مذہبی مضامین

ہجری تقویم ۔ تاریخ اور اہمیت

 سراج احمد برکت اللہ فلاحیؔ

        ہجری تقویم کا اسلام اور مسلمانوں سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ہجری تقویم کو اسلامی تقویم کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ نبی مکرمﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع میں اس کی طرف واضح اشارہ پایا جانا، عمر فاروقؓ کا اسے جاری کرنا، ، سرکاری مراسلات اور دستاویزات میں اسے لازمی قراردینا، خلفائے راشدینؓ اور بعد کے دور میں امت کے سواد اعظم کا اسے استعمال کرناایسا تاریخی ریکارڈ ہے کہ اس تقویم کو اسلامی تقویم کہنے اور مسلمانوں سے اس کے استعمال کی اپیل میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ بلاتأمل یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر مسلمان اس سنہ کا استعمال کریں تو اس کی برکتیں اور فوائد معاشرہ میں دیکھنے کو ملیں گے کیوں کہ اس کی حقیقت، خوبیوں اور اچھے اثرات کو دیکھ کر اس بات کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اس کی حیثیت عام تقویم کی سی نہیں ہے۔

        اس تقویم کو ایک لمبے عرصے تک امت مسلمہ نے استعمال کیا ہے لیکن افسوس کہ اپنوں کی بے غیرتی، تساہل اور باطل کی طویل المدتی منصوبہ بندی کے نتیجے میں اب اس کی وہ حیثیت باقی نہ رہی جو قرون اولیٰ میں تھی۔ امت کی سیادت وخلافت سے محرومی اور سیاسی زوال کا بھی اس میں کسی حد تک دخل ہے کیوں کہ جب کوئی قوم کسی خطہ میں غلبہ پاتی ہے تو وہاں کے باشندوں پر اپنی تہذیبی ومعاشرتی بلکہ ہرطرح کے اثرات چھوڑتی ہے۔ امت مسلمہ پر بھی غیروں کی حکم رانی وغلبہ کے نتیجہ میں اس طرح کے اثرات پڑتے گئے حتی کی ایک صدی سے امت اس المیہ سے دوچار ہے کہ اس کا ایک بڑا طبقہ اس تقویم سے کلیۃ ناواقف ہے، کچھ واقف تو ہیں لیکن ناقابل عمل گردانتے ہیں، بعض ایسے بھی مل جائیں گے جو اس تقویم سے خوب واقف ہیں، اسے قابل عمل بھی تصور کرتے ہیں البتہ ہجری سن اور تاریخ استعمال کرنے کو عار سمجھتے ہیں اور بعض لوگوں کے یہاں ہجری سنہ کو اتنی اہمیت نہیں کہ اسے استعمال کیا جائے۔

        اس مضمون میں کوشش کی جائے گی کہ ہجری تقویم کی حیثیت، اہمیت، ضرورت اور اس کے اچھے نتائج سے آگاہ کیا جائے، اس تعلق سے پائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کیا جائے اور اس تقویم کی امتیازات پر بحث کی جائے۔ ضمناً دیگر کلنڈروں کے استعمال کی بعض قباحتیں بھی بیان کی گئی ہیں تاکہ قارئین کو پورا اطمینان ہوسکے اور شرح صدر کے ساتھ ہجری تقویم کے استعمال کی طرف پوری توجہ دی جائے۔

تقویم کی ضرورت :

        اپنی یادداشت کو محفوط رکھنے، کسی واقعہ کی تحقیق چاہنے، اپنے ارادوں کی تکمیل اور منصوبہ بندی، مذہبی رسوم کی ادائیگی اور اپنی نجی وسماجی ضرورتوں کے لیے زمانۂ قدیم سے انسان ایام وماہ و سال کو یاد کرنے اور حساب رکھنے کا ضرورت مند رہا ہے۔ اسی کو اصطلاح میں تقویم کہاجاتا ہے۔ حبیب الرحمٰن خان صابریؔ نے لکھا ہے:’’ معاشرتی ضرورتوں اور مذہبی رسموں کو سامنے رکھ کر دنوں کو زمانوں میں متحد کرنے یا سائنسی احتیاجوں میں ہفتوں، مہینوں اور برسوں کو مجتمع کرنے کے طریقہ کو تقویم کہتے ہیں۔ ‘‘ ( مفتاح التقویم :فقرہ نمبر 2 ص 21)

        غرض تقویم متمدن قوموں کی اجتماعی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے اس سلسلہ میں باقاعدگی اور نظم کا بھی پتا چلتا ہے۔ لوگوں نے اپنی دماغی کوششوں سے کچھ قواعد متعین کیے اور حساب رکھنا شرع کیا۔ کسی قابل ذکر واقعہ، اہم حادثہ، قدرتی آفات، کسی بادشاہ کی تخت نشینی، کوئی یادگار تاریخی فتح یا پھر کسی بڑی شخصیت کی تاریخ پیدائش یا یوم وفات کو عموما ًلوگوں نے نقطۂ آغاز قرار دیا اور اسی مناسبت سے اس سنہ کو یاد کیا جانے لگا۔ مختلف ملکوں میں مختلف ناموں سے سال اور مہینوں کے حسابی قاعدے اور تقویمیں رائج ہوئیں، البتہ ہرتقویم میں دن، مہینہ اور سال کا تصور پایا گیا۔ اسی طرح سال کا حساب بھی دو نوعیتوں شمسی اور قمری پر منحصر رہا۔ پھر عوام کی نظروں میں وہ متروک ہوگئے۔ انسانی تاریخ میں ہجری تقویم، عیسوی تقویم، مصری، رومی، بابلی، یونانی، عبرانی، اور شک تقویم کا بھی پتا چلتا ہے۔ ہمارا اصل موضوع تو ہجری سنہ ہے لیکن عیسوی سنہ سے متعلق مختصر نوٹ پیش کردینا ضروری ہے۔

عیسوی تقویم:

        عیسوی تقویم دراصل گریگوری تقویم ہے۔ اسے انگریزی کلنڈر اور تاریخ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس تقویم میں شمسی سال کا اعتبار ہوتا ہے۔ جب زمین اپنے بیضوی دائرہ پر حرکت کرتے ہوئے سورج کے گرد اپنی گردش مکمل کرلیتی ہے تو سال مکمل ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اس سنہ کا نقطۂ آغاز ہے۔ اس تقویم کا استعمال 130ھ بمطابق 748ء سے شروع ہوتا ہے۔ سال میں بارہ مہینے جنوری، فروری، مارچ… اور 365 دن ہوتے ہیں۔ البتہ یہ تقویم حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا حساب ہمیشہ فرضی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ عیسوی سنہ کے بارے میں تحقیق یہ ہے کہ یہ پرانا رومی کلنڈر سے ترمیم شدہ ہے۔ جسے اگٹس نے ترمیم کیا پھر جولین نے ترمیم کیا۔ اس طرح کئی بار اس کی ترمیم ہوئی۔ آخری ترمیم پاپائے گریگوری کے حکم سے 1582ء میں ہوئی اور یہی ترمیم شدہ کلنڈر آج عیسوی سنہ کے نام سے جاری ہے۔

