مذہبی مضامین

کسی کے منھ پر اس کی تعریف کرنا

 ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

انسان کی فطرت ہے کہ دوسروں کے منھ سے اپنی تعریف سن کر اسے خوشی اور اپنی برائی سن کر رنج ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگوں میں اس کا ذکر ِخیر ہو، اس کے بارے میں ان کے اچھے احساسات ہوں، اس کے عیوب اور کمزوریاں ان کی نگاہوں سے پوشیدہ رہیں اور اسے اس کے نیک کاموں اور اچھے اوصاف سے یاد کیا جائے۔

اس معاملے میں لوگوں کا رویہ افراط وتفریط کا شکار رہتا ہے۔ بعض لوگ اتنے خود پسند ہوتے ہیں کہ انھیں اپنے علاوہ دوسرے کسی انسان میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ کسی کی تعریف وتوصیف کے معاملے میں وہ انتہائی بخیل ہوتے ہیں۔ دوسروں کی معمولی خامیاں اور کوتاہیاں توان کی نگاہیں فوراً اچک لیتی ہیں اور ان کی زبانیں ان کا ڈھنڈور ا پیٹتے نہیں تھکتیں، لیکن ان کے  محاسن ومحامد پر ان کی نگاہیں نہیں پڑتیں اور ان کی زبانوں سے ان کے حق میں دو بول نہیں نکلتے۔ اس کے برعکس بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی تعریف و تحسین میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ وہ کسی کی مدح وستائش کرنے پر آتے ہیں تو اس کے پل باندھتے چلے جاتے ہیں، تملق اور چاپلوسی ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ وہ متعلقہ شخص کے منھ پر اس کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ اس کا مقصد ان کے نزدیک کسی فائدے کا حصول  اس شخص  سے قربت یا اسی طرح کی کوئی دوسری غرض ہوتی ہے۔

مؤخرالذکر رویہ پہلے رویے سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس لیے کہ اس بات کا عین امکان ہے کہ بہت زیادہ تعریف و توصیف سن کر انسان اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوجائے۔ وہ کبر وغرور میں مبتلا ہوجائے۔ اپنے متعلق تقویٰ، عبادت گزاری، امانت و دیانت، حق پسندی اور پارسائی کے اوصاف سن کر عجب اور نخوت کے جال میں جاپڑے اور یہ چیز اسے مزید اعمال خیر سے روک دے۔ شیطان اسے اس بہکاوے میں مبتلا کردے کہ تم بہت بڑے متقی و پرہیز گار انسان ہو، لو گ تمھاری پارسائی اور عظمت کے معترف ہیں اور تمھیں بڑا انسان سمجھتے ہیں۔ اسی لیے تمھارے سامنے اور پیٹھ پیچھے تمھارے گن گاتے اور قصیدے پڑھتے ہیں۔ اگر اپنی تعریف سن کر کوئی انسان اس حد تک خود فریبی کا شکار ہوجائے تو ہلاکت و خسران اس کا مقدر ہے اور جو شخص منھ پر اس کی بے جا تعریف وتوصیف کرکے اس کا سبب بنتا ہے وہ اسے ہلاکت میں ڈالنے کا براہ راست ذمہ دار ہے۔

ممانعت کی احادیث

اسی لیے اللہ کے رسول  ﷺ نے کسی کے منھ پر اس کی بے جا تعریف و توصیف سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ذیل میں اس مضمون کی چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں :

(1) حضرت ابوموسیٰ   اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

سمع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یثنی علی رجل ویطریہ فی مدحہ، فقال: أھلکتم أوقطعتم ظہرالرجل   1؎

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی خوب بڑھا چڑھاکر تعریف کرتے ہوئے سنا تو فرمایا :’’ تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا‘‘ یا فرمایا کہ ’’ تم نے اس کی کمر توڑ دی‘‘۔

(2) حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص کا نبی  ﷺ کی مجلس میں ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے اس کی خوب تعریف کی۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ تعریف میں اس نے یہ جملہ بھی کہا ’’اے اللہ کے رسول ﷺ، فلاں معاملے میں تو آپ کے بعد اس سے افضل کوئی دوسرا شخص نہیں ہے‘‘۔ آپ ؐ نے فرمایا:

ویحک، قطعت عنق صاحبک۔ 2؎

(تمھارا برا ہو، تم نے اپنے ساتھی کی گردن مار دی۔ )

