مذہبی مضامین

گناہ جاریہ کے تصور کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت

ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی

انسان کے بعض افعال و اعمال ایسے ہیں جن کے مثبت اور منفی اثرات انسان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس تک پہنچتے رہتے ہیں۔ اگر انسان نے کوئی کارِخیر کا کام انجام دیا ہے تو اس کا اجر و ثواب انسان کے نامہ اعمال میں اس کی موت کے بعد بھی رہتی دنیا تک تسلسل کے ساتھ درج ہوتا رہتا ہے جسے ہم ثواب جاریہ کہتے ہیں۔ یعنی انسان کا ایسا کوئی نیک عمل جس سے عوام الناس عرصہ دراز تک مستفید ہوتے رہیں اور جب تک عوام کو اس کا فائدہ ہوتا رہے گا انسان کی نیکیوں میں اس وقت تک اضافہ ہوتا رہے گا۔ یہی معاملہ انسان کے اعمال بد کا بھی ہے یعنی اگر کسی انسان کے فعل بد کو دیکھ کر دوسرے بھی اس میں ملوث ہوجائیں تو اس کا وبال برائی کا ارتکاب کرنے والے کے ساتھ ساتھ اس کو بھی ہوگا جس کو دیکھ کر خاطی اس گناہ میں ملوث ہوا۔ جب تک یہ گناہ معاشرے میں پھیلتا رہے گا گناہ کا موجد یا گناہ کی اشاعت میں اعانت کرنے والا گناہ جاریہ کا مستحق ہوتا رہے گا جس کی طرف عموماً ہماری کوئی خاص توجہ نہیں ہوتی۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر انسان اپنے اعمال و افعال کے بابت جواب دہ ہے کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بار اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا۔ ارشاد ربانی ہورہا ہے ترجمہ: ’’یہ ایک جماگعت تھی جو گزر چکی انہیں فائدہ دے گا جو (نیک عمل) انہوں نے کمایا اور تمہیں نفع دیں گے جو (نیک اعمال) تم نے کمایے اور نہ پوچھے جائوگے تم اس سے جو وہ کیا کرتے تھے ‘‘۔ (سورۃ البقرۃ آیت 134) اور ایک مقام پر ارشاد ربانی ہورہا ہے ترجمہ:’’اور بوجھ نہیں اٹھائیگا کوئی گنہگار کسی دوسرے کا بوجھ اور اگربلائے گا پشت پر بوجھ اٹھانے والا (کسی کو) اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے، تو نہ اٹھائی جاسکے گی اس کے بوجھ سے کوئی شئی اگرچہ کوئی قریبی رشتہ دار ہی ہو‘‘ (سورۃ فاطر آیت 18)۔

دین اسلام کا یہ تصور خودسازی کے عمل میں بے انتہا موثر ہے۔ قرآن حکیم نے ہمیں تاکید کی کہ ہم اس ذخیرہ افعال و اعمال پر نظر رکھیں جو ہم نے آخرت کے لیے جمع کیے ہیں یہی بروز محشر ہمارا کا سرمایہ اصلی ہوگا۔ ارشاد ربانی ہورہا ہے ’’اے ایمان والو! ڈرتے رہا کرو اللہ سے اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا آگے بھیجا ہے کل کے لیے ‘‘ (سورۃ الحشر آیت 18) اصولی طور پر انسان کی سب سے بڑی بدبختی خودفراموشی ہے چونکہ اللہ تعالی نے ہر انسان کو استعداد اور لیاقت کی دولت سے سرفراز کیا ہے جس کی ناقدری کرنا نہ صرف انسان کو رحمت کردگار سے محروم کرنے کا سبب ہے بلکہ مادی خواہشات اور ہوا و ہوس کا قیدی بنانے کی وجہ بھی ہے۔ علاوہ ازیں مذکورہ بالا آیت پاک میں لفظ تقوی کی تکرار ہے جس کی وجہ بیان کرتے ہوئے علماء اسلام بیان کرتے ہیں کہ پہلے تقوی سے نیکیوں کی انجام دہی اور دوسرے تقوی سے گناہوں اور معاصی سے اجتناب کی طرف اشارہ ہے۔ لیکن مسلم معاشرے کی بدقسمتی یہ ہے کہ آج کا مسلمان اپنے آئینہ دل کو غفلت کی گرد سے پاک رکھنے اور دامن عصمت کو بدنما دھبوں منزہ رکھنے کے بجائے اوروں کے عیوب تلاش کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کررہا ہے جو مذکورہ بالا قرآنی حکم کے بالکل برعکس اور صراحۃً خلاف ہے۔