        عبدالقدوس ہاشمی نے امریکن پیپل انسائکلوپیڈیا مادہ ’کلنڈر‘کے حوالے سے لکھا ہے کہ’’جولین کے چھ سو سال بعد ایک عیسائی راہب ڈینس ایگزیگویس نے اسے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف غلط حساب کرکے منسوب کردیا تھا۔ اسی وقت سے اسے مسیحی کلنڈر کہا جانے لگا۔ ورنہ حضرت عیسی علیہ السلام سے اس کا حقیقت میں کوئی تعلق نہیں۔ (تقویم تاریخی، سنہ عیسوی) مفتاح التقویم میں ہے کہ’’عیسوی سنہ کو ایگزیویس نے ایجاد کیا اور بیڈی نے اسے ہردلعزیز بنایا تھا۔ عیسوی سنہ کا پہلا مہینہ اور پہلی تاریخ مختلف ملکوں میں  مختلف ہواکرتی تھی۔ گریگوری تقویم کے اجرا کے ساتھ قانونا ًسرکم سائزن اسٹائل جاری ہوئی جو یکم جنوی کو شروع ہوتی ہے۔ ‘‘( مفتاح التقویم، فقرہ 40، ص 33)عیسوی سنہ کا رومی تقویم سے بہت گہرا تعلق ہے۔ بلکہ یہ رومی تقویم کی تصحیح کردہ تقویم ہے۔ اس اعتبار سے اسے قدامت حاصل ہے۔ قبل مسیح بھی رومی تقویم کا پتا چلتا ہے۔ البتہ باربار ترمیم کی ضرورت اور مختلف ملکوں مختلف قواعد لوند، کسر اور الگ الگ مبداء کی وجہ سے اس قدامت کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔ موجودہ عیسوی سنہ گریگوری کلنڈر ہے جو بہت بعد کی ترمیم وترویج ہے۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے۔ کہ 748ء سے اس سنہ کے استعمال کا پتا چلتا ہے خواہ اس کی شکل اور نوعیت کچھ بھی رہی ہو۔

        قطع نظر اس کے کہ عیسوی سنہ غلط اور اپنے اصل کے اعتبار سے فرضی بنیادوں پر قائم ہے۔ لیکن آج اپنے عروج پر ہے اور اکثر ممالک میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔ ہر طرح کے ضروری قواعد مرتب ہوچکے ہیں۔ ماضی کی کوئی تاریخ، دن اور سال معلوم کرنا یا کسی دوسرے سنہ سے تبدیل کرنا یا اس کے برعکس دیگر سنین کو اس سنہ میں معلوم کرنا یا پھر اس کی تصحیح کے لیے لیپ سال یا صدی، عدم لیپ وغیرہ کے تفصیلی قواعد وضوابط مرتب ہوچکے ہیں۔

ہجری تقویم:

        سن ہجری دنیا کے رائج سنین اور تقویموں میں ایک بہت ہی معروف ومشہور تقویم ہے۔ اس کا نقطۂ آغاز دنیا کی عظیم ہستی اور اللہ کے آخری نبی محمدﷺ کا اہم ترین سفر ہجرت ہے۔ جو اذن الٰہی کی تعمیل، آپﷺ کی سیرت کا نمایاں باب اور تاریخ انسانی کا ایک قابل ذکر موڑ ہے۔

        اس سنہ کا آغاز یکم محرم الحرام بروز جمعۃ المبارک 01ھ؁ مطابق 16؍ جولائی 622ء ؁ہے۔ یہ سنہ فطری اور حقیقی ہے۔ اس لیے قمری ہجری سنہ میں کوئی ماہ کبیسہ نہیں ہوتا ہے۔ آپﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا:’’ایھا الناس انما النسیء زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ وحرموا ما احل اللہ وان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق السماوات والارض وان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض منھا اربعۃ حرم، ثلاثۃ متوالیۃ ذوالقعدۃ وذوالحجۃ ومحرم ورجب مضر الذی بین جمادی وشعبان۔ (تاریخ طبری جلد سوم ص 150)

        اے لوگو!نسی کفر میں اضافہ ہے، یہ کافروں کو گمراہ کرنے کے لیے ہے۔ کسی سال اس کو حلال ٹھراتے ہیں اور کسی سال حرام کہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی گنتی پوری کرکے اس کے حرام کیے ہوئے کو جائز بنالیں اور جائز حرام کرلیں۔ اب زمانہ پھر گھوم گھوماکر صحیح وقت اور اصل صورت پر آگیا ہے۔ جیسا کہ وہ تخلیق کائنات کے دن تھا۔ مہینوں کی تعداد اللہ کے یہاں نوشتۂ الٰہی میں جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا بارہ مہینے ہیں۔ سنو! اب آئندہ نہ کبیسہ ہوگا نہ نسی ہواکرے گی۔ چار مہینے حرمت والے ہیں، تین پے درپے اور ایک رجب کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے بیچ میں ہوتا ہے۔ ( ملاحظہ کریں :صحیح بخاری بروایت ابی بکرہ :حدیث4662، 3197، 7447، مسلم:4383، ابوداؤد 1947)

        یہی فرمان رسولﷺ ہجری سنہ کا مصدر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اسلامی تقویم کی ندرت یہ ہے کہ یہ فطرت سے ہم آہنگ اور ہرسال کبیسہ کے بغیر 12؍مہینوں کا ہوتا ہے۔ روئیت ہلال کی شام سے مہینہ شروع ہوتا ہے اسلام کے تمام مذہبی امور کی انجام دہی کا مدار قمری تاریخوں پر ہے۔

ہجری سنہ کا آغاز :

        دین اسلام نے اپنے متبعین کو ہرباب میں رہ نمائی دی ہے۔ اس نے انہیں جاہلیت کی تاریکیوں سے نکال کر صراط مستقیم پر گامزن کردیا اور وہ تمام روزن بند کردیے جہاں سے جاہلیت کے گھسنے کا امکان ہوسکتا تھا اور مسلمانون کو یہ تصور دیا کہ انہیں اپنا دین وایمان عزیز رہے۔ آغاز ہی میں مکی سورتوں میں حکم دیا کہ اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل کرو اور مشرکین کے طرزحیات سے دور رہو۔ ’’ولا ترکنواالی الذین ظلموا فتمسکم النار (ھود:113)

        ان ہی ہدایات کی تعمیل میں جب کوئی صحابی اسلام کا اعلان کرتا تو صرف دین اسلام کا ہوکر رہ جاتا اور جاہلیت کی تمام چیزوں کو خیرباد کہدیتا حتی کہ معمولی چیزیں جن کی کوئی حیثیت نہ تھی، ان سے اپنے آپ کو دور رکھا جاتا۔ تاریخ اور سنین کے استعمال میں بھی صدر اول کے مسلمانوں کا یہی عمل تھا۔ اسی لیے شروع سے ہی عہد رسولﷺ میں مسلمان خاص خاص واقعات سے اپنے سالوں کو موسوم کیا کرتے تھے۔ حالاں کہ عربوں میں سنین کا تصور بالکل مفقود نہ تھا۔ بلکہ مشرکین مکہ عام الفیل اور یہودی بیت المقدس کی تباہی کے واقعہ سے تاریخ اور سال شمار کرتے تھے۔ سنہ اذن، سنہ امر بالقتال، سنہ تمحیص، سنہ ترفئہ، سنہ استغلاب، سنہ استوار، سنہ برأت، اور سنہ وداع وغیرہ سنین کے استعمال کا پتا روایات سے چلتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سب سنوں کا تعلق دعوت دین کے اہم واقعات ومراحل سے ہے کسی شخصیت کی طرف منسوب نہیں۔ یہی اسلام کا مزاج ہے کہ وہ کسی شخصیت کی تاریخ نہیں ایک طریق زندگی ہے۔

