مذہبی مضامین

کیا ذکر الہی تسکین قلب کا ذریعہ نہیں!

عظمت علی

دور ماضی میں جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی قلت تھی مگر انسانیت کی کثرت اور آج جب کہ ہم نے مشینری دنیا میں ہمالیائی کامیابی  حاصل کرلی تو اخلاقیات کے پاتا ل میں اتر گئے۔ کل پیار و محبت کا دور تھا اور آج دل کے بہلاوے اور دھوکے کا۔

گذشتہ دور میں لوگ ایک دوسرے کا دل سے احترام کرتے۔ اولاد، والدین کے جسم پر مکھی تک نہ بیٹھنے دیتی۔ شاگرد، استادکے حکم کی تعمیل میں سر کے بل کھڑے رہتے۔ بزرگ، بچوں پر دست شفقت پھیرتے اور بچے بھی بزرگوں کا احترام کرنے میں دریغ نہ کرتے  مگر عصر حاضر کا انسان شاہانہ زندگی بسرکرنے کے باوجود گردن جھکائے رو رہاہے کہ ہائے افسوس ! اولاد نے میری ساری عزت وآبرو پر پانی پھیر دیا۔

دورحاضر میں خصوصا مغربی کلچر کے پلے بڑھے بچے اپنے والدین سے اس وقت تک پیار ومحبت کارشتہ بر قرار رکھتے ہیں جب تک ان سے غرض وابستہ ہوتی ہے۔ ادھر غر ض نکلی نہیں کہ نظریں پھیر لیں !

عصر حاضر کو ترقی کا دور کہا جاتاہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر چیز میں ترقی ہوئی ہے۔ گذشتہ زمانہ میں گنی چنی بیماریاں اور انگشت شمار مشکلات تھیں۔ لیکن اب تو ان کا شمار میں آنا مشکل ہواجا رہا ہے۔ پچھلے زمانہ میں بیمار لوگ عید کا چاند ہواکرتے تھے مگر اب تو اسپتال میں جگہ ملنا دشوار ہوا جارہاہے۔

ماضی میں لوگ ہنسی خوشی  زندگی بسر کرتے  اور  داعی اجل کو لبیک کہہ کر راہ آخرت کو سدھار جاتے۔لیکن آج  نفسانفسی کے عالم میں زندگی کٹتی ہے  اور خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اسٹو ڈنس  ناکامی کے سبب موت کو گلہ لگارہے ہیں  تو کسان فصلو ں کی تباہی کے باعث خود کشی کررہے ہیں۔

گویا عصر حاضر میں انسانوں کی زندگی مکڑی کا جالابنتی جارہی ہے۔ جتنی ہی ترقی ہورہی ہے، اتنے ہی مشکلا ت کاباب کھلتاجارہاہے۔ آج ہر شخص مشکلات میں گرفتار ہے۔ لہذا! ہر فرد کو چین وسکون کی شدید ضرورت ہے۔جس کے پیش نظر کامیڈی، میوزک اور کنسرٹ وغیرہ کا اہتمام کیا جاتاہے۔ پھر بھی سکون قلب میسر نہیں ہوپاتا۔

اگر انسان ثروت مندی میں قناعت  اور ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرے  تو مشکلات ضرور کم ہوجائیں گی۔ ماضی کے  دکھ دردکو فراموشی کی نذر کرکے  نئی زندگی کا آغاز کردے تو پریشانیوں میں کمی آتی جائے گی۔ اگر انسان اپنی اقتصادیات مضبوط کرلے تو غربت اور مصائب وآلام اس تک رسائی نہ کر سکیں گے اور ہر وقت اللہ کی یاد میں غرق رہے تو  سکون ملتا رہے گا کیوں کہ یاد خدا دلوں کو سکون بخشتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close