کر سکے، ۱۵۰ ممالک  جسے اب استعمال کر رہے ہیں،  جس کے صارفین کی تعداد ا۵۰۰+  ملین ہے،۔

   دراصل  یہ  یہودیوں  کا بنایا ہو ا  وہ ایپ ہے  جس کا مقصد  صرف اور صرف  اسلا م کو نشانہ بنا نا تھا  یہی وجہ ہیکہ اس میں اسلام،  مسلمان، اور تعلیما ت اسلا میہ، سوائے

یہو دیت کے  دیگر  مذاہب  کی مقدس  ہستیو ں کا مذاق اڑایا گیا،  یہی نہیں  بلکہ اس  کے علاوہ اس میں  اور بھی  مفاسد ہے؛

1۔ اس ایپ  میں  جہاں  خاص کر  علماء اسلام  کو نشانہ بنایا گیا  کہ  لڑکے لڑکیاں  کسی مشہور عالم ِ دین  کے بیان پر ہو نٹ ہلا کر  ان کے بیان کی نقا لی کر کے  تعلیمات۔

 اسلا میہ  کا مذاق اڑاتی نظر آتی ہے،  تو  وہیں اس کے ذریعہ سے  معصوم بچوں کو نو جو ان بچیوں   کی گندی تصاویر  دکھا ئی جا تی ہے  اور فحش  گفتگو سناکر  ان کے ذہنوں کو  غلط رخ دیا  جا تا ہے،  جس کے بعد  یہ بچے ان ہی کی نقل  اتارنے کی  کو شش  کرتے ہیں۔

2۔ مزید یہ کہ  اس میں بے ادبی  وخرا فات  اپنے عروج پر ہے،  اور اس ایپ میں  عورتوں  کو  گا نوں  کے سر پر  تھرکتے، اور تبلے کی تھاپ  پر ناچتے، اور نو جوان بچوں کو موسیقی کی تار پر  جھو متے  دکھا یا جا تا ہے، حتی کہ بعض لو گو ں کا کہنا ہیکہ  ٹک ٹاک یو زرس  فحاشی  وعریا نیت  میں با لی ووڈ ایکٹرز سے  بھی آگے نکل چکے ہیں۔

3۔ زیا دہ  تکلیف  مجھے اس با ت پر ہیکہ  اس ایپ کے استعمال  میں زیا دہ ملوث  ہماری وہ  مسلم لڑکیاں  ہیں   جو باپ  کا غرور، بھائی کی عزت، اور گھر کی ملکہ تھی، جسے اسلام نے وہ تما م حقوق عطا کئے  جس  سے وہ یکسر محروم تھی،  جس کی حفاظت کی خاطر  اسے مسجد جا نے سے ، اذان واقامت  کہنے سے، بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے سے،  اور اونچی آوا ز  میں قرآن   کی تلا وت کرنے سے روک دیا گیا  تھا، اب یہ بنت حوا  میک اپ لگا کر  ایسے برہنہ  لبا س  پہن کر سا منے آتی ہیکہ  اللہ کی پناہ ! اورچہار دیواری میں رہ کر   نیم عریاں لباس پہن کر ایسے ایسے مناظر اپلوڈ کر رہی ہیں  جنہیں دیکھ کر  ایک غیرت مند  آدمی کا  چہرہ  پا نی پا  نی ہو جاتا ہے، پھر یہ ہوس کے بھڑیئے  اپنے ہوس  بھری نگا ہوںسے بنت حوا کے جسم  کا مشاہدہ کرکے  اپنی خوا ہشات کی تکمیل  کرتے ہیں،  جب کہ آپ ﷺ   نے فرمایا :

  صنفانِ  من أھل النار  لم أرھا، قومٌ  سباطٌ کاذناب  البقرِ  یضربون  بھا  الناس ، ونساء  کا سیاتٌ  عا ریاتٌ  ما ئلاتٌ  ممیلاتٌ  رؤوسھن  کامثال السنمۃ البختِ  المائلۃ لا ید خلن الجنۃ  ولا یجدن ریحھا، وإنَّ ریحھا لتوجد من کذا کذا( رواہ مسلم)

ترجمہ؛  جہنمیوں کی دو قسمیں ہیں  جنہیں  میں نے نہیں  دیکھا ، ایک  وہ لوگ جن  کے پاس  گا ئے  کی دموں جیسے  کوڑے  ہو نگے ،  جس کے ذریعہ  وہ لو گوں کو ما ر رہے ہونگے،  اور دوسری ، وہ عورتیں ہیں  جو لباس پہننے کے با وجود  بھی بر ہنہ  ہونگی خود غیروں کی طرف ما ئل ہو نے والی اور  دوسروں کو اپنی طرف ما ئل کر نے والی ہو نگی ان کے سربختی اونٹ  کی کو ہا نوں کی طرح  ایک طرف  جھکے ہو ے ہو نگے،  یہ نہ تو جنت  میں داخل ہو نگی اور نہ اس کی خوشبو پا سکی گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی دور سے آرہی ہو گی۔

