مذہبی مضامین

یہ کیسی فحاشی ہے؟

جو لوگ اہل ایمان کے درمیان فحاشی پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

مولانا سید احمد ومیض ندوی

اسلام میں توحید کے بعد سب سے زیادہ اخلاق پر زور دیا گیا ہے۔ اسلام انسانی معاشرہ کے لئے اخلاق کو لازمی عنصر قرار دیتا ہے۔ آقائے رحمتﷺ خود مجسم اخلاق شخصیت تھی، قرآن نے آپ کے اونچے اخلاق کی گواہی ’’وإنک لعلی خلق عظیم‘‘کے ذریعہ دی حتی کہ آپ نے اچھے اخلاق کی تکمیل کو اپنی بعثت کا بنیاد مقصد قرار دیا۔ اخلاق ہی سے انسان، انسان بنتا ہے جبکہ بد اخلاقی آدمی کو حیوانیت کی سطح پر لے جاتی ہے، ایمان کے لئے اخلاق ہی کو معیار قرار دیا گیاہے؛ چنانچہ مومنوں میں کامل مومن اس کو قرار دیا گیا جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ مومن بداخلاق نہیں ہوسکتا، طعن وتشنیع بے ہودہ گوئی اور فحش حرکات مومن سے ہوکر بھی گذر نہیں سکتیں۔

اخلاق میں سب سے زیادہ حیاء کو اساسی حیثیت حاصل ہے، حیاء ساری خوبیوں کی جڑ ہے، حدیث شریف میں ایمان کو حیاء سے تعبیر کیا گیا ہے، کہیں ایمان اور حیاء کو ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم قرار دیا گیا ہے، حدیث نبوی کے مطابق جس آدمی سے حیاء رخصت ہوجاتی ہے اس کے لئے برائیوں کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ بے حیاء باش وہر چہ خواہی کن مشہور کہاوت ہے۔ حیاء سے محروم انسان ہر قسم کی فحاشی اور بے حیائی کا عادی ہوجاتا ہے۔ اس و قت اسلام دشمنوں کا نشانہ حیاء کا سرمایہ ہے، دشمن مسلمان نسل سے حیاء کو کھرچ دینا چاہتے ہیں، اس کے لئے نت نئی تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں، اس وقت انٹر نیٹ بے حیائی کے فروغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہورہا ہے، اس دو دھاری تلوار کا استعمال خیر کے لئے کم اور شر کے لئے زیادہ ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ کی عادی نسل آئے دن بے حیائی وفحاشی کے دلدل میں گلے تک پھنستی جارہی ہے۔ موبائل فون کا رواج نئی نسل کے لئے بے حیائی کی چراہ گاہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے، اس وقت سوشیل میڈیا کی شکل میں نوجوانوں کو ایک ایسا ہتھیار مل چکا ہے جس سے نوجوان نسل کے اخلاق تباہ ہورہے ہیں، واٹس ایپ، فیس بک اور سوشیل میڈیا کے دیگر ذرائع وہ طوفان بد تمیزی برپا کررہے ہیں جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آج کل نوجوانوں اور بچوں میں ایک نیا ایپ  Tik Tok  خوب مقبول ہورہاہے، Tik Tok  اورمیوزیکلی در اصل وقت کے ضیاع اور نئی نسل کو حیاء باختہ بنانے کا سامان ہیں، ان سے وقت کے ضیاع اور فحاشی کے فروغ کے علاوہ کچھ حاصل نہیں، اس قسم کے ایپس میں فلمی ڈائیلاگ پر ایکٹینگ کی جاتی ہے۔ گانے گائے اور سنے جاتے ہیں، یہ ہمارے نوجوان نسل کو برباد کرنے کا سوچا سمجھا حربہ ہے۔ حیرت ہے کہ اس قسم کے ایپس کو استعمال کرکے نوجوان لڑکے لڑکیاں، کم عمر بچے حتی کہ بڑی عمر کے لوگ بھی ادا کاری کے جوہر دکھا نے لگے ہیں۔ ٹک ٹاک اور میوزیکلی جیسے ایپس معصوم ذہنوں کو تیزی کے ساتھ دیمک لگارہے ہیں۔ اب گندی اور نیم برہنہ ویڈیوز بھی آنے لگے ہیں، والدین اسے ایک شرارتی عمل سمجھ کر نظر انداز کررہے ہیں جبکہ بچے ۲۵ گندی ویڈیوز دیکھ کر کسی ایک کی نقل کرتے ہیں پھر وہ ویڈیوسب کو شیئر کی جاتی ہے۔ والدین کو پتہ نہیں کہ ان کا بچہ جس ویڈیو کو گیم سمجھ کر دیکھ رہا تھا وہ آئندہ چند ماہ میں اسے کس قدر نقصان دے گی، اس وقت نوجوانوں اور بچوں میں ٹک ٹاک کا خوب شور ہے۔ ٹک ٹاک ایک خطرناک فتنہ ہے۔ ایک ویڈیو کسی ناچ گانے کی آتی ہے آپ آگے بڑھیں تو کوئی نیم عریاں ویڈیو آجاتی ہے، پھر مقدس مذہبی مقامات کی ویڈیو آتی ہے۔ یہ کیسی بے حیائی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک یوزرس فحاشی وعریانیت میں بالی وڈ کی فلم ایکٹرز سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں، یہ ایک ایسی وبا ہے جس میں بوڑھے سے لیکر بچے تک ہونٹ ہلا کر ڈانس کرکیمشہور ہونے کی کوشش کررہے ہیں، سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس میں مسلم باحجاب لڑکیاں پیش پیش نظرآرہی ہیں۔ با حجاب لڑکیاں ایسے ایسے شرمناک مناظر پیش کررہی ہیں کہ آدمی سر پیٹ کر رہ جائے، محض چند فالورز اور لائیکسپانے کے لئے ہر قسم کی فحاشی اور عریانت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

