پڑوسیوں کے حقوق

 سارے انسان قابلِ عزت ہیں اور ہر آدمی کو ایک دوسرے کی عزت کرنا چاہئے۔ ماں باپ کے ساتھ محبت ،مروّت، خدمت و عزت کا ویوہار کرنا چاہئے۔ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کر دی ہے۔ (بخاری و مسلم) سبھی انسانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ( ادھیکار) ادا کرنا چاہئے اور اگر لوگ ایساکرنے لگیں تو ہمارے سماج میں اچھا اور پیار بھرا ماحول ہو جائے گا۔ دوستو!اس طرح پڑوسیوں کے بھی بہت ادھیکار ہیں۔ہم کو پڑوسیوں کے ادھیکار کو معمولی و ہلکا نہیں سمجھنا چاہئے۔ مذہب اسلام نے انسانی برادری کو پڑوسیوں کے ادھیکار کے بارے میں بہت سارے احکامات (نردیش) دیئے ہیں۔ اسلام کے لانے والے حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: وہ جنت میں نہیں جائے گا جس کا پڑوسی اس کی آفتوں تکلیفوں سے محفوظ اور امن میں نہ ہو۔ ترمذی شریف میں حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اللہ کے نزدیک ساتھیوں میں وہ بہتر ہے جو اپنے ساتھی کا خیر خواہ ہو اور پڑوسیوں میں اللہ کے نزدیک وہ بہتر ہے جو اپنے پڑوسی کا خیر خواہ ہو۔ پڑوسی کا حق صرف یہ نہیں کہ آپ اس کی تکلیفیں دور کریں بلکہ ایسی چیزیں بھی اس سے دور کرنی چاہئے کہ جن سے اسے دکھ پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس کے علاوہ کچھ اور بھی حقوق ہیں۔ اس سے نرمی اور اچھے سے پیش آئے، اس کے ساتھ بھلائی کرتا رہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن غریب پڑوسی مالدار پڑوسی کو پکڑ کر اللہ سے کہے گا اے اللہ!اس سے پوچھ اس نے اپنی دولت سے مجھ پر اپنا دروازہ کیوں بند رکھا یعنی کبھی میری مدد نہ کی۔
مالدار پڑوسی اور غریب پڑوسی:
مالدار شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے غریب پڑوسی خواہ وہ کسی مذہب کا ہو مدد کرے ۔ اگر معلوم ہوجائے کہ اسے کسی چیز کی ضرورت ہے اور وہ شرم کی وجہ سے نہیں کہہ رہا ہے اور ہمیں اللہ نے اس قابل بنایا ہے ،دولت سے نوازا ہے تو بغیر کہے ہمیں آگے بڑھ کر اپنے پڑوسی کی مدد کرنی چاہئے۔ مذہب اسلام اس کا حکم دیتا ہے اور اسے پسند کرتا ہے۔ بہت بڑے صوفی حضرت فقیہہ ابو اللیث علیہ الرحمتہ کہتے ہیں پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی چار باتیں ہیں۔(1) اپنے پاس جو کچھ ہے اس سے پڑوسی کی مدد کی جائے۔(2) پڑوسی کی کوئی بات نہ پسند ہو تو صبر کرے۔(3) جو کچھ پڑوسی کے پاس ہے اس کا لالچ نہ کرے۔(4) اور پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔پڑوسی کے بارے میںیہ حدیث سنئے۔حضور ﷺ فرماتے ہیں: حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں برابر وصیت کرتے رہتے یہاں تک کہ مجھے گمان (خیال) ہواکہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے۔ یعنی جائداد میں بیٹابیٹی کا حصہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے خیال ہوا کہیں پڑوسیوں کو بھی جائداد میں حصہ داری کی بات نہ کہہ دیں۔مالدار پڑوسی غریب پڑوسی کا خیال رکھے اور یہ بات ذہن میں رکھے کہ وہ میرا پڑوسی ہے کبھی اسے بھی اس غریب پڑوسی سے مدد لینی نہ پڑ جائے۔شیخ سعدی شیرازی کا نام کون نہیں جانتا ۔ آپ کا پورانام جس طرح سے ایشیا میں مشہور ہے اسی طرح پورے یورپ اور امریکہ میں بھی ان کا نام عزت سے لیا جاتاہے ۔آپ کی مشہور کتابیں ’’گلستاں‘‘ اور ’’بوستاں‘‘ہیں۔ان کتابوں کی وجہ سے شیخ سعدی شیرازی دنیا کے مشہور لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور آپ کی کتابوں کا شمار دنیا کی مشہور کتابوں میں ہوتاہے۔ کیونکہ ان کتابوں میں اخلاق ،بھائی چارہ کی تعلیم دی گئی ہے۔ گلستاں اور بوستاں کے قصے بچوں، نو جوانوں اور بوڑھوں کے لئے بہت فائدہ مند ہیں۔ بہت سبق آموز کہانیاں ہیں جن کے پڑھنے سے انسان کے اندر سوجھ بوجھ میں بڑھوتری ہوتی ہے اور آپ کی کتاب کا ہر بڑی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے ۔ بہت سی جگہ یہ کتاب وزڈم آف سعدی(Wisdom of Sadi) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ایک بڑا دلچسپ واقعہ سنئے۔ ایک ملک کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا۔ اپنی رعایا ،پرجا کا بہت خیال رکھتاتھا۔ امیر غریب سب کو ایک نظر سے دیکھتا اور سب کے ساتھ انصاف کرتا ۔ ہر مذہب کے ماننے والوں کو آزادی سے جینے کا ادھیکار دیئے ہوئے تھا ۔اس کا شاندار محل بہت بڑے علاقے میں بنا ہوا تھا محل کے داہنے طرف ایک غریب بڑھیا کی جھونپڑی تھی بادشاہ کے وزیر نے بادشاہ سے کہا کہ حضور آپ کی اجازت ہو تو بڑھیا کی جھونپڑی گرادی جائے اور اس کو محل سے دور دوسری جگہ گھر بنا دیا جائے۔ بادشاہ نے بہت سختی سے حکم دیا کہ نہیں ایسانہ کرنا وہ غریب ہے تو کیا ہوا میری پڑوسن ہے۔ ہوسکتاہے کہ مجھے بھی اس سے مددلینی پڑجائے ۔بادشاہ کے وزیر اور اس کے حواری(نوکر چاکر) کو بہت تعجب ہوا اور کہا بادشاہ سلامت آپ بادشاہ ہیں آپ کو غریب بڑھیا سے کیا ضرورت پڑے گی۔ بادشاہ نے کہا پڑے نہ پڑے اس کو ویسے ہی اطمینا ن و سکون سے رہنے دو۔ اس طرح اس کو چھو ڑ دیا گیا ۔ ایک بار دوسرے ملک کا راجا بادشاہ سے ملنے آیا تو بادشاہ نے نئے کپڑے بنوائے ۔ اس کے سواگت کے لئے۔ جب بادشاہ محل میں راجا سے ملنے کا وقت ہوا تو بادشاہ نئے کپڑے پہننے لگا۔جب شیروانی پہنی تو اس میں بٹن نہیں لگے تھے۔ سلنے والا بھول گیا تھا۔ اب بادشاہ بہت پریشان ہو ا کیا کرے ۔ راجا اس کا انتظار کررہا تھا۔ وزیرنے کہا لائیے میں درزی سے ٹکواکر لاتا ہوں۔بادشاہ نے کہا یہیں بٹن ٹکواؤ۔ بادشاہ کے گھر میں سوئی دھاگاکہاں۔بادشاہ نے کہا جلدی جاؤ پڑوسن بڑھیا کے گھر سے مانگ کر لاؤ ۔وزیر دوڑا بھاگا بڑھیا کو جاکر سب ماجرا سنایا۔ غریب بڑھیا سوئی دھاگا لے کر دوڑی ہوئی آئی اور جلدی سے بٹن ٹانک دئے۔بادشاہ کپڑے پہن کر راجا سے ملنے چلا گیا۔ ادھر وزیر کو بادشاہ کی کہی ہوئی بات یاد آگئی کہ رہنے دو کبھی غریب پڑوسن بڑھیا سے مدد لینی نہ پڑے۔ یہ ہے پڑوسی کا ادھیکار ۔پڑوسی مالدارہو یا غریب سب کو کبھی نہ کبھی پڑوسی کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔چاہے وہ مالدار ہو یا غریب۔
پڑوسی کا بچہ اس کی عزت:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اے عائشہ !پڑوسی کا بچہ آجائے تو اس کے ہاتھ میں کچھ رکھ دو ۔ یعنی کچھ نہ کچھ دیا کرو۔ اس سے پڑوسی سے محبت بڑھ جائے گی۔ ایک دوسری حدیث میں حضور نے کہا کہ وہ مومن (مسلمان) نہیں جو خود پیٹ بھر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔(یعنی وہ پورا مسلمان نہیں)انسانیت کے ناطے ہم کو پڑوسی کے ادھیکار کو نہ صرف سویکار کرنا چاہئے بلکہ اس کے ادھیکار کو پورا بھی کرنا چاہئے۔ اللہ کے رسول نے فرمایا: گھر کی برکت یہ ہے اس کا گھر کھلا ہو تاکہ روشنی اور ہوا آئے اور اس کا پڑوسی اچھا ہو ۔یہ ہے گھر کی برکت۔
آجکل دنیا میں اینٹ کاجواب پتھر سے دینے کا رواج اور رجحان ہے مگر اسلام نے جو حکم دیا ہے اس میں عفو درگزر ، معاف کرنا اور آپس میں اخلاق کو بڑھاوا دینا یقیناًیہی انسانی قدر کی اعلیٰ پہچان اور بنیاد ہے۔ رب کریم فرماتاہے۔ ولا تستوی الحسنۃ و لا سیءۃ ادفع بالتی ہی احسن……..الخ۔ترجمہ:نیکی اوربدی کا درجہ برابر نہیں ہوسکتا۔برائی کا جواب اچھائی کے ساتھ دو اگر تم نے ایسا کیا تو دیکھو گے کہ اچانک تمہار ا دلی دشمن دوست بن جائے گا۔(القرآن سورہ حٰم سجدہ، آیت ۳۳) لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ سبھی کے ساتھ خاص کر پڑوسی کے ساتھ محبت و رواداری کا سلوک کریں۔ حکم خداوندی پر بھی عمل کریں۔ یاد رہے پڑوسی کے حقوق ادا کرکے ہی ہم بھی اطمینان وسکون سے رہ سکتے ہیں۔اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو سمجھنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!ثم آمین!!



⋆ حافظ محمد ہاشم قادری

حافظ محمد ہاشم قادری

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

ویلنٹائن ڈے:  بے شرمی کادن

 آج ترقّی یافتہ کہے جانے والے دور میں بھی ستر پوشی کی ضرورت پوری کرنے والی مختلف چیزوں کو شعور انسانی نے ً لباس ً کا نام وِیایہی لباس اِنسانی زنذگی کی اہم ضرورت کیونکہ لباس کی بنیادی غرضی جسم کی پردہ پوشی زیب و زینت کے ساتھ ساتھ موسمی آثرات (سردی گرمی) وغیرہ سے محفوظ رکھنا اور انسانی کھال و جسم کو ماحول کے تاب و کاری کے اثرات و بیماری کے جراثیم کو دور رکھنا بھی ہے۔