مذہبی مضامین

کیا نماز امت مسلمہ پر صرف رمضان المبارک میں ہی فرض ہے؟

 ڈاکٹر محمد واسع ظفر

  چند دنوں ہی قبل کی بات ہے۔ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ سایہ فگن تھا، ہر طرف انوار کی بارش ہورہی تھی،مسجدیں آباد تھیں، محلے بارونق تھے، ہر گھر سے قرآن کی تلاوت کی صدائیں آرہی تھیں ، ملت کاہر بچہ، بوڑھا اور جوان مسجد میں نظر آتاتھا۔ نمازوں کے بعد بھی قرآن کی تلاوت کرنے والوں سے مسجدیں آباد رہا کرتی تھیں ۔ تلاوت کے عمومی شوق کا یہ عالم تھا کہ مسجدوں میں پارے اور صحیفے کم پڑ رہے تھے۔ ذکر و اذکار اور نوافل کا بھی خوب اہتمام تھا،لیکن یہ کیا؟ابھی عید کو دو ہفتے بھی نہیں گزرے کہ مساجد اپنی سابقہ حالت پر آگئیں ۔ زمینی منزل بھی بمشکل ہی پر ہوتی ہے۔ نہ اب نمازیوں کا ہجوم ہے نہ قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی قطاریں ہیں ، نہ ہی ذکر واذکار اور نوافل کا اہتمام کرنے والوں کی موجودگی کا احساس۔ ایسے میں ایک حساس دل رکھنے والا مسلمان یہ سوچ رہا ہے کہ آخر وہ مسلمان کہاں چلے گئے جنہوں نے ان مساجد کو ایک مہینہ تک آباد رکھا تھا؟اور کیا قرآن کی تلاوت، ذکرو اذکار اور نوافل کا اہتمام رمضان المبارک کے ساتھ ہی مخصوص ہے؟اور اس سے آگے بڑھ کریہ سوچنے پر بھی مجبور ہے کہ کیا نماز کی فرضیت ملّت کے نزدیک صرف رمضان المبارک میں ہی ہے؟

 امت مسلمہ کے اعمال کے اندر اس درجہ کی عدم استقامت (inconsistency) کی وجوہات کا اگر تجزیہ کریں تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ دین کی صحیح سمجھ نہیں ہونے کی وجہ سے ہی امت اس بے اعتدالی کا شکار ہے۔ دراصل ہم نے اپنی کج فہمی کی وجہ سے دین کا اپنا ایک نیا تصور قائم کر لیا ہے جو ہماری سہولتوں اور نفس کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ جوعمل یا اعتقاداصل دین ہے اُسے ہم دین نہیں سمجھتے اور جو دین نہیں ہے اُسے دین سمجھتے ہیں اور اس سے بھی آگے کی بات یہ ہے کہ ہم ایسے مختصر راستے (shortcut) کی تلاش میں رہتے ہیں جس کے ذریعہ دین کے ایک بڑے اور اہم جز کو نظر انداز کر کے بھی اللہ کی معرفت،اس کی رضا، مغفرت اور خوشنودی حاصل ہو جائے حالانکہ دین کا یہ تصور جناب رسول اللہؐ کے لائے ہوئے دین کے تصور سے یکسر مختلف ہے کیوں کہ اسلام نام ہے اللہ کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا اور زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری کا۔ اپنی مرضی کا دین کہ جس چیز کی نفس نے اجازت دی (یعنی جو نفس کو بھلی لگی) اُسے ضروری قرار دے لیا اور جس کی اجازت نہیں دی (یعنی وہ نفس پر گراں گزری) اُسے غیر ضروری قرار دیا،اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک مقبول نہیں بلکہ قرآن تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ انھوں نے نفس کو ہی اپنا خدا بنا لیا:

أَرَأَیْْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰہَہُ ہَوَاہُ أَفَأَنتَ تَکُونُ عَلَیْْہِ وَکِیْلاً(الفرقان:43)۔

 ’’کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا آپ اس پر نگہبان ہو سکتے ہو‘‘۔

