مذہبی مضامین

ہاں میں رمضانی مسلمان ہوں!

نازش ہما قاسمی

جی رمضانی مسلمان۔ پورے سال نماز سے دور، دھینگا مشتی میں چور، دینی احکام سے نابلد و نا آشنا، ۱۱؍ماہ اپنے کام کاج میں مشغول رہنے والا، سال میں ایک ماہ پابندی سے نماز پڑھنے والا، ماہ صیام کا روزہ رکھنے والا، تیس دنوں تک گالم گلوج سے پرہیز کرنے والا، اذان کی آواز سنتے ہی مسجد پہنچنے والا، پہلی صف میں جاکر نماز پڑھنے والا۔ دوسروں کو دھوکہ دینے سے گریز کرنے والا، چوری و ڈاکہ زنی سے توبہ کرنے والا، رمضان کے چاند سے لے کر عید کے چاند تک اپنے غلط کاموں کو پینڈنگ رکھنے والارمضانی مسلمان ہوں۔ میں تو ہوں مسلمان ہی؛ لیکن رمضانی مسلمان اس لیے کہ صرف نماز، اور دیگر برائیوں سے اجتناب کو ہم اس مہینے میں خاص کرلیتے ہیں؛ اس لیے رمضانی مسلمان کہا جاتا ہے، حالانکہ نماز پنج وقتہ ہر دن فرض ہے؛ چوری و ڈاکہ زنی سے گریز بھی ہمیشہ کرناچاہئے، فریب و دھوکہ دہی بھی سال کے بارہ مہینے نہیں کرنا چاہئیے، لیکن ہم رمضانی مسلمانوں کے نزدیک صرف رمضان میں ہی نماز فرض ہے؛ اس لیے ہم رمضان میں خوب عبادت و ریاضت کرکے اپنے حساب سے سال بھر کا ذخیرہ کرلیتے ہیں؛ اس لیے ہمیں سال بھر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں پیش آتی (حالانکہ یہ سراسر اسلام مخالف عمل ہے)؛ لیکن کیا کریں کام، دھام روزی روٹی کے چکر میں فرصت ہی نہیں ملتی۔

