مذہبی مضامین

کہیں توہین ِرسالت ایکٹ کے خاتمے کاماحول تونہیں بنایا جارہا؟

مولانامحمد جہان یعقوب

صلیبی جنگوں میں دو سو سال مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما رہنے اور سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ ونورالدین زنگی ؒ جیسے شیر دل مسلم سپہ سالاروں سے شکست فاش کے بعد عیسائی شہ دماغوں نے مسلمانوں کے نا قابل تسخیر ہونے کی وجوہات پر غور کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ان کے دل میں حب ّ رسالت کی جو شمع فروزاں ہے ،وہی ان کا اصل اثاثہ ہے،ورنہ مادی ومالی وسائل اور افرادی وفوجی طاقت میں مسلمانوں کا ہم سے کوئی مقابلہ نہیں ۔چناں چہ اب مسلمانوں کے دل سے اس شمع فروزاں کو گل کرنے کی تدبیریں شروع ہوئیں ۔تحریک استشراق ومستشرقین کا یہی ہدف تھا،بعد میں مشنریز کی محنت کا بنیادی نکتہ بھی یہی قرار پایا۔شان رسالت میں گستاخیوں کا سلسلہ شروع ہوا ،مگر مسلمانوں نے گستاخوں کی گردنیں ناپنے اور انھیں واصل جہنم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔باطل کبھی کھل کراور کبھی چھپ کر اپنا کام کرتا رہا،اس کے شکوک وشہبات کے جال محض تار ِ عنکبوت ثابت ہوئے،اس کی تمام محنت پرِکاہ وہارۂ سنگ کی طرح بے اثر وبے ثمر رہی،مگر اس نے ہار نہیں مانی ،کیوں کہ اس کو اس بات کا بخوبی اداراک تھا

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں کبھی

روح محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

صلیبی جنگوں کے خاتمے پر عیسائیوں کے ایک رہبر سینٹ لوئس نے جو لائحہ ٔ عمل مرتب کرکے دیا تھا اس میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے درمیان سے اپنے ہم خیال لوگ تلاش کرو،ایسے لوگ تمھیں اشرافیہ یعنی ایلیٹ کلاس اور حکم رانوں کے طبقے سے بآسانی ملیں گے،سو ان خطوط پر محنت شروع کی گئی ۔ایک طرف تو اشرافیہ اور ایلیٹ کلاس کے معیار ِزندگی کو بلند کردیا گیا ،دوسری طرف اس کے لیے وسائل کی کنجی اپنے ہاتھ میں رکھی گئی،یوں اشرافیہ اور حکم ران اپنے مفادات کے حصول کی خاطر ان کے ہم نوا بنتے چلے گئے،پھر ایسے لوگ بھی انھیں بآسانی مل گئے جن کے نام تو مسلمانوں والے تھے مگر کام وہ کہ :جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود!

قیام پاکستان کے بعد سے ہی ایسے لوگوں کو دینی مقتدا وپیشوا کے طور پر پوموٹ کرنے کی کوشش کی گئی،ادارہ تحقیقات ِ اسلامی کا نظم ونسق ڈاکٹر فضل الرحمن کو سونپا گیا جو منکرِحدیث غلام احمد پرویز کا شاگرد تھا،اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ پر ڈاکٹر خالد مسعود جیسے جدت پسند دانش ور کو لابٹھایا گیا ،جو ڈاکٹر فضل الرحمن کا خوشہ چیں تھا،پر ویز مشرف کے دور میں غلام احمد غامدی کو منظر عام پر لایا گیا جن کی قرآن وسنت کے حوالے سے تعبیرات چودہ سو سالہ اکابر کی تعبیرات ہی نہیں اپنے استاد امین احسن اصلاحی مرحوم سے بھی متصادم ہیں ،ان کی نظر میں شریعت گویا موم کی گڑ یا ہے ،ان کے حلقہ ٔ ارادت میں شامل ہونے والوں میں بعض معتبر نام بھی ہیں ،جن کی وجہ سے ان کی سوچ کو مسلمانان پاکستان میں ترویج ملی اور ’’مکالمہ‘‘اور ’’ڈبیٹ‘‘کے دامِ ہم رنگ زمیں میں بڑے بڑے شہ دماغ بھی گرفتار نظر آتے ہیں ۔