اگر غور کریں تو یہی سلوک ہم نے فرض نمازوں کے ساتھ کیا ہواہے کہ رمضان المبارک میں تو اسے ہم اپنے اوپر ضروری قرار دے لیتے ہیں اور غیر رمضان میں اسے ہم ضروری نہیں سمجھتے حالانکہ فرضیت کے اعتبار سے نماز کے تعلق سے رمضان اور غیر رمضان دونوں برابر ہیں یعنی نماز کی فرضیت روزوں کے ساتھ مخصوص نہیں ۔ روزہ ایک الگ رکن دین ہے اور نماز ایک الگ رکن ہے اوردونوں کی فرضیت اپنی جگہ مسلّم ہے بلکہ نماز کو بشمول روزوں کے دیگر ارکان پر ایک گونہ فوقیت بھی حاصل ہے کہ روزے سال میں صرف ایک ماہ فرض ہیں ،اس میں بھی مریض اور مسافر کو وقتی رخصت ہے جبکہ نماز میں بجز عورتوں کے جو انہیں مخصوص ایام (حیض و نفاس) میں مثل روزوں کے حاصل ہے کسی کو بھی کسی حال میں رخصت نہیں الا یہ کہ انسان اپنے ہوش و ہواس میں ہی نہ رہے۔ یہی حال حج اور زکوٰۃ کا بھی ہے کہ زکوٰۃ صرف صاحب نصاب پر ہے وہ بھی سال میں صرف ایک بار اور حج تو امراء پر زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔ لہذٰا دین کے تین اہم ارکان یا تو وقتی ہیں یا شخصی۔ نماز ہی ایک ایسی عبادت ہے جو ہر مسلمان پر وقت کی تعیین کے ساتھ دائمی طور پر فرض ہے اور ہر شخص کے لئے یکساں طور پر اظہار بندگی کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ نماز کو اسلام کی علامت قرار دیا گیا ہے جیسا کہ نصوص سے ظاہر ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

فَإِن تَابُواْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَۃَ وَآتَوُاْ الزَّکَاۃَ فَإِخْوَانُکُمْ فِیْ الدِّیْنِ(التّوبۃ:11)۔

’’اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں ‘‘۔

نیز ارشاد ہے:{إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ}’’اللہ کی مسجدوں کو تووہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے‘‘۔ (التّوبۃ:18)۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اَلْعَھْدُ الَّذِی بَیْنَنَا وَ بَیْنَھُمُ الصَّلَوٰۃُ، فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ ‘‘یعنی ’’ہمارے اور ان (منافقوں ) کے درمیان عہدنماز ہے پس جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کیا‘‘۔ (جامع الترمذی، ابواب الایمان، باب ماجآء فی ترک الصلوٰۃ،بروایت بریدہؓ ؓ) اور ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے نماز کو دین کا ستون قرار دیا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’رَأسُ الْأَمْرِ الْاِسْلَامُ وَ عُمُودُہُ الصَّلَاۃُ‘‘ ’’رأس الامر تو اسلام ہے اور ستون اس کا نماز ہے‘‘۔ (جامع الترمذی،ابواب الایمان، باب ماجآء فی حرمۃ اللصلاۃ بروایت معاذ بن جبلؓ)۔ اور ایک روایت میں آپؐ کا یہ ارشاد ہے:’’وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا صَلَاۃَ لَہٗ، اِنَّمَا مَوْضِعُ الصَّلَاۃِ مِنَ الدِّیْنِ کَمَوْضِعِ الرَّاْسِ مِنَ الْجَسَدِ ‘‘یعنی ’’جو نماز نہ پڑھے اس کا کوئی دین نہیں ، نماز کا مرتبہ دین میں ایساہی ہے جیسا کہ سرکا درجہ ہے بدن میں ‘‘۔ (طبرانی فی الاوسط بروایت ابن عمرؓ)۔ اب یہ غور کرنے کی بات ہے کہ کیا ستون کے بغیر کسی عمارت کا کوئی تصور کر سکتا ہے اور اگر نہیں تو نماز کے بغیر دین اسلام کی عمارت کا تصور کیسا ہے؟اسی طرح سر کے بغیر کیا کسی جاندار کے وجودکا تصور کیا جاسکتا ہے؟اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو نماز کے بغیر دین کاتصور کیسا ہے؟رسول پاکؐ کا یہ بھی ارشاد ہے: ’’اِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَ الْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلَاۃِ‘‘یعنی ’’بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک(حائل) ہے‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسْم الکفر علٰی من ترک الصلاۃ بروایت جابرؓ)۔ اور ایک جگہ فرمایا : ’’وَلَا تَتْرُکُوا الصَّلٰوۃَ مُتَعَمِّدِیْنَ فَمَنْ تَرَکَھَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ خَرَجَ  مِنَ الْمِلَّۃِ ‘‘ یعنی ’’جان کر نماز نہ چھوڑو،جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے وہ ملت سے نکل جاتا ہے‘‘۔ (طبرانی بروایت عبادہؓ)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺکے صحابہ اعمال میں سے کسی بھی چیز کے ترک کو کفر نہیں سمجھتے تھے سوائے نمازکے۔ (جامع الترمذی، ابواب الایمان، باب ماجآء فی ترک الصلوٰۃ، بروایت عبداللہ بن شقیق عُقیلی)۔ لیکن آج امّت مسلمہ کے عمل سے تمامتر حسن ظن کے باوجود یہی ظاہر ہے کہ نماز کی فرضیت صرف رمضان المبارک میں ہے حالانکہ زبان سے کوئی بھی اس کا اقرار نہیں کرے گا باوجود یکہ70۔ 80 فی صد مسلمان غیر رمضان میں نماز کو ضروری نہیں سمجھتے اور نماز ترک کر کے بھی خود کوسچا پکا مسلمان سمجھتے ہیں یعنی ان کے یہاں نماز کے بغیر بھی اسلام کا تصور ہے جو صحابہ کے یہاں نہیں تھا۔ غور کیجئے کہ ایسا اسلام جو اصحاب رسول ﷺ کے اسلام کے تصور سے مختلف ہو کہاں کام آئے گا؟