        لیکن سنین کا یہ تسلسل کب تک چلتا اور کیسے یاد رکھاجاتا؟چناں چہ عہد فاروقی میں صحابہؓ نے اس طرف توجہ دی۔ عمر فاروق ؓکی ایماء پر اکابر صحابہؓ کی کی نششت ہوئی، اسلامی تقویم کا ایجنڈا پیش ہوا، حضرت علیؓ کی فراست نے ہجرت نبویﷺ کو نقطۂ آغاز اور حضرت عثمان ؓ نے محرم الحرام کو پہلے مہینہ کی حیثیت سے باقی رہنے کا مشورہ دیا اور سب کے اتفاق سے فیصلہ ہوا۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروقؓ نے اس کے استعمال کو لازم کردیا اور اس طرح صحابہؓ کے اتفاق سے ہجری سنہ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ یہ فیصلہ یوم الخمیس 30؍جمادی الثانیہ 17ھ کو ہوا۔ (رحمۃ للعالمین جلد دوم ص 450)

        البتہ بعض محققین کا اصرار ہے کہ سنہ ہجری کی ابتداء نبیﷺ کے حکم سے ہوچکی تھی۔ مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے بعد ہی آپﷺ نے تاریخ لکھنے کا حکم دیا تھا۔ دوبارہ خطبۂ حجۃ الوداع 10ھ میں آپﷺ نے اعلان کیا، اسی وقت سے ہجری سنہ کا استعمال ہوا، بعد میں حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے عہد خلافت میں بعض عوامل کے پیش نظر سرکاری حکم کے تحت اس کو لازم کردیا کہ سرکاری مراسلات وبین القوامی معاملات میں سنہ ہجری کا استعمال ہونا چاہیے۔ (تاریخ ابن عساکر ج 1 ص 31، صبح الاعشیٰ ج 6 ص 240، کتاب الشماریخ فی علم التاریخ الباب الاول، تقویم تاریخی عبدالقدوس ہاشمی، نقوش سیرت نمبر ج 2 ص 118، بحوالہ طبری دوم، ندائے خلافت 4 محرم 1425ھ ) سیوطیؒ نے ابن شہاب کے حوالے سے اس روایت کو نقل کرکے راجح قرار دیا ہے۔ (دیکھیے کتاب الشماریخ) لیکن ابن حجر نے اس روایت کو معضل کہا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ راجح یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے ہجری سنہ کا تقرر فرمایا ہے۔ ( فتح الباری ج 7، ص 268 باب التاریخ ومن این ارخواالتاریخ)

سنہ ہجری کی اہمیت وضرورت:

        ہجری تقویم اسلامی تقویم ہے۔ اس کا تعلق اسلامی تاریخ اور تہذیب اسلامی سے ہے۔ اس کا سلسلہ صحابہؓ، خلفائے راشدینؓ اور نبیﷺ تک پہنچتا ہے۔ کتب تاریخ وسیرت اور کتب تفاسیر واحادیث میں اسی سنہ کا استعمال ہے۔ نبیﷺ اور اپنے اسلاف صحابہؓ وتابعین سے حقیقی واقفیت کے لیے اور اسلامی تاریخ جاننے کے لیے اس سنہ کا استعمال اور اس کی واقفیت ضروری ہے۔ ہجری تقویم قمری بنیادی پر قائم ہے۔ قرآن مجید میں چاند کا ایک فائدہ’’ لتعلموا عدد السنین والحساب‘‘ بتایا گیا ہے۔ (یونس:5، توبہ: 37) یہ تقویم اس آیت سے مناسبت رکھتی ہے۔

        خلفائے راشدین سے لے کر عہد بنو امیہ، بنوعباس، عہد عثمانی تک تمام مسلمانوں کا تعامل اسی پر سرکاری وعوامی سطح پر رہا ہے اور اسی سنہ کا زور رہا ہے۔ بلکہ مسلمانوں کے دور عروج میں سنہ ہجری کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ دسویں صدی عیسوی سے پہلے تک دیگر قوموں نے بھی اس کا استعمال کیا ہے۔ اس وجہ سے یہ تقویم اسلامی تہذیب کا حصہ اور مسلمانوں کی علامت بن گئی ہے۔ سنہ ہجری کے بغیر اسلامی تہذیب، اسلامی ریاست اور مسلمان معاشرہ کا تصور نہیں رہتا بلکہ یہ لازم وملزوم کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔

        اہل باطل کی وہ چیزیں جو ان کی علامت بن چکی ہوں، شعائر کا درجہ رکھتی ہوں، ان کی تہذیب اور ان کے رسم ورواج کا جز بن جائیں ان کا ستعمال نہ کرنا اور ان سے حتی الامکان اجتناب کرنا اسلام کی تعلیم اور ایمان کی دلیل ہے اور یہ مطلوبہ عمل اس بات کا پتا دیتا ہے کہ ہمیں اپنا متاع دین وایمان عزیز تر ہے کیوں کہ باطل سے قریب ہونے کی صورت میں ان کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں ضرور پڑتے ہیں۔ اسی لیے امت کو دوسروں کی نقالی سے روکا گیا ہے۔ ’’من تشبہ بقوم فھو منھم ‘‘۔ (ابوداؤد کتاب اللباس ح 4031) دیگر احادیث میں اس کی اسی طرح تلقین کی گئی ہے۔ ان احادیث کی تعمیل اور تقاضا کے طور پر بھی ہم کو سنہ ہجری کے استعمال پر زور دینا چاہیے۔ غیر اسلامی تہذیبوں اور ان کے اختلاط واثرات سے بچنے میں ہجری سنہ کا استعمال بھی کسی حد تک معاون ہوسکتا ہے۔

        سنہ ہجری کا نقطۂ آغاز ہجرت نبویﷺ ہے۔ ہجرت اسلامی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ بلکہ حق وباطل کی کشمکش اور اسلامی انقلاب کی جدوجہد میں ہجرت کو ایک مقام حاصل ہے۔ ہجرت ایک عبادت، انبیاء کی سنت، دعوت دین کا ایک مرحلہ، حکمت دین کا ایک گوشہ، اور تحریکی پالیسی کاایک حساس دفعہ ہے۔ ہجرت کی اپنی تاریخ ہے، اس کے پیچھے متعدد حکمتیں، قیمتی دروس وعبرت اور دوررس اثرات ہیں۔ ہجری سنہ کا استعمال کرنے کی صورت میں یہ تجسس ضرور پیدا ہوگا کہ ایک مسلمان معلوم کرے کہ ہجرت کا مقام ومرتبہ کیا ہے؟ ہجرت کیوں کی جاتی ہے؟ صحابہ کرام ؓنے مدینہ ہجرت کیوں کی تھی؟ ہجرت کے وقت کن چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے؟ ہجرت کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے؟ ہجرت میں میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟ کیا آج بھی ہجرت کا مطالبہ ہوسکتا ہے ؟ اس طرح ہجری سنہ تعلیم وتحریض کا انتہائی اہم ذریعہ بھی ہے۔