 قرآن مجید جہاں یہ اعلان کرتا ہے کہ کسی شخص کے گناہ کی وجہ سے دوسرے شخص سے مواخذہ نہیں ہوگا وہیں قرآنی ارشادات سے دین اسلام کا یہ قاعدہ اور اصول بھی ثابت ہے کہ اگر کسی مسلمان نے گناہ کو رائج کرنے یا اس کی اشاعت میں معاونت کی تو پھر اس کا بار اور بوجھ بھی اس کے کندھے پر آئے گا۔ ارشاد ربانی ہورہا ہے ترجمہ: ’’اور وہ ضرور اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور دوسرے کئی بوجھ اپنے (گناہوں کے) بوجھوں کے ساتھ۔ اور ان سے باز پرس ہوگی قیامت کے دن ان (جھوٹوں ) کے متعلق جو وہ گھڑا کرتے تھے‘‘ (سورۃ العنکبوت آیت 13)جس طرح گمراہ ہونا انسان کا فعل ہے اسی طرح لوگوں کو گمراہ کرنا بھی انسان کا فعل ہے اس لیے یہ اضافی بار معاشرے میں رسم بد کی بنیاد ڈالنے، لوگوں کو گمراہی کی طرف رغبت کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا ہوگا۔ چونکہ ان لوگوں کی گمراہی اسی شخص کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ حقیقت کے اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے ترجمہ: ’’اور نہیں ملتا انسانکو مگر وہی کچھ جس کی وہ کوشش کرتا ہے‘‘ (سورۃ النجم آیت 39) آگے مزید ارشاد ہوتا ہے ترجمہ: ’’اور اس کی کوشش کا نتیجہ جلد نظر آجائے گا پھر اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا‘‘ (سورۃ النجم آیات 40-41)یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے یہ نہیں فرمایا کہ انسان جو عمل کرے گا اسے اس کی جزا و سزا دی جائے گی بلکہ فرمایا انسان کے حصہ میں وہ آئے گا جس کے لیے اس نے سعی و کوشش کی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے تاجدار کائناتﷺ نے فرمایا جو شخص بھی ظلماً قتل کیا جائے گا اس کے خون (کی سزا) کا ایک حصہ آدم کے بیٹے (قابیل) پر ہوگا کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا طریقہ ایجاد کیا (بخاری و مسلم )۔

گویا قابیل نے قتل ایجاد کرکے قاتلوں کی معاونت کی ہے اسی پاداش میں قیامت تک جتنے بھی قتل ہوں گے سب کے قتل کا سبب ہونے کی سزا قابیل کو ملے گی۔ اس تناظر میں مسلم معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ آج ہر گلی اور محلہ میں ایک دینی مدرسہ قائم ہے لیکن اس کے باوجود مسلم معاشرہ بالمعموم اور مسلم نوجوان نسل بالخصوص تعلیمات اسلامی سے اتنی ہی دور ہے۔ کیوں ؟اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے بعض دینی مدارس ایسے لوگ چلا رہے ہیں جو خود تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ صرف چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سے دینی مدارس قائم کررہے ہیں وہاں برائے نام تعلیم کا نظم ہوتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض دینی مدارس میں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے بجائے ان بچوں کا استعمال چندہ جمع کرنے یا پھر قرآن خوانی کی محافل منعقد کرنے تک محدود ہے جس کے لیے ناظم مدرسہ کو ہدیہ اور نذرانہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ بعض ناعاقبت اندیش لوگ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے مسلم بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کررہے ہیں اور دین اسلام کو اندر سے کھوکھلا کررہے ہیں۔ جس قوم کی نوجوان نسل کی اکثریت تعلیم یافتہ نہ ہو وہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں کے موجودہ حالات اس کی بین دلیل ہے۔ اس طرح کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے مستقبل میں کوئی قابل قدر کارنامہ انجام دے نہیں سکتے البتہ اکثر دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ ایسے مدارس سے فارغ ہونے والی طلبہ مساجد کا رخ کرتے ہیں اور برائے نام مشاہرہ پر امام و خطیب بن جاتے ہیں۔