 رمضان مقدس کے ہر ہر دن سے ہم خوب لطف اندوز ہوتے ہیں، پورے دن ٹوپیاں پہن کر، ٹوپی کی لاج رکھتے ہیں، اور کسی کو ’ٹوپی ‘ پہنانے سے مکمل گریز کرتے ہیں، ماہ مقدس میں ہم رمضانی مسلمان کسی کو گالی دیتا ہوا دیکھ لیتے ہیں تو انہیں منع کرتے ہیں اور سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا نہ کریں اس سے آپ کے روزہ پر اثر پڑتا ہے، ہم رمضانی مسلمان ماہ مقدس میں انتہائی شریف النفس، غم خوار  اور دوسروں کو امربالمعروف، نہی عن المنکر کرنے والے بن جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر رمضان میں سحری، روزہ، افطار کرنے کے بعد عشاء تک کھاتے پیتے رہتے ہیں اور کچھ کو توفیق ہوتی ہے تو وہ تراویح کا اہتمام کرتے ہیں اور ان اہتمام کرنے والوں کی بھی کئی قسمیں ہیں، کچھ تین دن والی تراویح نمٹاتے ہیں، کچھ چھے دن والی، کچھ دس دن والی، کچھ تیس دن والی، حسب مراتب ہم رمضانی مسلمان تروایح کی نماز پڑھ کر رمضان کی برکتوں کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 ہاں میں وہی رمضانی مسلمان ہوں جو رمضان کے علاوہ تو خوب گالم گلوج، بدمعاشی، مخرب اخلاق عمل کرتا ہوں؛ لیکن رمضان آتے ہی اور شیطان کے قید ہوتے ہی سدھر جاتا ہوں، مسجد سے گھر، گھر سے مسجد بس یہی راستے ہوتے ہیں ہمارے، جہاں صرف ذکر کرتے، نماز پڑھتے، مسواک کرتے، وضو کرتے، قرآن پڑھتے، روزہ رکھتے، افطار کرتے، سحری کرتے ہوئے وقت گزر جاتا ہے، پہلا عشرہ رحمت دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا گزر جاتا ہے، اسی طرح تیس دن کا ہمارا عمل مکمل ہوتا ہے اور ہم بھی شیطان کے ساتھ آزاد ہوجاتے ہیں، پھر وہی فتنے، فریب، دجل، جعل سازی، مکاری، عیاری، نماز سے دوری، روزہ سے پرہیز، ایک دوسرے کو ستانا، تڑپانا، پریشان کرنا، معاملات میں دھوکہ دینا اپنا شیوہ رہتا ہے۔ پورے ماہ ہم جو نیک اعمال کرتے ہیں اسے سال کے گیارہ مہینے تک خرچ کرتے رہتے ہیں، لوگ ہمیں دعائیں بھی دیتے ہیں کہ ماشاء اللہ بچہ  سدھر گیا ہے، پورے روزے تو رکھے ہی، نماز کی پابندی تو کی ہی؛ لیکن ساتھ ہی ساتھ اعتکاف بھی کیا البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اعتکاف میں موبائل سے دور نہیں رہ پایا، وہاں سے بھی دوستوں کو ہینڈل کرتا رہا، گروپس کے چیٹ پڑھتا رہا، اہل خانہ کے حال چال دریافت کرتا رہا، کاروبار بھی سنبھالتا رہا اور موبائل کے ذریعے ہی اعتکاف کے فضائل ومناقب بتا کر دوستوں کو آمادہ کرتا رہا کہ وہ بھی اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آجائے اور پھر جم کر یہاں دوست واحباب نماز روزہ کے ساتھ ساتھ دوستی کے حقوق بھی ادا کریں اور ہمارے بلاوے پر اکثر دوست  ہماری کمی کو محسوس کرتے ہوئے مسجد کا رخ بھی کرلیتے ہیں اور خود کو سدھرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

ہاں میں وہی رمضانی مسلمان ہوں جس کی اکثریت مہینے کے رمضان کے بیس دن انتہائی دل لگی سے روزہ، نماز، زکوٰۃ، صدقات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرتے ہیں، پھر عید کی تیاریوں میں اتنا مصروف ہوجاتے ہیں کہ نماز کا پتہ بھی نہیں چلتا، روزہ کا احساس بھی نہیں رہتا، نئے جوڑے سلوانے، اہلیہ کے کپڑوں کی خریداری، بچوں کے جوتے، چشمے، شیر خورمہ اور دیگر پکوانوں کی تیاریوں میں جٹ جاتے ہیں، بچیوں کے لیے مہندی وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں اور یکم شوال کو جشن مناتے ہیں، خداوند قدوس کے انعامات کو سمیٹتے ہیں اور  خوش ہوتے ہیں کہ اب کھانا کھانے کی آزادی مل جائے گی، روزہ نہیں رکھنا پڑے گا، پان، بیڑی، گٹکھا، سگریٹ اور گُل کا استعمال آزادانہ طور پر کرسکیں گے۔چیاشی (چائے نوشی) پر بھی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ خیر آپ روزانہ نماز پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ ہم رمضانی مسلمانوں کے  لیے دعا کردیں کہ خدا ہمیں بھی آپ کی طرح مسلسل نماز پڑھنے والا بنادے۔ ہمیں بھی حلاوت ایمانی نصیب ہو، اور ہم بھی آپ کی طرح پورے سال نماز پڑھیں، نفلی روزوں کا اہتمام کریں، مغلظات بکنے سے پرہیز کریں، دوسروں کو نہ ستائیں، بڑوں کی عزت کریں، چھوٹوں سے محبت والا رویہ اپنائیں، والدین کی قدر کریں جس طرح رمضان میں کرتے ہیں، بھائیوں کے ساتھ اخوت کا معاملہ رکھیں، دھوکہ دہی سے اجتناب کریں، جس طرح رمضان میں ہم رکے ہوئے تھے اور دیگر برائیو ں سے ہمیں بچالے۔ آمین!

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close