مذہبی مضامین

یوم عرفہ کی فضیلت اور اس دن روزہ رکھنے کا ثواب؟

مفتی شکیل منصور القاسمی

سال کے بارہ مہینوں میں چار مہینے: محرم ، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ جس طرح بڑے احترام وعظمت والے مہینے ہیں ( منها أربعة حرم .التوبہ :36 )

ٹھیک اسی طرح دنوں میں چار دن: عیدین،  جمعہ اور عرفہ کے دن بڑے احترام والے دن ہیں، پہر ہفتہ بھر کے دنوں  میں افضل دن تو جمعہ کا  ہے ! لیکن سال بھر میں سب سے افضل ترین دن نو ذی الحجہ یعنی عرفہ کا دن ہے:

’’وَأَمَّا إِذَا قِیْلَ: ’’أَفْضَلُ أَیَّامِ السَّنَۃِ فَھُوَ عَرَفَۃُ، وَأَفْضَلُ أَیَّامِ الأُسْبُوْعِ فَھُو الْجُمُعَۃُ‘‘۔ (مرقاۃ شرحِ مشکوٰۃ/ ص : ۲۳۲/۳)

پھر اگر’’ یومِ عرفہ‘‘ جمعہ کو واقع ہو جائے تب تو اس کی فضیلت اور بڑھ جاتی ہے (تاہم صرف اس توافق کی وجہ سے حج اکبر کہنا درست نہیں ہے ) :

’’أَفْضَلُ الأَیَّامِ یَوْمُ عَرَفَۃَ وَافَقَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ، وَھُوَ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِیْنَ حَجَّۃً فِیْ غَیْرِ یَوْمِ جُمُعَۃٍ‘‘۔ (جامع الأصول فی أحادیث الرسول/ الباب السابع فی فضل ما ورد ذکرہ من الأزمنۃ/ یوم عرفۃ)

عرفہ ہی کے دن "دین اسلام کی تکمیل ہوئی اور آيت { اليوم اکملت } کا نزول ہوا ۔

عرفہ کا دن اتنا اہم  ہے کہ اللہ تعالی نے  قرآن پاک میں اس کی  قسم کھائی ہے :

{ وشاهد ومشهود } البروج ( 3 ) حاضرہونے والے اورحاضرکیے گۓ کی قسم ۔

 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمُ الْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَالْيَوْمُ الْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَمَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْهُ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ وَلَا يَسْتَعِيذُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْهُ .سنن الترمذي : 3339 ،كتاب التفسير .سورة البروج

(حضرت ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:

( "یوم موعود ” قیامت کا دن اور”یوم مشہود” عرفہ کا دن اور”شاھد "جمعہ کا دن ہے)

 {والشفع والوتر } اورجفت اورطاق کی قسم ۔ الفجر (3)

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں "الشفع "عیدالاضحی اور”الوتر” یوم عرفہ ہے، عکرمہ اورضحاک رحمہ اللہ تعالی کا قول بھی یہی ہے ۔

 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَشْرَ عَشْرُ الْأَضْحَى وَالْوَتْرَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّفْعَمسند أحمد : 14102

( الشفع) : الاثنان ، ( والوتر) : الفرد . واختلف في ذلك فروي مرفوعا عن عمران بن الحصين عن النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه قال : ” الشفع والوتر : الصلاة ، منها شفع ، ومنها وتر ” . وقال جابر بن عبد الله : قال النبي – صلى الله عليه وسلم – : والفجر وليال عشر – قال : هو الصبح ، وعشر النحر، والوتر يوم عرفة ، والشفع : يوم النحر ” . وهو قول ابن عباس وعكرمة .( تفسير القرطبي)

عرفہ کے  دن روزہ رکھنے سے دوسال کے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں   :

عن أبي قتادۃ رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: صیام یوم عرفۃ أني أحتسب علی اللّٰہ أن یکفّر السنۃ التي بعدہ والسنۃ التي قبلہ۔ (سنن الترمذي ۱؍۱۵۷، صحیح مسلم رقم: ۱۱۶۲، مشکاۃ المصابیح رقم: ۲۰۴۴)

قتادہ رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے روزہ کےبارے میں فرمایا :