چونکہ یہ بچے اعلی تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اسی لیے وہ کسی علمی و تحقیقی موضوع پر تقریر نہیں کرسکتے لیکن چونکہ حصول روزگار کا سنگین مسئلہ ان کے سامنے ہوتا ہے لہٰذا وہ چند مخصوص اور فروعی موضوعات پر نفرت انگریز تقاریر کرکے امت مسلمہ میں تفرقہ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں مزید برائیاں پھیل رہی ہیں۔ پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہی مقررین پیسہ کمانے کی غرض سے اپنا ایک ذاتی مدرسہ قائم کرلیتے ہیں اس طرح گمراہی کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جارہا ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ آج جب کہ دیگر اقوام علمی تحقیقات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں، سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں کارنامے انجام دے رہی ہیں تو وہیں امت مسلمہ اس بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ دعا کے وقت ہاتھ اٹھانا چاہیے یا نہیں، دعا کرتے وقت آواز بلند کرنی چاہیے یا نہیں !اس طرح کے آئمہ، خطبا اور مقررین جب تک اپنی کم علمی کے سبب سماج اور معاشرے کو تہ و بالا کرتے رہیں گے ان تمام کا وبال ان آئمہ، خطبا اور مقررین کے ساتھ ساتھ ان لوگوں پر بھی ہوگا جو صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے دینی مدارس قائم کرتے ہیں اور مساجدکے ان ذمہ داروں پر بھی ہوگا جو بغیر کسی صلاح و مشورہ اور بغیر غور و فکر کے امامت و خطابت جیسے جلیل القدر عہدے کے لیے ایسے مقررین کا تقرر کرتے ہیں۔ نام نہاد آئمہ، خطبا اور مقررین نے مسلم معاشرے کو بھیانک اور پر خطر موڑ پر لاکھڑا کردیا ہے۔

اس گناہ جاریہ اور اس کے وبال میں وہ لوگ بھی حصہ دار ہوں گے جو بغیر تحقیق و تفتیش کے اس طرح کی مدارس کی مالی اعانت کرتے ہیں اور نام نہاد مقررین کی عزت و توقیر کرتے ہیں۔ حضرت سیدنا ابن جریرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول محتشمﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی برے کام کو ایجاد کیا اس پر اپنی برائی کا بھی بوجھ ہوگا اور اس کے بعد اس برائی پر عمل کرنے والوں کا بھی بوجھ ہوگا اور ان برائی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (مسلم شریف)۔

 سوشیل میڈیا نہ صرف نوجوان نسل کی دلچسپی کا محور و مرکز بن چکا ہے بلکہ نوجوانوں میں سوشیل میڈیا کا استعمال جنون کی حد تک بڑھ گیا ہے۔ یقینا سوشیل میڈیا کے بہت سارے مثبت پہلو ہیں لیکن اکثر دیکھنے میں آرہا ہے کہ نوجوان نسل سوشیل میڈیا کا منفی استعمال زیادہ کررہی ہے، اخلاقی اقداروں کو بالائے طاق رکھ کر لا یعنی اور فضول گفتگو میں قیمتی وقت ضائع کر رہی ہے، تعلیم، عبادت اور کام کے اوقات بھی سوشیل میڈیا پر صرف کررہی ہے اور انتہائی نازیبا زبان کا استعمال کررہی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی اخلاقی و سماجی برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں اور معاشرے میں نفرتیں اور کدورتیں بڑھ رہی ہیں اور باہمی انتشار و خلفشار پھیل رہا ہے۔ بعض وقت انتہائی فحش تصاویر اور ویڈیوز بھی اپ لوڈ کیے جارہے ہیں جسے دیکھ کر نہ جانے کتنے سادہ لوح اور شریف النفس نوجوان بھی گمراہی کے دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ آج کا نوجوان نازیبا الفاظ، فقرے، تبصرے اور فحش و عریاں تصاویر ای۔ میل، انسٹاگرام، ٹیلی گرام، فیس بک، ٹوئٹر، سنیپ چیٹ، یو ٹیوب، واٹس اپ وغیرہ پر کلک کرکے گناہ جاریہ کا مرتکب بن رہا ہے۔