ٹک ٹاک ۲۰۱۶ء میں لانچ ہوا صرف دوسال کے اندر اسے اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ فیس بک بھی اتنے کم عرصہ میں شہرت کی بلندیوں کو چھو نہ سکا، دو سال کے عرصہ میں اس کے یوزرس کی تعداد پانچ سو ملین سے متجاوز ہوچکی ہے۔ اور دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں لوگ اسے استعمال کررہے ہیں، اگرچہ اس ایپ کا استعمال تمام مذاہب کے لوگ کرتے ہیں لیکن مسلم خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، مسلم خواتین بن سنور کر ہر ہفتہ کپڑے پہن کر اس طرح سامنے آتی ہیں جیسے انہوں نے شرم وحیاء کو نیلام کرنے کا تہہ کرلیا ہو۔ ٹک ٹاک کے فتنہ کا شکار صرف مسلم لڑکیاں ہی نہیں ہیں بلکہ بچہ بچہ اس کا دیوانہ نظر آتا ہے۔

وقت کا ضیاع

ٹک ٹاک اور اس جیسے ایپس کے نقصانات بے شمار ہیں۔ سب سے بڑا نقصانات وقت کاضیاع ہے۔ وقت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ وقت کو فضولیات میں گذارنے والے اللہ کی نگاہ میں مجرم ہیں۔ زندگی کے قیمتی لمحات اللہ نے اس لئے عطا کئے تاکہ آخرت کی تیاری کی جائے، خدا کی عبادت وبندگی کے علاوہ انسانی فلاح وبہبود کے کاموں میں صرف کیا جائے۔ کل قیامت کے دن وقت کے بارے میں اللہ بازپرس کریں گے، حدیث نبوی کے مطابق ابن آدم اس وقت تک اللہ کے سامنے سے ہل نہیں سکے گا جب تک وہ پانچ سوالات کا جواب نہ دے۔ پہلا سوال زندگی سے متعلق ہو گا کہ تو نے اسے کن کاموں میں صرف کیا۔ دوسرا سوال جوانی سے متعلق ہوگا کہ جوانی کن کاموں میں لگائی۔ (سنن ترمذی حدیث :۲۴۱۶) فضولیات میں وقت کو ضائع کرنا قیامت کے دن رسوائی کا سبب بنے گا، آدمی کے اسلام کی خوبی یہ بتائی گئی کہ وہ لا یعنی چیزوں کو ترک کرے۔ (ترمذی حدیث: ۲۳۱۷) قرآن مجید میں بھی ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو لغوکاموں سے اعراض کرتے ہیں۔ (المومنون:۳) آقائے رحمت ﷺ نے خالی اوقات کو غنیمت جاننے کی تلقین فرمائی، ارشاد نبوی ہے: پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جانو۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے۔ صحت کو بیماری سے پہلے۔ مالداری کو تنگ دستی سے پہلے۔ فراغت کو مشغولیت سے پہلے۔ اور زندگی کو موت سے پہلے۔ (مستدرک حاکم حدیث:۷۸۴۶)

انسان اس دنیا میں جو کچھ کرتا ہے وہ سب خدا کے پاس ریکارڈ ہوتا ہے۔ چاہے ہم فحش کاریوں، فلمی ڈائیلاگ اور رومانس بھرے اسٹیٹسلگانے میں ہی مشغول ہوں یا یوٹیوب اور دیگر سائٹس پر فحش چیزیں پھیلانے میں لگے ہوں ہماری ہر چیز ریکارڈ ہورہی ہے، دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم اپنے قیمتی اوقات کو برے کاموں سے محفوظ رکھیں۔