4۔ ٹک ٹاک کی بیماری میں  صرف ہماری لڑ کیاں ہی   نہیں  بلکہ  لڑکے بھی  ملوث  ہے  جو اپنی ویڈیو ان  لڑکیوں کی ساتھ بناتے نظر آرہے ہیں  جو فاحشہ، بد کار  اور یہودیوں کی پروردہ ہو تی ہیں، اور اس کو  بڑی شان  سے  forwerd بھی کیا جا تا  ہے، جب کہ ایسے شخص  (جو گناہ کر کے لو گوں کو دکھا ئے ) پر  لعنت خداوندی ہے،  چنانچہ آپ ﷺ نے  فرمایا  ’’ کل امتی معا فی الا المجا ھرین،۔

 5۔ اور  صرف شہرت کے خاطر  عورت مرد کا لباس  پہن  کر،اس کی شکل اختیار کر کے اور مرد  عورتوں کا لباس پہن کر  اور عورتوں کی  شکلیں  بنا کر، لبسٹک لگا کر بیہودہ ویڈیوز اپلوڈ کرتے نظر  آرہے ہیں  جب کہ ایسے شخس پر اللہ کی لعنت ہے ؛ لعن اللہ المشبھین من الرجال با لنساء والمتشبھات با لرجال من النساء( اللہ  نے ان مردوں پر لعنت  بھیجی  جو عورتوں  کی مشابہت اختیار  کرتے ہیں،  اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی  ہے جو مردوں  کی مشا بہت  اختیار کرتی ہے )

6۔ اس سے  زنا،  ہم جنس پرستی،  جھوٹ، دھو کہ دہی  اور والدین کی نا فرما نی جیسے منفی اثرات  لوگوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

7۔ اب  اس فتنہ کی زد میں تو  عمر رسیدہ لو گ بھی  ہے جنہیں  اپنی عمر کا تو لحاظ کر نا چا ہیئے  تھا  اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا چا ہیئے  تھا  اب وہ اس  کو استعمال کر کے اپنے اداکا ری  کے جو ہر  دکھا نے میں مصروف   ہے۔

 الغرض  یہو دیوں نے   دنیا  کو  اس ایپ کا  اتنا دیوا  نہ  اور پا گل بنا دیا اسے  اب  خدا کی نا را ضگی اور تعلیمات اسلا میہ  کا تر ک تو گوارہ ہے  لیکن اس کا ترک  ایک  لمحہ کے لئے  بھی گوارہ نہیں، اسلامی تعلیمات  اسے اب دقیا نو سی نظر آ نے لگی ہے،  ایک یہو دہی مستشرق  جس نے  اسلامی تعلیمات  کا مطا لعہ  کیا تھا  ، لکھتا ہیکہ  مسلما نوں پر  اتنی ہلا کت  وبربادی  ایک ہزار حملے کر نے سے  نہیں آتی  جتنی بر با دی اس کے اندر شراب و شباب  کو پھیلانے  سے آئی ہے۔

 اس لئے اب ضروری ہیکہ  اس کے روک تھام کے لئے  انفرادی و اجتماعی  اور عوامی سطح پر  کوشش کی جا ئے،  ورنہ یہ  بے حیائی  کا  طوفان  بہت  بڑی تبا ہی  کا پیش خیمہ  ثابت ہو سکتا ہے۔

 ہر شخص اپنا  ایک  حلقہ اثر  رکھتا ہے، اپنے گھر، اپنے  محلے،  اپنے قبیلہ،  اپنی مساجد، اپنی  جما عت  میں  اس آگ  کو  آگے  بڑھنے  سے بچا ئیں، اور والدین کی ذمہ داری ہیکہ  وہ یا ایھا الذین  امنوا قوا انفسکم  وأھلیکم  نا را  کو مد نظر رکھ کر  اپنے بچوں اور بچیوں  کو اس  سے  جہاں تک ہو سکے  روکیں  اگر نہ رکے تو  انہیں مناسب سزا بھی دیں۔

 مساجد کے ائمہ، اصلاحی مجالس  کے واعظین اور  دعوت و تبلیغ  کے مبلغین  اگر  پوری دل سوزی  کے  ساتھ  اس ایپ  کے دنیا وی  واخروی  نقصانات  لو گوں کے سامنے  بیان  کریں۔  صحافی  واہل قلم  مجلات و اخبارات  کے صفحات  پر  ’’ ہوش باش‘‘ کی صداؤں  کو عام  کر نے لگیں تو  یہ فتنہ تھم سکتا ہے  اور ایک صالح معاشرہ وجود میں آ سکتا  ہے۔

 اور  اس  ایپ کے خلاف  آواز بلند کی جا ئے  اور حکومت سے  اس پر پا بندی لگا نے کی اپیل کی جا ئے  اس لئے کہ  جس  معا شرہ میں  برائی  کے خلاف  آواز  اٹھا نے والے  نہ رہے  تو قدرت کی طرف سے اس کی تبا  ہی  میں  زیا دہ دیر نہیں لگتی۔

 اللہ ہم  سب  کو توفیق عمل نصیب فرما ئیں، آمین !

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close