اسلامی تقویم کا آغاز واقعہ ہجرت سے کیوں؟

        ہجرت کو تقویم اسلامی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے۔ آغاز تقویم یا اس کی نسبت کے لیے ولادت نبوی، بعثت نبوی، یوم بدر، یا فتح مکہ وغیرہ کو بھی اہمیت دی جاسکتی تھی لیکن ہجرت کے انتخاب میں کیا پیغام ہے؟ اس کے جواب میں میں ہمارے دور کے معروف اسلامی مصنف سید اسعد گیلانیؒ رقم طراز ہیں : ’’ حضو ر اکرمﷺ کی عظیم اسلامی تحریک کی جدوجہد میں وقعہ ہجرت بظاہر تو ایک نا خوشگوار واقعہ ہے لیکن حقیقتا ًیہ اسلامی انقلاب کی طرف ایک اہم پیش قدمی ہے۔ مسلمانوں نے اسی لیے اپنی تقویم کو کسی شخصیت، خاندان یا قوم کی طرف نسبت دینے کے بجائے ایک نظریہ کی جدوجہد کے ایک مخصوص مرحلے سے نسبت دی ہے۔ مسلمانوں کا سنہ سنہ ہجری ہے جو ہجرت کے واقعہ سے شروع ہوتا ہے چناں چہ ہردفعہ جب مسلمان اپنے سالِ نو کا آغاز کرتے ہیں تو ویہ اپنی تاریخ کی عظیم ترین اسلامی تاریخ کی بھرپور جدوجہد کے لیے ایک ایسے مرحلے کی یادتازہ کرتے ہیں جب وہ کسمپرسی اور جبروتشدد کے ماحول سے نکل کر ایک اسلامی ریاست کے قیام کے مرحلے میں قدم رکھ رہے تھے … یہ اللہ کی حکمت ہے کہ ہجرت کی تاریخ نئے سال کی یکم تاریخ کے ساتھ اس طرح منطبق ہوگئی کہ ہجرت ہی مسلمانوں کے لیے سال نو کا موضوع بن کر رہ گئی ہے۔ …… اس طرح جب مسلمان اپنے سال نو کا آغاز کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو ایک نظریاتی گروہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ ہجرت مدینہ کا واقعہ اپنی تاریخی اہمیت کے لحاظ سے فتح مکہ سے کسی صورت کم نہیں ہے بلکہ شاید کچھ زائد ہی ہے۔ جس روز ہجرت کرکے مکہ چھوڑا جارہا تھا، اسی روز تاریخ کے ایوان میں مکہ کی فتح کا سنگ بنیاد رکھا جارہا تھا۔ ‘‘ (ہجرت رسولﷺ سید اسعد گیلانیؒ، نقوش سیرت نمبر ج 8، ص 250۔ 251)

        حضرت عمرؓ کا قول جو براہ راست اس مسئلہ سے متعلق ہے قابل ذکر ہے۔ اس مقصد کی خاطر صحابہؓ کی جو نششت منعقد ہوئی، اس میں جب حضرت علیؓ نے ہجرت کو مبداء تاریخ قراردینے کا مشورہ دیا تو حضرت عمرؓ نے یہ کہتے ہوئے اپنی پسندیدگی کا کا اظہار کیا:’’لابل نورخ بمھاجر رسول اللہﷺ فان مھاجرہ فرق بین الحق والباطل‘‘ ہجرت حق اور باطل کے درمیان فارق کی حیثیت رکھتی ہے لہٰذا اسی کو تاریخ اور سنہ کے لیے ہم مبداء مقرر کریں گے۔ (ابن عساکر جلد اول ص : 35، الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ ص:142)

        قابل غور بات ہے کہ صحابہ کرامؓ نے ہجرت کا انتخاب کیوں کیا ؟ جو بظاہر درماندگی، شکست اور مجبورانہ اقدام سے عبارت ہے۔ انہوں نے دیگر قوموں کی طرح فتح وظفر کو مبداء تاریخ کیوں نہیں بنایا؟ حقیقت ہے کہ حق کا معیار باطل کے معیار سے قطعا ًمختلف ہے۔ اسلام میں اصل مقصود فلاح آخرت ہے جب کہ باطل کے عزائم کا منتہی مادی غلبہ اور دنیاوی فتح وغلبہ کے بعد ایک نئی آزمائش کا باب وا ہوتا ہے۔

        ہجرت دعوت دین کی ذمہ داری اور فریضہ استقامت میں اہل دعوت کی کامیابی کا خدائی سرٹیفیکٹ ہے کیوں کہ ہجرت کا فیصلہ محض اذیتوں سے گھبراکر مجبورا یا جلد بازی میں نہیں لیا گیا تھا بلکہ اللہ کے اذن سے ہجرت مدینہ ہوئی اور یہ اذن خاص دعوت دین کاحق ادا کرنے اور صبرواستقامت کے ساتھ حجت تمام کردینے کے بعد ہی ملتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہجرت مکمل تائید الٰہی کا مظہر ہے۔ کلمہ باطل کی شکست اور کلمہ حق کے فتح کی علامت بھی ہے۔ ’’الاتنصروہ فقد نصرہ اللہ اذاخرجہ الذین کفروا ثانی اثنین اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا فانزل اللہ سکینتہ علیہ وایدہ بجنود لم تروھا وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی وکلمۃ اللہ ھی العلیا واللہ عزیز حکیم‘‘(التوبۃ:40) تم نے اگر نبی کی مدد نہ کی تو کچھ پروا نہیں، اللہ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ’’غم نہ کر‘‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے، اس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔ اور کافروں کا بول نیچا کردیا۔ اور اللہ کا بول تو اونچا ہے ہی، اللہ زبردست اور دانا وبینا ہے۔ ‘‘

سنہ ہجری کے استعمال کی آسان سورتیں :

        ہجری تاریخوں کے استعمال میں حقیتاً کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہجری سنہ ہمارے یہاں رائج نہیں ہے ورنہ یہ فطرت سے اس قدر ہم آہنگ اور آسان ہے کہ ہرفرد اس سے بخوبی واقف ہوتا اور عام شخص کوبھی اس مسئلہ میں کسی تفہیم کی ضرورت نہ ہوتی۔

        ہجری سنہ کے استعمال کا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ رویت پر اعتماد کرکے ہرماہ یکم تاریخ کا فیصلہ ہو اور پورے مہینے اس کا استعمال ہو۔ اس کی تاریخوں میں عالمی یکسانیت ضروری نہیں ہے البتہ مطلع کی حد تک روئت ہلال کمیٹیوں کی تشکیل ہو وہ فیصلہ لیں اور بروقت اعلان کا انتظام کریں۔ انگریزی تاریخ ہرخاص وعام استعمال کررہاہے اور کوئی آدمی معاشرہ سے الگ نہیں رہ سکتا ہے۔ لہٰذا ہجری تاریخ کے ساتھ ضرورتا ًدن کی وضاحت بھی ہو تاکہ تقابل میں آسانی بھی ہو۔ آج کی موجودہ صورت حال میں انگریزی تاریخوں کا استعمال ناگزیر ہے۔ لیکن اصول یہ ہوکہ ہجری تاریخ کو مقدم رکھاجائے پھر آگے عیسوی تاریخ کی وضاحت ہو۔ ’’یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر ‘‘ البقرۃ:185) اسی طرح جہاں ہجری تاریخوں کے استعمال میں کوئی روکاوٹ نہ ہو وہاں ہجری تاریخ کا استعمال ضرور کیا جائے۔ ایسا نہ ہونے پائے کہ اس کے استعمال میں ہم خود روکاوت بن جائیں۔ مثلاًٍ نجی ضرورتوں، ڈائری، حساب وکتاب، اور خطوط وغیرہ میں استعمال کریں۔ اسلامی مدارس وجامعات، تنظیموں اور اصلاحی ودعوتی، جماعتوں کو چاہیے کہ جس حدتک اس کا استعمال کرسکتے ہوں ضرور کریں۔ مدارس وجامعات میں وسیع پیمانے پر اس کا استعمال بآسانی ممکن ہے اور بہت مفید بھی ہوگا۔ اپنا کلنڈر تیار کرتے وقت اس بات کا اہتمام ہو کہ ہجری تاریخوں کو فوکس کیا جائے اور ہجری کلنڈر تیار کیا جائے جس میں عیسوی تاریخوں کو ضمناً شامل رکھا جائے۔