 ہماری دوسری بے اعتدالی یہ ہے کہ ہم بعض مواقع پر ہی سہی نوافل کو فرائض سے زیادہ اہمیت دیدیتے ہیں اور دوسرے مواقع پر فرائض کو ہی لے ڈوبتے ہیں حالانکہ اعمال کے اندر جو فرق مراتب ہے اس کا لحاظ ازحد ضروری ہے یعنی فرائض و ارکان کا اہتمام سب سے زیادہ ہونا چاہئے پھر واجبات کا اور پھر سنن و مستحبات کا۔ نوافل کی فضیلت اور اہمیت خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو وہ فرائض کا مرتبہ نہیں پا سکتے بلکہ سینکڑوں نوافل ملکر بھی ایک فرض کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب فرائض کے اہتمام سے ہوتاہے جیسا کہ ایک حدیث قدسی کے الفاظ دلالت کرتیہیں : ’’وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْئٍ أَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ ‘‘ ترجمہ: ’’ اور نہیں قرب حاصل کرتا میرا بندہ میری کسی چیز کے ذریعہ جو مجھے زیادہ محبوب ہو، اس چیز سے جو میں نے اس پر فرض کی ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع،بروایت ابوہریرہؓ)۔ اس حدیث کا حاصل یہی ہے کہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے فرائض سے بہتر کوئی عمل نہیں یا یوں کہا جائے کہ فرائض کی پابندی سے زیادہ اللہ کے قریب کرنے والی کوئی چیز نہیں ۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ’’ اے بندے جو چیز میں نے تجھ پر فرض کی ہے اُسے ادا کر اس طرح تو عابدوں میں سے زیادہ عابد ہوگا اور جس سے میں نے منع کیا ہے اس سے بازرہ، اس طرح تو پرہیزگاروں میں سب سے زیادہ پرہیز گار سمجھا جائے گا اور جو رزق تجھے دیا گیا ہے اس پر قانع رہ، اس طرح تو سب سے بے نیاز ہو جائے گا‘‘۔ (غُنیۃالطّالبین( اردو)، مطبوعہ فرید بک ڈپو،دہلی، ۱۹۸۷؁ء، صفحہ ۲۶۹، بروایت عمران بن حصینؓ)۔ پھر یہ بھی سمجھنے کی بات ہے کہ فرائض کے بارے میں پرسش بھی ہوگی جبکہ نوافل کے سلسلے میں کوئی پُرسش نہیں ۔ نوافل فرائض کی کمی کو پورا کرنے اور درجات کی بلندی کے لئے ہیں ۔

تیسری بات یہ کہ اللہ کو وہ عمل پسند ہے جو مستقل اور پابندی کے ساتھ کیا جائے خواہ وہ عمل تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے :’’اَحَبُّ الْعَمَلِ اِلَی اللّٰہِ مَا دَاوَمَ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ وَ اِنْ قَلَّ ‘‘ یعنی’’ اللہ کے نزدیک اعمال میں سب سے محبوب وہ عمل ہے جس پر اسے کوئی کرنے والا ہمیشگی کے ساتھ کرے اگرچہ وہ کم ہو‘‘۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب صیام النبی فی غیر رمضان واستحباب ان لا یخلی شھرًا عن صوم،بروایت عائشہؓ)۔ اللہ کے نزدیک وہ عمل پسندیدہ نہیں جو وقتی جوش و خروش میں کیا جائے اور جس میں تسلسل اور استقامت نہ ہو۔ استقامت اللہ کو بہت پسند ہے حتیٰ کہ بعض بزرگوں نے کہا ہے کہ استقامت کرامت سے بڑھ کر ہے اور بزرگوں نے یہ بات نوافل اور ذکر واذکار کے سلسلہ میں کہی ہیں (کیوں کہ ان کے نزدیک فرائض کو چھوڑنے کا کوئی تصور نہیں تھا) چہ جائیکہ فرض نماز ہو جس میں شارع کی طرف سے کہیں کوئی رخصت نہیں اور اس کے چھوڑنے کو کفر سے تعبیر کیاہے اور قرآن نے تو اسے یعنی نماز چھوڑنے کو جہنّم میں جانے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔ (دیکھیں المدثر: ترجمہ آیات ۳۸۔ ۴۷)۔ رسول پاک ﷺ کی آخری وصیت نماز اور غلاموں کے حقوق کے سلسلہ میں ہی ہے لیکن ہمیں اس کی کچھ پرواہ نہیں ،ہاں اپنے آباء واجداد اور عزیز واقارب کی وصیت کو پورا کرنے کا خواہ وہ دین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو خوب اہتمام ہوتا ہے۔