راوی کہتے ہیں کہ یہ بات آپؐ نے کئی بار دہرا ئی۔

(3) حضرت محجن اسلمیؓ ایک موقع کا تذکرہ کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپؐ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے اور رکوع و سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ صحابی کہتے ہیں : فاخذت اُطریہ (میں اس کی خوب تعریف کرنے لگا) آپؐ نے فرمایا: اَمسِک، لاتُسمعہ فتُہلکہ۔ 3؎

(رکو، اتنی زور سے نہ بولو کہ وہ سن لے، ورنہ ہلاک ہوجائے گا)

(4) حضرت معاویہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے:

إیاکم و التمادح فانہ الذ بح  4؎

’’کسی کی تعریف میں مبالغہ آرائی سے بچو، اس لیے کہ ایسا کرنا اسے قتل کرنے کے مثل ہے۔ ‘‘

یہی مضمون خلیفہ دوم حضرت عمرؓ سے بھی مروی ہے۔ ان کے خادم اسلم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرؓ  کو یہ فرماتے سناہے : المدح الذبح5؎                (کسی کی تعریف کرنا اسے قتل کرنا ہے)

حضرت عمرؓ ہی کے بارے میں ایک دوسری روایت میں یہ مذکور ہے کہ ایک موقع پر ان کی مجلس میں ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی تو انھوں نے فرمایا:

عقرتَ الرجل، عَقَرَک اللّٰہ۔ 6؎

’’تم نے اس شخص کی جان لے لی، اللہ تمھیں ہلاک کرے۔ ‘‘

(5) حضرت مقداد بن الاسودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إذا رأیتم المدّاحین فاحثوا فی وجوہہم التراب۔ 7؎

یہ روایت حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابن عمرؓ سے بھی مروی ہے8؎۔ حضرت مقدادؓ کے بارے میں تو آتا ہے کہ وہ جہاں بھی دیکھتے تھے کہ کوئی شخص کسی کی مدح وتوصیف کر رہا ہے، فوراً اس حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے مدح کرنے والے کے چہرے پر مٹی پھینکنے  لگتے تھے۔ ایک موقع پر ایک شخص نے حضرت عثمانؓ کے سامنے ان کی تعریف کی۔ حضرت مقدادؓ وہاں موجود تھے۔ انھوں نے اسے دے مارا اور اس پر چڑھ کر اس کے چہرے پر مٹی پھینکنے لگے۔ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا: ارے، یہ کیا؟ انھوں نے فوراً اللہ کے رسول  ﷺکا یہ ارشاد سنایا9؎           حضرت مقداد کے بارے میں اس طرح کے اور واقعات بھی مروی ہیں۔ 10؎

کیا یہ ممانعت مطلق ہے؟

کیا کسی شخص کے منھ پر اس کی تعریف کرنے کی یہ ممانعت مطلق ہے ؟ اگر کوئی شخص کوئی اچھا کام کرے تو کیا اس کے سامنے یا اس کے غائبانہ میں اس کی تحسین وتوصیف میں دینی نقطۂ نظر سے کچھ کراہیت ہے؟ احادیث بالا کا ظاہری اور متبادر مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کے منھ پر اس کی تعریف کرنے سے اس کے بھٹک جانے کا اندیشہ رہتا ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ جس طرح کسی کو قتل کردینے سے اس کی مادی اور جسمانی موت ہوجاتی ہے، اسی طرح کسی کے منھ پر اس کی تعریف کرنے سے اس کی روحانی و اخلاقی موت ہوجاتی ہے۔ لیکن اس موضوع پر کسی نتیجہ تک پہنچنے سے پہلے دیکھنا ہوگا کہ اس معاملے میں خود اللہ کے رسول  ﷺ کا کیا اسوہ تھا؟

رسول اللہ  ﷺ کا اسوہ

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول  ﷺ نے مختلف مواقع پر مختلف صحابہ کرام کی تعریف و توصیف کی ہے۔ یہ توصیفات عمومی  انداز کی بھی ہیں اور بسا اوقات کسی خاص فعل پر آپؐ نے کسی صحابی کی مدح کی ہے۔ اسی طرح بعض اوقات آپؐ کسی شخص کے سامنے اس کی تعریف کرتے تھے اور کبھی دوسرے صحابہ کو ترغیب دینے کے لیے اس کے غائبانہ میں اس کاذکر خیر کرتے تھے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت ابوعبیدہؓ، حضر ت اُسید بن حضیرؓ، حضرت ثابت بن قیسؓ، حضرت معاذ بن عمرو بن الجموح         ؓ اور حضرت معاذ بن جبلؓ، ہر ایک کا نام لے لے کر فرمایا: نعم الرجل (اچھے آدمی ہیں۔ ) 11؎