ہجری سنہ سے متعلق بعض شبہات کا ازالہ:

        ہم جس خطۂ ارض میں رہتے ہیں وہاں عیسوی سنہ کا استعمال ہے۔ خط وکتابت اور عام بول چال سے لے کر اخبارات، سرکاری وغیر سرکاری اعلانات میں اسی کا استعمال ہے۔ ہجری سنہ کو نہ کوئی استعمال کرتا ہے اور نہ کسی کو استعمال کرتے دیکھتا ہے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جس کونہ صرف یہ کہ ہجری مہینے اور اس کی تاریخ کا علم نہیں ہوتا ہے بلکہ اکثر وبیشتر کو ہجری سال کا بھی پتا نہیں ہوتا، عوام تو عوام خواص کا بھی اس سے استثنا نہیں ہے۔ اس سے بھی آگے اسے ناقابل استعمال سمجھنا، اس میں نقص محسوس کرنا اور اس کے بعض مسئلوں کو ناقابل حل سمجھنا، عام خیال ہے ذہنوں میں اس کے تعلق سے کچھ شبہات ہیں حالاں کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

1۔      ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ہجری سنہ میں رویت ہلال سے تاریخوں کا تعین ہوتا ہے اختلاف مطالع اور اختلاف رائے کے نتیجے میں تاریخوں میں یکسانیت ناممکن ہے۔

        یہ غلط فہمی اس وجہ سے پیداہوتی ہے کہ آج چوں کہ اسلامی تہذیب کا دوردورہ نہیں ہے، میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر مسلمانوں کا قبضہ نہیں ہے۔ ہرطرف اور ہر چیز میں انگریزی تاریخوں کا استعمال عام بلکہ لازمی بنادیا گیا ہے۔ اس لیے سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ آخر ہجری کلنڈر کو رواج دینے کی صورت میں جب ہم رویت کو حتمی اور فیصلہ کن قراردیں گے تو پھر رویت کی تعیین کا مسئلہ ہوگا۔ ہرماہ یکم تاریخ کی تعیین اور لوگوں کو اس کا علم کیسے ہوگا۔ جب کہ تاریک کا یہ قضیہ اتفاق کا طالب ہے۔

        اسلامی تعلیمات کا تفصیلی مطالعہ کریں اور باریک بینی سے جائزہ لیں تو جہاں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دین اسلام میں اس بات کی صلاحیت ہے کہ انسانی زندگی کے مختلف ادوار کا ساتھ دے سکے، اس کی تعلیمات اور احکام پر عمل کرنا، ہمہ وقت ممکن ہے اور تبدیلی زمان ومکان اس میں روکاوٹ نہیں بن سکتی ہے۔ وہیں یہ بات بھی آشکارا ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روح غلبہ وتفوق ہے، یہ اپنے مخاطب کو غالب قوم کی حیثیت میں دیکھنا چاہتی ہے اور اس صورت میں مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ ہمارے پاس زمانے کے تمام ممکنہ ذرائع ابلاغ ہوں گے۔ رویت ہلال کی ریاستی کمیٹی غروب آفتاب کے چند منٹوں بعد آپ تک خبر نشر کردے گی۔ گھر بیٹھے ٹیلی ویزن، ریڈیو، اور دیگر ممکنہ ذرائع سے فورا اطلاع ہوجائے گی۔

2۔      یہ بھی کہاجاتا ہے کہ سنہ ہجری کی تاریخوں میں تفاوت ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں آج عید ہے تو ہمارے یہاں کل عید ہوگی، پرسوں کہیں اور۔ عیسوی سنہ کی طرح ہجری تاریخوں میں یکسانیت ہونی چاہیے۔ آج یکم مارچ ہے تو ہرجگہ یہی تاریخ ہوتی ہے خواہ ہندوستان ہو یا مغربی ممالک۔

        یہ شبہ لاعلمی پر مبنی ہے زمین کی گولائی، اس کی محوری گردش اور چاند کے مطالع مختلف ہونے کی وجہ سے جب پوری دنیا میں ایک ساتھ صبح وشام نہیں ہوتے تو پھر تاریخ میں کیوں کریکسانیت ہوسکتی ہے۔ رات کے بارہ بجتے ہی ہمارے یہاں انگریزی کی اگلی تاریخ شروع ہوجاتی ہے جب کہ مغرب کے وہ علاقے جہاں دس گیارہ گھنٹے بعد سورج طلوع ہوتا ہے ابھی پچھلی تاریخ ہی رہتی ہے۔ گویا عیسوی تاریخ ہمارے یہاں پہلے اور ان ممالک میں بعد میں شروع ہوتی ہے جہاں سورج بعد میں طلوع ہوتا ہے۔ اسی طرح ہجری تاریخ کا آغاز سعودی عرب اور ان ممالک میں مقدم ہے جہاں غروب آفتاب پہلے ہوتا ہے معلوم ہوا کہ تفاوت کا یہ مسئلہ صرف ہجری سنہ میں نہیں بلکہ دنیا کے ہرکلنڈر میں پایا جاتا ہے۔

        دوسرے اس کی حکمت یہ ہے کہ رب کی کبریائی اور اس کی عبادت چند لمحے میں ختم نہ ہوجائے بلکہ مختلف ممالک کے مسلمان مختلف اوقات وایام میں عید مناکر کئی روز تک اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کرتے رہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہروقت کہیں نہ کہیں نماز ہوتی رہتی ہے۔ اور دن کا کوئی گھنٹہ ایسا نہیں ہے گذرتا کہ اللہ کے کچھ بندے اس کی اطاعت میں نماز نہ قائم کررہے ہوں۔

3۔      ایک شبہ یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ انگریزی تاریخ کی طرح ہجری تاریخ پہلے سے متعین نہیں ہوتی ہے۔ کوئی پروگرام طے کرتے وقت اس کا استعمال نہیں ہوسکتا ہے۔

        انگریزی تاریخ کی طرح ہجری تاریخ بھی اگر پہلے سے متعین رہاکرتی تو کوئی اللہ کی نشانی چاند دیکھ کر اللہ کو یاد نہ کرتا، اپنے سارے نظام کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہ کرتا، شعائر کی حرمت نہ ہوتی اور پہلے سے تیاری اور شوق کا مظاہرہ نہ ہوتا۔ رمضان المبارک کے روزے، عید الفطر، عید الاضحیٰ، صوم یوم عاشوراء اور دوسرے نفلی عبادات وغیرہ گویاہم کو چاند دیکھ کر روزہ رکھنا تھا، نہ کہ ہم پہلے سے کوئی متفقہ فیصلہ لے لیتے کہ ہاں فلان دن عید منائیں گے۔ وقت تکوینی نظام کا حصہ ہے، گویا اس طرح ہم کو یاددہانی ہوتی رہتی ہے کہ ہم مکمل اللہ کے تابع ہیں اور اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ لینے کے مجاز نہیں ہیں۔

4۔      بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہجری سنہ کا استعمال نہیں ہے ہرجگہ انگریزی تاریخوں کا استعمال عام ہے، پھر آخر ہجری سنہ کے استعمال کی بات کہاں تک معقول ہے ؟

