مذہبی مضامینمعاشرہ اور ثقافت

کسب حلال کی فضیلت

معاشرے میں اپنے ہی بل بوتے پر کسی فرد پر بوجھ بنے بغیر زندگی گزارنے کا اسلام نے’’ کسب حلال‘‘ کے نام سے ایک ضابطہ دیا جس پر عمل کرکے ہر شخص نہ صرف اپنا بلکہ اپنے اہل و عیال کی کفا لت کا ضامن ہوسکتا ہے۔

محمد ریاض علیمی

اللہ رب العزت نے انسانوں کو پیدا فرما یا۔ان کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام بھیجے۔ انبیاء کرام کا یہ سلسلہ حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہوا۔ ایک ایسی مقدس کتاب آپ ﷺ پر اتاری گئی جس میں قیامت تک آنے والوں کے لیے ہدایات کا پیغام موجود ہے۔ آپ ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ آپ ﷺ نے قیامت تک کے لیے اصول و ضوابط مقرر فر مادیے۔ اللہ کے حکم سے حضور نبی کریم ﷺ نے زندگی گزار نے کے اصول بھی لوگوں تک پہنچائے، جو ان اصو ل و ضوابط پر اپنی زندگی کے روزو شب گزارے گا وہ دنیا و آخرت کی بھلائی پانے والا ہوگا، اور جو اپنی زندگی کے ایام قرآنی اصولوں سے مطابق بسر نہیں کرے گا، دنیا و آخرت میں بربادی اس کا مقدر بنے گی۔

معاشرے میں اپنے ہی بل بوتے پر کسی فرد پر بوجھ بنے بغیر زندگی گزارنے کا اسلام نے’’ کسب حلال‘‘ کے نام سے ایک ضابطہ دیا جس پر عمل کرکے ہر شخص نہ صرف اپنا بلکہ اپنے اہل و عیال کی کفا لت کا ضامن ہوسکتا ہے۔

کسب حلال ایک بہت وسیع اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح صرف چند چیزوں کی خریدو فروخت یا تجارت پر موقوف نہیں ہے بلکہ ہر وہ کاروبار، تجارت یا مزدوری جس کے متعلق شریعت میں کوئی ممانعت نہ ہو، قابل تحسین بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے۔ کسب حلال کے لیے کوئی بھی جائز پیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ انبیائے کرام میں سے حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق احادیث میں موجود ہے کہ آپ لوہے کی زرہیں بناکر فروخت کیا کرتے تھے۔اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ اعلان نبوت سے قبل منشائے الٰہی کے مطابق درہم و دینار کے عوض بکریاں چَرایا کر تے تھے۔ نیزبعض صحابۂ کرام بھی منصب خلافت پر فائز ہونے کے باوجود اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے تجارت کیا کرتے تھے۔

شریعت مطہرہ میں بلا کسی حاجت کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ حلال روزی کمانے کی ترغیب دی گئی ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے حلال روزی کی تلاش کرنے کے متعلق ارشاد فرمایا:

’’روزی کا حلال ذریعہ تلاش کرنا فرض کے بعد فرض ہے۔‘‘ (بیہقی: ۱۱۶۹۵)

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: امیر المؤ منین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی رزق کی تلاش چھوڑ کر یہ نہ کہتا پھرے کہ اے اللہ مجھے رزق عطا فرما۔

حضرت ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک کام کاج کرکے کچھ مل جانا لوگوں سے سوال کرنے (یعنی مانگنے) سے زیادہ پسندیدہ ہے۔

حلال روزی کمانے کے لیے کوئی بھی جائز پیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی بھی پیشہ باعث عار نہیں ہے۔ سب سے زیادہ پاکیزہ پیشہ اپنے ہاتھ سے کمانا ہے۔ امام احمد بن حنبل روایت نقل کرتے ہیں:

’’رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا ذریعۂ معاش پاکیزہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر جائز تجارت۔‘‘ (مسند احمد: ۱۷۲۶۵)

اسی طرح ایک اور روایت میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’کسی نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور بے شک اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں کی کمائی کھایا کرتے تھے۔ ‘‘ (صحیح البخاری: ۲۰۷۲)

ایک اور روایت میں ارشاد نبوی ﷺ ہے:

’’سب سے پاک تمہارا وہ کھانا ہے جو تمہاری کمائی سے ہو۔ ‘‘ (ترمذی: ۱۳۵۸)

اپنے ہاتھ سے حلال کمانا صرف پاک اور پاکیزہ ہی نہیں ہے بلکہ حلال کام کرنے والے کو اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے اور ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد مصطفی ﷺ ہے:

’’ اللہ تعالیٰ پیشہ ور (یعنی کام کاج کرنے والے ) مومن کو پسند فرماتاہے۔‘‘ (المعجم الاوسط: ۸۹۳۴)

احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حصول رزق کے لیے محض تجارت ہی ضروری نہیں ہے بلکہ کوئی بھی پیشہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ کسب حلال کی فضیلت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حصول رزق کی راہ میں آنے والی مشکلات ، رکاوٹیں ، رنج و الم، غم، مصیبتیں وغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق گناہوں میں سے بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جو نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ سے نہیں مٹتے بلکہ حصولِ رزق میں پہنچنے والا رنج و غم ہی مٹا سکتا ہے۔چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے:

’’گناہوں میں کچھ گناہ ایسے ہیں جن کو نماز، روزہ، حج اور عمرہ نہیں مٹا سکتے۔صحابہ نے پوچھا کہ پھر کیا چیز ان کو مٹاسکتی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان گناہوں کو حصولِ رزق میں پہنچنے والا رنج و غم ہی مٹا سکتا ہے۔ ‘‘ (المعجم الاوسط: ۱۰۲)

اپنا ہاتھ کسی کے آگے پھیلانے سے بچانے اور اپنے اہل وعیال کی کفالت کے لیے حلال مال کے حصول کی تگ و دو کرنے والا بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ سے انتہائی شان و شوکت کے ساتھ چمکتے ہوئے چاند کی صورت میں ملاقات کرے گا۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:

’’ جس نے خود کو سوال سے بچانے ، اپنے بال بچوں کے لیے بھاگ دوڑ کرنے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے حلال مال طلب کیا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوگا۔ ‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۲۶۲۵)

ایک روایت میں ہے:

’’ ایک دن صبح سویرے حضور ﷺ صحابۂ کرام کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ صحابۂ کرام نے ایک طاقتور اور مضبوط جسم والے نو جوان کو روزگار کے لیے بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کر کہا: کاش ! اس کی جوانی اور طاقت اللہ کی راہ میں صرف ہوتی۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسامت کہو ، کیونکہ اگر وہ محنت و کوشش اس لیے کرتا ہے کہ خود کو سوال کرنے سے بچائے اور لوگوں سے بے پرواہ ہوجائے تو وہ یقیناًاللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ اپنے ضعیف والدین اور کمزور اولاد کے لیے محنت کرتا ہے تاکہ انہیں لوگوں سے بے پرواہ کردے اور انہیں کافی ہوجائے تو بھی وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ اور اگر وہ فخر کرنے اور مال کی زیادہ طلبی کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے تو وہ شیطان کی راہ میں ہے۔ ‘‘ (المعجم الاوسط: ۶۸۳۵)

اپنے گھر والوں کی کفالت کے لیے کمانے والاشخص گویا کہ اللہ کی راہ میں ہے چاہے وہ کوئی بھی جائز پیشہ اختیار کرلے ۔ حلال کمائی کے حصول کے لیے کوئی بھی ادنیٰ پیشہ اختیار کرنا بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے اعلیٰ و افضل ہے۔روایت میں اسی جانب توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ تم میں سے جو شخص رسی میں لکڑیاں باندھ کر اس کا گٹھا اپنی کمر پر لادے ، پھر اس کو فروخت کرے ، ۔۔۔۔۔۔تو وہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے، وہ اس کو دیں یا منع کردیں۔ ‘‘ (صحیح البخاری: ۱۴۷۱)

جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لانا اور اسے فروخت کرنا بظاہر بہت حقیر پیشہ دکھائی دیتا ہے لیکن اولیائے کرام میں سے بعض نے اس پیشے کو اختیار بھی کیا ہے۔امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کی گردن پر لکڑیوں کا گٹھا دیکھ کر فرمایا : اے ابو اسحٰق ! ایسا کب تک ہوگا؟ حا لانکہ آپ کے بھائی آپ کو کافی ہیں۔ تو حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اے ابو عمرو! آپ اس بات کو رہنے دیجیے کیونکہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ جو رزق حلال کی تلاش میں ذلت کی جگہ کھڑا ہوتا ہے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

الغر ض شریعتِ مطہرہ میں حلال رزق کمانے کو مستحسن عمل قرار دیا گیا ہے۔ حصولِ رزق کی کی تلاش میں آنے والی تکالیف او ر مصائب پر اجرِ عظیم کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ خود کو کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے محفوظ رکھنے اوراہل و عیال کی کفالت کرنے کے لیے حصول رزق کی تلاش میں اپنی طاقت صرف کرنے والوں کو اللہ کی راہ میں طاقت صرف کرنے کے برابر درجہ دیا گیا ہے۔ حلال روزی کے حصول کے لیے کوئی خاص پیشہ مقرر نہیں کیا گیا بلکہ ہر وہ پیشہ جو حلال ہو‘ اسے اختیار کرکے حلال روزی کمانے کی ترغیب دی گئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close