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ آپؐ نے فرمایا: یہ برا آدمی ہے، پھر اسے اجازت دے دی۔ جب وہ چلا گیا تو ایک دوسرا شخص آیا، آپؐ نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ اچھا آدمی ہے 12؎

حضرت سعدؓ فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے علاوہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے کسی شخص کے بارے میں نہیں سنا کہ آپؐ نے اسے اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی ہو۔ 13؎

اس مضمون کی بہت سی احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت  ﷺ نے مختلف صحابہ کرام ؓ کی مدح و ستائش کی ہے اور ان کی خوبیوں کا علی الاعلان ذکر فرمایا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ کسی کی تعریف کی مطلق ممانعت نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جس کام سے اللہ کے رسول ﷺ نے دوسروں کو روکا ہو، اسے خود ہرگز نہ کرتے۔

احادیثِ ممانعت کی توجیہ

احادیث کے الفاظ میں غو رکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کسی کی تعریف و توصیف کرنے سے نہیں، بلکہ اس میں مبالغہ آرائی کرنے سے ہے۔ پہلی حدیث میں ’’یطریہ‘‘ کا لفظ ہے۔ اس کے معنی ہیں : کسی شخص کی خوب بڑھاچڑھاکر تعریف کرنا 4؎1 یہی لفظ تیسری حدیث میں بھی آیا ہے۔ دوسری حدیث میں بھی مبالغہ ظاہر ہے کہ ایک صحابی نے دوسرے صحابی کو کسی معاملے میں تمام لوگوں سے افضل قرار دیا تھا۔ چوتھی حدیث میں ’’تمادح ‘‘ کا لفظ ہے۔ یہ لفظ عربی قواعد کے باب تفاعل سے ہے جس کی ایک خاصیت مبالغہ کی ہے۔ پانچویں حدیث میں ’’مداحین‘‘ آیا ہے۔ یہ بھی مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ’’مداح‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جس نے لوگوں کے منھ پر ان کی تعریف کو پیشہ بنا لیا ہو اور ایسا کرکے وہ ان سے کوئی فائدہ حاصل کرناچاہتا ہو۔ 15؎

حدیثِ مقداد کا مفہوم

حضرت مقدادؓ سے مروی حدیث (حدیث نمبر5) کہ جب تم مبالغہ آمیز تعریفیں کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے منھ پر مٹی ڈال دو‘‘ اس کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو بولنے کا موقع ہی نہ دو۔ چنانچہ اس حدیث کے راوی حضرت مقدادؓ  ایسا ہی کرتے تھے۔ اس کا دوسرا مفہوم ناکامی ومحرومی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص تمھاری بے جا تعریف وتوصیف کرے تو اسے کچھ نہ دو، اسے اس کے مقصد میں ناکام بنا دو۔ یہ تعبیر عربی زبان میں کثرت سے آئی ہے۔ اور بعض دیگر احادیث میں بھی اختیار کی گئی ہے۔ 16؎                      محدثین نے  اس کے بعض دیگر مفہوم بھی بیان کیے ہیں۔ 17؎

مدح کا صحیح طریقہ

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں بے جا تعریف وتوصیف کے مضرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے سختی سے روکا ہے وہیں اس کا صحیح طریقہ بھی بتایا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ کی اپنے باپ سے مروی حدیث (نمبر 2) میں آگے ہے کہ اللہ کے رسول  ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’من کان منکم مادحاً أخاہ لامحالۃ فلیقل: ’’أحسب فلانا واللّٰہ حسیبہ، ولا أزکیّ علی اللّٰہ أحداً، أحسبہ کذا وکذا‘‘، ان کان یعلم ذلک منہ۔ ‘‘ 18؎

’’جس شخص کو اپنے بھائی کی تعریف ہی کرنی ہو تو وہ یہ کہے: ’’اس کے بارے میں میرایہ خیال ہے۔ حقیقت حال سے تو اللہ ہی واقف ہے۔ میرا گمان یہ ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ اس کے بارے میں وہی بات کہے جس سے واقف ہو۔ ‘‘