        اس سلسلہ میں عرض ہے کہ ہجری سنہ کی حیثیت، اہمیت اور ضرورت کا تذکرہ پیچھے آچکا ہے، اب اگر اس سنہ کا استعمال نہیں ہے تو کسی چیز کا استعمال میں نہ ہونا، اس بات کی دلیل نہیں کہ اس کا استعمال نہیں ہوسکتا ہے اور نہ اس کے استعمال کی ضرورت ہے۔ یہاں ہجری سنہ کا استعمال نہین لیکن بہت سے عرب ممالک میں آج بھی ہجری سنہ کا استعمال عام ہے اور اس تقویم کو سرکاری حیثیت حال ہے۔

5۔      ایک اشکال یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ہجرت نبوی کا تاریخی سفر 27؍ صفر سے 22؍ربیع الاول تک ہواہے ۔ ماہ محرم اس میں شامل نہیں، پھر سنہ ہجری کا آغاز ربیع الاول کے بجائے محرم الحرام سے کیوں ؟ ہجرت نبوی ﷺ سے تقریبا دو مہینہ پہلے سے سنہ کا آغاز کیوں کیاگیا؟

        اس کے جواب میں وہ قول دوہرانا مناسب ہوگا جو حضرت عثمان نے محرم الحرام کو مبداء مقرر کرنے کا مشورہ دیتے وقت فرمایا تھا    : ’’ محرم الحرام کو سنہ کا پہلا مہینہ مقرر کرو، یہ ماہ حرام ہے، عرب اسے پہلا مہینہ شمار کرتے ہیں اور یہ حج سے واپسی کا زمانہ ہے پس صحابہ ؓ نے محرم کو پہلا مہینہ قراردیا۔ ‘‘(فتح الباری ج7 ص 269، ابن عساکر ج اول ص 37)

        گویا مہینوں کی بابت قدیم زمانے سے چلے آرہے عربوں کے نظام کو باقی رکھا گیا، یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب خلیفۃ المسلمین کے خطبہ ٔحج کا پیغام لے کر مسلمان حاجی گھروں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں اور یہ پیغام دنیا کے چپہ چپہ تک پہونچ جاتا ہے۔

        اس تعلق سے حافظ ابن حجرؒ نے ایک عمدہ بات لکھی ہے’’چوں کہ بیعت عقبہ ثانیہ ذوالحجہ 13 ؍نبوی میں ہوئی اور یہ بیعت ہجرت نبوی کی تمہید تھی اس تمہید کے بعد جو پہلا چاند طلوع ہوا وہ ماہ محرم کا چاند تھا اور اسی مہینہ میں آپ ﷺ نے ہجرت کا ارادہ فرمالیا تھا۔ اسی مناسبت سے صحابہ نے ماہ محرم کو مبداء کی حیثیت سے برقرار رکھا۔ میری علم کی حد تک یہی توجیہ بہتر ہے۔ ‘‘( فتح الباری جلد 7 ص 268)

ہجری تقویم کے بعض خصائص وامتیازات:

        ہجری تقویم میں بعض ایسے خصائص وامتیازات ہیں جو دوسرے سنین اور کلنڈر میں نہیں پائے جاتے ہیں۔

1۔      سنہ ہجری قمری تقویم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ماہ وسال کی تعیین کے لیے چاند ہی میقات بن سکتا تھا۔ اس کے برعکس رائج شمسی سال (عیسوی کلنڈر)فطری سال نہیں بلکہ خالص حسابی سال ہے۔ جو علم ہیئت اور علم ریاضی پر مبنی ہے۔ اور تاریخ کے مختلف ادوار میں علم ہیئت کے نظریات میں تبدیلی یا اصلاح کے ساتھ ترمیم وتنسیخ سے دوچار رہا ہے۔ (ملاحظہ کریں : وقت، تعریف، اقسام اور ضروری اصطلاحات از پروفیسر رفیع اللہ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ مجلہ دراسات دینیہ 1995۔ 1992(1996) حوالہ تحقیقات اسلامی جولائی تاستمبر 1999 رویت ہلال اختلاف مطالع اور فلکی حساب)

2۔ ہجری تقویم کی بنیاد رویت ہلال ہے، چاند کے عروج وزوال کے مظاہر ہر ماہ آسمان پر پوری طرح نمایاں ہوتے ہیں۔ آسانی کے ساتھ ہرکوئی معلوم کرسکتا ہے مہینہ مکمل ہوگیا کسی رصد گاہ جانے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح قمری ہجری سال 354 دن سے کم اور 355 دن سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔

3۔ اختلاف لیل ونہار اور گردش ارض وقمر سے سال ومہینے کا جو فطری نظام ہے، ہجری سنہ بالکل اس کے مطابق ہے قمری سال حقیقی سال ہوتا ہے۔ جب چاند زمین کے گرد ایک چکر مکمل کرلے تو مہینہ اور بارہ چکر مکمل کرلے تو سال پورا ہوتا ہے۔ حالاں کہ عیسوی سنہ میں ایسا کچھ استقلال نہیں۔ عیسوی سنہ سال میں 365 دن اور تقریبا چھ گھنٹے ہوتے ہیں گویا آخری دن ربع کے اختتام پر ہی سال مکمل ہوجاتا ہے اور دن کا 4؍3 حصہ اگلے سال میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس طرح بلامنزل بیچ دن ہی میں سال کا اختتام ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تصحیح کے لیے ہرچوتھے سال فروری 29 دن، لیپ سال، ہر صدی کا آخری سال عدم لیپ اور ہر چار صدی کا آخری سال لیپ شمار کیا جاتا ہے اور ہر چارہزار سال بعد لیپ کا شمار نہیں ہوتا، اتنی حسابی زحمتوں کے بعد بھی عیسوی سال حقیقی نہیں ہوپاتا۔ (جوہر تقویم از ضیاء الدین لاہوری ص 2)

4۔ سنہ ہجری شروع سے اپنی اصل صورت مجوزہ پر باقی اور قائم چلاآرہاہے، اس میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔ اسلامی تقویم کی یہ وہ منفرد خصوصیت ہے جو غالباً دنیا کے کسی متداول کلنڈر میں نہیں، عیسوی تقویم بھی اس خصوصیت سے عاری ہے۔ (رحمۃ للعالمین جلد دوم ص 450)

        عیسوی تقویم تو باربار ترمیم ہوچکی ہے آخری ترمیم پوپ گریگوری کے حکم سے 4؍ اکتوبر 1582ء کے بعد آنے والے دن کو 5؍ کے بجائے 15؍ اکتوبر 1582ء شمار کیا گیا تاکہ اس سے پہلے جوہرسال 11؍منٹ 14؍سکنڈ کی مقدار اپنے صحیح مقدار سے ہٹ جایا کرتی تھی اس کی تصحیح ہوجائے کرے کیوں کہ فروری 29 ؍کرنے پر بھی صحیح تعین نہیں ہوپاتا ہے۔

        اسی طرح عیسوی تقویم کے مبداء میں اختلاف رہاہے یکم جنوری کو مبداء کی حیثیت میں (circum cision style)سرکم سائزن اسٹائل کی رو سے گریگوری تقویم کے اجرا کے وقت مقررکیا گیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ عیسوی تقویم کی ترمیم اتفاقی نہیں بلکہ ہرترمیم کو الگ الگ ملکوں نے مختلف اوقات میں جاری کیا۔

