مذہبی مضامین

ہر فرد اور جماعت کو اپنے کام کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِط  وَاُولٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo تم میں  ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں  کو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، جو لوگ یہ کام کریں  گے وہی فلاح پائیں  گے‘‘(سورہ آل عمران:104)۔

  اس آیت سے پہلے یہود کا تذکرہ ہے۔ وہ اللہ کا راستہ چھوڑ چکے تھے اور دوسروں  کو بھی اللہ کے راستہ پر چلنے سے روکتے تھے۔ اس وجہ سے وہ اللہ کی ہدایت سے محروم ہوگئے اور اللہ کی محبت و عنایت کے مستحق نہیں  رہے۔ اس کے بعد مسلمانوں  کو حکم دیا گیا کہ وہ پورے طور پر اللہ کا تقویٰ اختیار کریں،  زندگی کے آخری لمحات تک اللہ کے راستہ پر چلتے رہیں،  باطل کے مقابلے میں  متحد و متفق ہوجائیں،  اللہ کی رسی یعنی اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑلیں  اور تفرقہ اور گروہ بندی سے پرہیز کریں۔  اس کے بعد انھیں  خارج کا پروگرام دیا گیا۔ وہ دنیا کو خیر کی دعوت دیں،  نیکی کا حکم دیں  اور بدی سے روکیں ؛ یعنی پہلے نیک بن جائیں،  نیکی پر عمل کریں،  بدی اور برائی سے دور رہیں  پھر دوسروں  کو خیر اور نیکی کی دعوت دیں  اور برائی سے منع کریں۔

 آل عمران کی مذکورہ آیت کی 5 آیتوں  کے بعد پوری امت سے کہا گیا : کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ۔ بظاہر ان دو آیتوں  میں  تضاد اور تکرار معلوم ہوتا ہے مگر نہ تضاد ہے اور نہ تکرار ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ ہر کام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ساری امت کا کام ہے اور اسی شرط کے ساتھ خیر امت کے لقب سے منسوب ہے۔ اگر امت بحیثیت مجموعی اس کام کو چھوڑ دے یا اس کام سے غافل ہوجائے تو اس کے اندر ایک ایسی جماعت یا ایسے گروہ کا ہونا لازمی ہے جو اس مشن اور اس فریضہ کو انجام دیتا رہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن من المنکر وہ چیز ہے جس پر اجتماعی فلاح و بہبود کا دار و مدار ہے جو ایک قوم اور ایک جماعت کو ہلاکت میں  مبتلا ہونے سے بچاتی ہے جس کے بغیر انسانیت کی حفاظت نہیں  کی جاسکتی ہے، جب تک ایک قوم میں  یہ اسپرٹ موجود رہتی ہے، اس کے افراد ایک دوسرے کو نیکی کا حکم اور بدی سے روکنے کا اہتمام کریں  یا کم از کم اس قوم میں  ایک جماعت ایسی موجو د رہے جو اس فریضہ کو مستعدی کے ساتھ انجام دیتی رہے تو وہ قوم کبھی تباہ نہیں  ہوسکتی لیکن اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اسپرٹ اس میں  سے نکل جائے اس میں  کوئی جماعت ایسی بھی نہ رہے تو رفتہ رفتہ بدی کا شیطان اس پر مسلط ہوجائے گا اور پھر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کے گڑھے میں  ایسا گرے گی کہ ابھر نہیں  سکے گی۔ سورہ ہودہ آیت 116 اور 117 میں  اس حقیقت کا ذکر کیا گیا ہے۔

  آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امت مسلمہ کا اس نقطہ نظر سے جائزہ لیں  اور ساتھ ہی اگر کسی جماعت میں  ہیں  تو اس جماعت کا جائزہ لیں  کہ کیا وہ جماعت اس کام کو رسماً انجام دے رہی ہے یا دل و جان سے اس کام میں  رب کی خوشنودی اور آخرت میں  فلاح یابی اور سرخ روئی کیلئے لگی ہوئی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی کتاب ’الجہاد فی الاسلام‘ میں  لکھا ہے:

 ’’نیکی پر خود عمل کرنا اور بدی سے خود پرہیز کرنا یقینا ایک اچھی صفت ہے اور ایک شریف آدمی کا شیوہ ہے، مگر شرافت کا کمال اور بزرگی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک کسی انسان کو نصیب نہیں  ہوسکتا جب تک وہ دوسرے لوگوں  کو بھی نیکو کار بنانے اور بدکاری سے روکنے کی کوشش نہ کرے۔ انسان کی فطر ت ہے کہ اگر اسے کوئی چیز ناپسند ہوتی ہے تو اسے چھوڑ دیتا ہے۔ اگر ناپسندی سے ایک درجہ بڑھ کر نفرت ہوتی ہے تو اسے دیکھنا یا سننا بھی برداشت نہیں  کرسکتا۔ اگر نفرت سے ایک درجہ بڑھ کر دشمنی ہوجاتی ہے تو وہ اسے مٹانے کے درپے ہوجاتا ہے۔ اور اگر دشمنی سے بڑھ کر اس کے دل میں  بغض و عناس کے شدید جذبات پیدا ہوجاتے ہیں  تو پھر وہ اس کے مٹانے کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیتا ہے اور اس طرح ہاتھ دھوک کر اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے کہ جب تک اسے صفحہ ہستی سے محو نہ کردے چین نہیں  لیتا۔ اسی طرح جب وہ کسی چیز کو پسند کرتا ہے تو خود اختیار کرلیتا ہے۔ جب محبت کرتا ہے تو آنکھوں  سے اس کو دیکھنے اور کانوں  سے اس کا ذکر سننے میں  مسرت محسوس کرتا ہے۔ جب محبت سے بڑھ کر عشق کا درجہ آتا ہے تو چاہتا ہے کہ دنیا کے ذرہ ذرہ میں  اسی کا جمال ہو اور زندگی کا کوئی لمحہ بھی اس کے غیر کو دیکھنے اور غیر کا ذکر سننے اور غیر کا تصور کرنے میں  ضائع نہ ہو۔ پھر اگر یہ عشق فدائیت کی حد تک بڑھ جائے تو وہ اپنی زندگی کو اسی کی خدمت کیلئے وقف کردیتا ہے اور اپنی جان و مال، عیش و آرام، عزت و آبرو، غرض سب کچھ اس پر نثار کر دیتا ہے۔ پس امر بالمعروف جس چیز کا نام ہے وہ در اصل نیکی سے انتہائی شیفتگی اور والہانہ عشق ہے، اور نہی عن المنکر سے جس چیز کو تعبیر کیا گیا ہے وہ در اصل بدی سے انتہائی بغض و عناد ہے۔ معروف کا حکم دینے والا صرف نیک ہی نہیں  ہوتا بلکہ نیکی کا عاشق اور فدائی ہوتا ہے اور منکر سے روکنے والا صرف بدی سے محترز ہی نہیں  ہوتا بلکہ ا س کا دشمن اور اس کے خون کا پیاسا ہوتا ہے‘‘۔

 مذکورہ تبصرہ کی روشنی میں  ہر فرد اور ہر جماعت اپنا جائزہ آسانی سے لے سکتی ہے کہ وہ کس درجے میں  ہے اور اس میں  پہلے کے مقابلے میں  کس قدر  دلچسپی یا عدم دلچسپی ہوگئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close