آنحضرت  ﷺ کی خدمت میں مختلف افراد اور وفود آتے تھے۔ وہ آپ کی تعریف و مدح کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار رکرتے تھے، آپؐ ان کے ذکر کردہ اوصاف کے بجا طور پر مستحق ہوتے تھے۔ اس کے باوجود ان کی تربیت کے لئے آپ انھیں متنبہ فرمایا کرتے تھے کہ کسی کی مدح وستائش میں حد درجہ احتیاط سے کام لیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آجائیں اور حدِ اعتدال سے تجاوز کرجائیں۔ حضرت مطرّف اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ وفدِ بنوعامر کے ساتھ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ارکانِ وفد نے آپؐ سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسولؐ آپ ہمارے سردار ہیں ‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ سردار تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہے‘‘۔ ان لوگوں نے پھر عرض کیا: ’’آپ ہم میں سب سے افضل اور سب سے زیادہ داد  و دہش کرنے والے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا:

’’قولوا بقولکم أو بعض قولکم، ولا یستجرینّکم الشیطان۔ 19؎

’’یہ باتیں کہو یا ان میں سے کچھ چھوڑدو، لیکن ہوشیار رہنا، کہیں شیطان تمھیں بہکا نہ دے۔ ‘‘

مسند احمد کی روایت میں کچھ تفصیل ہے۔ اس میں ہے کہ ارکانِ وفد نے ’’یاخیرنا و ابن خیرنا، ویاسیدنا و ابن سیدنا (اے ہم میں سب سے بہتر انسان اور سب سے بہتر انسان کے بیٹے، اے ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے) بھی کہا تھا، اور آنحضرت  ﷺ نے انھیں شیطان کے بہکاوے سے ہوشیار کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا تھا:

إنی لاأرید أن ترفعونی فوق منزلتی التی أنزلنیہا اللّٰہ تبارک وتعالیٰ۔ 20؎

میں نہیں چاہتا کہ تم لوگ مجھے میرے اس مقام سے اوپر اٹھا دو جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے رکھا ہے۔ ‘‘

ایک موقع پر اللہ کے رسول  ﷺ نے صحابہ کرام ؓ  کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا:

لاتطرونی کما أطرت النصاری ابن مریم، فإنما أنا عبد، فقولوا عبداللّٰہ ورسولہ۔ 21؎

’’میرے بارے میں اس طرح مبالغہ سے کام نہ لو جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں انتہائی مبالغہ کیا۔ میں بندہ ہوں، مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔ ‘‘

محدثین کی تشریحات

محدثین کرام کی تشریحات سے اس مسئلے میں مسلکِ اعتدال کی وضاحت ہوتی ہے۔ 22؎ احادیثِ ممانعت میں سے پہلی حدیث کو امام بخاری نے دو مقامات پر روایت کیا ہے۔ کتاب الشہادات میں انھوں نے اس پر یہ باب باندھا ہے۔ باب مایکرہ من الاطناب فی المدح، ولیقل مایعلم (اس چیز کا بیان کہ تعریف وتوصیف میں مبالغہ سے کام لینا مکروہ ہے، اتنی ہی بات کہنی چاہیے جتنی معلوم ہو) کتاب الادب میں اسی حدیث کو اس باب کے تحت ذکر کیا ہے: باب مایکرہ من التمادح (بڑھا چڑھاکر تعریف کرنے کی کراہت کا بیان) دوسری حدیث کو بھی امام بخاریؒ نے اسی باب کے تحت ذکر کیا ہے۔ امام مسلم ؒ نے اس موضوع کی تمام احادیث کو کتاب الزہد والرقاق میں یکجا کردیا ہے۔ امام نوویؒ نے ان پر یہ باب قائم کیا ہے: باب النھی عن المدح ان کان فیہ افراط وخیف منہ فتنۃ علی الممدوح (مدح کی ممانعت کا بیان بشرطیکہ اس میں مبالغہ آرائی ہو اور جس کی تعریف کی جارہی ہے اس کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو) پانچویں حدیث کو امام ابودائودؒ نے باب فی کراہیۃ التمادح (مبالغہ کے ساتھ کسی کی تعریف کرنے کی کراہت کا بیان) اور امام ترمذیؒ نے باب ماجاء فی کراہیۃ المدحۃ والمداحین (اس چیز کا بیان کہ مبالغہ آمیز تعریف مکروہ ہے اور ایسا کرنے والوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیاجائے۔ ) کے تحت روایت کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان محدثین کے نزدیک احادیث میں مدح کی جو ممانعت آئی ہے وہ اسی صورت میں ہے جب اس میں مبالغہ آرائی کی جائے اور اس سے ممدوح کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو۔ ذیل میں اس موضوع پر چند محدثین اور علمائے سلف کے نقطہ ہائے نظر پیش کیے جارہے ہیں :