5۔ بہ لحاظ تداول اور استعمال بھی سنہ ہجری دنیا کے اکثر مروجہ سنین سے قدیم سنہ ہے گرچہ دوسرے مروجہ سنین اپنے اعداد کے لحاظ سے سنہ ہجری سے زیادہ پرانے معلوم ہوتے ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: رحمۃ للعالمین جلد دوم 450تا 451)

        عہد فاروقی 17ھ میں اسے سرکاری واسلامی سنہ قراردیا گیا اور ہر سطح پر اس کا استعمال ہوا۔ 478ء مطابق 130ھ میں جب عیسوی سنہ کو رائج کیا گیا تو ہجری سنہ باقاعدہ عوامی وسرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر استعمال ہورہا تھا، مسلمان ہر چھوتے بڑے معاملات اور خط وکتابت میں اسے استعمال کررہے تھے۔

        واضح رہے عیسوی سنہ 748ء مطابق 130ھ میں رائج تو کردیا گیا لیکن غیر معروف رہا۔ اس وقت مسلمانوں کی حکم رانی تھی ہر طرف سنہ ہجری کا رواج تھا۔ ہاں جب مسلمانوں کا سیاسی زوال ہوا، علم وتمدن اور سیاسی اقتدار مسلمانوں سے جاتا رہا، تب دسویں صدی کے اختتام پر وقت کے مسیحی مورخین نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف غلط منسوب کرکے عیسوی سنہ پر زور دیا اور باربار ترمیم واضافہ کرکے مقبول عام بنانے کی کوشش کی۔ (تقویم تاریخی، عبدالقدوس ہاشمی ’سالہائے قبل الہجرۃ وقبل المسیح‘)۔

6۔ ہجری سنہ میں لوند، کسر یا ماہ کبیسہ نہیں ہوتا، سالوں کا حساب ہمیشہ قمری بنیادوں پر ہوتا ہے۔ اور شمسی سال کے لیے تطبیق دینے کے لیے کبیسہ کا کوئی سسٹم نہیں ہے کیوں کہ وقت تکوینی نظام کا حصہ ہے اور نسئی کی صورت میں خود انسان کا دخل ہوتا ہے۔

        مولانا وحیدالدین خان ایک جگہ نسیٔ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’قرآن مجید میں جس چیز کی ممانعت کی گئی ہے وہ کبیسہ کے مہینے ٹھرانا نہیں بلکہ نسیٔ ہے۔ (التوبہ:37) نسیٔ کے معنی عربی زبان میں تاخیر کے ہیں۔ یعنی مؤخر کرنا، ہٹانا، مثلا حوض پر ایک جانور پانی پی رہاہے اور آپ نے اس کو ہٹا کر اپنے جانور کو حوض پر کھڑا کردیا کہ پہلے آپ کا جانور پانی پی لے اس کے بعد دوسرا پیئے، تو اس طرح ہٹانے کو کہیں گے نسأ الدابۃ‘‘۔

        حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعہ جو طریقے رائج ہوئے تھے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ’’ اشہر حرم‘‘ (خاص ادب واحترم کے ساتھ مہینے ) ہیں۔ یہ مہینے ذوالقعدۃ، ذوالحجۃ، محرم اور رجب تھے۔ ان میں خونریزی اور جدال وقتال بند کردیا جاتا تھا لوگ حج وعمرہ اور کاروبار کے لیے امن وامان کے ساتھ آزادانہ سفر کرسکتے تھے۔ بعد کو جب قبائل عرب میں سرکشی پیدا ہوئی تو انہوں نے اس قانون کی پابندی سے بچنے کے لیے نسی ٔکی رسم نکالی، یعنی جب کسی زور آور قبیلہ کی خواہش ماہ محرم میں جنگ کرنے کی ہوئی تو ایک سردار نے اعلان کردیا کہ امسال ہم نے محرم کو اشہر حرم سے نکال کر اس جگہ صفر کو حرام کردیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں محرم کو اپنی جگہ سے ہٹاکر صفر کی جگہ رکھ دیا ہے۔ یہی محترم مہینوں کو آگے پیچھے کرنے کی رسم تھی، جس کو نسیٔ کہاجاتا تھا۔ اور اسی کے متعلق قرآن میں کہاگیا ہے کہ’’ زِیَادَۃ ٌفیِ الْکُفْرِ‘‘ ہے۔ (علم جدید کا چیلنج ص 34)

7۔      ہجری سنہ کا ایک امتیاز دنوں اور مہینوں کی گردش ہے جو کسی بھی متداول کلنڈر میں نہیں ہے، اسلامی مہینے مختلف موسموں میں گردش کرتے رہتے ہیں، دراصل اسی امتیازی وصف کو باقی رکھنے کے لیے کبیسہ نہیں ہوتا، یہ بظاہر نقص معلوم ہوتا ہے کہ ہجری مہینے موسم کے ساتھ باقی نہیں رہ پاتے۔ حقیقت میں اسلام کی ایک صفت مساوات یہاں کارفرما ہے۔ 30 سال کے قلیل عرصہ میں ایک ہجری مہینہ ہرموسم میں شریک ہوجاتا ہے۔ ارکان اسلام روزہ حج اور زکوۃ قمری مہینوں سے وابستہ ہیں، اگر تقلب ایام کو باقی نہ رکھا جاتا، ماہ کبیسہ کی دراندازی ہوتی تو ہماری یہ عبادتیں ایک ہی موسم کے ساتھ خاص ہوکر رہ جاتیں۔ اسلام دین فطرت ہے، انسان کی فطرت میکانکی یکسانیت کو ناپسند کرتی ہے اور تنوع سے انسان کو تازگی ملتی ہے۔ ’’خدا نخواستہ اسلامی سال کا شمار شمسی حساب پرہوتا یا اس میں ماہ کبیسہ کے اختیار کرنے کی برائی درانداز ہوتی تو نصف دنیا کے مسلمان ہمیشہ کے لیے آسانی اور نصف دنیا کے مسلمان ہمیشہ کے لیے سختی میں پرجاتے کیوں کہ ایک عالم علم جغرافیہ سے یہ امر پوشیدہ نہیں ہے کہ دسمبر جو نصف شمالی دنیا کا سرد اور سب سے چھوٹے دن کا مہینہ ہے وہ نصف جنوبی دنیا کا گرم اور طویل دن کا مہینہ ہے۔ پس اسلام کی مساوات وجہانگیری کا اقتضا ہی یہ تھا کہ اسلامی سال قمری حساب پر ہوتا اور قمر کی حرکات کو انسانی اختراع لوند وغیرہ  کی شمولیت سے کالعدم نہ کردیاجاتا۔ وللہ الحجۃ البالغۃ‘‘(رحمۃ للعالمین جلد دوم ص 451۔ 452)

8۔      ہجری سنہ کی ایک خصوصیت عبادتی کوائف میں عالمی مساوات ہے جودراصل تقلب ایام کا نتیجہ ہے۔ ’’قمری میقات کے نتیجہ میں تمام مسلمانان عالم کو عبادت کی ادائیگی کے وقت موسمی کیفیات میں یکساں طور پر شریک ہونے کا موقعہ ملتا ہے۔ عالم انسانیت کا کوئی گروہ اور خطۂ ارض کا کوئی علاقہ اپنی عبادات کے معاملہ میں کسی موسم سے محروم نہیں رہتا، بصورت دیگر ہرجگہ کے لوگ ہمیشہ کسی ایک ہی مخصوص موسم میں عبادت کے پابند ہوتے اور اس کی بناپر دیگر مسلمانوں کے ساتھ دوسرے موسم میں عبادات کے احساسات میں شریک نہیں ہوپاتے۔ ایک آفاقی وعالم گیر مذہب کے وصف عالمگیریت کے یہ سراسر خلاف تھا۔ چناں چہ اس نے اپنی عبادات میں بھی انسانی برادری کے درمیان مساوات وعدل کو قائم رکھا۔ ‘‘ (رویت ہلال اختلاف مطالع اور فلکی حساب:مفتی صباح الدین ملک فلاحی قاسمی، سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی، جولائی۔ ستمبر 1999ء )