(یہ گزرے ہوۓ اورآنے والے سال کے گناہوں کاکفارہ ہے)

عرفہ ہی کے دن اللہ تعالی نے اولاد آدم سے عھد و میثاق لیاتھا :

الاعراف ( 172- 173 )

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(بلاشبہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی ذریت سے عرفہ میں میثاق لیا اورآدم علیہ السلام کی پشت سے ساری ذریت نکال کرذروں کی مانند اپنے سامنے پھیلا دی اوران سے آمنے سامنے بات کرتے ہوۓ فرمایا :

{کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا کیون نہیں ! ہم سب گواہ بنتے ہیں ، تا کہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ تم تو اس محض بے خـبر تھے ، یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک توہمارے بڑوں نے کیا اورہم توان کے بعد ان کی نسل میں ہوۓ ، توکیا ان غلط راہ والوں کے فعل پرتو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا ؟ } الاعراف ( 172- 173 )

 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ [ص: 983] قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمْ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاء .صحيح مسلم ِ 1348

(عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا حديث مروی ہے کہ :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(اللہ تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی اوردن میں اپنے بندوں کوآگ سے آزادی نہیں دیتا ، اوربلاشبہ اللہ تعالی ان کے قریب ہوتا اورپھرفرشتوں کےسامنے ان سے فخرکرکے فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟)

عرفہ کا روزہ غیر حاجی کے لئے مستحب ہے ،  روزہ رکھنے کی وجہ سے  حجاج کرام کو اعمال حج کی ادائی میں ضعف ونقاہت محسوس ہو تو انہیں روزہ نہ رکھنا افضل وبہتر ہے ،لیکن  اگر دیگر اعمال حج میں ضعف وکمزوری وخلل کا باعث نہ بنتا ہو تو حجاج بھی عرفہ کا روزہ رکھ سکتے ہیں ، حنفیہ کے نزدیک حجاج کے لئے عرفہ کا روزہ بر بنائے حکمت ومصلحت خلاف اولی ہے ۔ضعف ونقاہت جیسی کوئی مجبوری نہ ہو تو حجاج کے لئے بھی بلا کراہت روزہ رکھنا درست ہے ۔

عبد اللہ بن عمر نے حجاج کے لئے عرفہ کا روزہ منع نہیں کیا ، اگر اصلا مکروہ ہوتا تو جب ان سے اس بابت استفسار کیا گیا تو وہ ضرور منع فرماتے ! ترمذی میں ہے :

 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ۔ ترمذی شریف : 751

درمختار میں ہے :

 والمندوب کایام البیض عن کل شہر الخ وعرفۃ ولو لحاج لم یضعفہ (الدر المختار علی ہامش رد المحتار کتاب الصوم ج ۲ ص ۱۱۴۔ط۔س۔ج۲ص۳۷۵)

روزہ رکھنے والے کے شہر وملک میں 9 ذی الحجہ کی تاریخ جس دن پڑے گی  وہ اسی دن روزہ رکھیں ، ان کا عرفہ وہی دن ہوگا ۔

میدان عرفات میں حجاج کے قیام کی تاریخ  دنیا کے  دیگر آبادی وشہر والوں کے لئے اس بابت  دلیل وحجت نہیں !

عرفہ کے  روزہ میں اگر کوئی شخص رمضان کے قضاء روزہ کی نیت کرے تو  رمضان کا قضاء روزہ ہی ادا ہوگا لیکن محض نیت کی وجہ سے عرفہ کا ثواب بھی مل سکتا ہے:

قال العلامۃ الحموي: أقول في فتح المدبر: صام في یوم عرفۃ مثل قضاء أو نذر أو کفارۃ ونوی معہ الصوم عن یوم عرفۃ أفتی بعضہم بالصحۃ والحصول عنہما۔ (حاشیۃ: الأشباہ والنظائر ۱؍۶۶ کراچی)

واللہ اعلم بالصوب

مزید دکھائیں

مفتی شکیل منصور القاسمی

مضمون نگار کا تعلق سیدپور، بیگوسرائے، بہارسے ہے۔ جنوب امریکہ میں سات سالوں سے مقیم ہیں اور شیخ الحدیث اور صدر مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close