محدث ابن بطالؓ فرماتے ہیں :

’’نہی کا سبب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے بارے میں ایسی چیز کی تعریف کرے گا جو اس میں نہ ہوتو اس سے ممدوح کو اپنے بارے میں یہ گمان ہونے لگے گا کہ وہ اس مقام پر فائز ہے اور اس میں خود پسندی آجائے گی۔ اور بسا اوقات وہ اس تعریف و توصیف پر انحصار کرکے عمل سے بے پروا ہوجائے گا اور مزیداعمال خیر سے رک جائے گا‘‘۔ 22؎

امام غزالی   ؒنے اپنی مشہور کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ میں لکھا ہے: ’’مدح کا فتنہ تعریف کرنے والے کے لیے بھی ہے اور اس کے لیے بھی جس کی تعریف کی جائے۔ تعریف کرنے والے کے لیے تو یہ کہ وہ بسا اوقات غلط بیانی سے کام لیتا ہے اور اپنے ممدوح کے بارے میں ایسی خوبیاں بھی بیان کردیتا ہے جو اس میں نہیں ہوتیں۔ اور بسا اوقات اس کے بارے میں ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جن کے ناپنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہے، مثلاً یہ کہے کہ فلاں آدمی بڑا متقی و پرہیزگار اور عابد وزاہد ہے اور ممدوح کا فتنہ یہ ہے کہ اس کی مبالغہ آمیز باتوں سے اس کے اندر کبر اور خود پسندی پیدا ہوسکتی ہے یا وہ اپنی تعریف سن کر عمل سے بے پروا ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ مسلسل عمل پر آمادہ وہی شخص رہتا ہے جو خود کو کوتاہ سمجھتا ہے۔ اگر مدح سے یہ خرابیاں نہ پیدا ہوں تو اس میں کوئی حر ج نہیں، لیکن بسا اوقات یہ چیز محال ہوتی ہے‘‘۔ 23؎

علامہ  ابن الاثیرؒ  فرماتے ہیں :’’ ممانعت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے لوگوں کی قصیدہ گوئی کو اپنا پیشہ بنالیا ہو اور اس سے اس کا مقصد مال ودولت یا کسی فائدہ کا حصول ہو۔ رہا وہ شخص جو کسی اچھے کام یا پسندیدہ چیز پر کسی کی تعریف کرے اور اس کا مقصد اس طرح کے کاموں کی ترغیب دینا اوردوسرے لوگوں کو بھی اس پر ابھارنا ہو تو وہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے‘‘24؎

امام نوویؒ نے اس مسئلے پر ایجاز کے ساتھ جو کچھ لکھا ہے، وہ قول فیصل ہے۔ شرح مسلم میں احادیث نہی کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’امام مسلم ؒ نے یہاں وہ احادیث ذکر کی ہیں جن میں مدح کی ممانعت آئی ہے۔ دوسری جانب صحیحین میں ایسی بہت سی احادیث ہیں جن سے منھ پر تعریف کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں : دونوں طرح کی احادیث میں یوں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ نہی اس صورت میں ہے جب بغیر جانے بوجھے محض اٹکل سے کسی کی مدح کی جائے یا بڑھا چڑھاکر اوصاف بیان کیے جائیں یا اس شخص کے منھ پر اس کی تعریف نہ کی جائے جس کے بارے میں اندیشہ ہو کہ اپنی تعریف سن کر گھمنڈ میں مبتلا ہوجائے گا۔ رہا وہ شخص جس کے کمالِ تقویٰ، پختگی ٔ  عقل  اور علم ومعرفت کی بنا پر فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو، اس کے منھ پر تعریف کی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ محض اٹکل سے اس کے اوصاف نہ بیان کیے جائیں بلکہ اگر ان اوصاف کے تذکرے میں کوئی مصلحت ہو، مثلاً وہ شخص اعمالِ خیر کے لیے مزید سرگرم ہوجائے یا انھیں پابندی سے انجام دینے لگے یا دوسرے لوگوں میں اس کے مثل کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو تو اس صورت میں اس کی تعریف وتوصیف کرنا مستحب ہوگا۔ واللہ اعلم۔ 25؎