چونکہ جب تک ایسے نازیبا پیغامات سوشیل میڈیا پر نشر ہوتے رہیں گے اس کا وبال اس نوجوان کو پہنچتا رہے گا جس نے اسے آگے بڑھایا ہے۔ اور اس کا وبال اس لڑکے یا لڑکی کے والدین پر بھی ہوگا کیونکہ اگر وہ تربیت کی ذمہ داری بخوبی نبھائے ہوتے تو اولاد اس طرح کے جرم کاارتکاب نہ کرتی۔ اولاد نسل کے تسلسل کی طرح اپنے والدین کے تربیتی عمل کا تسلسل بھی ہوتی ہے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ (صحیحین)

محدثین کرام اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں چونکہ شوہراور بیوی اپنی اولاد کے سربراہ ہوتے ہیں اسی بناء پر ان سے ان کی اولاد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ امام بخاری نے لکھا ہے کہ اگر میت نے یہ وصیت کی ہو کہ اس پر نوحہ کیا جائے تو پھر گھر والوں کے رونے سے اس کو عذاب ہوگا۔ چونکہ نوحہ کرنے کی اصل وجہ اس کی وصیت ہے اسی طرح نوجوان نسل کی بگاڑ میں اصل وجہ والدین کی عدم تربیت ہے لہٰذا وہ بھی گناہ جاریہ کے مستحق بنیں گے اور عند اللہ ماخوذ ہوں گے۔

 تمام مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ سوشیل میڈیا کا استعمال انتہائی دانشمندی سے ہو اور جدید سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی کا استعمال سماج کی اچھائی کے لیے زیادہ سے زیادہ ہوتاکہ امت مسلمہ گناہ جاریہ کے نہیں بلکہ ثواب جاریہ کے مستحق بن سکے۔

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفیﷺ ہمیں زندگی کا ہر لمحہ تصور بندگی کے ساتھ گزارنے کی توفیق رفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی

Dr. S.S. Waheedulla Hussaini Quadri Multani was born on 20th October, 1973 at Hyderabad, India and grew up in a spiritual atmosphere. He is the fifth of ten children born to Abul Arif Shah Syed Shafiulla Hussaini al-Quadri ul-Multani Sajjadahnashin (authorized representative) of the Shrine of Hazrat Shah Syed Peer Hussaini al-Quadri ul-Multani, Muhaqqiq (may Allah sanctify his secret), Imampura Sharif, Hyderabad. He received an M.A. (Islamic Studies) and M.Com degrees from Osmania University Hydedrabad and Maulvi Kamil from Jamia Nizamia, Hyderabad. He was a gold medalist in Islamic Studies. He submitted his Ph.D. thesis on the topic “Grants given by the seventh Nizam, Mir Osman Ali Khan to Various Religious Personages and Institutions” under the supervision of Prof. Mohd. Suleman Siddiqi, Former Head, Department of Islamic Studies and Vice-Chancellor, Osmania University. As an orator, prolific writer and columnist, he has written extensively on ethical, educational, rational, political, economical, spiritual, remedial and doctrinal aspects of Islam and on the various issues pertaining to Sufism in the perspective of modern age. He is a regular contributor to the journals of national repute and dailies of Hyderabad, India, i.e., Siasat, Munsif, Etemaad, Rehnuma-e-Deccan, Rashtriya Sahara, Hamara Awam, Sahafi-e-Deccan and has published around 600 articles till date. He delivers weekend lectures under the caption “Mehfil-i Dars-i Quran-i Majid wo Tafsir” on every Saturday at Masjid-I Ibrahimi, Khaderbagh, Ring road, Hyderabad and Sunday at Masjid-i Habeeba Tolichowki, Seven Tombs Road, Hyderabad, for the last two decades. He has translated the Urdu book into English entitled “Anwar-i din” compiled by Dr. Abdur Rahseed Junaid. He also translated four units of study material of B.A. in the subject of History for Directorate of Distance Education, Maulana Azad National Urdu University. He also participated and presented a paper at the National Seminar organized by the Maulana Abul Kalam Azad chair at MANUU, Hyderabad in the mont410h of November, 2013. He worked as a Guest Faculty in the Department of Islamic Studies in MANUU. Presently he is associated with Henry Martyn Institute, Hyderabad as a senior faculty in the department of Islamic Studies. He is also an associate editor of the Journal published by HMI. The author can be reached at waheedmultani@gmail.com and his mobile no. is 09-9010345787.

متعلقہ

Close