ذکر واذکار اور تلاوت قرآن کے ساتھ بھی ہماری بے اعتدالی یہی ہے کہ رمضان اور کچھ خاص مواقع میں تو ان کا خوب اہتمام ہوتا ہے لیکن غیر رمضان میں ہم ان چیزوں کو بالکل فراموش کردیتے  ہیں ،الاما شاء اللہ۔ یہ صحیح ہے کہ رمضان میں ان کی قیمت بڑھ جاتی ہے لیکن غیر رمضان میں ان کی اہمیت کہیں سے کم نہیں ہوتی اس لئے ہمیشہ ان کا اہتمام کرنا چاہئے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ قرآن کو اللہ نے اس لئے نازل کیا ہے کہ ہم اسے پڑھیں ،اس کی آیتوں میں غور کریں اور سمجھیں ،اس کے احکام پر عمل کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں لیکن ہم نے ان تمام باتوں کو چھوڑ کر صرف الفاظ کی تلاوت کو کافی سمجھ لیااگرچہ یہ بھی نفع سے خالی نہیں لیکن ستم یہ ہے کہ اسے بھی ہم نے رمضان تک ہی محدود کردیا ہے۔ غیر رمضان میں کبھی قرآن کی یاد بھی نہیں آتی حالانکہہمیں چاہیے کہ ہر روز کچھ وقت قرآن کی تلاوت اور اس کے معنیٰ و مفہوم کو سمجھنے میں صرف کریں ۔ قرآن کے بہت سے تراجم اور تفاسیر اردو زبان میں موجود ہیں ، اگرایک مسلمان صدق دل سے قرآن کو سمجھنے کا ارادہ کرلے تو اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں، اللہ پاک غیب سے ایسی رہنمائی اور ہدایت کا فیضان کرتے ہیں کہ مطالعہ کرنے والا خود اس کومحسوس کرتاہے، صرف نیت میں خلوص ضروری ہے۔

 آخر میں یہ عرض ہے کہ راقم نعوذباللہ اس بات کا مخالف نہیں کہ رمضان میں عبادتوں کا خوب اہتمام کیا جاوے کیوں کہ اعمال کی قیمت بڑھ جانے پر اس کا شوق بڑھ جانا ایک فطری بات ہے اور یہ ایمان کی علامت بھی ہے، سوال صرف یہ ہے کہ جو عبادتیں رمضان میں اتنی اہم ہوتی ہیں وہی غیر رمضان میں ملّت کے نزدیک اتنی غیراہم کیوں ہو جاتی ہیں خصوصاً وہ عبادت جو ارکان دین میں سے ہے۔ پھراس تقویٰ کا کیاہوا جو رمضان کے روزوں کا اصل مقصد ہے؟اس لئے ان تمام بھائیوں سے جن تک یہ تحریر پہنچے بندہ کی عاجزانہ درخواست ہے کہ للہ ان باتوں کو سمجھیں اور اپنا محاسبہ کریں اور جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺنے دین میں ضروری قرار دیا ہے اسے اپنے عمل سے غیر ضروری قرارنہ دیں اور جن چیزوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺنے بہت ضروری قرار نہیں دیا اُسے ضروری قرار نہ دیں کہ کہیں یہ چیزیں ہماری گرفت کا موجب نہ بن جائیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے اس ارشاد کو یاد رکھیں : ’’ لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ‘‘  یعنی ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات نفس ان ہدایات کے تابع نہ ہوجائے جن کو میں لے کر آیا ہوں ‘‘۔ (مشکوٰۃ المصابیح، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ،بروایت عبد اللہؓ بن عمروبن العاصؓ)۔ اللہ پاک ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

مضمون نگار پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ کے شعبہ تعلیم کے سابق صدر ہیں۔

متعلقہ

Close