مذہبی مضامینملی مسائل

پُر فتن دور میں ایمان کی حفاظت مسلمانوں کی اہم ذمہ داری!

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

   عالم ِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے عظیم المرتبت مہتمم ،مصلح ومربی حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب مدظلہ اپنی گوناگوں خوبیوں اور کمالات کی بنیاد پر ملک کے ممتاز علماء ومفکرین میں شمار ہوتے ہیں ۔ آپ کی شخصیت بے مثال تواضع ،خوش خلقی وشریں کلامی کی وجہ سے ہر خواص وعام کے یہاں مقبولیت رکھتی ہیں ،آپ تعلیم وتدریس،اصلاح و تذکیر ،تربیت وتزکیہ،اوراہتمام کے انتظام وانصرام کی مصروفیات کے ساتھ ،اسفار اور قوم وملت کی دینی رہبری و رہنمائی کے لئے ملک کے طول وعرض کے علاوہ بیرون ِ ملک میں بھی اپنے مؤثر خطابات اوربصیرت افروز بیانات کے ذریعہ علم وعمل کی روشنی پھیلاتے رہتے ہیں اور افرادِ امت کو دین اسلام سے وابستہ کرنے کی سعی ٔ پیہم وجہدِ مسلسل فرماتے ہیں ۔

   24 مارچ 2017 ء کو آپ کی آمد آرمور شہرضلع نظام آباد ( تلنگانہ) میں ’’ایمان سوز فتنے اور مکاتب ِ قرآنیہ کی اہمیت وضرورت ‘‘ کے زیر عنوان منعقد ہونے والے ایک عظیم الشان جلسہ میں بحیثیت ِمہمان خصوصی ہوئی ،اوراس اہم عنوان کے تحت آپ نے نہایت فکر انگیزاور بصیرت افروز خطاب فرمایااور کم وقت میں امت کو موجود ہ دور کی سنگینوں سے آگا ہ بھی کیا،فتنوں سے باخبر بھی کیا،حالات کی خطرناکیوں سے متنبہ بھی کیااور فتنوں کے تدارک و سدِ باب کے لئے لائحہ ٔ عمل بھی پیش کیا۔اس جامع ،مفید اور ایمان افروزبیان کا کچھ حصہ تلخیص و اختصار کے ساتھ پیش ِ خدمت ہے۔

 ’’صورت ِ حال اتنی سنگین ہوچکی ہے کہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے ایمان پر ڈاکے پڑرہے ہیں ،حضرت نبی اکرمﷺ کی محبت آپ سے عقیدت،آپ کے امتیازات،آپ کی خصوصیات ،ایک مومن کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی جو عظمت ہے،اور آپ کا جو مقام ہے اس کو داغ دار کیا جارہاہے اور اس پر چوٹ لگائی جارہی ہے،اور جھوٹے مدعیانِ نبوت لبادے بدل بدل کر ہمارے درمیان آرہے ہیں ،ہماری نسلوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ،انہیں دین سے بیراز بلکہ دین مخالف اور دین دشمن بنارہے ہیں ،ایمان سے ان کو خالی کررہے ہیں ،اگر ایسے موقع پر بھی ہماری ایمانی حمیت اور ایمانی غیرت میں جوش پیدانہیں ہواتو یہ زندگی بیکار ہے،کسی کام کی نہیں ۔

 مسلمان کبھی اپنی عددی اکثریت کی بناء پر، تعدادکی بناء پر نہ کامیاب ہوا،نہ غالب ہواہے۔اصل طاقت ہے تو اس کے ایمان کی طاقت ہے،اس وقت اس کے ایمان کی قوت ہے،اللہ پر بھروسہ کی طاقت ہے،اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط رکھنے کی طاقت ہے،اگر یہ رشتہ مضبوط ہے اور اس میں رخنہ ڈالنے والے تمام راستوں کو بندکردیا گیا ہے تو ظاہری حالات خراب ہوں ،معاشی اعتبار سے ،دنیوی اعتبار سے لیکن کامیاب ہوں گے،اور اگر سرکاری ملازمتوں میں ریزویشن بھی مل جائے ،اعلی ملازمتیں حاصل ہوجائیں ،تعلیمی ڈگریاں زیادہ سے زیادہ ہمارے نوجوانوں کو مل جائیں ،اور دنیوی اعتبارسے کامیابی کے جتنے نقشے تصور کئے جاتے ہیں اس کے اعتبار سے ان کو ترقی مل جائے،لیکن اس کے ساتھ ایمان و عقیدہ کا بگاڑ بڑھتا چلاجائے تو یہ ترقی نہیں بلکہ تنزلی ہے اور باعث ِ تشویش ہے۔

 آج کی اس بزم کامقصد یہ ہے کہ یہاں آنے والاہر فرداپنے آپ کو،اپنے اہل وعیال ،اپنے پڑوسیوں اپنے اہل ِمحلہ اور ہر ایمان والے کے ایمان کی حفاظت کا ذمہ دار وجواب دہ سمجھے ،کوئی مسلمان چین سے بیٹھ جائے اور اس کے پڑوس میں ،اس کے خاندان میں کوئی ایک فرد بنیادی اسلامی اور ایمانی عقیدوں سے منحرف ہوکر،غیروں کی ریشہ دوانیوں کا ،ان کی تخریبی کاروائیوں کاشکار ہوتا ہے تو یہ زندگی کسی کام کی نہیں ،جذبہ تو ہمارا وہ ہونا چاہیے جوصدیق اکبرؓنے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعدجب منکرین ِ زکوۃاور مسیلمہ کذاب کے نبوت کے دعوے کا فتنہ اٹھاتھاتو انہوں نے فرمایاتھا:’’اینقص الدین واناحی‘‘کہ کیا رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا کامل ومکمل دین گھٹایاجائے،اس میں کتربیونت کی جائے ،اس کو مسخ کیاجائے اور میں زندہ رہ جاؤں ؟میری زندگی میں یہ کام ہوجائے؟صدیق اکبر ؓ کا جو جذبہ تھا ،ان کا جو جوش تھا،اسی نے اس فتنہ کے اوپر بند قائم کردیااورپھرتمام صحابہ کرام ؓ اکھٹاہوگئے اور اس فتنہ کی سرکوبی کی۔

 رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاتھا کہ:ہر آنے والادن پہلے کے مقابلہ میں خراب ہوگا،دین سے دوری پیدا ہوتی چلی جائے گی،حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے،خیر القرون سے جتنی دوری ہوگی،اتنے حالات اور خراب ہوں گے،لیکن آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: بلاشبہ تم ایسے زمانے میں ہو کہ تم میں سے کوئی اس کادسواں حصہ چھوڑدے گا جس کا حکم دیا گیا ہے توہلاک ہوجائے گا(یعنی آخرت میں اس پر گرفت ہوگی )پھر ایک ایسا زمانہ آئے گاکہ جو اس دسویں حصہ پر عمل کرے گا جس کا حکم دیا گیا ہے وہ نجات پالے گا۔( فضائل امت ِ محمدیہ :51)۔آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ایک وقت ایسا آئے گا کہ دین پر قائم رہنا مٹھی میں انگارہ لینے کے برابر ہوگا۔(ترمذی:2191)رسولﷺ نے فرمایاتھا:بدا الاسلام غریبا،وسیکون غریبا،فطوبی للغرباء۔(مسلم :212)اسلام جب آیا تھا،اسلامی تعلیمات لوگوں کے لئے اجنبی تھیں اور پھر ایک وقت آئے گاکہ خدا یہ اسلام ،اس کے عقائد ،اسلامی تہذیب ،اس کے احکام اجنبی بن جائیں گے،ایسے موقع پر جولوگ اسلامی احکام ،اسلامی تعلیمات کو سینے سے لگائیں گے وہ دوسروں کی نگاہوں میں اجنبی بن جائیں گے ،مگر یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔

  اگر آپ نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا اور عزم کرلیا کہ ان شاء اللہ ہمارے جیتے جی ہماراکوئی بھائی ان گمراہیوں کے ساتھ نہیں ہوگاتو یہ آپ کے لئے کامیابی ہے ،اور دوسرے کے ایمان کی حفاظت کرکے،اپنے بھائیوں کے ایمان کی حفاظت کرکے ان شاء اللہ ان کے اجر وثواب میں شریک ہوں گے اور حفاظت دین کا عظیم کام کرنے والے بنیں گے۔عام طور سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ جہالت اور غربت کی وجہ سے لوگ فتنوں کا شکار ہوتے ہیں اور ارتداد میں مبتلاہوکر عیسائیت وقادیانیت سے متاثر ہوتے ہیں لیکن آپ نے سنا کہ اعلی تعلیم یافتہ اور مالدار لوگ بھی آج کل عیسائیت اور قادیانیت کا شکارہورہے ہیں ۔

 ان فتنو ں کے سدِ باب کے لئے پہلی چیز ہمیں بنیادی دینی تعلیم کو عام کرنا ہے ،جب کوئی دین کی بنیادی تعلیم سے واقف رہے گا تو پھر ان شاء اللہ وہ فتنوں کا شکار نہیں ہوگا۔ عربی ،اردو اور بنیادی دینی تعلیم کا منظم انتظام کرنا ضروری ہے۔دوسری چیز ہم زندہ امت کے فرد ہیں ،ہمارے نبی خاتم النبین ﷺ ہیں ،آپ ﷺ کے بعد کوئی نہیں آنے والا ہے ،آپ ﷺ کے دین کی محنت کرنا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔نبی کریم ﷺ جب حجۃ الوداع کے لئے تشریف لے گئے ،اس وقت آپ ﷺ کے تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام ؓ موجود تھے ،اس موقع پر آپ ﷺ نے ان کو آپ کے لائے ہوئے دین کو انسانیت تک پہنچانے کا وعدہ لیا تھا ،اور انہوں نے آپﷺ سے وعدہ کیااور پوری دنیا میں وہ اسلام کو لے کر پھیل گئے اور دنیا کے چپہ چپہ میں توحید کی امانت کو پہنچایا۔آج ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ دین کی محنت خوب کریں اور اس کی اشاعت کے لئے کمر بستہ ہوجائیں ،اپنی جان ،اپنے مال اور اپنی صلاحیتوں کو خدا کے لئے دین کے لئے لگائیں ۔اور تیسری چیز دینی مکاتب کا قیام عمل میں لائیں تاکہ اس کے ذریعہ ہماری نسل دینی کی بنیادی تعلیمات سے آراستہ ہوسکے۔اس لئے مکاتب کا قیام نہایت ضروری ہے۔یہ بنیادی کام ہیں جس سے ایمان کی حفاظت ہوگی اور ہماری نسلیں ان شاء اللہ دین سے دور نہیں ہوگی اور ہم ان فتنوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔اس وقت ایمان کی حفاظت کی فکر کرنا سب سے بڑا اور اہم کام ہے ۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close