9۔      اس طرح حج جو اسلام کا ایک رکن ہے اور انتہائی اہم عبادت ہے۔ ایک مقدس مقام میں بیت الحرام کی زیارت کے لیے بڑی تعداد میں دنیا بھر کے حاجی حضرات جمع ہوتے ہیں، حج کے مناسک اور فرائض کی ادائیگی کرتے ہیں اور اللہ کی کبریائی کا اجتماعی اعلان کرتے ہیں، تقلب ایام کی صورت میں اس مقدس مقام پر ذکر الٰہی، عبادات، حج کے مناسک اور اس کے ارکان کی ادائیگی ہر موسم سردی، گرمی، برسات میں ہوتی رہتی ہے اور تمام موسمی زمانے میں اس مقدس عبادت میں شریک ہوتے ہیں۔

01۔    ڈاکٹر حمیداللہؒ نے ’’عہد نبوی میں نظام مالیہ وتقویم‘‘ عنوان کے تحت اپنے خطبہ کے دوران ایک دلچسپ نقطہ بیان کیا وہ یہ کہ تجارت اور معدنیات وغیرہ کے ٹیکس پر قمری سال کو نافذ کرنے کی وجہ سے حکومت کو غیر معمولی فائدیہ ہوتا ہے۔ اگر اس مصلحت کا علم آج کے وزرائے مالیات کو ہوجائے تو وہ قمری سنہ کو اختیار کرلیں گے۔ کیوں کہ قمری سال شمسی سال سے گیارہ دن چھوٹا ہوتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو ہر شمسی تیس سال میں ایک زائد سال کے ٹیکس وصول ہوں گے اور کون وزیر اس زائد آمدنی کو پسند نہ کرے گا؟

        ایک اور نقطۂ نظر سے جانچیں آج کل حکومت کا خزانہ سال کے آخر میں ٹیکس ادا ہونے سے عین پہلے خالی ہوجاتا ہے، وزارت کو فوری ضرورتوں کے تحت سود پر قرض لینا پڑتا ہے ہجری سنہ کے استعمال کی صورت میں گیارہ دن قبل ٹیکس وصول ہوں گے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زراعتی ٹیکس اپنے موسم میں اور تجارتی ٹیکس مختلف موقعوں سے وصول ہواکرے گی، اس صورت میں خزانہ میں بحران کا امکان کم سے کم ہوگا۔ (خطبات نہاول پور ص 339)

11۔    آخری بات یہ کہ اس تقویم میں ہجرت کی مناسبت سے امت مسلمہ کے لیے بڑی عبرتیں ہیں۔ ہجرت سراپا پیغام ہے، راہ حق میں استقامت کا، دعوت حق کے لیے سب کچھ قربان کردینے کا، دین کے معاملہ میں کسی بھی درجہ میں مداہنت نہ اختیار کرنے کا، اسلام کی خاطر جان ومال گھر بار عزیز واقارب سب کچھ نچھاور کردینے کا اور ’’ انی ذاھب الی ربی سیھدی‘‘ کا مثانی نمونہ پیش کرنے کا، ہجرت میں

یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ باطل چاہے جتنا طاقتور ہوجائے نور حق کو بجھایا نہیں جاسکتا اور حق پرستوں کی جماعت بظاہر تنگدستی، مجبوری اور مغلوبیت کی انتہا کو پہنچ جائے لیکن اللہ کی رحمت سے محروم نہیں ہوسکتی اور اللہ کی مشیت ہوتو غلبہ وتمکن سے اس جماعت کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ہجری سنہ کے استعمال کی صورت میں ہر نئے سال کے موقع سے یہ سبق تازہ ہوتا رہتا ہے۔

        اس کے برعکس دیگر کلنڈروں کے استعمال میں بعض قباحتیں بھی ہیں۔ عیسوی سنہ کے مہینوں اور دنوں کے ماخذ پر غور کریں تو شرک کی بو آتی ہے۔ دنوں کی بابت یہ تحقیق ملتی ہے کہ ’’ ہفت روزہ تنجیمی مدت کا ماخذ مصر ہے، یونان زدہ مصر کے مروج نظریہ کے مطابق زحل، مشتری، مریخ، شمس، زہرہ، عطارد اور قمر ترتیب وار ایک ساعت مفروضہ حکومت کرتے ہیں۔ ( مفتاح التقویم فقرہ نمبر 48)

        غرض دنوں کی مدت تنجیمی یعنی سیاروی مدت ہے اور ان کے باطل عقیدہ کے مطابق ہرسیارہ ایک مفروضہ مدت تک خدا ہوتا ہے۔ ان ہی خداؤوں (دیوتاؤں ) سے نسبت دے کر دنوں کا نام رکھا گیا ہے۔ آج فلاں دیوتا کا دن ہےsaturday کی اصلsaturn (سیارہ زحل) ہے sundayکی اصل sun(سیارہ شمس) ہے mondayکی اصلmoon (سیارہ قمر) ہے وغیرہ۔

        اسی طرح ہندی انگریزی مہینوں ( چیت بیساکھ جنوری فروری ) کی نسبت بھی دیوتاؤں کی طرف ہے۔ ہندؤوں کے بعض مذہبی کتابوں میں یہ عقیدہ مذکور ہے کہ ہرمہینہ کا الگ الگ دیوتا ہوتا ہے، ان دیوتاؤں کے ناموں یا صفت سے وہ اپنا ہر مہینہ منسوب کرتے ہیں۔ ( کتاب ابی ریحان البیرونی فی تحقیق ماللھند ص 171۔ 176)

        پس ہمیں چاہیے کہ ہجری سنہ کو عام کریں، اس سے متعلق شکوک وشبہات کا ازالہ کریں، اس کے خصائص وامتیازات سے لوگوں کو آغاہ کریں، اس سے متعلق مسائل کی تفہیم کرائیں، ممکنہ حد تک اس کا استعمال کریں اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے رہیں۔ آج کے علماء اور قائدین ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے روز مرہ کے کاموں میں ہجری سنہ کے استعمال کا اہتمام کریں اور عامۃ المسلمین کو بھی برابر اس کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔

        یہ بات خوش آئند ہے کہ برصغیر ہند میں عام طور پر مدارس عربیہ میں ہجری سنہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ان کا مالی اور تعلیمی پورا نظام اس کے مطابق چلتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے دیگر اداروں اور ان کی دینی ومذہبی تنظیموں میں بھی اس کا استعمال اسی طرح عام ہو اور اس سلسلہ میں اگر کچھ دشواریاں سامنے آئیں تو ان کو حل کرتے ہوئے سنہ ہجری کے استعمال کی برکت سے وہ اپنے کو محروم نہ رہنے دیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے اس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

مزید دکھائیں

سرا ج احمد برکت اللہ فلاحی

مضمون نگار سہ ماہی پیغام کے سب اڈیٹر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close