امام بیہقی          ؒ نے اپنی کتاب شعب الایمان میں بعض علمائے سلف کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب کسی مجلس میں کسی شخص کی تعریف ہونے لگے تو اسے یہ دعا کرنی چاہیے:

أللہم اغفر لی مالا یعلمون، ولا تواخذنی بما یقولون، واجعلنی خیراً مما یظنون۔ 26؎

’’(اے اللہ میری جن لغزشوں کا ان لوگوں کو علم نہیں ہے انھیں بخش دے۔ جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر میرا مواخذہ نہ کر اور میرے بارے میں ان لوگوں کا جو گمان ہے، مجھے اس سے بہتر بنا دے۔ ) امید ہے کہ یہ دعا کرنے اور یہ باتیں ذہن میں تازہ کرلینے سے اس کے اندر عجب اور گھمنڈ پیدا نہیں ہوگا۔ ‘‘

حواشی ومراجع:

(1) صحیح بخاری: کتاب الشہادات، باب مایکرہ من الاطناب فی المدح ولیقل مایعلم، کتاب الأدب، باب مایکرہ من التمادح، صحیح مسلم کتاب الزہد والرقاق، باب النہی عن المدح ان کا فیہ إفراط و خیف منہ فتنۃ علی الممدوح۔

(2) صحیح بخاری، کتاب الأدب باب مایکرہ من التمادح، و باب ماجاء فی قول الرجل: ویلک، و کتاب الشہادات باب اذا زکیّ رجل رجلا کفاہ، صحیح مسلم، کتاب الزہدحوالہ سابق، سنن أبی داؤد، کتاب الأدب باب فی کراہیۃ التمادح، سنن ابن ماجہ، أبواب الأدب، باب المدح۔

(3)الأدب المفرد للامام البخاری، باب یحثی فی وجوہ المدّاحین

(4) سنن ابن ماجہ، أبواب الأدب، باب المدح، مسند أحمد 4/92، 93، 99

(5) الأدب المفرد، باب ماجاء فی التمادح

(6) الأدب المفرد حوالہ سابق

(7) صحیح مسلم، کتاب الزہد، حوالہ سابق، سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، باب فی کراہیۃ التمادح، سنن الترمذی، ابواب الزہد، باب ماجاء فی کراہیۃ المدحۃ والمدّاحین، سنن ابن ماجہ، أبواب الأدب، باب  المدح، مسند احمد 6/5

(8) سنن الترمذی، ابواب الزہد، باب ماجاء فی کراہیۃ المدحۃ والمدّاحین، مسند احمد 2/94

(9)صحیح مسلم، کتاب الزہد، حوالہ سابق

(10) مسند احمد 6/5

(11) الأدب المفرد، باب من اثنی علی صاحبہ ان کا آمنا بہ

(12) الأدب المفرد، حوالہ سابق

(13)بخاری، کتاب الأدب، باب من اثنی علی اخیہ بما یعلم

(14) الاطراء : مدح الشخص بزیادۃ علی مافیہ، فتح الباری 5/276

(15) ابن الاثیر، جامع الأصول من احادیث الرسول، طبع ریاض 1969ء

(16)جامع الأصول 11/54

(17) فتح الباری، ابن حجر عسقلانی، دارالمعرفۃ بیروت، 10/478، نووی شح مسلم، کتاب الزہد باب النہی عن المدح

(18) صحیح بخاری، کتاب الشہادات باب إذا زکیّ رجل رجلا کفاہ، کتاب الأدب باب مایکرہ من التمادح، و باب ماجاء فی قول الرجل ویلک، صحیح مسلم، کتاب الزہد حوالہ سابق، سنن أبی داؤد، کتاب الادب، باب فی کراہیۃ التمادح، سنن ابن ماجہ، أبواب الأدب، باب المدح۔

(19) سنن أبی داؤد، کتاب الأدب، باب فی کراہیۃ التمادح

(20) مسند أحمد 3/153

(21)صحیح بخاری، کتاب الأنبیاء، باب قولہ ’’و اذکر فی الکتاب مریم‘‘

(22) فتح الباری: 10/477

(23) فتح الباری: 10/478 بحوالہ إحیاء العلوم

(24) جامع الأصول 11/53-54

(25) نووی، شرح مسلم، کتاب الزہد، باب النہی عن المدح

(26) فتح الباری: 10/478

مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close