مکالمہ اور ڈبیٹ کا دائرہ اس قدر وسیع کردیا گیا کہ شعائرِ اسلام اور مسلّماتِ دین بھی اس کی زد میں آگئے ،حالاں کہ اصول ِدین پر بلاچون وچرا ایمان لانا اور سرِ تسلیم خم کرنا اسلام کی شرط اولین ہے ،اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید،نبی اکرم ﷺ کی ختم ِ نبوت،صحابہ ؓ وازواج مطہرات بھی داخل ہیں اور دین کے بنیادی ارکان وعقائد بھی،مگر مکالمے کے نشتر ان اصول ِ دین پر بھی اس بے دردی سے چلائے گئے کہ الامان والحفیظ!اوپر سے ان کی علمی تردید کو  مذہبی طبقے کی تریک خیالی اور جذباتیت سے تعبیر کیا گیا۔پرویز مشرف کے دور سے میاں صاحب کے موجودہ دور تک،لبرل ازم اور سیکولر نظریات کے پرچار کو آزادیٔ اظہار ِرائے کے نام سے خوب خوب سپورٹ گیا گیا،آج اگر سوشل میڈیا کے چند بد نہاد اسلام دشمنوں نے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرتے ہوئے نبی اکرمﷺ،ازواج مطہرات اور شعائر ِدین کو نشانہ بنایا ہے ،تو یہ اسی آزادیٔ اظہار رائے کا تحفہ ہے۔

جانے ان لبرلز کے پاس کون سی گیدڑسنگھی ہے کہ ان کے لاپتا ہونے پر ان کی حمایت امریکا ویورپ کے سفارت خانوں سے کی گئی،ان کی بازیابی کے لیے مظاہرے فرانس اور جرمنی میں ہوئے،ان کی گستاخیوں کو سامنے لانے والوں کو دھمکیاں دی گئیں ،سوشل میڈیا میں پھیلائے جانے والے اس تعفن کو،جس پر اگر آسمان ٹوٹ کر گرپڑے ،تو حق ہو،آزادیٔ اظہارِ رائے کی خوب صورت پیکنگ میں پھیلانے کی کھلی چھوٹ دی گئی ،جب یہ دھر لیے گئے تو قوم نے سکون کا سانس لیا کہ اب محبّ وطن ادارے ان سے پائی پائی کا حساب لیں گے،ملکی نظریاتی اساس پر حملوں کا نوٹس لیں گے،یہ افرادجن ممالک اور کفریہ طاقتوں کے ٹاؤٹ بنے ہوئے ہیں ان سے احتجاج کریں گے،انھیں نشانِ عبرت بنائیں گے،تاکہ کسی بدنہاد کی دوبارہ ایسی ہمت نہ ہو،مگر اے بساآرزو کہ خاک شدہ کے مصداق ایسا کچھ نہ ہو سکا!

عدالت عالیہ نے ایکشن لیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا،مگر تاحال اس پر عمل تو کیا ہوتا،وقاص گورائیہ کی جنیوا میں گستاخانِ رسول ﷺ کے اجتماع میں شرکت کی خبر اورحکومت کا تاحال انٹرپول سے کوئی رابطہ نہ کرنااہل وطن کے دلوں کومزید چھلنی کر گیا،جو گستاخ ملک میں موجود ہیں وہ بھی تاحال نہیں پکڑے جاسکے۔کہیں معاملے کو عالمی عدالت میں لے جانے اور سوشل میڈیا بند کرنے کی باتیں صرف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا لالی پاپ تو نہیں ؟اس منظر نامے میں ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کہیں ان پالتو کتّوں کوایک منصوبے کے تحت تو کھلے مہار نہیں چھوڑا گیا تھا کہ ان کی دریدہ دہنی پر غیرت مند مسلمان مشتعل ہوکر ان کے جان کے درپے ہوجائیں اور انھیں مظلوم بناکر قانون توہین ِرسالت پر تیشہ زنی کی جائے،کہ یہ سب اسی قانون کا نتیجہ ہے۔تحریک تحفظ ناموس رسالت کو اس نکتے پر غور کرنا چاہیے۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے چھے مطالبات کی ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود ان کے کسی مطالبے کے حوالے سے حکومت کا ٹس سے مس نہ ہونا بھی اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب ڈپٹی ایڈیٹر ہفت روز ہ اخبارالمدارس ہیں نیز جامعہ بنوریہ عالمیہ،کراچی کے ریسرچ اسکالر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close