موسیقی اور بے حیائی

ٹک ٹاک اور اس جیسے ایپس کا سب سے خطرناک نقصان موسیقی سے لگاؤ اور بے حیاء کی لت کی شکل میں ہوتا ہے۔ گانا اور موسیقی شریعت میں ممنوع ہیں، نبی رحمتﷺ موسیقی سے سخت نفرت کرتے تھے، نافع کہتے ہیں ابن عمرؓ نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور راستے سے دور ہوگئے اور مجھ سے کہا اے نافع کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا نہیں تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکال لیں اور فرمایا: میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تھا اس جیسی آوازسنی تو آپ نے بھی اسی طرح کہا(سنن ابواداؤد حدیث:۴۹۲۴) نبی کریمﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنالیں گے۔ اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر(اپنے بنگلوں میں جائیں گے)چرواہے ان کے مویشی صبح وشام لائیں گے اور لے جائیں گے، ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کے جائے گا تو وہ  اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ رات کو ان کو ہلاک کردے گا، پہاڑ کو ان پر گرادے گا۔ اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لئے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کردے گا۔ (صحیح بخاری:۵۵۹۰)

ٹک ٹاک اور میوزیکلی سے بے حیائی وفحاشی عام ہورہی ہے، ان ایپس کا سہارا لیکر عورتیں بے پردگی کا خوب مظاہرہ کرتی ہیں، خوب بن سنور کر ویڈیو بناتی ہیں پھر پھیلاتی ہیں اور لوگوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں، جبکہ قرآن مجید میں اس سے منع کیا گیا ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے:  وَقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولٰی(الاحزاب: ۳۳)  اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانہ کی طرح اپنے بناؤ کا اظہار نہ کرو، کتاب وسنت میں بے پردگی اور بد نظری سے منع کیا گیا ہے۔

بے پردگی

ٹک ٹاک جیسے ایپس کے ذریعہ بے پردگی کو ہوا دی جارہی ہے، جبکہ خواتین کے لئے پردہ شرعی فریضہ ہے، نوجوان بچیاں غیر مسلم لڑکوں سے اشتراک کرکے خوب بے پردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، اسلام میں مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کاحکم ہے اور خواتین کو پردہ کی تاکید ہے، وہ ماں باپ کس قدر بے غیرت ہیں جو اپنی بچیوں کو ٹک ٹاک جیسے ایپس پر بے پردگی کی اجازت دیتے ہیں۔

علانیہ گناہ کا ارتکاب

ٹک ٹاک علانیہ گناہ کا آلہ ہے، گناہ خود ایک سنگین چیز ہے، اس کی اس وقت سنگینی اور بڑھ جاتی ہے جب آدمی کسی گناہ کا علانیہ اظہار کرتا ہے، یہ گناہ پر جرأت ہے، ٹک ٹاک کے ذریعہ بے پردگی وبے حیائی کا مظاہرہ کرنے والی بچیاں کھلے عام گناہ کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

گناہوں کی تبلیغ

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

  إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِیْ الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْم (النور:۱۹)

جو لوگ اہل ایمان کے درمیان فحاشی پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ ٹک ٹاک پر بے پردگی کا مظاہرہ گناہوں کی تبلیغ ہے۔ یہ در اصل ایمان والوں میں فحاشی پھیلانا ہے جو کہ دردناک عذاب کا باعث ہے۔

دین وشریعت کا مذاق

اس کے علاوہ یہ خدا کے دین اور شریعت کا مذاق ہے۔ ایک مسلمان جانتے ہوئے ایسی حرکت کرتا ہے تو وہ دین کا مذاق اڑا رہا ہے۔ اور جان بوجھ کر کسی دینی حکم کا استہزاء آدمی کو کفر تک پہونچا دیتا ہے۔

قارئین کرام! ٹک ٹاک گناہوں کا پٹارہ ہے، اس سے تہذیب اسلامی کا جنازہ نکلتا ہے، اور پاکیزہ انسانی قدریں دم توڑتی ہیں، دین واخلاق کا لہلہاتا چمن مرجھا جاتاہے، بے حیاء اولاد والدین کی نافرمان بن جاتی ہے، کیا آپ کو منظور ہے کہ آپ کی اولاد فحاشی کے دلدل میں گلے تک پھنس جائے؟ کیا آپ کی غیرت گوارا کرے گی کہ آپ کی جوان بیٹیاں غیر مسلم جوانوں کے شانہ بشانہ فحاشی کا مظاہرہ کرتی رہیں ؟ اگر آپ کو اپنی اولاد کی بھلائی محبوب ہے تو دیر نہ کیجئے ان کی تنہائی کی حرکات پر نظر رکھئے، سوشیل میڈیا کے آزادانہ استعمال پر روک لگائیے، اور اپنے لاڈلوں کا بتایئے کہ ایسی حرکتوں سے دین وایمان رخصت ہوجاتا ہے۔

مزید دکھائیں

مولانا سید احمد ومیض ندوی

استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد

متعلقہ

Back to top button
Close